اپنے جوتے کی ایڑی زمین کے سینے پر رگڑتے ہوئے جب وہ اپنا منھ گھڑیال کی طرح کھول کر ہنسا تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ پل میں ہی اس پیڑ کو نگل لے گا اس کے تمام شاخوں،پتوں اور پرندوں کے ساتھ انکے گھونسلوں تک کو بھی مگر افسوس کہ اسکی بھوک تب بھی نہ مٹے گی۔ وہ پھر منھ پھاڑے گا کھیتوں کو اناج کے ساتھ نگل لے گا۔اوہ! گھبرا گئے وہ کوئی وحشی جانور نہیں ہے وہ تو انصاف پسند بڑے پیٹ والے زمیندار ہیں۔خدا کی تخلیق کردہ اس زمین کو وہ اپنی جائیداد سمجھتے ہیں گویا تا حد نظر ساری زمین کے زمیندار ہیں۔ہاں وہی ایک پیڑ تھا جو کئی سالوں سے انکے پیٹ میں نہیں جا پا رہا تھا تو انہوں نے اپنے نیک صفت رضاکاروں کو لیکر راتوں رات یہ مشہور کر دیا کہ یہ پیڑ منحوس ہے اور اس پر آسیبی سایہ ہے اور جو بھی اسکے آس پاس رہے گا وہ بھی ان آسیبی طاقتوں کے زد میں رہےگا لہزا جتنا جلدی ہو اس پیڑکو اکھاڑ دیا جائے اور یہاں کے گھروں کو خالی کردیا جائے تاکہ اس جگہ کو آسیبی طاقتوں سے نجات دلایا جاسکے جو یقینا کسی پارسا شخص کے ہاتھوں ہی ممکن تھا اور وہ پارسا کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ زمیندار صاحب نے ابھی تک کسی کو پارسائی کی سند دی ہی نہیں تھی لہزا یہ ذمہ داری بھی انہی کے سر تھی۔ یہ بات پیڑ پر بھی خوب اچھی طرح جانتا تھا اور وہ نگاہیں اٹھا کر نیلی چھتری والے سے نہ معلوم کیا بات کرتا اور مسکراتا رہتا ۔(یہ بھی پڑھیں چھُٹّی – محمد علیم اسماعیل) ایک دن اس پیڑ کے پاس کچھ ضروری کام کا حوالہ دے کر اتنا گہرا گڑھا کھودا گیا مانو زمین سے کوئی چھپا خزانہ حاصل کرنا ہو جب گڑھا کھودنے والوں کو گھٹن کا احساس ہوا تو انھوں نے سر اٹھا کر دیکھا وہ لوگ زمیندار صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر اتنا گہرا گڈھا کھود ڈالے تھےکہ سطح زمین سے بہت نیچے پہنچ گئے تھے اور آدمی کی سطح سے بھی ۔فورا چھپکلی کی طرح باہر نکلے پیڑ کو گرانے کا منصوبہ بے کار ہوگیا مگر پیڑ بدستور مسکراتا رہا۔ پیڑ کو کاٹا بھی جا سکتا تھا مگر یہ کسی صورت ممکن نہیں تھا کیونکہ لوگوں کا ہجوم ان پر ٹوٹ پڑتا۔زمیندار صاحب نے ان لوگوں پر نوازشات کی ایسی بارش کی تھی کہ اس بارش میں لوگوں کا سب کچھ ڈوب گیا تھا کوئی نشاں تک باقی نہ تھا سوائے اس منحوس پیڑ کے چنانچہ اب وہ بڑے پیٹ والا سوچنے لگاکہ وہ ہواؤں کا چلنا بند کردے اور سورج کو اپنی جیب میں رکھ لے جب دل کرے نکالےروشن کرے اور پھر جیب میں رکھ لے پانی ہاں پانی بھی وہ پیڑ پر پڑنے نہ دے تمام بادلوں کو یکجا کر لے اور لپیٹ کر اپنے دالان کے کسی کونے میں رکھ دے۔اسے ایسا سوچتے ہوۓ ذرا بھی احساس نہ رہا کہ وہ انسان ہے معلوم نہیں وہ پیسہ اور پیٹ کے بڑھنے کے بعد خود کو کیا سمجھنے لگا تھا مگر ایسا کیسے ہو سکتا تھا ۔وہ سوچتا رہا اور پیڑ مسکراتا رہا۔ سالوں گزر گئے نہ وہ بڑا پیٹ والا رہا نہ کوئی آسیبی سایہ سب ختم ہو گیا اور کل رات وہ پیڑ ہاں وہی پیڑ جو مسکراتا رہتا تھا تیز ہواؤں کے ساتھ دھڑام سے زمین پر گر گیا گرتے وقت اس کی زبان پر کچھ تھا کیا تھا؟ ہاں یہی تھا” اللہ ہو باقی من کل فانی”۔
نسیم اشک
ھولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com


1 comment
سبحان اللہ۔۔۔۔۔بہت عمدہ۔۔۔۔۔