گنگا کی سطح جیسے جیسے اونچی ہوتی چلی جا رہی تھی ویسے ویسے پھول متیا کے دل کی دھڑکن میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا کیوں کہ گنگا کا پانی گاؤں کے چاروں اور پھیلا جا رہا تھا۔لوگ محفوظ مقامات کی تلاش میں ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے۔گاؤں کا نچلا حصّہ پوری طرح زیر آب ہو چکا تھا۔پھول متیا کی کچی دیوار وں کا بوسیدہ جھونپڑا بھی اس عتاب سے نہ بچ سکا اور اب اسے کسی محفوظ مقام کی تلاش تھی ۔
اورا ئی گاؤں میں صرف نواب شجا عت علی کی حویلی ہی ایک ایسی جگہ تھی جہاں لوگ بے تحاشہ بھاگے چلے جا رہے تھے۔مگر پھول متیا وہاں کیوں کر جا سکتی تھی اس کے ذہن کے کورے کاغذ پر نواب شجا عت علی کے اکلوتے فرزند ظہیر کی وہ چھچھوری حر کتیں ابھی بھی محفوظ تھی جس کے تُّٙصور سے وہ کانپ اٹھتی تھی ۔ظہیر نے پھول متیا کا پیار حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ۔۔۔محبّت کے جھوٹے سوا نگ رچا ئے ۔۔۔۔دولت کی ہری جھنڈی دکھائی ،مگر پھول متیا نے اس کے آگے گھاس پھینکنا گوارا نہ کیا۔آخر ایک شام شدّت جذبات سے پاگل ہو کر ظہیر نے اسے قریب کے ارہر کے کھیت میں گھسیٹ ہی لیا تھا مگر تبھی کسی کے قدموں کی چاپ سن کر وہ مارے خوف کے بھاگ کھڑا ہوا تھا ۔
"نا بابا نا ۔۔۔۔۔ہمکا اُوہاں نہیں جانا ۔۔۔۔!”وہ اپنے مادری زبان میں بڑ بڑا ئی۔۔۔مگر دوسرے ہی لمحے بیچارہ نا تواں باپو کا خیال آتے ہی وہ متفکر ہو اٹھی اور اس کے معصوم سے بھولے چہرے پر فکر کے انگنت جذبوں نے ڈیرہ جمانا شروع کر دیا تھا ۔اس نے اپنے گرد و پیش کا بڑی محتاط طریقے سے جائزہ لیا۔۔۔۔پانی کا ایک ریلا سا بر ق رفتاری سے اس کے جھونپڑے کی جانب بڑھ رہا تھا اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اور کیا نا کرے اسی مخمصے میں گرفتار وہ بہت دیر تک اپنی جگہ پر ساکت و جامد بت بنی کھڑی رہی ۔ ( یہ بھی پڑھیں جنگِ آزادی میں اُردو ادیبوں کا حِصّٙہ – شیبا کوثر )
تبھی اس کے باپو کی نحیف آواز نے اسے جھنجھوڑ ا ۔
"ارے پھول متیا بیٹیا ۔۔۔۔جلدی کر سو نچت کا ہے (سونچ کیا رہی ہے ) اب گنگا میا ہم گریبن (غریب ) لوگ کے جھونپڑے میں گھسنے والی ہیں ۔۔۔۔آ جلدی کر بیٹیا ہمہوں(ہم ) لوگ بھی نواب صاحب کی حو یلی میں چلا جا۔۔۔۔وہی تو ایک جگہ گنگا میا کے عتا ب سے بچی ہے ۔۔۔۔آخر کیوں نا بچے انکی حو یلی کی بنیاد تو سچائی ،بھائی چارگی ،اخو ت اور پاکیزگی کی بنیاد پر جو ٹکی ہے ۔ورنہ اُوبھی گنگا میا کے عتاب سے نا بچ پاتی ۔
"ارے تو ابھی بھی کھڑی ہے بیٹیا ۔۔۔اُوہو ابھئے ہم سمجھت ہیں کہ تو ہمر کھد مت ( خدمت )سے اب اوب چکی ہے ۔۔۔لیکن تو ہمر کھا تر (خاطر )کاہے مرت ہے جا بھاگ جا جلدی کر بیٹیا ۔۔۔”! جملے کے اختتا م پر اس بوڑھے کی بے رونق آنکھیں بے بسی سے برس پڑیں ۔
"نہیں باپو نہیں ہم تہا را کے آ پن سے جدا نئیکھے کرسکت ہیں ۔۔۔تو ہی تو میرا سب کچھ ہے باپو ۔۔۔تُہرا سوا اور کون ہے اس دنیا میں ہمرا ۔۔۔۔۔کا تہرا کے نئیکھے معلوم با باپو کہ مالی کے بچھڑ جاوے سے چمن کا کا حسر (حشر )ہو و ت ہے ۔۔۔۔کچی کلیاں کھر درے ہاتھوں سے کئیسن بے دردی سے مسل دی جاتی ہے "۔
اسے باپو کی خاطر اپنا فیصلہ بدلنا پڑا اور خاص خاص ضروری سا ما نوں کی ایک ہلکی سی گھیٹری بغل میں دبائے باپو کو سہارا دیتے ہوئے وہ حو یلی کی جانب چل پڑی ۔اسے یہ گمان تھا کہ سینکڑ وں لوگوں کے جمگھٹ میں ظہیر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔۔اور پھر اس کا یہ گمان اس کے تئیں حق بجا نب تھا ۔
حویلی پہنچتےہی پھول متیا کے باپو نے ہاتھ جوڑ کر ظہیر علی کو سلام کیا۔جواب میں اس نے اپنی بڑی بڑی باہر کی جانب نکلتی ہوئی خوفناک آنکھوں سے پھول متیا کے پر شباب جسم کو نہا رتا رہا ۔ پھول متیا مارے ڈر کے کچھ سہم سی گئی اور اس نے اپنی نرگسی نیچی کر لی۔
"کیوں آئے ہو یہاں ۔۔۔۔اس نے گرجتے ہوئے پوچھا ۔۔۔؟”
"سرکار پناہ دیجئے ہمکا ہم بے پناہ ہو وت ہیں "بوڑھے نے ہاتھ جوڑ کر لرز تے ہوئے کہا ۔
"یہ حو یلی ہے کوئی سرائے نہیں سمجھے ۔۔۔۔!”اس نے پھول متیا کے طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
"حضور مائی باپ رحم کریں ہمکا پر ۔۔۔۔”!بوڑھے نے دانت بسو رتے ہوئے کہا ۔
"ہاں نواب صاحب !سیلاب کا پانی اتر تے ہی ہم ای حویلی چھوڑ دیم”۔پھول متیا نے نگاہ نیچی کئے ہوئے لجا تے ہوئے کہا ۔
نواب ظہیر علی کو مانو ایسا لگاکہ گویا کسی نے اس کے کانوں میں شہد گھول دیا ہو ۔دراصل یہ ناٹک بھی اسی لئے رچا تھا کہ پھول متیا اس سے پناہ کے لئے مدد مانگے۔اور وہ اپنے ارادے میں کامیاب بھی رہا ۔
اگلے دن شام کو جب پھول متیا کنواں سے پانی بھر کے لوٹ رہی تھی کہ تبھی اس کے تعاقب میں لگے نواب ظہیر علی نے اسے پا ئیں باغ سنسان جگہ میں اسے روک لیا ۔۔۔۔مارے خوف کے پھول متیا کے پورے اعضاء میں ایک کپکپی سی پھیل گئی اور اس کی کمر سے گھڑا سرک کر فرش پر آ گرا ۔( یہ بھی پڑھیں مانگی ہوئی دعا – شیبا کوثر )
شام کا سرمئی اندھیرا اب اور گہرا ہو چکا تھا ۔ظہیر نے اپنے ارد گرد ایک طا ئر انہ نگاہ دوڑ ا ئی سب کچھ سنسان تھا وہ پھول متیا کے جانب لپکا ۔تاریکی کی وجہ کر وہ ایک گڈ ھے میں جا گری اور ظہیر نے بڑی آسانی سے اس پر قابو پالیا ۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ وقفے میں حوس کے طوفان نے ایک غریب کی عصمت کے آشیانے کو منہدم کر دیا ۔اور وہ اس کے ملبے تلے سسکتی رہی ۔دریں اثنا حویلی میں ایک عجیب سی افرا تفری پھیل گئی ۔لوگ ادھر سے ادھر بھاگنے لگے ۔۔۔۔نواب ظہیر علی کچھ بھی سمجھنے سے قاصر رہا ۔۔۔تبھی ایک خادم نے اسے یہ اطلاح دی کہ "حضور حویلی کی پچھلی دیوار منہدم ہو گئی ہے اور سیلاب کا پانی بڑی تیزی سے حویلی میں داخل ہو رہاہے۔ ۔۔۔ !!
(ختم شد)
۔
Sheeba Kausar
Mohallah: Brah Batrah Arrah,(Bihar).
Pin Code : 802301
Email: sheebakausar35@gmail.com
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] ادب کا مستقبل […]