مہینے کی پہلی تاریخ کو رام لعل کے بیٹوں نے جب پینشن کی رقم لےکراسے گود میں اٹھا کر بینک کی سیڑھیوں سے نیچے اتارا، تب اس کی نگاہ سامنے ٹھیلے پر چھن رہے سمو سے۔جلیبیوں پر چلی گئی۔یہ چیزیں اس کی فیورٹ تھیں۔ریلوے محکمے میں رہتے ہوئے وہ اکثرچائے پارٹی کے نام پر اپنے دوستوں کے ہمراہ گرما گرم سموسے جلیبیاں کھایا کرتا تھا۔ آج بہت دنوں بعد اس کی تمنّا پھر سے جاگ اٹھی تھی۔اس نے مریل آواز میں اپنے بیٹوں سے کہا۔” بیٹا، سموسے جلیبیاں۔۔۔۔” ابھی اس کے جملے مکمل بھی نہیں ہوتے تھے کہ بڑے بیٹے نے اسے سامنے چھوٹے بیٹے کے ذریعے اسٹارٹ کر چکے موٹر سائیکل پر بیٹھا تے ہوئے تقریباً ڈانٹتے ہوئے کہا۔” نہیں، پیٹ خراب ہو جائے گا۔” اور چھوٹے بیٹے نے موٹر سائیکل آگے بڑھا دی۔
رام لعل راستے بھر سوچتا رہا کہ بیٹوں نے اس کی حفاظت کی ہے یا اس کے پینشن کی۔
***
-امتیاز غدر، دھنباد، جھارکھنڈ

