عاصم کے اردگرد لوگوں کا مجمع جمع تھا ۔ سب اعزاداری کے لئے سینہ پیٹ رہے تھے۔ درمیان میں عاصم کسی کے قبر کے ساتھ بیٹھا چیخ چیخ کر رو رہا تھا ۔ وہ خود کو بے بس و ناتواں محسوس کر رہا تھا۔ جیسے آج کسی نے اس کی ساری دولت لے لی ہو ۔ وہ آہ و فغاں کر رہا تھا ۔ اس کے ہاتھ پیر کام نہیں کر رہے تھے کہ وہ حرکت کرسکے ۔ گلہ خشک ہوگیا لیکن وہ تھا، کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ وہ زور زور سے چیخ رہا تھا اور گریہ و زاریاں کر رہا تھا ۔ قبر سے مٹی ہٹا رہا تھا لوگ اس کو روکنے کی کوشش کرتے لیکن ناکام رہتے ۔ وہ پاگلوں کی طرح مٹی سر پر پھینک رہا تھا، اپنے بال کھینچ رہا تھا ۔ آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ کتنا شقی القلب انسان ہے ۔ کتنے ظلم و ستم کئے تھے ۔ آج جب وہ اس کے پاس نہیں ہے، تو اسے قدر آگئی ہے۔ اسے احساس ہو گیا ہے کہ وہ غلط تھا ۔ وہ چیخ چیخ کر خدا سے موقع مانگ رہا تھا کہ” خدایا مجھے موقع دو ایسا نہ کر، میں غلطی پر ہوں مجھے معاف کر ۔ مجھ سے اتنا بڑا امتحان مت لے کہ میں ساری زندگی شرمسار رہو۔ اپنی غلطی مان رہا ہوں ، خدایا اس کو مجھ سے جدا نہ کر۔ ”
بہت تیز بارش اور طوفان تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے ساتھ فطرت بھی آہ و فریاد کر رہا تھا ۔ پودے بھی نوحہ میں چیخ چیخ کر آوازیں دے رہے تھے ۔ وہ سسک سسک کر رو رہا تھا۔ دسمبر کے موسم میں اسے گرمی محسوس ہورہی تھی ۔
اسے لگ رہا تھا کہ موسم گرما میں تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں اسے کسی نے ریگستان میں کھڑا کیا ہو ۔ اس کے پاس اردگرد لوگوں کا مجمع تھا، لیکن وہ خود کو تن تنہا محسوس کر رہا تھا ۔وہ قبر کو پاگلوں کی طرح دیکھے جارہا تھا، جیسے کسی نے آج اس سے اس کی زندگی کا پورا سرمایہ مٹی تلے دفن کیا ہو ، اور کتبے پر اس کا نام لکھ دیا ہو کہ "عاصم کی سرمایہ زیست”۔۔
وہ سینہ پیٹ رہا تھا ، اپنے بال نوچ رہا تھا ، لیکن رنج اس قدر شدید تھا کہ وہ ختم ہو ہی نہیں رہا تھا ۔ وہ ہاتھ پیر ہلا رہا تھا ، اس سے باتیں کر رہا تھا کہ” اٹھو مجھے معاف کر دو۔ آئیندہ میں ایسا نہیں کروں گا ۔ دیکھو میں لوٹ آیا ہوں تمہارے پاس تمہارا بن کر ۔ تم کہتی تھی نہ! کہ میرے پاس آنا ہو تو صرف میرا بن کر آنا” (یہ بھی پڑھیں پناہ کی قیمت – شیبا کوثر )
وہ اسے اس کی باتیں یاد کروا رہا تھا ،لیکن وہ چھپ تھی۔ وہ جواب مانگ رہا تھا اور وہ جواب نہیں دے رہی تھی ۔ وہ خجل تھا۔ لیکن اس کی شرمندگی کا کیا فائدہ کیونکہ وہ تو مر چکی تھی۔ وہ موقع مانگ رہا تھا ،مگر بہت دیر کر چکا تھا ۔ اب وہ اس کے پاس نہیں بلکہ مٹی میں دفن تھی ۔ وہ رو رہا تھا ۔ فریاد کررہا تھا ۔ قسمیں دے رہا تھا کہ ” اللہ کے واسطے آٹھ جاؤ نہ جاؤمجھے چھوڑ کر۔۔۔۔ میں تمہارے بنا کچھ بھی نہیں ہوں۔ میں اپنے سارے خطاؤں کی تجھ سے تمہارے پیر پکڑ معافی مانگتا ہوں ۔ خدا کےلیے آٹھ جاؤ، نہ دومجھے اتنی بڑی سزا ۔ تجھے تو پتہ ہے، تمہارا عاصم اتنا مضبوط نہیں ہے۔ نہ لو اتنا بڑا امتحان ورنہ بکھر جاؤں گا ۔ ٹوٹ جاؤں گا یہی تمہارے ساتھ اس مٹی میں مٹی کرلوں گاخودکو”۔۔ وہ عفو تفصیر کا خواستگار تھا کہ اچانک ایک تیز آندھی آئی، جس نے دروازے کو زور سے کھولا اور عاصم کی آنکھ کھل گئی ،تو دیکھا۔ رات کے بارہ بجے تھے۔ سردی کی ٹھٹھرتی رات تھی۔اس کا تکیہ رونے کی وجہ سےگیلا تھا ۔ جسم ٹھنڈا تھا اور ٹھنڈے پسینے آرہے تھے ۔
کمبل نیچے زمین پر پڑا تھا ۔ایک بلی بارش سے بچنے کے لیے اس کے کمرے میں آگئی تھی ۔ خوف اور بے چینی کی وجہ سے ادھر اُدھر بھاگ کر رو رہی تھی اور میو میو کی آوازیں دے رہی تھی ۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا ۔ باہر بہت تیز بارش شروع تھی ۔ ہوا بھی بہت تیز تھی ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی طوفان گزرا ہے اور دوسرا آنے والا ہے۔ آسمان پر گرج چمک کے ساتھ بجلی کڑک رہی تھی۔ عاصم کا دل بیٹھا جارہا تھا ۔ بلب لگانا چاہا لیکن بارش اور طوفان کی وجہ سے بجلی چلی گئی تھی ۔ آسمانی بجلی کی کڑک سے روشنی آجاتی اور پھر غائب ہوجاتی ۔
جس طرح کمرے میں بلی سیماب پا تھی اسی طرح عاصم بھی ۔
برسو بعد اس کے دل میں انسانیت کا جذبہ پیدا ہوا تھا ۔ اس کا مردہ ضمیر جاگ گیا تھا۔ وہ صبح ہونے کے انتظار میں تھا ۔ لیکن رات تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ وہ پریشان تھا ۔ اسے آج بلی سے بھی ہمدردی پیدا ہوگئی تھی ۔ کیونکہ وہ بھی خود کو بلی کی طرح پریشان اکیلا اور اجنبی محسوس کر رہا تھا ۔ اس خواب نے اس کی زندگی بدل دی تھی ۔ وہ عاصم اب نہیں رہا تھا جو وہ سونے سے پہلے تھا ۔ نڈر ، شقی القلب ، بےرحم ،ظالم ۔۔۔ اب وہ خود کو بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا کیونکہ آج اس نے خواب میں اس کے کھونے کا دکھ سہا تھا ۔ دعا کر رہا تھا کہ "خدایا یہ خواب ہی رہے تو بہتر ہوگا ورنہ میں زندگی بھر خود کو کبھی معاف نہیں کرسکوں گا۔” آج اسے احساس ہو رہا تھا اپنے ہر ایک ظلم کا جو وہ کر چکا تھا۔ اس کو آج وہ زندگی میں پہلی بار اچھی لگنے لگ گئی تھی ۔ کیونکہ آج وہ کھونے کے ازیت سے واقف ہوچکا تھا۔ وہ رات کے ختم ہونے کے انتظار میں تھا کہ” میں ان سے معافی مانگو گا ۔ چاہے اس کے پیر ہی کیوں نہ پکڑنے پڑے مجھے میں ہر حد تک جاؤ گا لیکن اسے راضی کرکے واپس لے کر آؤں گا” ۔ عاصم باہر دیکھے جارہا تھا اور بارش کے قطروں کو محسوس کر رہا ، جیسے وہ بھی آج کسی کے یاد میں بلک بلک کر رو رہی ہو اور آہیں بھر رہی ہیں ۔ پودے بھی حیران و پریشان ماتم کےلئے آگئے تھے اور سینہ پیٹ پیٹ کر ماتم کر رہے تھے ۔ عاصم کا کلیجہ بھی پھٹ رہا تھا ۔ آنکھوں سے آنسوں جاری تھے ۔ سونا چاہا لیکن اس خوف کی وجہ سے نہ سو سکا کہ” خدا نہ خواستہ وہ خواب پھر سے میرے آنکھوں کو نہ دیکھنا پڑے”۔ (یہ بھی پڑھیں پالکی – شمع عظیم )
رونے کی وجہ سے عاصم کی آنکھیں لال ہوگئے تھے اور درد کر رہے تھی ۔
عاصم نے منہ ہاتھ دھونے کےلئے واش روم جانا چاہا ، جس کے لئے وہ اٹھ بھی گیا تھا ، کہ ایک زور دار آندھی آئی اور وہ یک دم پلنگ پر بیٹھ گیا ۔ اس کےموبائل پر کسی انجان نمبر سے کال آیا ،جیسے ہی وہ اٹھانے لگا وہ منقطع ہو گیا۔ عاصم نے موبائل رکھا ۔ پھر سے اس نمبر سے کال آیا تو عاصم نے یک دم اٹھایا ۔” ہیلو” کرتے ہی اس کی دنیا اجڑ گئی اور صبح ہونے سے پہلے ہی اس کے خواب نے حقیقی رخ اختیار کیا ۔ اس کے دعائیں قبول نہ ہوئی خدا نے اسے معاف نہیں کیا ۔ سزا میں اسے تمام عمر کی پشیمانی دی ۔ وہ حیرت میں تھا، کہ کس طرح میرا خواب حقیقت ہوگیا۔

