Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

احمد جمال پاشا کی انشائیہ نگاری – شفیع احمد

by adbimiras جولائی 26, 2021
by adbimiras جولائی 26, 2021 0 comment

اردومیں صنف انشائیہ کا وجود نیا نہیں ہے۔موضوعاتی اعتبار سے اس صنف میں بڑی وسعت اور تنوع پایا جاتا ہے۔اس میں ذہنی آسودگی بھی ملتی ہے اور زبان کا چٹخارہ بھی ۔ کوئی اسے ذہنی ترنگ کا نام دیتا ہے تو کہیں اسے Essayکی دوسری شکل قرار دی جاتی ہے۔اسی طرح کوئی عہد ِ مولانا محمد حسین آزاد سے اس کے ڈانڈے ملاتا ہے تو کوئی اسے خالص مغربی ادب کا زائیدہ بتاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک نکتہ بہت اہم ہے کہ اردو میں انشائی ادب کا وجود پہلے اور اس کے نام کا تعین بہت بعد میں ہوا جس کی بنا پربہت سے لوگ مغالطے کا شکار ہوئے۔ بہت سے نقاد انشائیے کی ابتدا لفظ ’’انشائیہ‘‘ کے رائج ہونے سے جانتے ہیں۔

انشائیہ عربی لفظ انشاسے بناہے جس کے معنی عبارت لکھنا،طرز تحریر یا کوئی بات پید اکرنا ہوتاہے۔ مطلب یہ کہ انشائیہ اردو نثرکی ایک غیرافسانوی صنف ہے۔ انگریزی لفظ Light Essay یا Personal Essay کے متبادل کے طورپر اردو میں انشائیہ کا لفظ رائج ہے۔ مختصر یہ کہ انشائیہ میں کسی منصوبہ بند طریقہ سے باضابطہ مواد کو یکجا کرکے اظہارخیال نہیں کیاجاتا بلکہ دل و دماغ پر اثر انداز ہونے والے خیالات کو عبارت کے ذریعے پیش کرنا انشائیہ کے ذیل میں آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں احمد یوسف بحیثیت رپورتاژ نگار وخاکہ نگار – شفیع احمد )

اردو ادب کی تاریخ میں صنف انشائیہ کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ عہد سرسید میں اس صنف کی بنیاد پڑی لیکن اس عہدکے بعد صنف انشائیہ ایک مکمل صورت میں سامنے آئی۔ رفتہ رفتہ اہل فن نے اس صنف کی طرف رجوع کرنا شروع کیا اور اس کی وسعت پزیری میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہ بھی تسلیم شدہ امرہے کہ اردو ادب کی بعض دوسرے اصناف کی طرح انشائیہ بھی درآمد شدہ صنف ادب ہے۔ انشائیہ نگاروں کی ہر لمحہ یہ کوشش رہی کہ سماج کی کج روی کو اس طرح قارئین ادب کے سامنے پیش کیاجائے کہ وہ انہیں مسکراتے ہوئے تسلیم کرلیں اور اس کے لئے ردعمل کی بھی کوشش کریں۔ لہٰذا اس خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو کے انشائیہ نگاروںنے سیاسی، سماجی، تہذیبی، ثقافتی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو انشایئے کا حصہ بنایا۔ ویسے بھی اہل قلم کے آگے کسی طرح کی جغرافیائی حدبندی نہیں ہوتی۔ سارے جہاں کا غم وہ اپنے دل میں سمیٹے ہوئے رہتاہے اور اپنی تخلیقی کاوشوں کے ذریعہ اپنی افسردگی اور نظریہ حیات کو پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو انشائیے کا دائرہ عمل شروع سے وسیع رہا ہے۔ اردو انشائیہ ابتدا سے آج تک اپنے عہد کے حقائق کی عکاسی میں کامیاب رہاہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ ہے کہ ادب میں ہمیشہ آفاقی تصور کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس لئے انشائیہ نگاروںنے تمام دنیا کے مسائل کو پیش نظر رکھا۔انہی انشایئہ نگاروں میں ایک اہم نام احمد جمال پاشا کا ہے۔

احمد جمال پاشا

احمد جمال پاشا کا اصل نام آغا محمد نزہت پاشا تھا ۔ان کی پیدائش یکم/جون 1929 کو الہ آباد کے محلہ خلد آباد میں ہوئی۔ انہوں نے 1950ئ میں کوئنس ہائی اسکول سے میٹرک، 1953ئ میں لکھنؤ کرسچین کالج سے انٹرمیڈیٹ، 1959ئ میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔958۱ئ میں احمد جمال پاشا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔ اے کرنے کے بعد واپس لکھنؤ چلے آئے اور صحافت کے پیشے سے منسلک ہو گئے 27/ستمبر 1987 کووہ جب ایک ریڈیو پروگرام میں شرکت کے لیے پٹنہ آئے ہوئے تھے ۔ اسی دن انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا اور دوسرے روز بروز پیر 28/ستمبرکووہ اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں اپنے آبائی ضلع سیوان کے محلہ تلہٹہ والے قبرستان میں 29/ستمبر 1987 سپرد خاک کیا گیا۔

احمد جمال پاشا نے انسانی اور معاشرتی زندگی کے پیچ و خم کو انشائیے میں پیش کیا ہے۔ ان کے انشائیوں میں طنز کا نشتر بھی ہے اور ظرافت کی چاشنی بھی۔ وہ جس مسئلے کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں بغیر کسی تلخی کے مسائل تک ہماری رسائی ہوجاتی ہے۔ان کی کئی تخلیقات اس سلسلے میںبہت اہمیت رکھتی ہیں۔مثلاً ’’اندیشہ شہر‘‘، ’’ستم ایجاد‘‘، ’’لذت آزاد‘‘، ’’مضامین پاشا‘‘، ’’چشمہ حیراں‘‘، ’’آثار قیامت‘‘ فن لطیفہ گوئی‘‘وغیرہ۔

جب احمد جمال پاشا نے ’’ لاہورمیں تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘،’’ادب میں مارشل لا ئ‘‘اور’’رستم امتحان کے میدان میں‘‘ جیسے مضامین لکھے توان کی طرف قارئین متوجہ ہونے لگے۔بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں احمد جما ل پاشا کی تخلیقی صلاحیت اپنے شباب پر تھی۔۔ان کے اہم انشائیوں میں چیخنا،کچھ تنقید کے بارے میں،ہجرت،بے ترتیبی، شور، اصولوں کی مخالفت میں،چغلی کھانا،تنہائی کی حمایت میں اور کچھ بلیوں کے سلسلے میں وغیرہ ہیں۔ اس کے ساتھ کچھ مضامین بھی ملتے ہیں جو مضمون کے زمرے میں شامل ہیں لیکن وہ انشائیے سے قریب ہیں ،ان میں انشائیہ کی خصوصیات غالب ہیں اورانہیں بھی انشائیہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ان میں مونچھیں،نیا پیسہ،ٹائم ٹیبل،آنی جانی قیامت،ناپسندیدہ لوگ وغیرہ مضمون شامل ہیں۔احمد جمال پاشا کو انشائیہ کے فن میں مہارت حاصل تھی۔وہ جب انشائیہ تخلیق کرتے تھے تو وہ کسی عام موضوع کو لے کر موضوع کا زاویہ بدل کر اس کے اندر چھپے ہوئے پہلووں کو اجاگر کرتیہیں۔وہ اس بات کے قائل تھے کہ:

’’تمسخر تفنن پھکڑپن شخصی ہجو مزاح برائے تفریح کبھی بھی ادب کا جزونہیں بن سکتے۔ ادبی ظرافت اور مسخرے پن کا کوئی میل نہیں۔‘‘(۱)

اس اقتباس کی روشنی میں کہاجائے گاکہ ان کے یہاں سادگی اور متانت کے حوالے سے سماج کی کج روی پر گہری نگاہ ڈالی گئی ہے۔ یہاں پھکڑپن اور صرف ہنسنے ہنسانے تک مزاحیہ ادب کو محدود رکھنے کا خیال عنقا ہے۔ لہٰذا احمد جمال پاشانے انسانی زندگی او رسماجی زندگی کے ان گنت گوشے پر اپنی گہری نگاہ ڈالتے ہوئے طنزکے نشتر چلائے ہیں۔ان کی انشائیہ نگاری کا جائزہ ’’ادب میں مارشل لا‘‘ کے اس اقتباس سے بخوبی لیا جاسکتاہے۔ ملاحظہ کیجئے:

’’حالات اب صدر اردو کے قابو سے باہر ہوچکے تھے۔ علمی ادبی سرگرمیوں  اور تحریکوں نے ادبی مزاج کی صورت اختیار کرلی تھی۔ ملک ادب خوفناک اور گندی سیاست میں مبتلا تھا۔ ادب صحافت اور پمفلٹ میں تمیز کرنا بدتمیزی تصور کی جانے لگی تھی او رہنگاموں کاباعث ہواکرتی تھی۔ دائمی قدروں کو وقتی قدروں میں تبدیل کرنے والے اب اسے لمحاتی قدروں میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ مجبوراً صدر نے ملک ادب پر مارشل لا نافذ کردیا۔ ادب کا نظم و نسق براہ راست ادبی فوج کے ہاتھ میں آگیا اور جب اہل ادب کی آنکھ کھلی تو وہ حیران رہ گئے کیوں کہ جمہوریت کی چڑیا اڑ چکی تھی اور مارشل لاکی طوطی بول رہی تھی …… موجودہ انقلاب اور اصلاحات کا ہر حلقہ ادب میں بے پناہ استقبال کیاجارہاہے۔ ادب یں انتشار پیداکرنے والے اب تقریباً منتشر ہوگئے ہیں۔ ادب میں ایک توازن سنجیدگی اور پائیداری کی ہر طرف امیدکی جارہی ہے۔ ادبی جمود کا نعرہ لگانے والے مارشال لا کے طفیل میں اب مقالے لکھ لکھ کر ثابت کررہے ہیں کہ ادب میں نہ کبھی جمود تھا اور نہ ہے۔آگے چل کر ادبی مارشل لاکا دور تاریخ ادب میں ادب کے سنہری دور کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ جس میں زیادہ تر عظیم اور صالح ادب تخلیق ہوا اور تمام بنیادی کام انجام دئے گئے۔‘‘(۲) (یہ بھی پڑھیں شفیقہ فرحت: پہلی مزاح نگار خاتون – ظفرالاسلام )

احمد جمال پاشا کا اختصاص رہاہے کہ انہوںنے جہاں سماجی،معاشی، اقتصادی، تعلیمی، سیاسی صورتحال پر انشائیے قلم بند کئے وہیں ادبی صورت حال کو بھی ہدف نشانہ بنایا ہے۔ یہ بالکل آپ کی ادبی صورتحال سے افسردگی کا اظہار کراتی ہے۔ اس پر اضافہ یہ کہ انہوں نے ادبی شخصیات کوبھی اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے۔انہوں نے انجم مانپوری کی ظرافت شناسی کے سلسلے سے طنزیات مانپوری لکھ کر اس بات کو پیش کیا کہ ان کی نظرادب کے کارکن پر بھی تھی۔ مشتاق احمد یوسفی پر بھی انہوںنے طنز کے نشتر چلائے ہیں۔ اس سلسلے سے یہ اقتباس دیکھئے:

’’ادب کی اس نقشہ کشی اور تعریف کے ساتھ ہی مسکراہٹوں ،انار چھوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ مقدمہ نگاری کی بدعت کا پوسٹ مارٹم کرنے میں یہ اپنے آپ کوبھی نہیں بخشتے۔‘‘(۳)

ان کی انشائیہ نگاری کا جائزہ ’’حاجی لق لق کی عیدیاں‘‘کے حوالے سے بخوبی لیاجاسکتاہے۔ ملاحظہ کیجئے    ؎

السلام علیکم عید مبارک

آج دنیا میں عید ہے

ہمارے شہر میں عید ہے

ہمارے گھر میں عید ہے

لیکن ہمارے دل میں محرم ہے

اور تمہاری یاد ستیہ گرہ کئے بیٹھی ہے

نہ نکلتی ہے نہ چین لینے دیتی ہے

اس طرح یہ تسلیم کرنا پڑتاہے کہ بحیثیت انشائیہ نگار احمد جمال پاشا کافی کامیاب ہیں۔ ان کی تحریریں انسانی زندگی کو جینے کا شعور سکھاتی ہیں۔ان کے انشائیوں میں بلاکی سنجیدگی ہے ۔مختصر یہ کہ ان کی تحریر اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ان کے یہاں ایک اچھے مزاح نگار اور خوش فکر طنز نگار کا شعور ملتاہے۔ اس سلسلے سے مضمون ’’شکرکا چکر‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے:

’’جب میں شکر کی دکان پر پہنچا تو پہلے مجھے دھوکہ ہواکہ میں شکرکی دوکان پر نہیں بلکہ کسی ایسے سنیماگھر کے سامنے پہنچ گیا ہوں جس میں کوئی مار دھاروالا نیانیا فلم آج ہی لگا ہو اور پورا شہر اسے آج ہی دیکھ لینا چاہتا ہو۔ حدنظر تک شکرکی لائن میں لوگ چیونٹیوں کی طرح لگے ہوئے تھے اور لائن کو پولس والے ڈنڈے کی مدد سے درست کررہے تھے۔ شکرکے بہت سارے امیدوار تارتارہوچکے تھے اور حلیہ بتا رہا تھاکہ انہوںنے یہ جگہ بہ زور بازو حاصل کی ہے۔ اکثر بزرگ اپنی باری کے انتظار میں تسبیح لئے شکر حاصل کرنے والا کوئی جلالی وظیفہ پڑھ رہے تھے۔ ایک صاحب لائن میں ہی کھڑے کھڑے بری طرح چیخ رہے تھے کہ ہائے میں لٹ گیا اور معلوم ہواکہ کسی نے موقع پاکر ان کی جیب صاف کردی۔‘‘(۴)

احمد جمال پاشا کے تعلق سے یہ کہاجائے گاکہ انہوں نے اپنے انشائیوں کے لئے مواد تہذیب و ثقافت علم وادب سیاست و معاشرت کے میدان سے حاصل کیا۔ زمانے کے نامساعد حالات جن سے انسانی زندگی پریشانی کا سامنا کررہی ہے اس سلسلے سے بھی باتیں کی ہیں۔ اس پر اضافہ یہ کہ ادبی دنیا پر بھی انہوں نے گہری نگاہ ڈالتے ہوئے ادب کے میدان پر طنز کے نشتر چلائے ہیں۔ ادیب و فنکار کو ہدف ملامت بنایا ہے۔ تماشائے ادب، افلاطون، کافی ہاؤس میں، میرے ادبی نظریے اور عقیدے، نثری شاعری، ادب میںبانس کی اہمیت، اقبال کی تلاش میں، غالب اینڈ کمپنی اور ادب میں مارشل لا، اس موضوع پران کی بہترین نگارشات ہیں۔ ادب میں مارشل لا کا یہ اقتباس بطور نمونہ پیش کررہا ہوں ملاحظہ کیجئے:

’’ہمارے پاس ادبی تنقیدکا کوئی جمہوری طریقہ نہیں فی زمانہ ادب میں خواجہ سرائیاں عام ہیں۔ سرقہ توارد اور آورد سے شعرائ نے ادب کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ موجودہ ادیب ادب کے نام پر ٹریش لکھ رہے ہیں۔ ادب اس وقت پیسے کمانے، نعرے بازی، گروپ بندی اور پگڑی اچھالنے کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے۔ ادب کی محترم ہستیاں بے ادب کرنے سے نہیں چوک رہی ہیں۔‘‘(۵)

مختصر یہ کہ احمد پاشانے قومی زندگی کے بے شمار مسائل کو انشائیوں کا موضوع بنایا ہے۔ رشوت خوری، سماجی ناہمواری اورجبرواستحصال کے خلاف انہوں نے اپنا قلم اٹھایا ہے۔ تعلیمی نظام کے کھوکھلے پن پر اپنے انشائیوں کے ذریعہ چوٹ کی ہے۔ان کے انشائیے کو پڑھ کر قارئین ادب زیر لب مسکراتا ہے۔ ان کے یہاں شائستگی،شگفتگی اور روانی بھی ہے۔ ان کے انشائیوں میں قوس قزح کے سارے رنگ موجود نظر آتے ہیں۔ان کے انشائیوں میں جو جدت اور شوخی ہے وہ ان کے وسیع مطالعے کا نتیجہ ہے۔ لہٰذایہ کہاجائے گاکہ معاشرے کی اصلاح کے لئے احمد جمال پاشا نے انشائیے کو ذریعہ بنایا ہے۔ جس میں کامیاب بھی ہوئے۔ان کے انشائیے صرف تبسم نہیں بلکہ تفکرکی دعوت بھی دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کے انشائیے فن کی کسوٹی پر کھڑے اترتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام اپنے معاصرین میں انفرادیت رکھتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کے بلند پایہ طنز و مزاح نگار: مجتبی حسین – ڈاکٹر احمد علی جوہر )

لہٰذا یہ کہاجائے گاکہ احمد جمال پاشا نے جو بھی لکھا بہت خوب لکھا۔ ان کے انشائیوں نے بڑے بڑے اہل قلم کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے کہ کسی ادیب و فنکار پر اہل قلم اپنے نظریات پیش کریں ،اس ضمن میں احمد جمال پاشا کامیاب نظر آتے ہیں۔

 

حواشی

 

۱۔       بیسویں صدی میں طنزومزاح    نامی انصاری      ۲۶۲

۲۔      بیسویں صدی میں طنزومزاح  نامی انصاری    ۲۷۵-۲۶۳

۳۔      ظرافت اور تنقید     احمد جمال پاشا       ۱۶۰

۴۔      بہارمیں اردو طنزوظرافت   سلطان آزاد       ۱۰۵

۵۔      ظرافت اور تنقید    احمد جمال پاشا      ۵۱

 

 

 Shafi Ahmad

Designation: Assistant Professor,

MJK College Bettiah,West Champaran,Bihar 845438.

Mob No 9560339869

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

احمد جمال پاشاشفیع احمد
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر سلمان فیصل
اگلی پوسٹ
خطوط داغ دہلوی کی بازیافت – ڈاکٹر نوشاد منظر

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں