کسی زمانے میں بہت نایاب تھے۔آج دستیاب ہی نہیں بلکہ افراط بھی ہیں ۔ چونکہ یہ شاعروں کے اجداد ہیں اس لئے استاد ہیں ۔
جس طرح دنیا میں شاعر بنانے کی آج تک کوئی یو نیورسٹی ،فیکٹری نہیں کھل سکی ہے اسی طرح استاد بنانے والا بھی کوئی ادبستان ، شعرستان، نظمستان ، غزلستان، چمنستان ،روئے زمین پر نظر نہیں آتا۔
دنیا میں شاعر ی کا سلسلہ کب شروع ہوا پہلا استاد شاعر کون تھا ۔ اس نے کسی سے اصلاح لی ۔یا وہ ’’ پیدائشی استاد‘‘ تھا یہ ایک طویل اور علیل موضوع ہے۔ اور ہم اس سے چھیڑ چھاڑ کر کے بیمار نہیں ہونا چاہتے بلکہ چھوڑ کر فکری طور پر صحت مند ہونا چاہتے ہیں ۔ ہاں اتنا سراغ ضرور ملتا ہیکہ جس شاعر نے پہلی دفعہ محبوبہ کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے مقناطیسی انداز کافی البدیہ یعنی ایمرجنسی شعر کہا ہوگا وہ کوئی استاد شاعر ہی رہا ہو گا۔حضرت میر تقی میرؔ نے ایک غزل میں شاید اسی کا اشارہ کیا ہے
؎ سخت کافر تھا جس نے پہلے میرؔ۔۔۔۔۔ مذہب عشق اختیار کیا
ہاں کچھ استاد الشعرا جو واسطے کے قا ئل نہ ہو کر اپنا سلسلہ نسب ’’ الشعرا تلامیذ الرحمٰن ‘‘ کی مناسبت سے ڈائیریکٹ رحمٰن سے جوڑتے ہوئے دلیل پیش کرتے ہیں کہ جو اﷲ ’’ جناب آدم و حوا ‘‘ہی نہیں تدفین ہابیل کے لئے’’ ایک جوڑا کوّا‘‘ بھی بغیر ماں باپ کے پیدا کر سکتا ہے ۔ کیا وہ اتنا فعال نہیں کہ ایک استاد کو فاعلاتن فاعلات سکھا کر زمین پر اتار دے۔
دنیا میں جتنے بھی علوم و فنون ہیں ان کی تعلیم دینے کو استاد کہا جاتا ہے لیکن جس شریعت میں استادی کا لفظ واجب کی حیثیت رکھتا ہے ۔وہ ہے شاعری ۔گویا استاد کے بغیر شاعری کی گاڑی نہیں چلے گی ۔ اب یہ الگ بات ہیکہ زیادہ تر شعرا احساس برتری کا شکار ہوکر بغیر استاد کے ہی گاڑی گھسیٹ لیتے ہیں ۔(یہ بھی پڑھیں قربانی کا بکرا – شیبا کوثر )
کچھ شعرا استاد کا خطاب پانے کے لئے بیتاب ہی نہیں حد سے گذر جانے کو تیار ہیں۔ وہ اتنے اتاولے اور باولے ہیں کہ اگر وہ روپئے پیسے میں ملے تو منھ مانگی قیمت دیں۔ یہ وہ تجار ہیں ۔ وہ دن رات استاد بننے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں ان کو ہر جگہ استاد ہی استاد نظر آتا ہے ۔ان پر یہ بھوت اتنی شدت سے سوار ہوتا ہے کہ ان کو کالجوں کا ’’ جلسۂ تقسیم اسناد ‘‘ بھی ’’ جلسۂ تقسیم استاد‘‘ نظر آتا ہے۔ اس لئے وہ ان جلسوں میں بھی بغیر دعوت کے پہونچ جاتے ہیں اور استادی کا سرٹیفیکٹ مانگنے لگتے ہیں ۔ لہٰذا استادی کی سند تو نہیں شرمندگی ضرور ہاتھ لگتی ہے۔
چونکہ ہندوستان تہذیب و تمدن کا ملک ہے جہاں گرو(استاد) کا اتنا احترام کیا جاتا ہے کہ فن سیکھنے کے بعد ’’ گرو دکشنا‘‘ بھی دی جاتی ہے۔
ایک شاگرد نے اس پر دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر’’ تیر انداز اکلوّیہ‘‘ اپنے گرو ’’ درونا چاریہ‘‘ کو گرو دکشنا میں اپنا انگوٹھا کاٹ کر دے سکتے ہیں تو ہم بھی اپنے استاد کو ’’ اپنے مشاعرے کا وعدہ‘‘ کاٹ کر دے سکتے ہیں ۔ بعض تو اتنے سر پھرے ہیں کہ اپنا وعدہ ہی نہیں استاد کو سر بھی کاٹ کر دے سکتے ہیں ۔
استاد کی شناخت کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ان کا کوئی ’’ پہچان پتر‘‘ نہیں ہے لیکن مثل مشہور ہے کہ ’’ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘ تو استاد کا پول استاد ہی کھولے گا۔ اس لئے ان کو پہچاننے کی علامتیں استادوں نے کتابوں میں درج کی ہیں ۔
ناسخؔ لکھنؤی کے شاگرد ڈپٹی کلب علی خاں نادرؔ نے کہا تھا ۔۔ ؎ لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہے۔۔ شعر کہتے کہتے مَیں ڈپٹی کلکٹر ہو گیا
پہلے زمانے میں شعرائ اسی فکر میں دن بھر مست رہتے تھے ۔کوئی کام کاج میں دلچسپی نہ لیتے تھے ان کی بیویوں بچوں کو بڑی کسمپرسی کی زندگی گذارنی پڑتی تھی ۔بیوی استاد شاعروں کو کوستی تھیں کہ آپ کی وجہ سے گھر میں منحوسیت چھائی ہوئی ہے ۔اسی لئے اس فن کو منحوس سمجھا جاتا تھا لیکن آج جو شاعری نہ کرے وہ کنجوس مانا جاتا ہے ۔اس سے سوال کیا جائے گا کہ جب اندر سے مادہ شاعری مثل جوالا مکھی ہلچل لے رہا تھا ،پھٹ رہا تھا ،کروٹیں بدل رہا تھا تو اس کو نکالا کیوں نہیں ۔ اس کا اخراج کیوں نہیں کیا ۔تم نے فطرت سے ،نیچر سے کھلواڑ کیوں کیا ۔تم استاد بننے کے لائق تھے لیکن کیوں نہیں بنے۔ ( یہ بھی پڑھیں گلابی اردو(پارٹ-2) مُلا رموزی کی روایت میں ملاّ وسیم کا انوکھا اضافہ- وسیم احمد علیمی )
استادی کا بوجھ اٹھانا آسان نہیں ہے ۔کہا جاتا ہے کہ حضرت لقمان حکیم پیغمبری کے لائق ہوتے ہوئے بھی پیغمبری کا بار اور ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہ ہوئے ۔اسی طرح بعض شعرا استاد ہوتے ہوئے بھی استاد بننے کو تیار نہیں ہوئے۔ ان کا قول ہے کہ استاد بننے کا مطلب دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اپنے سر پر ڈھونا ہے ۔اس کے بر عکس ایسے بھی شعرا تاریخ میں ملتے ہیں جو نابالغی کی نا توانی، اور نادانی میں جب شریعت بھی عبادات، احکامات ،اصول و فروع کا بار نہیں ڈالتی ،استادی کا بوجھ اٹھانے کو تیار رہتے ہیں ۔ جن کے لئے شاعر نے کہا ہے۔
؎ سب پہ جس بار نے گرانی کی۔۔۔۔۔۔۔ اس کو یہ نا تواں اٹھا لایا
استاد شعرا کا مرتبہ ہر زمانے میں بلند رہا ہے ۔لیکن اس دور میں خاص طور سے اہمیت بڑھ گئی ہے ۔کب کون سی شے مہنگی ہو جائے اور کون سے شے سستی ہوجائے یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔پہلے شاعر خود ہی اشعار لکھتے تھے خود ہی اپنے انداز سے پڑھتے تھے ۔جس کے پاس جیسا فنی،شعری، فکری، سرمایہ ہوتا تھا عوام کے درمیان پیش کر دیا کرتا تھا۔
لیکن آج کے مشاعرے پر وفیشنل ہو چکے ہیں ۔اس بازار میں پہونچنا ہی نہیں ٹھہرنا کمال ہے ۔اس کاروبار میں ٹھہرنے کے لئے بہت سخت محنت ہی نہیں کئی لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔
بقول راحتؔ اندوری۔۔۔۔۔ ؎ میرے کاروبار میں سب نے بڑی امداد کی۔۔۔۔ داد لوگوں کی ،گلا اپنا،غزل استاد کی
یہی وجہ ہے کہ استاد کی عزت ،اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔جتنا اچھا کلام استاد لکھ کر دیں گے مارکیٹ میں وہ اتنا ہی اچھا بزنس کرے گا ۔ایک شاگرد کو ’’ حضرت واعظ کی طویل زباں‘‘ کی طرح اس بھاری بھرکم شکم کی مدت سے تلاش ہے جہاں استاد کا مخرج و منبع ہے۔یعنی وہ سونے کے انڈے کے لئے بار بار انتظار نہیں کرناچاہتے ،مرغی کو چاک کر ایک ہی بار میں اس کے شکم سے پورا انڈا ہی نکالنا چاہتے ہیں ۔ ایسے استاد بھی کثرت سے ملتے ہیں جن کو شاگرد پالنے کا اتنا ہی شوق ہے جتنا مسلمانوں کو مرغی پالنے کا ۔بس فرق یہ ہے کہ مسلمان مرغی پالن کے بعد سالن کے ساتھ کھا جاتے ہیں اور یہ شاگرد اپنے استاد کا کلام پڑھ کر مشاعرے میں چھا جاتے ہیں تو استاد اس کا معاوضہ پا جاتے ہیں ۔ ایسے بھی شفیق استاد مل جائیں گے جنھوں نے اپنی اولادوں کے ساتھ شاگردوں کو بھی حقیقی اولاد کی طرح پالا۔ ایسے بھی لا ابالی استاد مل جائیں گے جنہوں نے شاگرد تو دور اپنی حقیقی اولاد کو بھی نہیں پالا۔
اکثر شعرا جب سبکدوش ہی نہیں ’’ سبک اسٹیج‘‘ ہو کر مشاعروں سے کٹ جاتے ہیں تو بیٹھے بیٹھے وقت بھی نہیں کٹتا ۔تو نو مولود شعرا کو اپنے نزدیک آنے کی دعوت دینے لگتے ہیں ۔ جو جوانی میں اپنے اچھے دنوں میں شعرا کو اپنے نزدیک پھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ اپنے اوپر استادی کا ایسا رعب غالب کئے رہتے تھے کہ خود غالبؔ بھی سہم جائیں۔ بچے راستہ کترا کر چلتے تھے ۔اب آخر عمر میں کیا کریں ۔کوئی تو پاس ہو جس سے دل لگی کریں ۔ لہٰذا زنگ آلود اشعار کا ورود مسعود نو مولود کے سامنے ہو نے لگتا ہے ۔ اور دھیرے دھیرے ان کے ٹیڑھے میڑھے اشعار کو گڑھ کر صحیح وسالم ہی نہیں اپنی شاگردی میں لے کر عروض کا عالم بھی بنا دیتے ہیں ۔
تاریخ میں ایسے مشفق و مہربان استاد کی داستان بھی ملتی ہے کہ دو چار غزلیں ، قصیدوں کے عنوان ہی نہیں پورے پورے دیوان میں اپنے شاگرد کا مقطع ڈال کر اپنے مفلس و مخلص شاگرد کو دھنوان بنا دیا ۔
اور ایسے بھی استاد نظر آجاتے ہیں کہ خود اپنے شاگرد کے کلام کا چربہ و سرقہ کر کے اپنے شاگرد کے شاگرد بن کر صاحب دیوان بن گئے ۔ اردو کے بعض علاقے اتنے زرخیز ہوئے ہیں کہ وہاں صرف استادی کے بیج بوئے جاتے ہیں ۔ ’’جیسے کشمیر میں صرف زعفران اگتے ہیں ویسے وہاں صرف استاد اگتے ہیں ‘‘ اور استادی کی فصل ہی کاٹی جاتی ہے ۔بتاتے ہیں کہ ایک استاد شاعر کا گذر ایسی بستی میں ہوا ۔دماغ میں آیا کہ چلو ۔شاعری کا چراغ یہاں روشن کریں ۔اور شاگردوں کا درشن کریں ۔ اعلان کر کے تمام شاعروں کو جمع کیا ۔ لیکن ان میں کوئی شاگرد نہیں ملا ۔ تو انہوں نے حیرت میں ڈوب کر یہ فی البدیہ مصرع پڑھا۔
؎ سب یہاں استاد ہیں شاگرد تو کوئی نہیں
چونکہ ہم صرف کچے مسلمان ہی نہیں ،گوشت خور اور پکیّ مسلمان ہیں ’’ جو بات بات پہ سنت کی بات کرتے ہیں ‘‘ جن کی زیادہ تر سنتیں حضرت ابراہیم سے چلی آ رہی ہیں ۔ جن کی یہ سنت بہت مشہور ہے کہ وہ مہمانوں کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے ۔ تو یہ سنت ادا کرنے میں استاد کیوں پیچھے رہیں ۔ اس لئے کچھ استاد صبح سے شام تک شاگردوں کو مہمان بنانے کے لئے ڈھونڈھتے رہتے ہیں جیسے ہی کوئی ان کے جال میں پھنستا ہے دیوان کھول کر اشعار کا دسترخوان سجا دیتے ہیں ۔ لیجئے جناب یہ بالکل نئی غزل ، یہ ایک مکمل قصیدہ، ذوقؔ کے رنگ میں اجزائے ترکیبی کے ساتھ ، پھر کچھ دیر بعد دیکھئے جناب یہ مثنوی سحر البیان کی زبان میں مَیں نے بھی بیان کرنے کی کوشش کی ہے میر حسن ؔ مرحوم کی روح سے معذرت کے ساتھ۔کچھ دیر بعد’’ لیجئے ! چند رباعیاں بھی مَیں نے لکھی ہیں ‘‘ ۔ غرض کہ اشعار سے اس کا پیٹ بھر دیتے ہیں ۔جب وہ تھک جاتا ہے تو کھانے سے دسترخوان کو آراستہ کرتے ہیں ۔ لیکن وہ دماغی طور پر پریشان ہو جاتا ہے اور معذرت کر کے اس لئے خوف سے رخصت ہو جاتا ہے کہ پھر کہیں کھانا کھلاتے کھلاتے دیوان کھول کر اشعار نہ کھلانے لگیں ۔ (یہ بھی پڑھیں ابو مصنف -محمد ریحان )
استادی کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ اس کا جسمانی قد بلند ہو ،معتبر استاد کا فرزند ارجمند ہو ، فارغ بخارا و سمر قند ہو ۔بلند اقبال ہوں یا فارغ البال ہوں۔مہینوں فارغ غسل ہوں یا روز قابل غسل ہوں،خوش پوشاک ہوں یا دانت محتاج مسواک ہوں بلکہ ذاتی صلاحیت ، دماغ کی قدر و قیمت ، فکر کی بلندی دیکھی جاتی ہے ۔اخلاق و آداب ،انسانیت، محبت ، شرافت، دیکھی جاتی ہے۔ لمبا تڑنگا ہونا کوئی خصوصیت و کمال نہیں ۔پست قد ہونا کوئی عیب نہیں ۔ اسی لئے استاد ذوقؔ کو کہنا پڑا۔
؎ آدمیت سے ہے بالا آدمی کا مرتبہ۔ ۔۔۔۔۔ پست نیت تو نہ ہووے پست قامت ہو تو ہو تاریخ ادب میں کہیں ذکر نہیں ملتا کہ ایک استاد کتنے شاگردوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے ۔
ایک استاد الشعرا سے روایت ہے کہ استاد ذوقؔ کے شاگرد حضرت داغؔ دہلوی نے پانچ ہزار شاگردوں کا بوجھ اٹھایا ۔جس میں علامہ اقبالؔ جیسے فلسفی بھی شامل تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اتنے بڑے بڑے شاگردوں کا بوجھ اکیلے اٹھاتے اٹھاتے ، ان کی اصلاح کرتے کرتے ایک استاد تو تھک ہی جائیں گے ۔ ہوش و ہواس ،طاقت تو ختم ہی ہو جائے گی ۔اسی لئے آخر عمر میں داغؔ صاحب کو کہنا پڑا ۔
؎ ہوش و ہواس و تاب وتواں داغؔ جا چکے۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا ایک بزرگ استاد شاعر کی اپنے ایک پروفیسر شاگرد سے برسوں بعد اتفاقی ملاقات ہوگئی۔ سلام و دعا کے بعد استاد نے کہا آج آپ جس زمین پر کھڑے ہیں وہ ہماری ہی دین ہے ۔شاگرد بڑا ہی مطیع و فرماں بردار تھا کہا ۔استاد مَیں نے کب انکار کیا ہے۔ جو سنگ لاخ زمینیں آپ نے عنایت کیں میں نے انہیں کو ہموار کیا ہے ۔
بعض نئے استادوں کو شاگرد بنانے کا بڑا شوق رہتا ہے۔ پکڑ پکڑ لوگوں کو شاعری کی طرف ایسا مائل کرتے ہیں جیسے ان کو ’’ جیون بیمہ‘‘ کی طرز پر کمیشن ملتا ہو ۔انہیں استادوں کا فیض ہے کہ شعرا کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔’’روزانہ ایک نیا شاعر صرف لانچ ہی نہیں ہوتا بلکہ بعد ولادت اتنی تیز نشو ونما ہوتی ہے کہ فوراً اسٹیج نما ریمپ پر جلوہ بکھیرنے لگتا ہے‘‘۔
ایک پروفیسر صاحب نے انہیں استادوں کے شاگردوں کو تا حد نظر دیکھتے ہوئے لکھا ہو گا کہ’’ ہندوستان میں اردو زبان کا یہ المیہ ہے کہ یہاں ہر تیسرا شخص شاعر ہے ‘‘ !
اور کیوں نہ ہو جب شاعروں کے یہاں فیملی پلاننگ کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔
جیسے کسان اپنی لہلاتی فصلوں کو دیکھ کر خوشی ا اظہارکرتے ہیں ۔اسی طرح بعض استاد اپنے شاگردوں کی تعداد پر فخر و مباہات کرتے ہیں ۔ وہ اس معاملہ میں اتنے شدت پسند ہیں کہ اگر دوسرے استاد ان کا کوئی شاگرد چھین لیں تو اس سے دو دو ہاتھ ہی نہیں کرتے ۔اس کا گریبان بھی چاک کر دیتے ہیں ۔ اسی لئے بعض موقع پر ’’ گینگ وار‘‘ کی طرح ’’ استاد وار ‘‘ بھی چھڑ جاتا ہے ۔
چونکہ انسان شروع سے ہی ترقی پسند ہے ۔ڈارون کے نظریے کے مطابق جیسے بندر ترقی کرتے کرتے اپنی دم کو گھس کر انسان بن گئے ۔اسی طرح بعض شاگرد بھی ترقی کرتے کرتے استاد بن گئے ۔ اور بعض نے اتنی ترقی کی کہ خود اپنے استاد کے بھی استاد بن گئے ۔ ایک شاگرد اس پر دلیل دیتے ہیں کہ جب بزرگ شاعر بادشاہ بہادر شاہ ظفرؔ ۷۵ ؍ سال کی عمر میں اپنے سے کم عمر شاعر استاد ذوقؔ سے اصلاح لے سکتے ہیں تو رعایا کے لئے کیا حرج ہے۔
ایک نقاد کا قول ہے کہ اصلی اور نسلی استاد تو شیر کی طرح ہوتا ہے ۔جیسے متفقہ طور پر جنگل کا راجہ شیر کہلاتا ہے اسی طرح شاعروں کا بادشاہ استاد کہلاتا ہے ۔ جن کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ آج کل استادوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہرگز مت نکالئے کہ شیروں نے زیادہ بچہ پیدا کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ وہ آج بھی ’’ فیملی پلاننگ‘‘ پر یقین رکھتے ہیں ۔در اصل جب سے گیڈر نما استادوں نے خود کو شیر سمجھ کر غرانا اور بھبکی دینا شروع کیا تب سے یہ مسئلہ اتنا کھڑا ہو گیا ہے اور بیٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔لگتا ہے ان کو بٹھانے کے لئے ’’ الیکشن کمیشن آف شعرا‘‘ میں شکایت کرنی پڑے گی۔ویسے استاد اگر چاہیں تو اپنے پھن سے سانپ کی طرح ڈس کر شاگرد کی شاعری کو وہیں منزل اول پر ختم کر دیں ۔اور اگر خلوص پر آجائیں تو اپنے فن سے شاگرد کو تاجر بنا کر دم لیں ۔ بعض استاد کے پاس اتنے آسن ہیں کہ بابا رام دیو بھی ان کے شاگرد ہو جائیں ۔اتنے اختیارات ہیں کہ سن رسیدہ و کمر خمیدہ ہو جائیں گے ۔ لیکن کسی کو دے نہیں سکتے ۔جس طرح پوری دنیا کی تجارت سامان کے بدلے سامان اور جنس کے بدلے جنس پر ہو رہی ہے (کوئی صاحب اسے تبدیلی جنس کی تجارت نہ سمجھیں)وہی فارمولا یہاں بھی نافذ ہے۔مشاعرہ کے بدلے مشاعرہ یعنی استاد اپنے علاقے میں شاگرد کو بلائیں اور شاگرد اپنے اختیار والے علاقے میں استاد کو بلائیں ۔چونکہ یہ شاعروں کے بوس(BOSS) ہیں اس لئے سبھاش چندر بوس کی تقلید کرتے ہوئے نعرہ لگاتے ہیں۔
’’ تم مجھے مشاعرہ دو میں تمھیں مشاعرہ دوں گا ‘‘
ویسے استاد بننا کتنا مشکل ہے ۔اردو کے بڑے استادوں کے قول کو متھنے سے ہم نے یہی مکھن نتیجہ نکالا ہے کہ برسوں کتب خانوں کے ورق میں دیمک بن کر گھسنا پڑتا ہے ۔
برسوں تک پاپڑ بیلنے کی نوکری کر کے دماغ کو پاپڑ کی طرح ہلکا اور پتلا کرنا ہے ۔بڑے بوڑھوں کے پیروں کو دبانا اور تیل مالش کر کے نہلانا بھی پڑ سکتا ہے۔
ماضی کے ایک پی ایچ ڈی اسکالر جنہوں نے ’’ استاد الشعرائ کا مستقبل‘‘ موضوع پر ہی اپنی تھیسس حال میں مکمل کی ہے ۔ان کے مطابق استاد کی کئی قسمیں ہیں ۔
جیسے نسبی استاد، کسبی استاد، سببی استاد، پیدائشی استاد، محنتی استاد، حقیقی استاد، خیالی استاد، ظاہری استاد، باطنی استاد، شاہی استاد، درباری استاد، جلالی استاد، جمالی استاد، مجازی استاد، خاندانی استاد، رحمانی استاد، وغیرہ۔ اب یہاں موقع نہیں ہے مضمون بہت طولانی اور طوفانی ہو سکتا ہے ورنہ سب استادوں کی خیریت مع مثال پس و پیش کرتے خیر آپ اگر ذائقہ لینا چاہتے ہیں تو ایک دو استاد کو مع شعر کے حوالے سے حاضر کر رہے ہیں ۔
محنتی استاد۔۔۔۔۔۔ شاعری کھیل نہیں ہے جسے بچہ کھیلے۔۔۔۔ ہم نے اس فن میں ہیں پچپن برس پاپڑ بیلے
شاہی استاد۔۔۔۔۔۔ بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا۔۔۔ وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
زمانہ ٔ قدیم میں’’ سنگ لاخ زمینوں‘‘مختلف صنعتوں ،مشکل ردیف و قوافی میں دو غزلہ ،سہ غزلہ ،چہار غزلہ ،لکھنے والوں کو بڑے بڑے استاد بھی استاد مانتے تھے ۔جیسا کہ مرزا محمد رفیع سودا ؔ صاحب نے ایک مقام پر فرمایا۔۔۔۔۔ ؎ سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی لکھ۔۔۔۔ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرح
آج جبر و استبداد کا یہ عالم ہے کہ استاد کا املا نہ لکھنے والے بھی استادی کی استعداد رکھتے ہیں وہ اس فہرست میں’’ شارٹ کٹ‘‘ سے صرف گُھسنا ہی نہیں چاہتے بلکہ گھُسنے کے چکر میں گھِسے جا رہے ہیں ۔
استاد شاعروں کے اتنے فضائل سنے ہیں کہ کبھی کبھی ہمارے دل میں بھی استاد بننے کی دبی ہوئی آگ اتنی تیز بھڑکنے لگتی ہے کہ فائر بریگیڈ والوں کو بلانا پڑ جاتا ہے ۔سینے میں استادی کے اتھاہ سمندر میں سونامی کی لہریں اٹھنے لگتی ہیں اور ہم کو آنسوئوں کے ساتھ بہا لے جاتی ہیں۔
ویسے ہمیں آج تک اس ’’ قطب نما ‘‘ کی تلاش ہے جو استادی کی سمت کو متعین کرتا ہے ۔اس پیمانے کو آثار قدیمہ میں ڈھونڈھ رہے ہیں جس میں رکھ کر استاد کو ناپا جاتا ہے ۔
ایک مدت سے اس ’’ میٹر اور تھرما میٹر‘‘ کو بھی عجائب گھروں میں دیکھ رہے ہیں جس سے استادی کے قد و قامت اور درجۂ حرارت کو ناپا جاتا ہے ۔
کئی بار اخبار میں’’ تلاش گمشدہ استاد ‘‘کے نام سے اشتہار بھی دیا ۔اور معقول نذرانہ بھی دینے کی بات کی ۔ لیکن کوئی آج تک لا نہ سکا ۔پھر ہم نے نیا طریقہ نکالا ۔ہم نے اپنے کو ہر مقام پر یہاں تک کہ اخبارات و اشتہارات ،رسائل و جرائد میں استاد لکھنا شروع کر دیا ۔بچوں سے بھی استاد کہلوانا شروع کر دیا ۔ اب چاہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ہم تھک ہار کر’’ استاد شاعر ‘‘ بن گئے۔
ساجدؔ جلالپوری
9415581432

