لہو میں وہ روانی اب کہاں ہے
تمہاری وہ جوانی اب کہاں ہے
درونی آگ ٹھنڈی ہو چکی ہے
جو تھی شعلہ فشانی اب کہاں ہے
کہاں ہے رب ارنی کا تقاضا
صدائے لن ترانی اب کہاں ہے
ابھی تو عقل کے لالے پڑے ہیں
کبھی ہوگی سیانی اب کہاں ہے
عناصر اصل کی جانب ہیں مائل
کوئی دن زندگانی اب کہاں ہے
تقاضا وقت کا جس کے لئے تھا
وہ خوئے جاں فشانی اب کہاں ہے
لرزتا جس سے ہو ایوان ضحاک
درفشاں کاویانی اب کہاں ہے
کبھی خوشیوں کے در کھلتے تھے جس سے
کلید کامرانی اب کہاں ہے
کریں قربان جس پہ دل بھی جاں بھی
یہاں وہ یار جانی اب کہاں ہے
زباں پر دوستوں کے جو کبھی تھی
مری وہ سب کہانی اب کہاں ہے
زاہد ندیم احسن

