نہ پوچھ ڈھونڈ لی راہ فرار کاہے کو
لگائیں داؤ پہ اپنا وقار کاہے کو
فریب دیتے رہے ہیں ہمیشہ لوگ جسے
کسی پہ ہوگا اسے اعتبار کاہے کو
وفا سرشت میں جس کی نہیں تمہی بولو
دلائیں یاد ہم قول و قرار کاہے کو
تعلقات کو ٹوٹے ہوئے زمانہ ہوا
کرے گا اب وہ مرا انتظار کاہے کو
عدو جو ہوگا مقابل تو دیکھا جائے گا
ابھی سے کھینچ کے بیٹھے حصار کاہے کو

