اناؤنسمنٹ کو میں نے غور سے نہیں
سنا اور جلدی جلدیپلیٹ فارم پر چلا آیا اناؤنسمنٹ پر جب میں نے دھیان دیاجو بار بار دہرایا جارہا تھا تو خود ہی ہنسی آگئی.. پھر من ہی من میں مسکراتے ہوئے واپس ویٹنگ روم میں چلا آیا… جہاں میں پہلے بیٹھا تھا وہاں کوئی اور بیٹھ چکا تھا اس سے پہلے میں کوئی اور نششت تلاش کرتا میری جگہ پر بیٹھا ہوا وہ شخص کچھ جانا پہچانا لگا میں اسے غور سے دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کی نظر مجھ پر پڑی اور یکلخت ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا "کیسے ہو بھائی” اور ہم دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گیۓ "آج تقریباً بیس پچیس سال بعد ہمارا ملنا ہو رہا ہے” میں نے اس کی پیٹھ تھپتھپائ…
"اور آپ کیسے ہیں… آپ نے تو پھر اس شہر کو مڑ کر ہی نہیں دیکھا” اس کی آنکھوں میں شکایت تھی ”
” کیا بتاؤں پڑھائی پوری کر نے کے بعد ہی دہلی میں مجھے نوکری مل گئی… اور بس وہیں کا ہو کر رہ گیا… تم بتاؤ تمہاری کیا مشغولیت ہے ” میں نے بغور اس کا جائزہ لیا
"ابو کے انتقال کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری مجھ پر آگئی پڑھائی کے نام پر پانچ چھ کلاس ہی مکمل کر سکا.. تو اپنے شوق کو ہی پیشہ بنالیا "اسکے ہونٹ مسکراۓ –
” تو کیا تم اب تک آرکسٹرا میں ہو” میں نے اسے اپنے بغل میں بیٹھایا –
” نہیں اس سے ایک درجہ اوپر آگیا ہوں” اس نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ دبایا-
” میں سمجھا نہیں تھوڑا تفصیل سے بتاؤ نا” میری آنکھوں میں تجسّس اتر آیا تھا
وہ سنبھل کر بیٹھا اور گویا ہوا”دیکھ تو تو جانتا ہی ہے کہ بچپن سے میں فلمی اداکاروں کی آواز نکالا کرتا تھا میرے اس ہنر کی وجہ سے آرکسٹرا والوں نے مجھے آفر دیا جومیں نے قبول کرلیا” وہ سانس لینے کے لیے رکا.
” ارے یہ تو میں جانتا ہی ہوں… اوپر درجے والی کیا بات ہے "میں نے ٹوہ لی .
” مطلب آج تو میری پوری کہانی سنے بغیر نہیں مانے گا” وہ مسکرایا "تو سن جب میں نے آرکسٹرا جوائن کیا تواس سے پیسے بھی کماۓ اور نام بھی کمایا کئی آرکسٹرا والوں سے میرے کانٹکٹ ہو گیۓ تھے ہندوستان کے تقریباً ہر شہر میں میں نے پروگرام کیا…. پھر زمانہ بدلا ممیکری والوں کی جگہ ادھ ننگی ڈانسروں نے لے لی… میرے لیے گھر چلانا مشکل ہو گیا… مجھے اس کام کے سوا اور کوئی کام آتا بھی نہیں تھا کئی جگہ نوکری کرنے کی کوشش کی وہاں میری ذرا سی غلطی پر طعنے ملنتے جی داب کر آپنے بچوں کے لیے سہ لیتا… اسی دوران مجھے ایک مشاعرے میں جانے کا موقع ملا اناؤنسر مطلب نقیب کو سن کر مجھے یہ کام اپنے کام کی طرح لگا میں نے خود سے کہا اگر کچھ شعر یاد کر لیا جاۓ تو یہ کام تو بہت آسان ہے پھر میں نے ایک چھوٹے موٹے شاعر سے دوستی کرلی اس نے مجھے مشاعرے کےایسے ایسے راز بتاۓ کہ اللہ کی پناہ پھر اس نے مجھے شعر بنانے کے توڑ جوڑ سکھاۓ… اس نے مجھے مہذب ہونے کی تلقین کی اردو کی نفاست اور وہ کیا کہتے ہیں ہاں بلاگت سیکھاۓ”
میں نے اس ٹوکا” بلاگت نہیں بلاغت”
” ہاں ہاں وہی بلاغت اس نے مجھے یقین دلایا کہ مشاعرہ میرے آرکسٹرا ہی کی طرح ہے بس لفظوں کا ذرا دھیان رکھنا پڑتا ہے ترنم آتی ہے تو سونے پہ سہاگہ…آجکل ایک تک بندی کرنے والاجو خود کو شاعر سمجھتا ہے اورگاتا بھی ہے حکومت وقت کے خلاف الٹی سیدھی تک بندی کر کے ایک ایک مشاعرے کا دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ تک لے رہا ہے تو میں نےاپنی قسمت آزمانے کی سوچی …….. ڈائیلاگ مارنا اور ترنم میں گانا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا تو لگ گیا اور شروع ہوا میرے مشاعرے کا سفر میں نے مشاعرے میں دیکھا تھا مزاحیہ شاعری کو لوگ بہت پسند کرتے ہیں میں نے مزاحیہ شاعری کا میدان چنا… اس میں اتنی محنت نہیں لگتی بس قافیہ وافیہ کو ملا کر لوگوں کو ہنسا دو ہوگئی مزاحیہ شاعری میں نے اسے گھورا وہ سٹپٹا گیا "ارے یار میں آج کے مزاحیہ شاعروں کی بات کر رہا ہوں…. پھرمیں نے ایک دو بڑے شاعروں کو مکھن لگا کر اپنے طرف کرلیا وہ بھی میرے لیے لکھ دیتے ہیں ہاں! مشاعرے کے نذرانے کا کچھ حصہ انہیں دینا پڑتا ہے اور ایک راز کی بات بتاؤں ابھی موبائل کا زمانہ ہے ایک جید شاعر کے بتانےپرمیں نے قافیہ اور ردیف کا ایپ ڈاؤن لوڈ کرلیا اور اس طرح میری شاعری کی دوکان چل نکلی اب تو دور دور سے مشاعرے کے دعوت نامے آتے ہیں بیرون ملک بھی جانے کا ارادہ ہے پر جو شاعر مجھے لیکر جا رہے ہیں انکی شرط ہے کہ نذرانے کی ساری رقم وہ لے لینگے بس میں فارن ریٹرن کہلاؤں گا ہاں ایک فائدہ یہ ہوگا کہ مقام میں میرا نذرانہ بڑھ جائے گا بات یہیں پر اٹکی ہوئی ہے ” وہ میری طرف بغور دیکھے جارہا تھا اور میرا یہ سب سن کر سر چکرا رہا تھا
” کس سوچ میں گم ہو گیۓارے یہ تو کچھ بھی نہیں کئی شاعرات کو تو کمپرومائز کرنا پڑتا ہےتب وہ بین الاقوامی شاعرہ کہلاتی ہیں "… مشاعرے کا یہ پہلو بھی ہو سکتا ہے میرے وہم وگماں میں ھی نہیں تھا…. میں نے اس کا دل رکھنے کے لیۓ کہابھئ واقعی تم نے اپنا درجہ اونچا کرلیاہے” میں نے چاۓ والے کو آواز دی اور سوچنے لگا ایک وقت تھا جب مشاعرہ اردو زبان کی شان ہوا کرتا تھا اور آج ہمارامشاعرہ کن بیوپاریوں کے نرغے میں چلا گیا ہے… اور جو آج اچھی شاعری کر رہے ہیں کیا وہ بیوپاریوں کے جھرمٹ سے نکل پائیں گے…. اسکی آواز نے مجھے اسکی موجودگی کا احساس دلایا وہ فخریہ انداز میں کہہ رہا تھا
” کچھ بھی بولو یار کمائی اپنی جگہ عزت احترام اپنی جگہ اردو کی خدمت کرنے کا موقع تو مل رہا ہے” اس نے چاۓ کی چسکی لی
میری چاۓ مجھے کڑوی لگنے لگی تھی میں سوچ رہا تھا یہ ارکسٹرا والا اردو کی خدمت کر رہا ہے یا اردو سے اپنی خدمت کروا رہا ہے
قمر جاوید. رانیگنج
8617474497 موبائل نمبر
E-mail. jawediqbal1963@gmail.com

