فیض ایک وابستہ (Committed)شاعر تھے اور ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری کے خاصے بڑے حصّے میں معیارِ فن اور اپنی وابستگی کو دولخت نہیں ہونے دیا۔ اس سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔
فیض کی شاعری کو دو طرح سے آنکا گیا۔ ان میں سے ایک وہ راستہ تھا جو اُن کے معلوم تصوّرات اور تحفّظات سے ہوکر گذرتا تھا اور دوسرا وہ جو صرف شاعری کو پیشِ نظر رکھتا ہے،شاعر اور زندگی کے سروکاروں سے دور دور، اگرچہ یہ سوال ہمیشہ ہی زیر بحث رہا ہے کہ ظرف اپنے مظروف کے بغیر خود کو کیسے آشکارا کرسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہوا کہ ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ان کی شاعری کو پرکھا گیا اور یہی طریقِ کار شاید مناسب ترین ہے۔
فیض کا انتقال ہوا تو ایک مخصوص نقطۂ نظر کے ایک مبلّغ نے بہ اصرار کہا کہ وہ میر، غالب اور اقبال کے مثلث کو توڑنے میں ناکام رہے۔ بظاہر تو یہ بات افسوس کے ساتھ کہی گئی تھی لیکن اس میں خبیثانہ مسرّت بھی پنہاں تھی۔ یہاں یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا اس طرح مختلف شعرا کے اکتسابات کا موازنہ ممکن ہے، خاص طور سے یوں کہ میرو غالب بڑی حد تک ایک طرح کے اور اقبال و فیض بالکل دوسری طرح کے شاعر ہیں۔ اوّل الذکر دونوں شعرا کے ذہن میں زندگی ، کائنات، حیات بعد ممات، خدا ، انسان اور زمین و آسمان کے بارے میں تصوّرات اور تحیّرات ضرور تھے اور ان کا اظہار ان کی شاعری میںہوتا بھی ہے لیکن اقبال اور فیض کے پیش نظر مخصوص نظامِ فکر تھے اور دونوں نے ان کی حمایت میں اور انھیں زیادہ مقبول بنانے کی شعوری کوشش کی ۔ یہ تو ہوا وہ بنیادی فرق جو دو طرح کے ان شعرا میں ہے۔ لیکن مقصدی شاعری کرنے والے اقبال اور فیض کے درمیان بھی ایک بڑا فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ اقبال کی شاعری کوروحانیت اور اس کے تصوّرات کی واضح حمایت حاصل تھی جب کہ فیض مروجہ معنوں کی روحانیت کے فیوض و برکات سے تہی دست تھے۔ ایک فرق اور بھی تھا۔ اقبال کا کلام کم و بیش چودہ سوسال کی فتوحات ، کامرانیوں اور ثقافتی ورثہ سے مالال تھا جب کہ فیض کے تصوّرات و نظریات اور ان کی بار آوری کی تاریخ خاصی مختصر تھی۔ ان معذوریوں (Limitations) کو ذہن میں رکھے بغیر فیض کی بہترین شاعری کو پوری طرح نہیں سمجھا جاسکتا۔ ( یہ بھی پڑھیں تنہائی-فیض احمد فیض )
’’دست تہہ سنگ‘‘ میں فیض نے اپنے اور اپنی شاعری کے بارے میں کھل کر باتیں کی ہیں۔ انھوں نے ’’نقش فریادی ‘‘ کے ابتدائی حصّے کو آغازِ عشق کے تحیّر سے منسوب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ترقی پسند تحریک اور مزدور تحریکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ’’یوں لگا جیسے ایک نہیں کئی دبستان کھل گئے ہیں۔‘‘ یہ عمومی قسم کا بیان ہے لیکن بعد میں انھوں نے اس سلسلے میں وضاحت بھی کی ہے۔ ان کے الفاظ میں ’’ایک انسانی فرد کی ذات اپنی سب محبتوں اور کدورتوں ، مسرتوں اور رنجشوں کے باوجود بہت ہی چھوٹی سی، بہت محدود اور حقیر شے ہے۔‘‘ انھوں نے غمِ جاناں اور غمِ دوراں کو ایک ہی تجربے کے دو پہلو قرار دیا ہے اور ’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب(اور خواتین کے لیے مرے محبوب) نہ مانگ‘‘ کو ایک نیا سرِ آغاز۔
یہ مختصر سا مضمون فیض کے شعری اکتسابات کا محاکمہ نہیں بلکہ اس کی حیثیت ایک عام قاری کے احساسات کی ہے اور اسے اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
’’نسخہ ہائے وفا‘‘ جب بھی گردپوش سے گرد پوش تک پڑھا ، یہی احساس ہوا کہ ’’شام شہریاراں‘‘ بلکہ اس سے کچھ پہلے تک فیض اپنی بہترین شاعری کا بڑا حصّہ پیش کرچکے تھے اور انھوں نے ’’کچھ عشق کیا کچھ کام کیا‘‘ میں اس کا واضح اظہار بھی کردیا تھا۔
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
’’نقش فریادی ‘‘ کے آخرِ نصف سے ’’وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے‘‘ تک کی نظموں اور غزلوں میں امید کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ امید سماجی اور سیاسی ہونے کے باوجود محبوب کے آنچل سے گرہ گیر بھی ہے۔
فیض کی شاعری بنیادی طور سے رومانی ہے اور رومان بغاوت سے شیر و شکر بھی خوب ہوتا ہے۔ ان دونوں عناصر کی یکجائی سے فائدہ ان کی شاعری سے زیادہ شاید ہی اردو میں کسی نے اٹھایا ہو۔ (یہ بھی پڑھیں ہم دیکھیں گے-فیض احمد فیض )
’’صبا‘‘ جو ایک عرصہ تک ان کی شاعری کا حاوی استعارہ رہا، پہلی بار ’’نقش فریادی‘‘ میں ’’حسن اور موت‘‘ کے آخری مصرعے میں بالکل روایتی انداز میں ’’صبا چڑھانے کو جنت سے پھول لاتی ہے‘‘ کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، پھر چمن کو سجانے کے دنوں کی نوید لے کے آتا ہے اور حافظ کے الفاظ میں عالمِ پیر کو پھر سے جو ان کرنے کا مژدہ سنا کر مستحکم ہوجاتا ہے۔
یہ استعارہ جو فیض کی شاعری کا Turning Point ہے اپنے ساتھ نرمی، کلی کو پھول بنانے کی صلاحیت، سلامت روی، خوشبو ، غازہ، رخسارِ سحر، لگاؤ کی باتیں، وصال کے عنوان، سرخیٔ مَے، تزئین درو بام ، بساطِ محفل اور مست خرامی لے کے آتا ہے لیکن گلستاں درگلستاں کی کیفیت نہیں پیدا ہوتی کہ ان کے ساتھ عبائے شیخ، قبائے امیر، تاجِ شہی، تلخیٔ ایاّم ، ہجر کی شب، اہل ہوس، گرفتِ سایۂ دیوار، خزاں، قفس، دستِ جفا، جنوں کی زنجیر، زنداں اور مقتل بھی ہیں۔
اس دور کی شاعری میںیہ استعارے اور پیکر فیض کی بساطِ شاعری میں آمنے سامنے نظر آتے ہیں لیکن پھر اوّل الذکر ’’نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی‘‘ اور یہ ’’چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں‘‘ کا دوسروں اور اپنے آپ کو بھروسہ دلانے کے باوجود ایک ایک کرکے رخصت ہونے لگتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کا جوالا مکھی ٹھنڈا پڑنے لگا ہے۔
’’سروادی سینا‘‘ اور ’’شام شہر یاراں‘‘ میں وہ جگہ جگہ سنبھالا ضرور لیتے ہیں مگر اس کے باوجود اُن کے خواب بکھر رہے ہیں۔ اوّل الذکر میں ’’خونِ خاک نشیناں‘‘ ’’رزقِ خاک‘‘ بن جاتا ہے، درودیوار پر پریشاں رنگوں سے پتہ نہیں چلتا کہ یہ پھول ہیںیا لہو، درد کے تھم جانے کا بھلا وا ہے، آنکھوں کے دریچے بند اور سینے کا درباز کیا جاتا ہے، آنگن گھور اندھیرا ہوگیا ہے، دل سے ملاقات بس رسم بن گئی ہے، انکار کا فرمان اترنے کی تمنّا کی جاتی ہے اور ’’شام شہر یاراں‘‘ میں قضا درِ دل پر دستک دیتی ہے، دل میں سو طرح کے نشتروں کے ٹوٹنے کا دھڑکا لگا ہے، منزل کی جگہ جستجو اور وصال کی جگہ آرزو لے لیتی ہے، اور ’’غبار ایاّم‘‘ میں شہر بدری کے بعد دیوانہ صحرا جاسکتا ہے نہ بن کہ ایک جگہ پہرے لگے ہیں اور دوسری جگہ قفل اور جس جنگ کا آغاز مقابلِ صف اعدا سے ہوا تھا تھا وہ اب اپنے ہی دل میں تمام ہورہی ہے۔۔۔۔ خونِ دل میں انگلیاں ڈبونے اور حلقۂ زنجیر میں زباں رکھ دینے کے دعووں سے دور دور ۔ (یہ بھی پڑھیں تمہارے حسن کے نام-فیض احمد فیض )
اس حصّے میں نہ زیردستوں کے مصائب کا خیال ہے نہ یہ یقین کہ ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں، نہ صبا در زنداں پر آکر دل کو سہارا دیتی ہے، نہ گردنِ مہتاب میں باہیں ڈالی جاتی ہیں، نہ عہدِ وفا کی استواری سے گردشِ لیل و نہار کا علاج ہے اور نہ یہ یقین کہ ہم نے جو طرزِ فغاں قفس میں ایجاد کی ہے آخر آخر وہی طرزِ بیاں قرار پائے گی۔
فیض کی شاعری میں ’’ہم آج یلغار کررہے ہیں‘‘ کی صورت تو کبھی نہ تھی مگر ’’شام شہر یاراں‘‘ سے ذرا پہلے تک امید کی پھوار تقریباً ہر جگہ محسوس کی جاسکتی ہے ۔ لیکن اب حالت بدل گئی ہے اور امید کی پس قدمی اور مایوسی کی پیش قدمی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اس عرصے میں پھلجڑیاں تو چھوٹتی رہیں لیکن آتش بازیوں کا موسم رخصت ہوگیا اور ان کی شاعری بڑی حد تک یادوں سے گایا ہوا گیت بن گئی۔
اردو معاشرے اور مجموعی طور سے ادبی منظر نامے کے لیے یہ صورت ’’ایں ماتم سخت است‘‘ کی سی تھی۔ لیکن ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ امیدیں وابستہ کرنے کا عمل یک رخا نہیں ہوسکتا ۔ شاعر بھی معاشرہ سے کچھ امیدیں وابستہ کرسکتا ہے اور ان امیدوں کا موہوم اور ناپید ہونا اس کے حوصلوں اور کمالوں کو دھند میں لپیٹ سکتا ہے۔ یہی کچھ فیض کے ساتھ ہوا۔ ان کے معاشرے اور ان کی دنیا نے ایک ایک کرکے وہ خواب دیکھنا بند کردیے جو اُن کی متاع عزیز تھے۔
فیض کا معاشرہ اور ان کی دنیا اتنی سنسان اور ویران نہ ہوگئی ہوتی، ستم اور جبر سے مزاحمت جاری رہتی اور قید خانے آباد تو ان کی شاعری کی دنیا بھی شاید جگمگا تی رہتی۔ فیض کے معاشرہ نے میدان چھوڑ کر فرار کی راہ اختیار کی تو وہ بھاگی ہوئی فوج کی جرأت و ہمت کی رَجَز خوانی کب تک کرتے رہتے؟
خیر جو ہوا سو ہوا، لیکن ہم اس طرح کہ جیسے فیض اب بھی ہمارے درمیان ہیں، اور وہ اپنے کلام کے حوالے سے ہم میں واقعتا موجودہیں، ان کے ساتھ دعا کے لیے ہاتھ تو اٹھا ہی سکتے ہیں:
جن کا دین پیرویٔ کذب و ریا ہے ان کو
ہمّتِ کفر ملے جرأت تحقیق ملے
جن کے سر منتظر تیغِ جفا ہیں ان کو
دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
Mr.Abid Suhail
22,S P Journalist’s Colony,
Sector-C, Ali Ganj
Lucknow – 226024, (U P)

