1…آرام کی ضرورت
دیکھو تم نے نہ جانے کتنی ہی لڑکیوں سے عشق کیا۔وہ سب کی سب بیاہ کر چلی گئیں۔اب تمہیں بھی شادی کرلینی چاہئے۔
رہنے دو یار میں تھک گیا ہوں!!!
2…سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاۓ گا
باپ کے مرتے ہی دونوں بیٹوں میں اس بات کی جنگ چھڑ گئی کہ کس کے حصے میں کتنی دولت اور جائیدادیں آئیں۔ دوسری طرف ان کے بچے ان فکروں سے آزاد دور کہیں مٹی کے گھروندے بنانے اور گرانے میں مصروف تھے۔
3…بیمار ذہنیت
باپ کئی مہینوں سے بسترِ مرگ پر تھا۔اس کا ذہن پوری طرح مفلوج ہوچکا تھا مگر جسم میں جان اب بھی باقی تھی۔
ادھر بیٹا اس غم سے دوچار کہ وراثت میں اس کے حصے یہ چھوٹا سا گھر اور ماں آئی۔
4…دل کا دریا بہہ ہی گیا
لڑکا ١: دیکھ یار کتنی خوبصورت لڑکی ہے، چل اس کے پیچھے چلتے ہیں۔
لڑکا ٢: کاش یہ میری گرل فرینڈ ہوتی!
لڑکا ١: چپ کر پہلے میں نے دیکھا اسے اس لئے اس پر صرف میرا حق ہے ۔
لڑکا ٢: نہیں یہ صرف میری ہے۔
اور پھر دونوں آپس میں الجھ پڑے۔ لڑکی شور سن کر پیچھے مڑی اور دونوں کے قریب پہنچ گئ۔ دونوں کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ اگلے ہی پل دونوں کے گال طمانچے کی زد میں آکر سرخ ہوچکے تھے۔
کمال الدین علی احمد
رانی گنج، پچھم بردوان، مغربی بنگال
8906364797


3 comments
دل سوز اور گہری بات ایک افسانچے کی صورت میں گویا پوری کائنات ایک سانچے میں ڈھل گیا ہو
روح پرور اور حقیقت پر مشتمل افسانچے جو کمال صاحب کے پروازِفکر کا نتیجہ ہے کافی حد تک میرے متاثر کن ہے
بہت عمدہ