نثر اور نظم اردو کی دو شاخیں ہیں۔ ان دو مضبوظ شاخوں سے مختلف شاخیں نکلتی ہیں۔ جن کے الگ الگ نام ہیں۔ غزل، مثنوی، قصیدہ اور مرثیہ بھی نظم ہے۔ جدید دور میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے آج کئی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ جس کی چار بنیادی قسمں ہیں۔ پابند نظم، نظم معراء، آزاد نظم، نثری نظم۔
محمد حسین آزاد اور حالی کی کوششوں سے باضابطہ ایک صنف کی بنیاد پڑی جسے ہم نظم کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ نظم موضوعانی ہوتی تھیں او ران کا مزاج غزل سے بالکل الگ تھا۔ نظم کا ارتقائی دور 1857 کے بعد شروع ہوا لیکن اس سے پہلے بھی جعفر زٹلی اور شاہ حاتم وغیرہ کے یہاں موضوعاتی نظمیں ملتی ہیں۔ اس دور میں نظم کے نمائندہ شاعر نظیر اکبر آبادی تھے۔ نظیر کا دور غزل کا دور تھا لیکن نظیر نے نظم کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔
حالی کے بعد اس صنف کو عروج بخشنے والوں میں ایک نام اسمعیل میرٹھی کا بھی ہے۔ اسمعیل میرٹھی نے بچوں کے لئے سبق آمو زاور اخلاقی نظمیں لکھیں ان کی شاعری منظر نگاری کا ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ وہی دور تھا جب اردو میں انگریزی نظموں کے ترجمے بھی کئے جانے لگے۔ جن میں میر غلام قلق میرٹھی کا نام سر فہرست آتا ہے۔ اسمعیل میرٹھی اور بانکے بہاری نے بھی انگریزی نظموں کے کامیات ترجمے کئے۔ نظم طباطبائی کا منظوم ترجمہ ”گور غریباں“ کے نام سے بے حد مقبول ہوا۔ 1864 میں قلق میرٹھی کا ایک مجموعہ نظم بھی شائع ہواجس کا نام ”جواہر منظوم“ تھا۔ غالباً وہ اردو نظم کا پہلا مجموعہ تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ 1874 کو انجمن پنجاب کا قیام عمل میں آیا اور اس کے تحت 30 مئی1874 کو باضابطہ ایک موضوعاتی مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کا عنوان برسات تھا۔ حالی نے اس سلسلے میں ایک نظم ”برکھا رُت“ پڑھی تھی۔ وقت گزرتا رہا اور نظم جدید کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ اقبال، چکبست، اکبر الہ آبادی اور سرور جہاں آبادی نے اسے عروج پر پہنچا دیا۔ اردو نظم جب ترقی پسند تحریک کے حصار میں آئی تو نظم کا رشتہ عوام سے نہ صرف یہ کہ جڑا بلکہ مضبوط ہوا۔ دیکھتے دیکھتے ترقی پسند تحریک کے بینر تلے نظم کے شاعروں کا ایک بڑا کارواں تیار ہو گیا جس میں فیض، مجاز، ساحر، کیفی، مخدوم، وحید اختر، علی سردار جعفری، سلام مچھلی شہری،جاں نثار اختر، جذبی، پرویز شاہدی وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ جدید نظم نے حقیقت نگاری کا محاسبہ کیا۔ جہاں ان شعرا نے بھوک اور غریبی کے گیت گائے وہیں کلاسیکیت کا دامن بھی نہیں چھوڑا۔ ترقی پسند تحریک اکے بعد حلقۂ ارباب ذوق نے بھی نظم کو نئی سمت اور دشائیں دیں۔ میراجی ؔاس سلسلے کا ایک بہت اہم نام ہے۔ اختر الایمان، اختر شیرانی، احمد ندیم قاسمی اور شاد عارفی کا تعلق بھی اسی حلقے سے تھا۔ ان تحریکات اور رجحانات نے اردو نظم کے کینوس کو بہت وسیع کیا۔ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس لئے جب سماج کے افکار ور نظریے بدلتے ہیں تو ادب پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ایسا ہی ایک سانحہ ملک کا بٹوارہ تھا۔ بٹوارے نے ادب کی فضا کو بدل ڈالا۔ ظاہر بات ہے اس کا اثر اردو نظم پر بھی پڑا۔ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی میں اردو افسانے کی پیش رفت – اصغر شمیم)
اردو نثر کی بات کریں یا نظم کی مغربی بنگال کی ادبی فضا اور یہاں کی زمین ان دونوں کے لئے زر خیز رہی ہے۔ آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو غزل کی طرح کئی شعراء نے نظم نگاری کے میدان مین بھی اپنی انفرادیت کا احساس دلایا اس سلسلے میں جمیل مظہری، پرویز شاہدی، مضطر حیدری، سالک لکھنوی، حرمت الاکرام، مظہر امام، رونق نعیم، علقمہ شبلی، اعزاز افضل، قیصر شمیم، نصر غزالی، عین رشیداور شہناز نبی وغیرہ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ شعرا ہیں جو صرف بنگال کی حد تک نہیں بلکہ پوری اردو دنیا میں اپنی تخلیقی توانائی اور نظم نگاری کی جدت اور ندرت کے حوالے سے یاد کئے
جاتے ہیں۔دیگر نظم گو شعرا کی طرح مغربی بنگال کے شعرا کے یہاں بھی پابند نظم، نظم معرا، آزاد نظم، نثری نظم کے تجربے ملتے ہیں۔
پرویز شاہدی کا شمار مغربی بنگال کے صف اول کے نظم گو شعرا میں ہوتا ہے مغربی بنگال میں اردو نظم کی تاریخ ان کے بغیر نا مکمل ہے۔ وہ ترقی پسند شاعروں میں امتیازی حیثیت کے مالک تھے۔ رقص حیات اور تثلیث حیات ان کے دو شعری مجموعے ہیں۔ پرویز شاہدی کو الفاظ منظوم کرنے پر دسترس حاصل تھا۔ پرویز شاہدی نے اردو کو کئی کامیاب نظمیں دی ہیں۔ تثلیث حیات ایک طویل اور عمدہ نظم ہے۔ ان کی ایک نظم ”بے چہرگی“ بہت مقبول ہے۔ جس میں انسانوں کو کئی خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نظم کا پہلا حصہ ملاحظہ کریں اور اپنا چہرہ تلاش کریں۔
ہزارپوست اُستخواں
ہزار لب فسردگی
ہزار پردہ تشنگی
ہزار شاخ بے دلی
ہزار عشوہ خودسری
ہزار غمزۂ عاجزی
ہزار پیچ آگہی
ہزار عقدہ اَبلہی
ہزار لہجہ خامشی
ہزار مرگ زندگی
غرور برتری کے ساتھ اختلاج کمتری
یہ ریزہ ریزہ آدمی
یہ پارہ پارہ آدمی
ہزار چہرہ آدمی۔۔۔۔
جمیل مظہری کا تعلق بہار اور بنگال دونوں سے ہے۔ جمیل مظہری کی شاعری اپنے رنگ و آہنگ کے اعتبار سے منفرد ہے اور اپنا الگ شعری مزاج رکھتی ہے۔ ان کا ایک خاص اُسلوب ہے جو دوسرے شعرا سے انہیں ممتاز بناتا ہے۔جمیل مظہری نے اردو شاعری کی تقریباًتمام اصناف سخن پر طبع آزمائی کی ہے جمیل مظہری بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔شاعر کی تمنا، مزدور کی بانسری، جائیں کہاں ہم ان کی بہترین نظموں میں سے ایک ہیں۔’جائیں کہاں ہم‘ نظم کا آخری بند ملاحظہ کریں۔
نہ راحت یہاں ہے نہ راحت وہاں ہے
شرافت بھی غمگیں رذالت بھی غمگیں
بس اب منہ نہ کھلوا خدا درمیاں ہے
سمک سے سم تک تپش ہی تپش ہے
فضا سے خلا تک فغاں ہی ٖفغاں ہے
خودی پاؤں پکڑے ہے جائیں کہاں ہم
تصور کی جنت بنائیں کہاں ہم
مضطر حیدری کا شمار بھی مغربی بنگال کے ممتاز نظم گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ”جام جم“ ان کا مجموعہ کلام ہے۔ ان کی نظموں میں لفظیات کے ساتھ ساتھ گہری سوچ اور فکر ہوتی ہے۔ ان کی نظمیں نہایت معنی خیز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی ایک نظم کے چند ٹکڑے دیکھیے۔
جلتی ریت چمکتا سورج، صحرا صحرا دھوپ
دھرتی کا ایک روپ
تنہا تنہا ایک مسافر، قدم قدم گر جائے
دکھ کے بوچھ اٹھائے
بوند بوند پانی کو ترسے، پاؤں پاؤں چھالے
کانٹو ں کے رکھوالے
دور دور تک ایک سناٹا، دل کی دھڑکن بولے
بھید کسی کے کھولے
مغربی بنگال کے شاعروں میں اعزاز افضل ایک معتبر اور نمایاں نام ہے۔ انہوں نے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی۔ اعزاز افضل آسان لفظوں میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس میں بے ساختگی ہوتی ہے۔ وہ فکر کو طویل ہونے نہیں دیتے بلکہ سادگی سے اپنی بات کہہ دیتے ہیں۔ غزل کی طرح ان کی نظموں میں بھی ایک خوشگور آہنگ پایا جاتا ہے۔ ان کی یادگار نظموں میں سوال، انگارے، مجاہد کی موت، آواز کا سفر، اے میرے ہم سفر اے میرے راہبر، کہاں جائیں کدھر جائیں قابل قدر ہیں۔نظم کہاں جائیں کدھر جائیں سے ایک مثال دیکھیے۔
قلم کو خوں روتے ایک مدت ہو گئی ہے
لیکن
ستم کی داستاں
اب تک ادھوری ہے
مراحل کے وہی قربت، وہی منزل کی دوری ہے
کھڑے ہیں قافلے والے تذبذب کی دو راہے پر
کہاں جائیں /کدھر جائیں
قدم آگے بڑھائیں یا ٹھہر جائیں
قیصر شمیم مغربی بنگال کے نمائندہ شاعر ہیں۔ کل آج کل، یکسانیت ایک سوال، وہ شام، قلم کا سپاہی، نئی تاریخ، تنہای وغیرہ ان کی اہم نظمیں ہیں۔ قیصر شمیم کی نظموں میں جدید دور کے مسائل موجود ہیں۔ ان کے یہاں تنہائی، بے سمتی اور انتشار کے تصورات کثرت سے موجود ہیں۔نظم ’تنہائی‘ سے ایک ٹکڑا پیش خدمت ہے۔
رشک آتا ہے مجھے ان دوستوں پر
بھیڑ میں رہتے ہوئے جو، بھیڑ کا حصہ کبھی بنتے نہیں ہیں
اور جذبہ بنگانگی کو
خوبصورت نام تنہائی کا دے کر
ایک طلسماتی فضا میں اس طرح اب جی رہے ہیں
جیسے یکتائی کا درجہ
ان کی تنہائی نے اُن کو دے دیا ہے۔۔!!!
’کلکتہ ایک رباب‘جیسی شاہکار نظم کے خالق حرمت الاکرام کا تعلق بھی مغربی بنگال سے رہا ہے۔ کلکتہ ایک رباب پر انہیں ساہتیہ اکاڈمی انعام بھی ملا تھا۔ آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو نظم کے فروغ میں انہوں نے نمایاں رول ادا کیا۔ ”کس کو خبر“ حرمت الاکرام کی ایک بے حد عمدہ نظم ہے۔ نظم کا آخری بند ملاحظہ کریں۔
آفات کے حصار میں روح طرب ملی
شبنم کی بوند بوند مجھے تشنہ لب ملی
راحت وفا کو بستر گل پر بھی کب ملی
اک عمر میں نے کاٹی ہے شعلوں کے درمیاں
میں ہر نئی بلا کی گرہ کھولتا رہا
جام وفا میں دل کا لہو گھولتا رہا
آزادی کے بعد مغربی بنگال کے نظم گو شعرا کی فہرست میں سالک لکھنوی ایک نمایاں نام ہے۔ سالک لکھنوی بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔ ”کلام“ ان کا شعری مجموعہ ہے۔ واپسی، تصویر، سناٹا، انتظار، سورج کی تھالی، خود کلامی، تلاش زندگی وغیرہ ان کی کچھ بہترین نظمیں ہیں۔ سورج کی تھالی کا پہلا بند ملاحظہ کیجیے۔
اس رات کی محفل میں مجھ کو فردا کے سندیسے ملتے ہیں
جھنکار جیسی ہوتی ہو اس دل کے تار یوں ہلتے ہیں
یہ رات گذر ہی جائے گی یہ رات گذرنے والی ہے
وہ دیکھو گگن کے ہاتھوں میں سورج کی چمکتی تھالی ہے
سورج کی چمکتی تھالی نے کچھ ایسا رنگ بکھیرا ہے
ذروں کے دلوں میں گرمی ہے پھولوں کے لبوں پر لالی ہے
اردو شاعری کے حوالے سے علقمہ شبلی مغربی بنگال کا ایک اہم اور معتبر نام ہے۔ علقمہ شبلی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ لیکن انہوں نے نظمیں بھی کہی ہیں اور خوب کہی ہیں۔ ان کی نظمیں روح عصر کی ترجمان ہیں۔ ان اہم نظموں میں برف پگھلی ہے، سوال، انتظار، دھوپ دھوپ سفر، ایک قدم اور، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ایک قدم اور کے بند دیکھیے۔
اک قدم اور سہی /اک ورق اور سہی
ہم قدم کوئی نہیں ہے نہ سہی
ہم سبق کوئی نہیں ہے نہ سہی
زندگی یوں بھی گذر جاتی ہے
زندگی یوں بھی گذر جائے گی۔۔۔
آزادی کے بعد مغربی بنگال کے شعرا میں مظہر امام اردو ادب اور شاعری کے حوالے سے ایک اہم اور نمایاں نام ہے۔ مظہر امام نے غزلیں اور نظمیں دونوں کہیں ہیں۔ جدید شعرا میں ان کی اپنی ایک منفر د پہچان ہے۔ مظہر امام نے وجودیت کو اپنی نظموں میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹوٹتے انسانی رشتوں کو انہوں نے کس طرح محسوس کیا ہے نظم ”رشتہ گونگے سفر کا“ ایک حصہ دیکھیے۔
یونہی کب تلک فون پر باتیں کرتے رہیں گے
یونہی فاصلہ جسم کا، لمس کا
ایک رشتہ فقط صوت و آواز کا
یہ رشتہ بھی حصہ ہے گونگے سفر کا
جو کب ٹوٹ جائے
کسے یہ پتہ ہے؟
کاش یہ رشتہ صوت و آواز دائمی ہو
کہ گونگے سفر کے سبھی سلسلے عارضی ہیں۔۔۔۔
نصر غزالی مغربی بنگال کے حوالے سے جدید اردو شاعری کا انتہائی معتبر نام ہے۔ ان کی نظموں میں صوتی آہنگ کا ایک منفرد سلیقہ نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری فکر انگیز ہے۔ نصر غزالی نے اپنی نظموں میں اپنے دور کے حالات و واقعات، زندگی کے تجربات و مشاہدات کو شعری پیکر عطا کئے ہیں۔ ان کی اہم نظموں میں اونچائیوں سے اترتی صدا، خوابوں کا شہر، سرگوشی، تیسری دنیا، درد سچا ہوتا ہے وغیرہ قابل قدر ہیں۔ نمونے کے طور پر نظم”سرگوشی“ کا ایک حصہ پیش ہے۔
ہوا کے واسطے رکھیے
کھلا دریچۂ جاں
کہ آتی جاتی رہے وہ
تو نم ہے کشت وجود
کہ مہرباں ہو تو
فصل قفس ترو تازہ
مگر
اسے نہ کبھی راز دار غم کیجیے
کہ اس کو آج بھی سر گوشیوں کی عادت ہے۔۔۔!!
رونق نعیم مغربی بنگال کے نظم نگاروں میں بلاشبہ اپنے اُسلوب، موضوعات، اپنی لفظیات نیز اپنے لہجے کے اعتبار سے ممتاز اور منفرد ہیں۔ان کی نظموں کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک الگ دنیا میں آ گئے ہیں۔ رونق نعیم کی نظمیں بہت مختصر ہوتی ہیں۔
بقول شخصے۔۔”چھوٹی چھوٹی نظمیں رنگ برنگی تتلیاں ہیں کہ ہماری گرفت میں آجاتی ہیں تو کبھی کترا کے نکل جاتی ہیں۔“
یہی وجہ ہے کہ رونق نعیم کی مختصر ذہن و دل پر خاص تاثر مرتب کرتی ہیں۔ الہٰ دین، حاتم طائی، ارادہ، خواہش انا، وحشت، ویرانی، تلوار، خواب ان کی کچھ بہترین نظمیں ہیں۔ ان کی نظم ”تلوار“ اور ”خواب“ ملاحظہ کیجیے۔
تلوار خواب
جھوٹا ہے بیوپار ریزہ ریزہ خواب
پھولوں کا بازار ہے لیکن او رنہ کوئی دیکھے بابا
بکتی ہے تلوار میرے جیسا خواب
مغربی بنگال کے نظم گو شعرا میں نثری نظم کے حوالے سے عین رشید کو خاص امتیاز حاصل ہے۔ ان کی نظموں میں زندگی کی تلخیاں نظر آتی ہیں۔ وہ اپنی نظموں میں اپنا احتجاج درج کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت حد تک کامیاب بھی رہتے ہیں۔ آبنوسی خیال، سیب اور مصور، کون ہے تو، تاریخ کی الٹی طرف، ۱۳دسمبر وغیرہ ان کی بہترین نظمیں ہیں۔ نظم ’کون ہے تو‘ کا بند ملاحظہ کیجیے۔
سایہ میرا مجھکو دیکھ کے بھاگے ہے
پھر بھی میرے ساتھ رہے
کون ہے تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راز کی ساری باتیں تجھ سے کر لوں میں
پھر بھی جی کا حال چھپاؤں
کون ہے تو
آزادی کے بعد مغربی بنگال کی جس نظم گو شاعرہ نے ناقدوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے وہ شہناز نبی ہیں۔ شہناز بنی کے یہاں نظموں کا ایک نیا رنگ روپ نکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ نسائی موضوعات و مسائل کا اظہار ان کی نظموں میں بہت پُر اثر انداز میں ہوا ہے۔ شہناز نبی نے آزاد نظم کے فورم میں بہت سی کامیاب نظمیں کہی ہیں۔ اگلی رُت کی نماز، اور ’نئے یوگ کا خواب کے علاوہ بھی انہوں نے بہت ساری عمدہ نظمیں کہی ہیں۔ نظم ’نئے یوگ کا خواب‘ ملاحظہ کیجیے۔
بد خوابی سے بچنے کے تھے کیسے کیسے نسخے
بسم اللہ
پھر پہلا کلمہ، دوسرا کلمہ، چاروں قل
اور داہنی کروٹ سونا
نیند تو اب آتی ہے کم کم اور اگرآ بھی جائے تو
خواب کہاں اچھے آتے ہیں
گہرا دریا، ڈوبتی ناؤ، ٹوٹے پُل کے اکھڑے تختے
روشندان پہ کالے شیشے
سڑکوں پر گونگا سناٹا
دیواروں پہ خون کے چھینٹے
آگ دھواں بے چین کراہیں
اک کروٹ پر سوتے سوتے
داہنا انگ بے جان ہوا
اک اک کلمہ اک اک قل
کیا جانے کتنی بار پڑھا ہے
یہ بد خوابی کب جائے گی۔
آزادی کے بعد مغربی بنگال کے کچھ ممتاز نظم گو شعرا کایہ ایک مختصر جائزہ ہے۔ ان کے علاوہ بھی مغربی بنگال کے جن شاعروں نے نظم کے حوالے سے اپنے افکار و نظریات کوخوبصورتی کے ساتھ پیش کرنے میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ ان میں اشک امرتسری، ابراہیم ہوش، عباس علی خاں بیخود،رضا مظہری، حامی گورکھپوری، احسان دربھنگوی، واحد آروی،احسان دربھنگوی، بشیر آروی، آرزو سہارنپوری، بیدل مرشدآبادی،حشم الرمضان، وحید عرشی، ناظم سلطانپوری، شہود عالم آفاقی، یوسف تقی، شمیم انور، کامل اختر، خالق عبدللہ، ایم علی، حسن عرفی، احسن شفیق، حسن اثر، نور پیکر، ایم کے اثر، انجم عظیم آبادی، جعفر ساہنی، اسماعیل پرواز، معصوم شرقی، ف س اعجاز، صدیق عالم،حیدر صفت، نور بھارتی، جاوید ہمایوں، شمس افتخاری، عاصم شہنواز شبلی، صدف جعفری، نعیم انیس، نسیم فائق وغیرہ کے نام و کام اہمیت کے حامل ہیں۔مغربی بنگال میں اردو نظم کا سفر آج بھی جاری ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہاں کے افسانہ نگاروں کی طرح یہاں کے شعرا بھی ناقدوں کی بے نیازی کا شکار ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی سر حد تخلیق کا راستہ نہیں روک سکتی لیکن ہمارے ناقدین نے ایک سر حد بنا رکھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بنگال کے شعرا ناقدوں کی بے توجہی کا شکار رہے۔ مخمور سعیدی نے آزادی کے بعد اردو غزل اور نظم کا ایک انتخاب شائع کیا تھا جس میں بنگال سے صرف چار شاعراور ایک شاعرہ کو ہی شامل کیا تھا۔ ایسا کیوں۔۔۔۔؟ اب ضرورت ہے کہ آزادی کے بعد مغربی بنگال کے شعراء کا انتخاب شائع کیا جائے۔ ایک ایسا انتخاب جو کم سے کم ہندو پاک کی سطح پر اچھے قارئین سے نظر ملانے کی جسارت کر سکے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ہم اپنی ڈفلی اپنا راگ بجاتے رہیں گے۔ جمیل مظہری نے برسوں پہلے صرف اپنے لئے نہیں بلکہ مغربی بنگال کے شعراء کے لئے ایک شعر کہا تھا شاید انہیں اس بات کا احساس تھا بیسوی صدی ان لوگوں کی پہچان کے لئے تنگ ہے۔ شاید اکیسوی صدی ان کی پہچان کا حوالہ بنے۔
اسے بلاؤ زباں داں جو مظہری کا ہو
مگر ہے شرط وہ اکیسوی صدی کا ہو
اصغرشمیم
کولکاتا، مغربی بنگال
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

