تخلیقیت؛ ادب کی اساس ہے۔خواہ افسانوی ادب ہو یا غیرافسانوی؛ تخلیقی شعور و ادراک کے بغیر کوئی ادب پارہ معرضِ وجود میں نہیں آسکتا۔نیز کوئی عبارت یا تحریر اپنے فنی لوازمات کی بنائ پر ہی صنفی شناخت قائم کرپاتی ہے۔ خیالات و تصورات خواہ مطالعات کے بعد قائم ہوں یا تجربات و مشاہدات کے بعد، وہ رقیق مادّے کی طرح ہوتے ہیں اور کسی سانچے میں ڈھل کر اپنی ہیئتی صورت اختیار کرتے ہیں۔غالباً اسی ضابطے کے تحت تقریباً تمام اصنافِ ادب کے لیے فنی لوازمات یا اجزائے ترکیبی متعین کیے گئے ہیں جس پر کھرے اُترنے والے شہ پارے کو فنی اعتبار سے کامیاب قرار دیا جاتا ہے اور فکر کا تجزیہ اس کے بعد کا عمل ہے۔اس طرح فکر و فن لازم و ملزوم قرار پاتے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ افسانوی ادب اور تخلیقی ادب کے لیے معروضی اصول متعین ہیں تو غیر افسانوی یا دیگر ادب کے لیے کیوں نہیں؟ جس کی اہمیت و افادیت اور اثر آفرینی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ پھر ایسے ادب کا تجزیہ کرتے وقت کن اصول و ضوابط کو ملحوظ رکھا جائے گا؟ یہ سوال تنقیدی ادب پارے کے سامنے بھی موجود نظر آتا ہے۔ان کے لیے کیا صرف صوابدید سے کام لیا جائے گا یا کوئی فنی جواز قائم کرنا چاہیے جس پر ان کو پرکھا جائے۔اس سلسلے میں میرا خیال ہے کہ غیر تخلیقی ادب کا تجزیہ کرتے وقت مطالعات، معائنے، مشاہدات و تجربات، محاسبہ اور مرقعے کو پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے کیوںکہ ادب کی تخلیق میں ان کی حیثیت کلیدی مانی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیقی اساس کو دیکھتے ہوئے بعض دانشور تخلیقی تنقید کا جواز پیش کرتے ہیں۔ پروفیسر عتیق اللہ لکھتے ہیں:
’’…غیر رسمی تنقید کے لکھنے والے بنیادی طور پر تخلیق کار ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی تنقید درپردہ ان کی اپنی تخلیقی کاوشوں کا دفاع بھی ہے۔ انھیں تنقید لکھنے میں وہی سیرابی میسر آتی ہے جس کا تجربہ انھیں تخلیقی عمل کے دوران ہوتا ہے۔‘‘ ۱؎ ( یہ بھی پڑھیں جمہوری ادب کا تصور – پروفیسر عبدُ البرکات )
درحقیقت غیر تخلیقی ادب وقیع مطالعے اور عمیق غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ صرف قوتِ متخیّلہ اور تجربات ومشاہدات کی بنیاد پر غیر افسانوی ادب نیز تحقیقی و تنقیدی مضامین تحریر نہیں کیے جاسکتے اور تحریر کیا بھی جائے تو ایک کامیاب ادب پارہ نہیں ہوسکتا۔ حقیقتاً رپورتاژ اور سفرنامہ کی ڈانڈیں کافی حد تک آپس میں ملتی ہیں۔ رپورتاژ مناظرکی منبع ہے تو سفرنامہ معلومات اور علم و آگہی کا خزانہ اور یہ اصناف بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔سچ کہا جائے تو وقت کا تقاضہ ہے کہ ان پر توجہ صرف کی جائے کیوںکہ پل پل بدلتی اس دنیا کے خارجی حالات، واقعات، معاملات اور اخلاقیات کا خوبصورت اور حقائق پر مبنی مرقعے ان کے توسط سے پیش کیے جاتے ہیں۔ وہ مستقبل کے لیے دستاویزی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔میرے لحاظ سے درج ذیل اجزائے ترکیبی یا فنی لوازمات رپورتاژ اور سرنامہ کے لیے قرار پاتے ہیں:
(۱) مطالعات:
غیر افسانوی ادب میں مطالعہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ رپورتاژ اور سفرنامہ اس سے مبرّا نہیں ہیں۔رپورتاژ کا ماخذ عام طور پر رپورٹ کو قرار دیا جاتا ہے۔ فیروز اللغات کے مطابق رپورٹ کا معنی ’’باضابطہ بیان، روداد، خبر، اخباری بیان‘‘ کے ہیں۔ ’’نیا دور‘‘ (لکھنؤ) کے مدیر سہیل وحید اس سلسلے میں رقمطراز ہیں:
’’رپورتاژ دراصل فرنچ لفظ ہے جو ماضی قریب ہی میں اردو میں مستعمل ہوا ہے۔ ابھی بھی اردو میں دوسری اصناف کے مقابلے ’رپورتاژ‘ وافر مقدار میں نہیں لکھے جارہے ہیں۔ان میں کہانی پن زیادہ ہے اور اکثر سفرناموں کی شکل میں ’رپورتاژ‘ سامنے آرہے ہیں۔قرۃ العین حیدر کے ’کوہِ مادند‘ سے لے کر ممتاز مفتی کے ’لبیک‘ اور دیگر تمام ادیبوں نے ’رپورتاژ‘ رقم کیے ہیں۔اس کے باوجود اردو میں ’رپورتاژ‘ لکھنے کی روایت عام نہ ہوسکی۔ ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر ’رپوتاژ‘ میں بھی نکھار آیا۔ اس انقلابی اور اشتراکی دور میں افسانہ، غزل، نظم اور ناول میںجو بات نہیں بن پائی اُسے ترقی پسند ادیبوں نے ’رپوتاژ‘ میں لکھنے کی کوشش کی۔ ان کی یہ ضرورت اردو ادب کی اس اہم صنف کے لیے باعثِ تحریک ثابت ہوئی اور اردو ادب کو کئی خوبصورت ’رپورتاژ‘ نصیب ہوئے۔‘‘ ۲؎
’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ میں مماثلت کے ساتھ مغائرت بھی پائی جاتی ہے۔ رپورتاژ میں تخیلی رنگ آمیزی ہوتی ہے جب کہ سفرنامہ اس کا متحمل نہیں ہے۔ رپورتاژ کے لیے ادبیت لازم ہے بصورتِ دیگر وہ روداد بن جائے گا اور سفرنامہ میں صداقت کی جلوہ گری نہایت ضروری ہے، ورنہ اس سے اعتبار اُٹھ جائے گا۔رپوتاژ کسی مخصوص مقام سے تعلق رکھتا ہے اور حالیہ واقعات کا ترجمان ہوتا ہے نیز جس کانفرنس یا ادبی ماحول کے حوالے سے رپورتاژ تحریر ہوتا ہے، اس کی بھرپور عکاسی کی جاتی ہے اور علمی سرگرمیاں ہی مطمحِ نظر ہوتی ہیں جب کہ سفرنامہ کا دائرہ کافی وسیع ہوتا ہے۔ اس کے دامن میں ماضی اور حال سمٹ آتے ہیں اور پیشِ منظر کے ساتھ پس منظر کا بھی تذکرہ ہوتا ہے۔سیّاح کا گذر جس شہر یا ملک سے ہوتا ہے وہ اس کے معاشرتی، مذہبی، سیاسی اور ثقافتی یعنی زندگی کے ہر شعبہ پر روشنی ڈالتا ہے اور واقعات کی صراحت کے لیے ماضی قریب کی تواریخ اور معاملات پر بھی اظہارِ خیال کرتا ہے۔ اس طرح علمی خزانہ سے سفرنامہ کا دامن بھر جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غضنفر کا افسانہ’سرسوتی اسنان‘ کا تجزیاتی مطالعہ – پروفیسر (ڈاکٹر) عبدُ البرکات )
چودھری محمد اقبال سلیم کے مطابق:
’’سفرنامہ علمی و ادبی اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے اور یہ واحد صنفِ ادب ہے جس کا تقریباً تمام اہم معاشرتی علوم سے گہرا تعلق ہے۔ مؤرخوں، سوانح نگاروں اور جغرافیہ دانوں نے اس صنف سے بہت فائدہ اُٹھایا ہے اور اسی وجہ سے دنیا کے تمام بڑی چھوٹی زبانوں کے ادبیات میں سفرناموں کو ایک اہم مقام حاصل ہوا ہے…سفرنامہ لکھنا ہر شخص کی بات نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ حالات و واقعات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور گِرد و پیش کی پھیلی ہوئی دنیا کے رازوں کو جاننے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہو۔‘‘ ۳؎
سفرنامہ کے تعلق سے خالد محمود لکھتے ہیں:
’’سفرنامہ ایک قدیم بیانیہ صنفِ ادب ہے جو انسان کی متلون مزاجی کی بدولت ظہور میں آئی۔ سفرنامہ نگار، دورانِ سفر یا سفر سے واپسی پر اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات اور تاثرات و احساسات کو ترتیب دے کر جو تحریر رقم کرتا ہے، وہ سفرنامہ ہے۔سفرنامہ کا تمام تر مواد مسافر کے گِرد و پیش میں بکھرے ہوئے مناظر و واقعات سے اخذ کیا جاتا ہے۔‘‘ ۴؎
اس تناظرمیں سفرنامہ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔سفرنامہ لکھنے کے لیے مطالعہ نہایت ضروری ہے کیوںکہ سیاح جس ملک کے سفر کا ارادہ کرتا ہے، کم از کم اس ملک کی تاریخ اور جغرافیہ کی واقفیت حاصل کرلیتا ہے، خواہ وہ کتابوںکی معرفت ہو یا کوئی دوسرا ذریعہ۔ دورِ حاضر میں معلومات کے متعدد ذرائع دستیاب ہیں۔زمانۂ قدیم کے سیاح بھی سیاروں کی چال اور جانوروں اور پرندوں کے توسط سے جانکاریاں حاصل کرلیتے تھے جن کی مثالیں ’پنچ تنتر‘ اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔پھر اپنے معائنے اور مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر اپنے تاثرات رقم کرتے تھے۔ ’رپورتاژ‘ میں بھی مطالعہ، معائنہ، مشاہدہ اور تجربے کو بنیاد بنایا جاتا ہے لیکن اس وسیع تناظر میں نہیں جس کا سفرنامہ متقاضی ہے۔مؤرخین نے فاہیان اور البیرونی کے سفرناموں سے قدیم ہندوستان کی تواریخ لکھتے وقت کافی استفادہ کیا ہے۔اسی طرح ابنِ بطوطہ کا سفرنامہ ہندوستان کے دورِ وسطیٰ کی تواریخ نویسی میں کلیدی رول ادا کرتا ہے کیوںکہ وہ محمد تغلق کے زمانہ میں دہلی میں مقیم تھا اور منصبِ قضا پر معمور تھا جہاں سے بہت سارے فیصلے صادر ہوتے تھے۔اس طرح خواص و عوام تک کو دیکھنے اور ان کے معاملات کو سمجھنے کا موقع ملا۔ پھر سلطان کا سفیر بن کر چین بھی گیا جس کی تفصیلات سفرنامہ میں موجود ہیں۔اس حوالے سے ابنِ بطوطہ کا سفرنامہ دستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔ ابنِ بطوطہ نے واقعات بیان کرنے میں کس حد تک احتیاط برتا ہے، اس کا اندازہ اُس کے اِس قول سے لگایا جاسکتا ہے:
’’اس (محمد تغلق) بادشاہ کی بابت جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ میرا چشم دید ہے۔ یہ بادشاہ خونریزی اور جا و بے جا سخاوت میں مشہور ہے۔ کئی دِن خالی نہیں جاتا کہ کوئی فقیر امیر نہیں بن جاتا اور زندہ آدمی قتل نہیں کیا جاتا۔اس کی سخاوت اور شجاعت، سختی اور خوں ریزی کی حکایت عوام الناس کی زبان زد ہیں۔ با ایں ہمہ میں نے اس سے زیادہ متواضع اور منصف کسی اور کو نہیں دیکھا۔ شریعت کا پابند ہے اور نماز کی بابت بڑی تاکید کرتا ہے۔ جو نہیں پڑھتا اسے سزا دیتا ہے۔ منجملہ ان سلاطین کے ہے جن کی نیک بختی اور مبارک نفسی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ میں اس کے احوال بیان کرنے میں بعض ایسی باتیں بیان کروں گا جو عجائبات معلوم ہوں گی لیکن خدا اور رسول اور ملائکہ کو گواہ کرتا ہوں کہ جو کچھ میں فوق العادت سخاوت اورکرم سے بیان کروں گا وہ سب کے سب درست ہیں۔‘‘ ۵؎
ابنِ بطوطہ کے اس حلفیہ بیان سے واقعات کی صداقت پر کسے یقین نہیں ہوگا۔ لہٰذا مؤرخین نے سفرنامہ کے حوالے سے اُس دَور کی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ درست ہے کہ بعض واقعہ کی سچائی پر خدشہ ظاہر کیا ہے لیکن غلط قرار نہیں دیا ہے۔
(۲) معائنہ:
معائنہ علم کی کنجی ہے کیوںکہ کسی مقام اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اصلیت کا علم ہوتا ہے جو ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ تحریر کرنے کے لیے لازمی ہے۔ جب تک جائے وقوع کے حالات و معاملات سے کما حقہٗ واقفیت نہیں ہوجاتی اس وقت تک ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ تحریر کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی عبارت میں اثر آفرینی پیدا ہوسکتی ہے۔ لہٰذا اس وقوعہ اور تقریب کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی مصنف کو ادراک(Perception) حاصل ہوتا ہے اور وہ ایک مؤثر روداد تیار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔اسی طرح سیاح بھی جس ملک،مقام اور شہر کی سیر کرتا ہے، وہاں سے متعلق بھرپور معلومات حاصل کرتا ہے جس میں اس کی آنکھوں دیکھا حال بھی ہوتا ہے اور دیگر ذرائع سے فراہم معلومات بھی۔ سفرنامہ میں زندگی کا ہر شعبہ اُبھرکر سامنے آتا ہے۔ نیز جغرافیائی معلومات کے ساتھ آدابِ معاشرت اور موسمیات کو بھی سیاح مطمحِ نظر بناتا ہے جس سے سفرنامہ دلچسپ ہونے کے ساتھ علم کا مخزن بھی بن جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کے اسباب – پروفیسر عبدُ البرکات)
(۳) مشاہدات و تجربات:
معاشرتی زندگی کی ترقی کا سارا انحصار مشاہدات وتجربات پر مبنی ہے۔متنوع مشاہدات اور پختہ تجربات سے نئی نسل کی آبیاری ہوتی ہے۔ مستقبل کا کوئی بھی لائحہ عمل اسی کی بنیاد پر تیار ہوتا ہے اور نئی کاوشیں اور نئے انکشافات منظرِ عام پر آتے ہیں۔اس طرح علم و دانش کے چراغ فروزاں ہوتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ’رپوتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ کی حصہ داری ممتاز نوعیت کی ہے، کیوںکہ ان کے ماحصل تجربات و مشاہدات ہیں۔ لہٰذا غلط بیانی کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ دوسروں کے بیان نقل کرنے کی وجہ سے کچھ سوالات اُٹھائے جاتے ہیں لیکن انھیں یکسر غلط قرار نہیں دیے جاتے۔ اس طرح ان دونوں اصناف کے وسیلے سے تجربات و مشاہدات کے خزانے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہوجاتے ہیں جو ایک عظیم کارنامہ ہے۔نیز انفارمیشن و ٹیکنالوجی نے سیاسی، سماجی، ثقافتی، معاشرتی اور تعلیمی حالات پر جو اثرات مرتب کیے ہیں اور جس شدت سے زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، اس صورتِ حال میں ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ کی معنویت مستحکم ہوجاتی ہے کہ معائنہ کے بعد جو مشاہدے اور تجربے دستیاب ہوتے ہیں وہ دستاویزی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ پہلے جو تبدیلیاں تیس سے چالیس برسوں بعد نمایاں ہوتی تھیں، وہ پانچ سے دس سالوں میں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ لہٰذا ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ کے توسط سے ذاتی واردات و واقعات، سانحات و معاملات اور محسوسات و جذبات کو قلم بند کرکے آنے والی نسل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں اصناف مزید توجہ کے طلب گار ہیں۔
(۴) محاسبہ:
محاسبہ ذکاوت کے ساتھ وقیع مطالعے، پختہ تجربات اور متنوع مشاہدات کا متقاضی ہے۔ واقعات و معاملات کی فہم و ادراک اور فراست کے بغیر محاسبہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ کی تحریر و تکمیل میں قوتِ محاسبہ کی حصہ داری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔تنقید میں کھرے کھوٹے کی پرکھ کی جاتی ہے اور نظریہ سازی کے ساتھ ناقدین؛ ادب پارے سے متعلق اپنی رائے قائم کرتے ہیں جب کہ محاسبہ میں فرمودات، واقعات، معاملات اور صورتِ حال پر بے باک تبصرہ ہوتا ہے جس کا حقائق پر مبنی ہونا لازمی ہے۔اس طرح محاسبہ کی ذمہ داری اور دائرۂ کار مزید بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ میں محاسبہ لازمی ہوجاتا ہے کیوںکہ دونوں اصناف کی معنویت اور اہمیت کا انحصار محاسبہ پر قائم ہے۔ اس لیے ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ کے لیے ایک اہم رُکن قرار پائے گا۔
(۵) مرقع:
’سفرنامہ‘ میں مرقع کشی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ’رپورتاژ‘کا دائرہ گرچہ محدود ہے لیکن اس کو تحریر کرتے وقت مصنف کو جزئیات نگاری سے کام لینا پڑتا ہے کہ جس سے پورا منظرنامہ اُبھرکر سامنے آجائے۔یہ باریک بینی، دوراندیشی اور دیدہ ریزی کا کام ہے۔ ایک ایک عنصر کی نشاندہی سے ماحول بندی ہوتی ہے اور پورا منظر اُبھرکر سامنے آتا ہے تب کوئی رپورٹ اپنے دائرے سے نکل کر ’رپورتاژ‘ بنتی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ملک اور بیرونِ ملک تعلیم و تعلم سے جڑے تقریباً ہر فرد واقف ہے اور بیشتر حضرات نے یونیورسٹی کی سیر بھی کی ہوگی ۔ لیکن صالحہ صدیقی نے’’عَلَّمَ الانۡسَانَ مَالمۡ یَعۡلَمۡ‘‘ کے عنوان سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس کا جو مرقع اردو تہذیب کے حوالے سے پیش کیا ہے وہ دل افروز، معلوماتی اور دلچسپ ہے اور ’رپورتاژ‘ کی بہترین مثال ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
’’…آٹو رکشہ والے نے کہا ’جامعہ‘ آگیا۔میری نظر ایک اونچے لمبے مسجد کے مینار نما جالی دار گیٹ پر پڑی جس پر بڑے بڑے لفظوں میں لکھا تھا ’مولانا ابوالکلام آزاد باب‘۔ جالی دار کالے پھاٹک پر اسٹیل کی پلیٹ پر بڑی خوبصورتی سے چاند کے پلیٹ سے دو کھجور کے پیڑ میں بنی کتاب پر لکھا تھا ’’عَلَّمَ الانۡسَانَ مَالمۡ یَعۡلَمۡ‘‘ اور اس کے سر پر ایک ستارہ چمک رہا تھا جس پر لکھا تھا ’’اللہ اکبر‘‘۔ ہرے ہرے حرف میں لکھے یہ الفاظ ہر راہگیر کو علم کی دعوت دے رہے تھے۔
میری نگاہ جیسے ہی دوسرے گیٹ پر پڑی تو وہاں بھی لکھا تھا ’’عَلَّمَ الانۡسَانَ مَالمۡ یَعۡلَمۡ‘‘۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میںنے دیکھا کہ جامعہ میں یونیورسٹی کا ہر گیٹ اردو کی کسی نہ کسی معروف شخصیت کے نام سے موسوم ہے۔ایک طرف قرۃ العین حیدر اپنے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھے آنکھوں میں چمک لیے مسکراتے ہونٹوں سے علم کی دعوت دے رہی تھیں تو دوسری طرف محمدحسن تو تیسری طرف امیر خسرو سب کی سرپرستی کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ارے واہ کیا بات ہے! پیشانی پر اپنی پریشان زلفیں بکھیرے طلبا کو خواب سے بیدار کرنے کے لیے اے۔پی۔جے۔ ابوالکلام(عبد الکلام) بھی کھڑے ہیں۔ گیٹ کی چمک دمک سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ اس ’باب‘ فیملی میں نئے نئے شامل ہوئے ہیں۔ فضا میں اردو کی بھینی بھینی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ میں یہ سوچتے سوچتے کسی طرح سڑک پارکرکے ’مولانا ابوالکلام آزاد گیٹ‘ پر پہنچی۔ شعبہ اردو کی طرف جانا تھا لیکن نہ جانے کیوں میں نے گارڈ سے سینٹرل کینٹین کا راستہ پوچھا جو اپنی گول مٹول توند کو سنبھالے بہ مشکل اسٹول پر بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘۶؎
اپنی جزئیات نگاری سے صالحہ صدیقی نے بڑی عمدہ مرقع کشی کی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔’سفرنامہ‘ میں مرقع کشی کا دائرہ اور وسیع ہوجاتا ہے۔ اس میں ماحول بندی کے ساتھ نظامِ معاشرت اور سماج کے مختلف طبقات کی رہائش، بود و باش، عادات و خصائل وغیرہ کی تفصیلات بھی ہوتی ہے۔اردو میں کثرت سے سفرنامے لکھے گئے ہیں اور لکھے جارہے ہیں۔ ان میں ابنِ انشا کے سفرنامے ’’آوارہ گرد کی ڈائری‘‘، ’’چلتے ہو تو چین کو چلئے‘‘، ’’دنیا گول ہے‘‘، ’’ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں‘‘ کافی مقبول ہوئے۔
ابنِ انشا کے سفرناموں میں جہاں پھڑکتے ہوئے برجستہ جملے و فقرے ملتے ہیں وہاں ایسے ایسے استعارات بھی ملتے ہیں جو دُور از کار واقعات، حادثات، تواریخ اور جغرافیہ پر بھرپور روشنی ڈالتے ہیں۔مثال کے طور پر وہ عبارت پیش کی جاسکتی ہے جس میں برلن شہر کا تعارف کرایا گیا ہے۔ ملاحظہ کریں:
’’یہ شہر ہے پرشیا کی سطوت و جبروت والے بادشاہوںکا۔ شاہ فریڈرک اعظم کا، پرنس بسمارک کا، قیصر ولیم کا، ہٹلر کا، آگ اور دھوئیں کا، ملکوںکی قسمتوں، کروڑوں انسانوں کی تقدیروں کے اعلان یہاں سے ہوتے تھے۔ نوشتے یہاں سے جاری ہوتے تھے۔‘‘ ۷؎
اس مختصر عبارت کی تشریحات سے تواریخ کی ایک ضخیم کتاب رقم کی جاسکتی ہے۔ مجتبیٰ حسین نے بھی ’’جاپان چلو جاپان چلو‘‘ کے نام سے سفرنامہ قلمبند کیا ہے جس میں جاپانی طرزِ معاشرت کی بڑی دلکش منظرکشی کی گئی ہے۔
اس تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی، فنِ تعمیرات میں تھری ڈی تکنیک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں جس سرعت سے ہر شعبۂ زندگی میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ان کو دستاویزی شکل دینے میں ’رپورتاژ‘ اور ’سفرنامہ‘ اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔لہٰذا یہ دونوں اصناف خصوصی توجہ کے طلب گار ہیں۔
حوالہ جات:
(۱) ایوانِ اردو(دہلی) ص۳، شمارہ اپریل ۲۰۱۸ئ
(۲) نیادور(لکھنؤ) ص۲، شمارہ مارچ ۲۰۱۸ئ
(۳) سفرنامہ ابنِ بطوطہ کامل(قسط اول)، مترجم رئیس احمد جعفری، ص ۱۳، مطبوعہ ۱۹۷۹ئ، درسِ اسلام دیوبند، انڈیا
(۴) اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ: خالد محمود، ص ۲۲، مطبوعہ ۲۰۱۱ئ، مکتبہ جامعہ، دہلی
(۵) سفرنامہ ابنِ بطوطہ کامل(قسط سوم) مترجم رئیس احمد جعفری، ص ۷
(۶) نیا دور(لکھنؤ) ص ۳، مارچ ۲۰۱۸ئ
(۷) آوارہ گرد کی ڈائری: ابن انشا، ص ۱۲۳، پانچواں ایڈیشن۱۹۷۵ئ، کراچی
پروفیسر عبدُ البرکات
صدر شعبۂ اردو
ایم۔پی۔ایس۔ سائنس کالج، مظفرپور(بہار)
Correspondence Address :-
Prof. (Dr.) Abdul Barkat
Quila Chowk, Near Nadi
Mehdi Hasan Road
P.O. M.I.T., Brahampura
Muzaffarpur-842003 (Bihar)
Mob. : 8210281400
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

