Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

جمہوری ادب کا تصور – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras جون 30, 2021
by adbimiras جون 30, 2021 0 comment

فرد اور معاشرہ فنونِ لطیفہ سے مربوط رشتہ رکھتے ہیں بلکہ فنونِ لطیفہ اور زندگی و معاشرتی نظام لازم و ملزوم ہیں۔ فنونِ لطیفہ بشمول شعر و ادب گاہے ان سے متحرک ہوتے ہیں، گاہے فرد و معاشرہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ دورِ جمہور جن میلانات و رجحانات کے ساتھ رواں دواں ہے اس تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ فنونِ لطیفہ اور دیگر تمام تخلیقات و معروضات عوامی خیالات و جذبات اور محسوسات کی ترجمانی سے نئی انگڑائیاں لے رہے ہیں۔ آج فنونِ لطیفہ کے حصار، خواص سے پھیلتے ہوئے عوام تک پہنچ گئے ہیں لہٰذا تخلیقات کے موضوعات اور تکنیک متنوع ہونے کے ساتھ انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنار ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب نابغہ روزگار فنکار و قلم کار اور ناقدین نظریہ سازی کے عمل سے گزرتے ہیں تو ماحولیاتِ انسانی فلاح و بہبود پاتے ہیں اور معاشرتی نظام ترقی پسندانہ اقدام کے حامل بنتے ہیں جن کے دائمی اثرات فرد و معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ظاہر ہے ایسے ذہین اور شائستہ و ارفع دماغ افراد معدودے چند ہوتے ہیں جن کے تصورات و افکار خواص و عوام سے بالاتر ہوتے ہیں اور ان ہی کی کاوشوں سے پوری انسانی برادری اور سماج (چاہے وہ جس میدان میں کارنامہ انجام دیں) مستفیض ہوتے ہیں۔ نتیجتاً جب بھی معاشرتی نظام ایک نئی کروٹ لیتے ہیں تو نیا منظر نامہ اُبھرکر سامنے آتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک آزاد معاشرتی نظام میں ہی جذبات و خیالات اور تصورات کو نشو ونما پانے اور اس پر عمل درآمد کے بہترین مواقع میسر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے نئے نئے تصورات کی توسیع ہوئی، عوام میں نئی بصیرت کا ظہور ہوا اور دھیرے دھیرے نظامِ شاہی اپنا بستر لپیٹنے لگا جو شخصیت پرستی، خودغرضی اور استحصال پر مبنی تھا اور جمہوری نظام کا سورج نصف النہار پر جلوہ فگن ہوا۔ پھر نابغہئ روزگار ہستیوں کے افکار و تصورات کے جوہر کھل کر سامنے آگئے۔ نئے نئے ایجادات، افکار و نظریات نے پوری دنیا کو نئی تہذیب کا چولا پہنایا اور ایک ہی صف میں محمود و ایاز آراستہ نظر آنے لگے۔ (یہ بھی پڑھیں غضنفر کا افسانہ’سرسوتی اسنان‘ کا تجزیاتی مطالعہ – پروفیسر (ڈاکٹر) عبدُ البرکات )

معاشرتی نظام، جغرافیائی حالات اور معاشی و سیاسی صورتِ حال کے اثرات؛ نہ صرف انسان کے جسمانی ساخت، حالات و معاملات پر پڑتے ہیں جس سے طرزِ زندگی کا تعیّن ہوتا ہے بلکہ انسانی خصائل بھی متاثر ہوتے ہیں اور آدمی کے اشکال، لسان اور لباس و اطوار میں نمایاں تفریق رونماہوتا ہے۔تاہم انسانی اقدار اور انسانیت آمیز امور میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔کیوں کہ انسانیت بھی روح کی طرح لطیف و شفاف ہوتی ہے جس پر خارجی دباؤ کے اثرات بہت کم ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی قدروں میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ طرزِ فکر، اندازِ احساس و جذبات، دکھ، غم، خوشی یکساں اور بھوک و پیاس کی شدت میں مماثلت بنیادی انسانی اقدار ہیں۔ چاہے انسان زمین کے کسی بھی خطہ میں رہے اور کسی بھی حالت میں رہے، ہر علاقہ، نسل اور مذہب کے افراد میں یہ قدریں موجود ہوتی ہیں۔ ترحم، خوشی، غم، افسوس، مسرت وغیرہ لطیف جذبات و محسوسات ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے جوڑتے ہیں۔ خواجہ میردردؔ کا کہنا ہے:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں

اس تناظر میں علاقائی ادب اور عوامی ادب جمہوری دَور کا مقتضی ہے کیوں کہ ہر خطہ یا علاقہ اپنی بولی اور زبان کا متحمل ہوتا ہے جس میں ان کی تہذیب و ثقافت جلوہ گر ہوتی ہے اور اس علاقہ کے افراد کی سوچ، طرزِ زندگی اور اندازِ فکر کی بہتات ہوتی ہے جو اُن کی تحریروں میں نمایاں ہوتی ہے۔ غالباً اسی لیے مابعد جدیدیت نے علاقائیت کو اساس بنایا ہے اور فرد کی اہمیت و افادیت کو اپنی فکر کا محور گردانا ہے کہ انسان خواہ کسی خطہ، علاقہ اور قوم و نسل کا ہو، اس کی انفرادیت اور اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب جمہوری نظام کا نفاذ مکمل طور پر ہو، کیوں کہ جمہوریت ختم ہونے کے بعد دہشت کا راج قائم ہوجاتا ہے لہٰذا انسانیت کی بقا کے لیے اس زمین پر جمہوری نظام ناگزیر ہے۔ اس صورتِ حال میں ہی انصاف ممکن ہے۔ (یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کے اسباب – پروفیسر عبدُ البرکات )

ادبِ عالیہ کی تخلیق اس وقت ممکن ہوتی ہے جب منجملہ انسان کی مسرت و انبساط، محبت و الفت، غم و الم، دکھ درد، کامیابی و ناکامی الغرض نیز سماج کے مجبور سے مجبور انسان کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ آدمیوں کے دمیان کی تفریق ختم کی جاسکے اور ان میں ایک دوسرے کے لیے احترام کا جذبہ پیدا ہو؛ کیوں کہ ادب کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داریاں بھی عظیم ہیں۔ درحقیقت ادبِ عالیہ اعلیٰ ترین دماغ کی کاوش ہوتا ہے، غالباً اسی لیے 1950 کے نوبل انعام کی ایک تقریب میں ولیم فالکنر نے اپنی تقریر میں کہا تھا جس کا اردو ترجمہ محمد اسلم نے کیا ہے:

”یہ اعزاز شاعر و ادیب کا ہے کہ وہ انسان کے حوصلے بڑھاکر اُسے دکھ برداشت کرلینے میں مدد دے اور اس کے دِل میں جرأت اور احترام اور امید اور پندار اور احساس اور رحم اور ایثار کی یاد تازہ کرتا رہے۔ یہی تو وہ چیزیں ہیں جن کی بدولت اس کا ماضی اب بھی تابناک ہے۔ شاعر کی آواز کے لیے یہ چنداں ضروری نہیں کہ وہ انسان کی محض روداد ہو بلکہ یہ آواز تو انسان تحمل و برداشت کے علاوہ مشکلات پر غالب آنے پر بھی اُبھار سکتی ہے۔“(ترجمہ محمد اسلم)

(بحوالہ روزنامہ’انقلاب‘ 19اپریل 2020، سنڈے، ص6)

دراصل 1917 کے انقلابِ روس نے زارشاہی کا تختہ پلٹ کر سارے ایشیا کی محکوم قوموں میں عوامی جمہوریت کی نئی لہر دوڑا دی اور پوری دنیا کے لیے ایک جمہوری طرزِ حکومت کے دروازے کھول دیئے۔ رفتہ رفتہ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں بالواسطہ یا بلاواسطہ جمہوری طرزِ حکومت قائم ہوگئی جس کے تناظر میں ادب اور فنونِ لطیفہ کے مقاصد اور افادیت پر از سرِ نو غور و فکر کیا جانے لگا اور ترقی پسندانہ رجحان عام ہونے لگا۔ ادب میں بھی خرد افروزی اور معروضی طریقہئ کار فروغ پانے لگا۔ شعرا، ادبا؛ عوامی مسائل اور ان کی کشمکشِ حیات میں ’حسن کی معراج‘ دیکھنے لگے۔ معاشرتی زندگی میں آپسی ہم آہنگی پروان چڑھنے لگا۔ لہٰذا رابندر ناتھ ٹیگور نے قلم کاروں کو پیغام دیا کہ:

”ادیبوں کو انسانوں سے مل کر انھیں پہچاننا چاہیے۔میری طرح گوشہ نشیں رہ کر ان کا کام نہیں چل سکتا۔میں ایک مدت تک سماج سے الگ رہ کر اپنی ریاضت میں جو غلطی کی ہے اَب میں اسے سمجھ گیا ہوں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج یہ نصیحت کر رہا ہوں۔ میرے شعور کا تقاضہ ہے کہ انسانیت اور سماج سے محبت کرنا چاہیے۔ اگر ادب انسانیت سے ہم آہنگ نہ ہوا تو وہ ناکام و نامراد رہے گا۔ یہ حقیقت میرے دل میں چراغ کی طرح روشن ہے اور کوئی استدلال اسے بجھا نہیں سکتا۔“ (بحوالہ”ترقی پسند تحریک اور اردو کا ظریفانہ ادب“ڈاکٹر عبد البرکات، ص45، 2019ء) (یہ بھی پڑھیں نقشِ ماضی:شیخ الاسلام مفتی عبد الہادی خان صاحب کانَ اللہ لہ‘ – فرید سعیدی )

اس طرح ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ادبا، شعرا اور قلمکاروں نے اپنی توجہ عوامی زندگی اور معاشرتی معاملات و مسائل کی طرف مبذول کی جس سے ادب کا کینوس وسیع ہوتا گیا۔ ترقی پسند تحریک کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ادب کا رُخ خواص کے ساتھ عوام کی طرف بھی موڑ دیا جس کے طفیل فرد و معاشرے کے مسائل ضبطِ تحریر میں آنے لگے۔ اسی طرح مابعد جدیدیت نے ادب کو علاقائی معاملات و مسائل اور علاقائی زبان و تحریر کی طرف توجہ مبذول کرائی جس کی وجہ سے علاقائی زبانوں کے بہت سارے معتبر الفاظ اور ایسے محاورے و ضرب الامثال مرکزی ادب سے روبرو ہوئے جس سے انسان کے فکری میلان اور طرزِ زندگی کی صحیح عکاسی ہوتی ہے۔ نیز علاقائی تاریخ، تہذیب اور ثقافت؛ ادبی منظرنامہ پر اُبھرکر سامنے آنے لگے۔آج ہر علاقہ سے شاعر، ادیب اور قلم کار علاقائی زبان اور لب ولہجہ کے ساتھ ادبی افق پر نمودار ہورہے ہیں۔ ابتدائی ادب، رؤسا اور مخصوص افراد کے معاملات و مسائل اور طرزِ زندگی تک محدود تھا جس کو ترقی پسند تحریک نے خواص سے عوام تک وسیع کردیا جب کہ جمہوری ادب خواص سے عوام تک کے قلم کاروں اور فنکاروں کو اپنی حصہ داری کا متقاضی ہے جس سے مرکزی ادب کا دامن وسیع و متنوع ہوگا اور ادب کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہوجائے گا لہٰذا سماج کے ترقی یافتہ افراد کے ساتھ عام عوام کے امور اور رموزِ معاملات جب ادب کے سانچے میں ڈھل جائیں تو میرے خیال سے ایسی تحریروں کو جمہوری ادب سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ حقیقتاً کسی نظریہ کے تحت تخلیق ادب کی جستجو ممکن نہیں کیوں کہ انسانی دماغ سیمابی ہوتا ہے۔ بہت دنوں تک وہ ایک ہی حالت میں نہیں رہ سکتا۔ وہ نئے نئے شاخسانے نکالتا رہتا ہے جو فرد و معاشرے کے لیے تغیر و تبدل کا موجب بنتا ہے اور نظامِ زندگی کے ساتھ معاشرتی نظام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں:

”……انسان زیادہ لمبے عرصے تک یکسانیت اور یک رنگی کو قبول نہیں کرسکتا اور اس کے داخل میں تغیر کی آرزو خود بخود کلبلانے لگتی ہے۔ تغیر کی یہ خواہش بذاتِ خود اتنا بڑا محرک ہے کہ ارتقائے کائنات کے بیشتر زاویے اسی کے مرہونِ منت نظر آتے ہیں۔“(”اردو ادب کی تحریکیں: ڈاکٹر انور سدید۔ ص 27، اشاعت ہشتم 2013ء، انجمن ترقی اردو پاکستان)

اس تناظر میں ادبی نظریہ کا متاثر ہونا بھی لازمی ہے لیکن بہرصورت انسان اور انسانیت کی بقا سے قطعی انحراف نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں کہ سنسار میں انسان ہی مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور مرکز سے قطع تعلق کرکے کوئی بھی رجحان یا تحریک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی، وہ کٹی پتنگ بن جائے گی جس کا زمیں بوس ہونا طے ہے۔ اسی اصول کے تحت بہت سارے رجحانات اور تحریکات مثلاً علی گڑھ تحریک، رومانی تحریک، ترقی پسند تحریک، ادب برائے ادب، ادب برائے زندگی، وجودیت، جدیدیت، تعمیریت، مابعد جدیدیت وغیرہ معرضِ وجود میں آتی رہی ہیں اور ان میں وہی تحریک مقبول و عزیز رہی ہے جس میں انسان اور اس کی بقا کو محور بنایا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بیکل اُتساہی کی نعتیہ شاعری – امام الدین امامؔ )

اکیسویں صدی کے دوسرے عشرہ کی ابتدا میں ہی ایک عالمی مہلک وبامنظرِ عام پر آگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مہاماری نے تقریباً پوری دنیا پر اپنے سیاہ آنچل پھیلا دیئے۔ خواہ وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ہر ملک سے اموات کی خبریں ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے توسط سے موصول ہونے لگیں۔خوف، ڈر، وحشت اور افسردگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ تمام ممالک کی حکومتوں نے اپنے ملک کے شہریوں اور اپنے یہاں مقیم افراد کے تحفظ کے پیشِ نظر گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی کیوں کہ اس مہلک وبا جس کو ’کرونا وائرس‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، لاعلاج ثابت ہورہا ہے۔ اس سے بچنے کا واحد راستہ اس وبا سے متاثر افراد سے دوری اختیار کرنے کو قرار دیا گیا۔ لہٰذا سماجی فاصلہ (Social Distancing)پر عمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے تالہ بندی(Lockdown) اور ایمرجنسی نافذ کردیا۔ تمام سیاسی، سماجی، ادبی اور مذہبی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگادی گئی۔ بہرکیف! جب تمام عوام گھروں اور محفوظ مقام پر روپوش ہوگئے تو بڑی بڑی شاہراہیں، شہر، گلیاں، باغات اور پارک ویران و سنسان پڑگئے۔پھر سی سی ٹی وی کیمروں سے جنگلی جانوروں، حتیٰ کہ شیر، باگھ، ہرن اور ایسے جانور سڑکوں اور بازاروں میں گھومتے دیکھے جانے لگے جن کو کبھی چڑیاگھر میں بھی نہیں دیکھا گیا۔پورے عالم میں خوف اور بے چارگی کا ماحول پیدا ہوگیا اور انسانی زندگی تلف ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا، کیوں کہ جانور اس بیماری سے محفوظ تھے، آفت انسانوں پر رہی۔ پھر پوری دنیا نے اپنے اپنے ملک میں ایک ایک آدمی کو بچانے کی مہم شروع کردی۔ مذہب، ذات، جنس،نسل، علاقہ،غریب، امیر، مزدور، کسان، محنت کش یعنی ایک ایک فرد کی جان بلاتفریق بچانے کے لیے ہر ملک کی حکومتیں کوشاں ہوگئیں۔ پھر ”جان ہے تو جہان ہے“ کے نعرہ سے انسان جی اُٹھا، انسانیت کی بقا ہوئی اور آدمی کی اہمیت، افادیت، برتری، عظمت اور وقار عود کر آئی۔ یہ احساس عام ہوا کہ انسان سے بڑھ کر اس کرہئ ارض پر کوئی مخلوق یا اِزم نہیں ہے۔صدیوں پرانی سماجی بناوٹ چرمراگئی۔ نظامِ زندگی میں غیرمعمولی تغیر رونما ہوا، جس کی وجہ سے ایک نئی فضا تشکیل ہوئی اور ایک نیا سماجی منظرنامہ اُبھرکر سامنے آنے لگا جس کی واضح خط و خال ممکن ہے کچھ برسوں بعد اپنی شناخت قائم کرسکے۔اس وبا نے تقریباً پوری دنیا کو اپنی ترجیحات طے کرنے پر مجبور کردیا اس لیے ممتاز سیاستداں بھی علاقائیت، انفرادیت اور مقامیت پر ارتکاز کرنے کا اعلان کیا۔ ملک و قوم کی تعمیر میں سب کی حصہ داری پر زور دیا جانے لگا۔اس صورتِ حال میں جمہوری ادب کے تصور کا امکان مزید قوی ہوجاتا ہے۔ جمہوری ادب میں مندرجہ ذیل نکات کی جستجو کی جاسکتی ہے:۔

1)     ایسی تخلیقات جن میں عوام کے جذبات، خیالات اور ان کی ترجیحات کو محور بنایا گیا ہو۔

(2)   انسان اور انسانیت کو بہرحال مقدم رکھا گیا ہو۔

(3)   دنیا کا سب سے بڑا عجوبہ انسان ہے کیوں کہ وہ دنیاوی عجائب کا خالق ہے اس لیے انسانی امکانات کو سائنٹفک نقطہ نظر سے دیکھا گیا ہو اور آدمی میں پوشیدہ قدرتی عطیات کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔

(4)   طبقاتی تفریق کے خاتمہ اور اعلیٰ سے ادنیٰ افراد تک کے معاملات، مسائل اور نفسیات کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔

(5)   مزدور، کسان اور محنت کش طبقہ تک ایسے افکار، خیالات اور مثالیں پہنچانے کی کوشش کی گئی ہو جس سے ان کی زندگی میں بھی خوشحالی آئے اور اس طبقہ کے ذہین افراد قومی دھارے سے جڑجائیں اور ان کی بستی اور سماج میں ترقی کی کرن پہنچ جائے۔

(6)   علاقائی ادب اور عام عوام کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو مرکزی ادب سے ہم آہنگ کرنے کی سعی ہو جس سے ادب کے دائرہئ کار میں اضافہ ہوگا، نیز نئے افکار و خیال سے ادب وقیع ہوگا۔

(7)   مزدور، کسان اور محنت کش طبقے کی بول چال کی زبان، الفاظ اور محاورے کو ادبی انداز میں سلیقے سے برتا گیا ہو جس سے لسانی سطح پر ان طبقات کی اصلاح ہوسکے اور وہ تخلیقات سے محظوظ بھی ہوں۔ان کے یہاں بعض ایسے الفاظ ہیں جن کا بدل نہیں ہے مثلاً’اوٹ‘ کسی سواری یا ڈھلکتی ہوئی کسی چیز میں کوئی ٹکڑا لگاکر روک دینا۔

فنکار و قلم کار معاشرے کے حساس ترین افراد ہوتے ہیں، اس لیے تمام انسانوں سے ان کی وابستگی لازمی ہے۔ لوگوں کے چہرے اور معاشرتی نظام پر اُبھرنے والی لکیریں پڑھنا انھیں آتا ہے اس لیے ہر کس و ناکس کے جذبات و کیفیات کو وہ محسوس کرلیتے ہیں اور اپنی تخلیقات کا محور بناتے ہیں لہٰذا وارث علوی رقم طراز ہیں:۔

”سوائے انسانوں اور انسانی معاشرے کے فنکار کی وابستگی اور وفاداری کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ انسانیت کی بنیادی قدریں، انسانوں کے بنیادی تقاضے اور عام زندگی کی سماجی اور سیاسی کشمکش سے لگاؤ پیدا کرکے ہی فنکار سیاسی اور آدرشی وابستگیوں کے ان گڑھوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جن کے دلدل میں پھنس کر اس کا فن تو فن اس کی انسانیت تک غارت ہوجاتی ہے۔ بحیثیت انسان کے اس کا سروکار عام انسانوں کی زندگی سے ہے۔انسان، انسان کی فطرت، اس کی تمنائیں اور آرزوئیں، اس کی مایوسیاں اور محرومیاں، اس کے قہقہے اور اس کے آنسو، اس کے طربیے اور اس کے المیے، اس کے جبلتوں کے طوفان اور اس کی فطرت کی پُراسرار گپھائیں، اس کی نفسیاتی گتھیاں اور اس کے رومانی اور اخلاقی وسائل، اس کی تہذیبی اور معاشرتی روایتیں اور اس کی سیاسی و سماجی کشمش۔ یہ ہے فنکار کی جولانگاہ۔“

(بحوالہ روزنامہ”انقلاب“ 3/مئی 2020ء، ص5)

پروفیسر وارث علوی کے مذکورہ خیالات ادب کے حوالے سے جمہوری ادب کے تصور میں معاون و مددگار ہے۔ جمہور کا معنی عوام اور جمہوری ادب کا مطلب عوامی ادب، لیکن جمہوری ادب میں جو بلاغت اور معنویت مضمر ہے، وہ عوامی اور دلت ادب میں مفقود ہے۔لہٰذا اس سمت قلم کاروں و فنکاروں کو متوجہ ہونا چاہیے۔

٭٭٭

 

 

 

Prof. Abdul Barkat

H.O.D. Urdu

M.P. Sinha Science College,

Muzaffarpur (Bihar)

Mob.: 8210281400

 

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

عبد البرکات
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
"بے گھری ، جلاوطنی اور جدید نظم ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر
اگلی پوسٹ
مُستنصرحسین تارڑکے ناول "بہاؤ” کافکری وفنی مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین 

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں