علوم و معارف کے امین اور عربی زبان وادب کے بہترین قلمکار،ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے کہنہ مشق استاد انشاء پرداز اور ادیب،ماہنامہ الداعی کے مدیر،استاذ الاساتذہ حضرت علامہ و مولانا نورعالم خلیل امینی صاحب کی رحلت نے عربی زبان وادب پر سرد مہری پیدا کردی،گلستان عربی ادب کے خیمہ میں بے بسی سی چھائی گئ،زبان وادب سکتے میں ہوچلا، دیوبند کی گلیاں ان کے جانے پر ماتم کناں اور سنسان سی ہیں،اے میخانہ ادب کے رندو! ساغر،جام سبو،میکشی میں اب وہ سرور اور کیف نہیں بہرحال جو محفل سجی سجائی ہوئی تھی اور خیرات وفا تقسیم ہوا کرتی تھی آج شمع انجمن کے نہ ہونے پر بلک بلک کر اپنے محسن کے کھونے کے غم میں نوحہ خواں ہیں سیل رواں تھکنے کا نام نہیں،ہندوستان کیا بین الاقوامی سطح پر ان کے چاہنے والے افراد کی آنکھیں ان کے ہجر اور فراق میں نمدیدہ اور اشکبار ہیں،اساتذہ،طلبہ سب کے سب اس غم سے نڈھال ہوچلے،افسوس کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے جن سے کئی یادیں وابستہ ہیں مولانا مرحوم سے غالباً پہلی بار ملاقات علوم وفنون اور دینی درسگاہ یعنی ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں 2005 میں ہوئی تھی،چونکہ مولانا مرحوم کی شخصیت،اور ان کی علمی لیاقت،بے پناہ صلاحیت،نفیسانہ طبیعت،اعلی ذوق، بلند وبالا اخلاق کے ساتھ ان کی عظمت اور جادوئی علم کے بارے میں راقم الحروف اپنے آبائی ضلع سیتامڑھی کے مشہور و معروف اسلامی ادارہ جامعہ قاسمیہ بالاساتھ کے اساتذہ سے پہلے سے سن رکھا تھا اور دل ہی دل میں یہ حسرت اور تمنا تھی کہ مولانا مرحوم کی ذات اقدس کا کبھی روبرو دیدار کرتا چنانچہ وہ موقعہ مسعود ملا کہ،میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے اور والد بزرگوار گاندھی جی کی دھرتی چمپارن سے جب دارالعلوم دیوبند حاضر ہوئے تو یہ تمنا پوری ہوئی اور آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا یقیناً آپ کی خوشگوار ملاقات،مختصر نشست،معیاری اور سنجیدہ گفتگو نے مجھے اپنا اسیر اور گرویدہ بنا لیا،چونکہ آپ کی ذات عالیہ،خالص علوم و مخازن کے ساتھ علمی فکری اور ادبی شہپارے کا ترجمان ہونے کے ساتھ آپ کی زندگی کا ہر پل اور ہر لمحہ کسی قیمتی اثاثہ سے کم نہیں. ( یہ بھی پڑھیں مولانا نور عالم خلیل امینی : چراغِ لفظ ہی چُپ ہو گیا ہے – ڈاکٹر سمیع احمد )
آپ کی جائے پیدائش صوبہ بہار کے ضلع مظفر پورکے ہرپور بیشی نامی گاؤں میں 18/دسمبر 1952 کو نانیہال میں ہوئی آپ نے یتیمی در یتیمی کے ایام گزارے،اور غربت وافلاس کے پیچ وخم میں زندگی گزرتی رہی والد بزرگوار کے گزر جانے کے بعد دادی مرحومہ کا سایہ شفقت حاصل رہا،پھر ان کے بھی چلے جانے کے بعد زندگی کشمکش میں رہی اور اسی کشمکش اور نامناسب حالات کے درمیان والدہ مقدسہ مرحومہ نے اپنے خون جگر سے تکفل اور تربیت میں برابر پیش پیش رہیں چونکہ بچوں کی زندگی میں والدین کا سایہ اور ان کی محبت،شفقت،اور پیار ہر ہر موڑ پہ رہنمائی اور دستگیری کے ساتھ ان کی موجودگی،ترغیب وترہیب یہ ایسے عوامل ہیں جو کسے بھی بچے کی تربیت اور پرورش میں ذہنی معیار کو قوت فراہم کرنے کے ساتھ نمایاں رول ادا کرتی ہیں،جس کی وجہ سے کسی بھی بچے کی شخصیت اور اس کے نشو نما کے مراحل میں والدین میں سے کسی ایک کا ہونا لازمی اور ضروری ہے چونکہ یہی اسباب پہچان کا سبب بنتی ہے مرضی مولی، مولانا مرحوم بچپن ہی میں یتیمی کے اسیر تو ضرور ہوئے لیکن نامساعد حالات کا ڈٹ کر سامنا کیا اور اپنی بے بضاعتی کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنی تدریسی سرگرمی،علوم و فنون کے زیور حکمت،تصنیف وتالیف،اور اسی پر بس نہیں وقفے وقفے سے کئ سارے تحقیقی مقالات اور تحاریر شائع ہوتی رہی جس کی بنیاد پر آپ تمام لوگوں کے لئے اسم بامسمی ہونے کے ساتھ نور عالم بن گئے جس کا جیتا جاگتا ثبوت مرکز علم ودانش کا گہوارہ دارالعلوم دیوبند کا ہر ذرہ ذرہ شاہد اور گواہ ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا وحید الدین خاں ؒ :ذاتی مشاہدات وتاثرات – ڈاکٹر وارث مظہری )
بہرکیف آپ نے قاعدہ بغدادی کی تعلیم اپنے نانا بابو جان صاحب مرحوم سے حاصل کی اور اس کے بعد مولوی ابراہیم صاحب عرف ٹھگن رائے پور سیتامڑھی کے مکتب سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ خلوص وتقوی کے امین اور نمونہ سلف حضرت مولانا محمد اویس رائے پوری کی مدد سے مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں کچھ دنوں تک اکتساب درس لیا بعد ازاں مختلف مراکز علم،اور دانش گاہ اور دینی ادارہ سے تعلیم حاصل کیا جن میں،مدرسہ نورالہدی پکھریرا،دار العلوم مئو،دارالعلوم دیوبند،کے ساتھ خصوصی طور سے مدرسہ امینہ دہلی بھی قابل ذکر ہے انہی سب کے بیچ زندگی اور تعلیمی سفر کا کارواں جاری وساری رہا کہ یکایک دارالعلوم دیوبند میں نامناسب طور پر ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی، اور اسٹرائک جیسی کیفیت نے دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تعلیمات اور انتظامی امور میں ہیجانگی کی سی کیفیت پیدا کردی،جس کی وجہ سے ادارہ پوری طرح سے متاثر ہو گیا اس پر سے ایک دوسرے کی ناپاک سیاست اور آپسی رنجش نے اس ناگہانی واقعہ کو خوب ہوا دی،جو ہوا سو ہوا وہ بہت برا ہوا،چونکہ آپ ایک محنتی طالب علم ہونے کے ساتھ سیکھنے اور حاصل کرنے کی تڑپ کوٹ کوٹ کر آپ کی گھٹی میں داخل تھی اسی پر بس نہیں عربی زبان وادب کے نامور اور باکمال استاد،علم کے نیرتاباں فرید عصر، یکتائے زمانہ مولانا وحیدالزماں کیرانوی کی قربت اور تربیت بھی آپ کو حاصل رہی مولانا سے اسی محبت کے باعث بلاوجہ بہت سارے طالب علموں کا اس سال دارالعلوم سے اخراج ہوا جس کی زد میں بغیر کسی تحقیق اور وجوہات کی بنا پر اس غلطی کا خمیازہ آپ کو بھی بھگتنا پڑا اس کے بعد آپ دیوبند سے لگے قریب مدرسہ امینہ دہلی تشریف لے آئے اور مولانا میاں صاحب دیوبندی کی باکمال صحبت،اور ان کے علمی فکری میلان نے آپ کی شخصیت میں حسن کا جوہر بھر دیا چونکہ مولانا میاں دیوبندی اور مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کے آپسی مراسم بہت گہرے تھے اور مولانا میاں صاحب دیوبندی کےرسائل وخطوط وغیرہ کی تحریر اور صحت املاء مولانا مرحوم بڑی نفاست پسندی سے لکھا کرتے تھے بس یہی چیز مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کو پسند آئی اس کے بعد پھر آپ ان کے ساتھ تکیہ کلاں ضلع رائے بریلی اتر پردیش چلے گئے اور اپنی اسی بےپناہ صلاحیت کی بنیاد پر حضرت مولانا علی میاں کے حسب ایما دس سال تک دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں عربی زبان وادب کی خدمات کو انجام دی،اور حضرت علی میاں ندوی کو آپ سے بےپناہ لگاؤ تھا اسی محبت کے پیش نظر قصص النبیین خامس کے مقدمہ میں مفکر اسلام حضرت علی میاں نے آپ کو ندوی سے خطاب کیا ہے آپ کی ذات یقینی طور پر،پر مہذب اور شائستہ چمن کی سی تھی،آپ کی ہرہربات صاف اور شستہ ہونے کے ساتھ تحقیقی اور سند یافتہ ہوا کرتی تھی،
تصانیف اردو :
” وہ کوہ کن کی بات، پس مرگ زندہ،رفتگان نارفتہ،( زیر طبع) فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں،صحابہ رسول اسلام کی نظر میں،کیا اسلام پسپا ہورہا ہے؟عالم اسلام کے خلاف صلیبی صہیونی جنگ،حقائق اور دلائل، حرف شیریں،خط رقعہ کیسے لکھیں.
تصانیف عربی :
مجتمعاتناالمعاصرہ والطریق الی الاسلام، المسلمون فی الہند، الدعوہ الاسلامیہ بین الامس والیوم، مفتاح العربیہ(دوجلدیں) العالم الھندی الفرید :الشیخ المقری محمد طیب،فلسطین فی انتظار صلاح الدین،الصحابۃ ومکانتہم فی الاسلام،من وحی الخاطر پانچ جلدوں میں اشراقہ کا مجموعہ کے علاوہ تقریباً دودرجن سے زائد اردو کتابوں کا ترجمہ عربی زبان وادب میں انہوں نے منتقل کیا ہے اپنی اسی انشاء پردازی کی بنیاد پر سال گزشتہ صدر جمہوریہ جیسے ایوارڈ سے آپ کو سرفراز کیا گیاافسوس کہ عربی زبان وادب کا یہ بے لوث خادم اپنے سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں 3/مئ 2021 کو مزار قاسمی میں ہمشیہ ہمشیہ کے لئے روپوش ہوگیا رحمت باری تعالیٰ ان کے قبر کو نور سے منور فرمائے آمین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین اب میں فراق گورکھپوری کے اس شعر پر مرحوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی بات کو پوری کرتا ہوں
اے اہلِ ادب آؤ یہ جاگیر سنبھالو
میں مملکتِ لوح و قلم بانٹ رہا ہوں
بدر الاسلام ندوی
شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی دہلی
☎️+918287122631
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] فکر و عمل […]