اردومیں صنف انشائیہ کا وجود نیا نہیں ہے۔موضوعاتی اعتبار سے اس صنف میں بڑی وسعت اور تنوع پایا جاتا ہے۔اس میں ذہنی آسودگی بھی ملتی ہے اور زبان کا چٹخارہ بھی ۔ کوئی اسے ذہنی ترنگ کا نام دیتا ہے تو کہیں اسے Essayکی دوسری شکل قرار دی جاتی ہے۔اسی طرح کوئی عہد ِ مولانا محمد حسین آزاد سے اس کے ڈانڈے ملاتا ہے تو کوئی اسے خالص مغربی ادب کا زائیدہ بتاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک نکتہ بہت اہم ہے کہ اردو میں انشائی ادب کا وجود پہلے اور اس کے نام کا تعین بہت بعد میں ہوا جس کی بنا پربہت سے لوگ مغالطے کا شکار ہوئے۔ بہت سے نقاد انشائیے کی ابتدا لفظ ’’انشائیہ‘‘ کے رائج ہونے سے جانتے ہیں۔
انشائیہ عربی لفظ انشاسے بناہے جس کے معنی عبارت لکھنا،طرز تحریر یا کوئی بات پید اکرنا ہوتاہے۔ مطلب یہ کہ انشائیہ اردو نثرکی ایک غیرافسانوی صنف ہے۔ انگریزی لفظ Light Essay یا Personal Essay کے متبادل کے طورپر اردو میں انشائیہ کا لفظ رائج ہے۔ مختصر یہ کہ انشائیہ میں کسی منصوبہ بند طریقہ سے باضابطہ مواد کو یکجا کرکے اظہارخیال نہیں کیاجاتا بلکہ دل و دماغ پر اثر انداز ہونے والے خیالات کو عبارت کے ذریعے پیش کرنا انشائیہ کے ذیل میں آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں احمد یوسف بحیثیت رپورتاژ نگار وخاکہ نگار – شفیع احمد )
اردو ادب کی تاریخ میں صنف انشائیہ کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ عہد سرسید میں اس صنف کی بنیاد پڑی لیکن اس عہدکے بعد صنف انشائیہ ایک مکمل صورت میں سامنے آئی۔ رفتہ رفتہ اہل فن نے اس صنف کی طرف رجوع کرنا شروع کیا اور اس کی وسعت پزیری میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہ بھی تسلیم شدہ امرہے کہ اردو ادب کی بعض دوسرے اصناف کی طرح انشائیہ بھی درآمد شدہ صنف ادب ہے۔ انشائیہ نگاروں کی ہر لمحہ یہ کوشش رہی کہ سماج کی کج روی کو اس طرح قارئین ادب کے سامنے پیش کیاجائے کہ وہ انہیں مسکراتے ہوئے تسلیم کرلیں اور اس کے لئے ردعمل کی بھی کوشش کریں۔ لہٰذا اس خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو کے انشائیہ نگاروںنے سیاسی، سماجی، تہذیبی، ثقافتی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو انشایئے کا حصہ بنایا۔ ویسے بھی اہل قلم کے آگے کسی طرح کی جغرافیائی حدبندی نہیں ہوتی۔ سارے جہاں کا غم وہ اپنے دل میں سمیٹے ہوئے رہتاہے اور اپنی تخلیقی کاوشوں کے ذریعہ اپنی افسردگی اور نظریہ حیات کو پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو انشائیے کا دائرہ عمل شروع سے وسیع رہا ہے۔ اردو انشائیہ ابتدا سے آج تک اپنے عہد کے حقائق کی عکاسی میں کامیاب رہاہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ ہے کہ ادب میں ہمیشہ آفاقی تصور کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس لئے انشائیہ نگاروںنے تمام دنیا کے مسائل کو پیش نظر رکھا۔انہی انشایئہ نگاروں میں ایک اہم نام احمد جمال پاشا کا ہے۔
احمد جمال پاشا
احمد جمال پاشا کا اصل نام آغا محمد نزہت پاشا تھا ۔ان کی پیدائش یکم/جون 1929 کو الہ آباد کے محلہ خلد آباد میں ہوئی۔ انہوں نے 1950ئ میں کوئنس ہائی اسکول سے میٹرک، 1953ئ میں لکھنؤ کرسچین کالج سے انٹرمیڈیٹ، 1959ئ میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔958۱ئ میں احمد جمال پاشا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔ اے کرنے کے بعد واپس لکھنؤ چلے آئے اور صحافت کے پیشے سے منسلک ہو گئے 27/ستمبر 1987 کووہ جب ایک ریڈیو پروگرام میں شرکت کے لیے پٹنہ آئے ہوئے تھے ۔ اسی دن انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا اور دوسرے روز بروز پیر 28/ستمبرکووہ اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں اپنے آبائی ضلع سیوان کے محلہ تلہٹہ والے قبرستان میں 29/ستمبر 1987 سپرد خاک کیا گیا۔
احمد جمال پاشا نے انسانی اور معاشرتی زندگی کے پیچ و خم کو انشائیے میں پیش کیا ہے۔ ان کے انشائیوں میں طنز کا نشتر بھی ہے اور ظرافت کی چاشنی بھی۔ وہ جس مسئلے کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں بغیر کسی تلخی کے مسائل تک ہماری رسائی ہوجاتی ہے۔ان کی کئی تخلیقات اس سلسلے میںبہت اہمیت رکھتی ہیں۔مثلاً ’’اندیشہ شہر‘‘، ’’ستم ایجاد‘‘، ’’لذت آزاد‘‘، ’’مضامین پاشا‘‘، ’’چشمہ حیراں‘‘، ’’آثار قیامت‘‘ فن لطیفہ گوئی‘‘وغیرہ۔
جب احمد جمال پاشا نے ’’ لاہورمیں تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘،’’ادب میں مارشل لا ئ‘‘اور’’رستم امتحان کے میدان میں‘‘ جیسے مضامین لکھے توان کی طرف قارئین متوجہ ہونے لگے۔بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں احمد جما ل پاشا کی تخلیقی صلاحیت اپنے شباب پر تھی۔۔ان کے اہم انشائیوں میں چیخنا،کچھ تنقید کے بارے میں،ہجرت،بے ترتیبی، شور، اصولوں کی مخالفت میں،چغلی کھانا،تنہائی کی حمایت میں اور کچھ بلیوں کے سلسلے میں وغیرہ ہیں۔ اس کے ساتھ کچھ مضامین بھی ملتے ہیں جو مضمون کے زمرے میں شامل ہیں لیکن وہ انشائیے سے قریب ہیں ،ان میں انشائیہ کی خصوصیات غالب ہیں اورانہیں بھی انشائیہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ان میں مونچھیں،نیا پیسہ،ٹائم ٹیبل،آنی جانی قیامت،ناپسندیدہ لوگ وغیرہ مضمون شامل ہیں۔احمد جمال پاشا کو انشائیہ کے فن میں مہارت حاصل تھی۔وہ جب انشائیہ تخلیق کرتے تھے تو وہ کسی عام موضوع کو لے کر موضوع کا زاویہ بدل کر اس کے اندر چھپے ہوئے پہلووں کو اجاگر کرتیہیں۔وہ اس بات کے قائل تھے کہ:
’’تمسخر تفنن پھکڑپن شخصی ہجو مزاح برائے تفریح کبھی بھی ادب کا جزونہیں بن سکتے۔ ادبی ظرافت اور مسخرے پن کا کوئی میل نہیں۔‘‘(۱)
اس اقتباس کی روشنی میں کہاجائے گاکہ ان کے یہاں سادگی اور متانت کے حوالے سے سماج کی کج روی پر گہری نگاہ ڈالی گئی ہے۔ یہاں پھکڑپن اور صرف ہنسنے ہنسانے تک مزاحیہ ادب کو محدود رکھنے کا خیال عنقا ہے۔ لہٰذا احمد جمال پاشانے انسانی زندگی او رسماجی زندگی کے ان گنت گوشے پر اپنی گہری نگاہ ڈالتے ہوئے طنزکے نشتر چلائے ہیں۔ان کی انشائیہ نگاری کا جائزہ ’’ادب میں مارشل لا‘‘ کے اس اقتباس سے بخوبی لیا جاسکتاہے۔ ملاحظہ کیجئے:
’’حالات اب صدر اردو کے قابو سے باہر ہوچکے تھے۔ علمی ادبی سرگرمیوں اور تحریکوں نے ادبی مزاج کی صورت اختیار کرلی تھی۔ ملک ادب خوفناک اور گندی سیاست میں مبتلا تھا۔ ادب صحافت اور پمفلٹ میں تمیز کرنا بدتمیزی تصور کی جانے لگی تھی او رہنگاموں کاباعث ہواکرتی تھی۔ دائمی قدروں کو وقتی قدروں میں تبدیل کرنے والے اب اسے لمحاتی قدروں میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ مجبوراً صدر نے ملک ادب پر مارشل لا نافذ کردیا۔ ادب کا نظم و نسق براہ راست ادبی فوج کے ہاتھ میں آگیا اور جب اہل ادب کی آنکھ کھلی تو وہ حیران رہ گئے کیوں کہ جمہوریت کی چڑیا اڑ چکی تھی اور مارشل لاکی طوطی بول رہی تھی …… موجودہ انقلاب اور اصلاحات کا ہر حلقہ ادب میں بے پناہ استقبال کیاجارہاہے۔ ادب یں انتشار پیداکرنے والے اب تقریباً منتشر ہوگئے ہیں۔ ادب میں ایک توازن سنجیدگی اور پائیداری کی ہر طرف امیدکی جارہی ہے۔ ادبی جمود کا نعرہ لگانے والے مارشال لا کے طفیل میں اب مقالے لکھ لکھ کر ثابت کررہے ہیں کہ ادب میں نہ کبھی جمود تھا اور نہ ہے۔آگے چل کر ادبی مارشل لاکا دور تاریخ ادب میں ادب کے سنہری دور کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ جس میں زیادہ تر عظیم اور صالح ادب تخلیق ہوا اور تمام بنیادی کام انجام دئے گئے۔‘‘(۲) (یہ بھی پڑھیں شفیقہ فرحت: پہلی مزاح نگار خاتون – ظفرالاسلام )
احمد جمال پاشا کا اختصاص رہاہے کہ انہوںنے جہاں سماجی،معاشی، اقتصادی، تعلیمی، سیاسی صورتحال پر انشائیے قلم بند کئے وہیں ادبی صورت حال کو بھی ہدف نشانہ بنایا ہے۔ یہ بالکل آپ کی ادبی صورتحال سے افسردگی کا اظہار کراتی ہے۔ اس پر اضافہ یہ کہ انہوں نے ادبی شخصیات کوبھی اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے۔انہوں نے انجم مانپوری کی ظرافت شناسی کے سلسلے سے طنزیات مانپوری لکھ کر اس بات کو پیش کیا کہ ان کی نظرادب کے کارکن پر بھی تھی۔ مشتاق احمد یوسفی پر بھی انہوںنے طنز کے نشتر چلائے ہیں۔ اس سلسلے سے یہ اقتباس دیکھئے:
’’ادب کی اس نقشہ کشی اور تعریف کے ساتھ ہی مسکراہٹوں ،انار چھوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ مقدمہ نگاری کی بدعت کا پوسٹ مارٹم کرنے میں یہ اپنے آپ کوبھی نہیں بخشتے۔‘‘(۳)
ان کی انشائیہ نگاری کا جائزہ ’’حاجی لق لق کی عیدیاں‘‘کے حوالے سے بخوبی لیاجاسکتاہے۔ ملاحظہ کیجئے ؎
السلام علیکم عید مبارک
آج دنیا میں عید ہے
ہمارے شہر میں عید ہے
ہمارے گھر میں عید ہے
لیکن ہمارے دل میں محرم ہے
اور تمہاری یاد ستیہ گرہ کئے بیٹھی ہے
نہ نکلتی ہے نہ چین لینے دیتی ہے
اس طرح یہ تسلیم کرنا پڑتاہے کہ بحیثیت انشائیہ نگار احمد جمال پاشا کافی کامیاب ہیں۔ ان کی تحریریں انسانی زندگی کو جینے کا شعور سکھاتی ہیں۔ان کے انشائیوں میں بلاکی سنجیدگی ہے ۔مختصر یہ کہ ان کی تحریر اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ان کے یہاں ایک اچھے مزاح نگار اور خوش فکر طنز نگار کا شعور ملتاہے۔ اس سلسلے سے مضمون ’’شکرکا چکر‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے:
’’جب میں شکر کی دکان پر پہنچا تو پہلے مجھے دھوکہ ہواکہ میں شکرکی دوکان پر نہیں بلکہ کسی ایسے سنیماگھر کے سامنے پہنچ گیا ہوں جس میں کوئی مار دھاروالا نیانیا فلم آج ہی لگا ہو اور پورا شہر اسے آج ہی دیکھ لینا چاہتا ہو۔ حدنظر تک شکرکی لائن میں لوگ چیونٹیوں کی طرح لگے ہوئے تھے اور لائن کو پولس والے ڈنڈے کی مدد سے درست کررہے تھے۔ شکرکے بہت سارے امیدوار تارتارہوچکے تھے اور حلیہ بتا رہا تھاکہ انہوںنے یہ جگہ بہ زور بازو حاصل کی ہے۔ اکثر بزرگ اپنی باری کے انتظار میں تسبیح لئے شکر حاصل کرنے والا کوئی جلالی وظیفہ پڑھ رہے تھے۔ ایک صاحب لائن میں ہی کھڑے کھڑے بری طرح چیخ رہے تھے کہ ہائے میں لٹ گیا اور معلوم ہواکہ کسی نے موقع پاکر ان کی جیب صاف کردی۔‘‘(۴)
احمد جمال پاشا کے تعلق سے یہ کہاجائے گاکہ انہوں نے اپنے انشائیوں کے لئے مواد تہذیب و ثقافت علم وادب سیاست و معاشرت کے میدان سے حاصل کیا۔ زمانے کے نامساعد حالات جن سے انسانی زندگی پریشانی کا سامنا کررہی ہے اس سلسلے سے بھی باتیں کی ہیں۔ اس پر اضافہ یہ کہ ادبی دنیا پر بھی انہوں نے گہری نگاہ ڈالتے ہوئے ادب کے میدان پر طنز کے نشتر چلائے ہیں۔ ادیب و فنکار کو ہدف ملامت بنایا ہے۔ تماشائے ادب، افلاطون، کافی ہاؤس میں، میرے ادبی نظریے اور عقیدے، نثری شاعری، ادب میںبانس کی اہمیت، اقبال کی تلاش میں، غالب اینڈ کمپنی اور ادب میں مارشل لا، اس موضوع پران کی بہترین نگارشات ہیں۔ ادب میں مارشل لا کا یہ اقتباس بطور نمونہ پیش کررہا ہوں ملاحظہ کیجئے:
’’ہمارے پاس ادبی تنقیدکا کوئی جمہوری طریقہ نہیں فی زمانہ ادب میں خواجہ سرائیاں عام ہیں۔ سرقہ توارد اور آورد سے شعرائ نے ادب کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ موجودہ ادیب ادب کے نام پر ٹریش لکھ رہے ہیں۔ ادب اس وقت پیسے کمانے، نعرے بازی، گروپ بندی اور پگڑی اچھالنے کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے۔ ادب کی محترم ہستیاں بے ادب کرنے سے نہیں چوک رہی ہیں۔‘‘(۵)
مختصر یہ کہ احمد پاشانے قومی زندگی کے بے شمار مسائل کو انشائیوں کا موضوع بنایا ہے۔ رشوت خوری، سماجی ناہمواری اورجبرواستحصال کے خلاف انہوں نے اپنا قلم اٹھایا ہے۔ تعلیمی نظام کے کھوکھلے پن پر اپنے انشائیوں کے ذریعہ چوٹ کی ہے۔ان کے انشائیے کو پڑھ کر قارئین ادب زیر لب مسکراتا ہے۔ ان کے یہاں شائستگی،شگفتگی اور روانی بھی ہے۔ ان کے انشائیوں میں قوس قزح کے سارے رنگ موجود نظر آتے ہیں۔ان کے انشائیوں میں جو جدت اور شوخی ہے وہ ان کے وسیع مطالعے کا نتیجہ ہے۔ لہٰذایہ کہاجائے گاکہ معاشرے کی اصلاح کے لئے احمد جمال پاشا نے انشائیے کو ذریعہ بنایا ہے۔ جس میں کامیاب بھی ہوئے۔ان کے انشائیے صرف تبسم نہیں بلکہ تفکرکی دعوت بھی دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کے انشائیے فن کی کسوٹی پر کھڑے اترتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام اپنے معاصرین میں انفرادیت رکھتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کے بلند پایہ طنز و مزاح نگار: مجتبی حسین – ڈاکٹر احمد علی جوہر )
لہٰذا یہ کہاجائے گاکہ احمد جمال پاشا نے جو بھی لکھا بہت خوب لکھا۔ ان کے انشائیوں نے بڑے بڑے اہل قلم کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے کہ کسی ادیب و فنکار پر اہل قلم اپنے نظریات پیش کریں ،اس ضمن میں احمد جمال پاشا کامیاب نظر آتے ہیں۔
حواشی
۱۔ بیسویں صدی میں طنزومزاح نامی انصاری ۲۶۲
۲۔ بیسویں صدی میں طنزومزاح نامی انصاری ۲۷۵-۲۶۳
۳۔ ظرافت اور تنقید احمد جمال پاشا ۱۶۰
۴۔ بہارمیں اردو طنزوظرافت سلطان آزاد ۱۰۵
۵۔ ظرافت اور تنقید احمد جمال پاشا ۵۱
Shafi Ahmad
Designation: Assistant Professor,
MJK College Bettiah,West Champaran,Bihar 845438.
Mob No 9560339869
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

