Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

مظہرامام کانظمیہ متن – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras ستمبر 14, 2021
by adbimiras ستمبر 14, 2021 0 comment

مظہرامام کے تین مجموعے منظر پر آئے۔ زخم تمنا (۱۹۶۲)، رشتہ گونگے سفر کا (۱۹۷۴)، پچھلے موسم کا پھول (۱۹۸۸)۔ ’’زخم تمنا‘‘ اور ’’رشتہ گونگے سفر کا‘‘ کی تمام نظموں کو انھوں نے ’’بند ہوتا ہوا بازار‘‘ کے نام سے ۱۹۹۲ء میں شائع کیا۔ نام سے معلوم ہوتا ہے جیسے تخلیقی کاروبار بند ہوگیا ہو۔ میں نے جب اس پہلو پر سوچا اور پھر شاعر سے بات کی تو معلوم ہوا کہ اس کے بعد سے اب تک یعنی سولہ برسوں میں دو یا تین نظمیں ہوسکی ہیں۔ بڑی مشکل سے انھوں نے ایک نظم ’’ہوائے نا آشنا سے کہنا‘‘ عنایت کی۔ بہرحال یہ توضمنی باتیں تھیں، ضرورت ہے کہ موجودہ نظمیہ متون کو تجزیاتی نظر سے دیکھا جائے۔

مظہرامام نے پابند اور معرا نظمیں زیادہ کہی ہیں۔ کچھ آزاد بھی ہیں۔ دو نظمیں ’نوعروس‘، ’مسیحا کی زباں‘ مسدس کے فورم میں ہیں۔ لیکن اس نوع کی نظمیں خالص روایتی انداز کی ہیں۔ موضوع اور ڈکشن دونوںلحاظ سے۔ البتہ آزاد اور معرّا نظموں میں ایک طرح کی جدت پائی جاتی ہے، جیسے: اکھڑتے خیموں کا درد، دھوپ میں ایک مشورہ، رشتہ گونگے سفر کا، تمھارے لیے ایک نظم، خواب سچ بھی ہوتے ہیں وغیرہ۔

’’زخم تمنا‘‘ کی ایک نظم ہے جس کا عنوان ہے ’مئے کش‘۔ اس میں چار بند ہیں جس کا راوی تذکیری و تانیثی دونوں ہے اور جو چار بندوں پر مشتمل ہے۔ لیکن یہی نظم جب ’’بند ہوتا ہوا بازار‘‘ میں شامل کی گئی تو اس میں ایک واضح تبدیلی یہ نظر آئی کہ اس میں صرف تانیثی کردار رہ گیا اور مصرعوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بند کی تبدیلی بھی کردی گئی۔ ’’زخم تمنا‘‘ میں شامل نظم کا یہ بند دیکھیے:

ریا و خون سے دامن چھڑا کے پیتی ہوں

حسیں لبوں سے لبوں کو ملا کے پیتی ہوں

فسونِ کاکل و عارض جگا کے پیتی ہوں

سرود و رقص کی محفل سجا کے پیتی ہوں

’’بند ہوتا ہوا بازار‘‘ میں آخری مصرع ’’سرود و رقص کی محفل سجا کے پیتی ہوں‘‘ سے بدل کر   ’’خود اپنی جنت زریں بسا کے پیتی ہوں‘‘ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد دو بند اضافی ہیں جو   ’’زخم تمنا‘‘ میں شامل نظم میں نہیں ہیں۔ دونوں بند اس طرح ہیں:

کسی کا ذوق، کسی دل کی آرزو لے کر

کبھی رباب، کبھی گل، کبھی سبو لے کر

کمالِ رندی و مستی کی آبرو لے کر

کسی کی روح میں، دل میں سما کے پیتی ہوں

غرور توبہ کو شیشے سے توڑ دیتی ہوں

سمند شوق کو آزاد چھوڑ دیتی ہوں

سکونِ دیر و حرم کو جھنجھوڑ دیتی ہوں

نگاہِ ناز سے محشر اٹھا کے پیتی ہوں

دوسری طرف یہ ہوا کہ ’زخم تمنا‘ میں شامل ایک بند کو یہاں حذف کردیا گیا، جو اس طرح تھا:

جہان سنبل و ریحاں پہ چھا کے پیتا ہوں

بہ رنگِ غنچہ و گل مسکرا کے پیتا ہوں

تجھے عروسِ گلستاں بنا کے پیتا ہوں

تری بہار کی سوگندھ کھاکے پیتا ہوں

’’زخم تمنا‘‘ میں اس پر تاریخ درج ہے ۱؍ اکتوبر ۱۹۴۱ء اور ’’بند ہوتا ہوا بازار‘‘ ۱۹۹۲ء میں شائع ہوئی ہے۔ پورے ۵۱سال کی زمانی و فکری بُعد کے سبب یہ تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اس نظم میں جو کیف و سرور اور سرمستی و سرشاری ہے اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس میں ایک نوجوان دل کی دھڑکنیں اور تمنائیں شامل ہیں۔ اس نظم میں گہرے فکری رموز کی کارفرمائی نہیں۔ مجھے تو لگتا ہے مظہرامام نے دو کرداروں کو ختم کرکے اس نظم کے حسن کو بھی مجروح کیا ہے۔ پھر یہ کہ  ’’زخم تمنا‘‘ میں جہاں عنوان ’مئے کش‘ تھا ۵۱ برس کے بعد وہ بدل کر ’سرکش‘ ہوگیا ہے۔ گویا اُس تانیثی کردار کی یہ مے کشی، سرکشی کے زمرے میں آجاتی ہے۔ شاعر کو بیشک یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے متن کو صیقل کرتا رہے لیکن اس سے نظم کا جو پہلا تاثر ہوتا ہے وہ زائل ہوجاتا ہے۔ پھر یہ کہ قاری دونوں طرح کے موجود متن کو پڑھ کر کبھی کبھی کنفیوژن کا شکار بھی ہوجاتا ہے۔ مظہرامام نے ’’بند ہوتا ہوا بازار‘‘ کے اخیر میں ’’نئی ترتیب‘‘ کے عنوان سے دو صفحات رقم کیے ہیں۔ انھوں نے ان صفحات میں ترمیم و تنسیخ کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن اعتراف کسی جواز کا حامل نہیں ہوتا۔ مذکورہ بالا نظم مظہرامام کے مطابق مزاج کے اعتبار سے دوسرے حصے میں شامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’دوسرے حصے کا تعلق ان جذبات سے ہے جنھیں آسانی کے لیے جسم اور روح کے مطالبات سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔‘‘   (ص: ۱۲۱)

ایک طرح سے دیکھا جائے تو پوری شاعری جسم اور روح کے مطالبات کی شاعری ہوتی ہے۔ کسی نہ کسی طرح شاعری روح یا جسم سے وابستہ ہوتی ہی ہے، البتہ اس کی نوعیتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ پہلے حصے کی ایک نظم ہے ’’غم کدۂ شام و سحر‘‘ جس کے بارے میں امام صاحب نے لکھا ہے کہ اس حصے کی نظمیں شدید داخلی احساس کی زائیدہ ہیں یا جن میں داخل اور خارج کے واردات بڑی حد تک ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ اس نظم سے دو بند ملاحظہ کیجیے:

یاس و امید کے دوراہے پہ چلتے چلتے

غم کدے میں سحر و شام کے پلتے پلتے

مجھ کو اکثر تری بانہوں کا خیال آیا ہے

پاسکا ایک بھی لمحہ نہ حیات ابدی

کبھی اُس راہ سے گزرا تو وہ بانھیں شل تھیں

رنگِ رخ سے ہے عیاں عہد گزشتہ کی تھکن

کبھی اِس راہ پہ آیا تو سہارا نہ ملا

ہائے یہ حال جسے تیرا اشارہ نہ ملا

اس نظم میں کوئی پیچیدگی یا داخلی و خارجی احساس کے نقوش سے زیادہ اہم بات اس کا موتف ہے جو حسن و عشق کے حوالے سے ہے۔ اس میں بھی ایک طرح کی شدید آرزو کے بجھ جانے کا احساس زیادہ غالب ہے۔ اس نظم کی محزونیت اور احساس زیاں قاری کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ مظہر امام نے جس حصے کو روح اور جسم کی شاعری کہا ہے اس میں ایک بھی نظم ایسی نہیں مل سکی جس سے  جنسی تلذذ یا تشدّد یا فکری و اعصابی تشنج ظاہرہو۔ راشد اور میراجی کی نظموں کو آپ سامنے رکھ کر دیکھ سکتے ہیں۔ راشد کی نظم کا یہ ٹکڑا کہ:

اجنبی عورت کا جسم

میرے ہونٹوں نے لیا تھا رات بھر

جس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام

وہ برہنہ جسم اب تک یاد ہے

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مظہر امام کی تخلیقی تندی صفحۂ قرطاس پر آکر حددرجہ مہذب ہوجاتی ہے۔ جسم اور روح کے ربط کو جس حسّیت اور نئے پیکر کے ساتھ انھوں نے اپنی نظموں میں پیش کیا ہے اس میں برہنگی سے زیادہ پوشیدگی ہے اور یہی پوشیدگی (Concealment)شاعری کو آرٹ بناتی ہے۔ یہ پوشیدگی ابہام سے اسی طرح الگ ہے جس طرح سمندر سے اس کا ساحل۔ یعنی ساحل جہاں ختم ہوتا ہے وہیں سمندر شروع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جہاں پوشیدگی ختم ہوتی ہے ابہام شروع ہوجاتا ہے۔ میں مظہر امام کی ایک مختصر سی نظم پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں آرٹ ہے، جس میں Craftsmanship ہے اور جس میں راوی ہے بھی اور نہیں بھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ من و تو کے درمیان ایک پُل بن گیا ہے یا پھر یہ کہ دریا کے اِس کنارے پر کسی کی سرگوشی سطح آب کی موجوں سے گزرکر اُس کنارے تک پہنچ رہی ہے:

میں نے اِک بات محسوس کی/ میں نے وہ بات تم سے کہی

تم نے اُس سے کہی/ اُس نے اُن سے کہی

پھر مجھے بھی نہ اس کی خبر ہوسکی

کس نے کیا بات/ کس سے کہی!

بظاہر تو اس نظم کے کرداروں میں پُراسراریت کے عناصر گھُلے ملے معلوم ہوتے ہیں، لیکن اس میں جذبات کا ایک سیل ہے جو بہتا چلا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نظم کے ختم ہونے کے بعد بھی نظم آگے کا سفر طے کرتی جارہی ہے۔ میں اس نظم کو مظہر امام  کی چند اچھی نظموں میں شمار کرتا ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں مومن کی قصیدہ نگاری – پروفیسر کوثر مظہری

مظہرامام کی نظموں میں جو خاص بات ہے وہ اُن کا مدھم لہجہ ہے۔ کسی طرح کے گھن گرج یا شعلہ سامانی سے انھوں نے اپنی شاعری کو پاک رکھا ہے۔ ’’زخم تمنّا‘‘ کی کئی نظموں میں جذبات کی لَے تیز دکھائی دیتی ہے لیکن یہ عمر کا تقاضا بھی ہوسکتا ہے۔ جذبات کو پگھلا کر   گرم سیسے کی طرح دوران خون کا حصہ بنا دینا بھی فن کاری ہے۔ جذبات کی تجسیم ایک نظم ’’پاک نگاہوں کی حیا‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ نظم کا یہ حصہ ملاحظہ کیجئے:

یاد تو ہوگا مرے ہونٹوں کا لمسِ بیتاب

تیری رگ رگ کو مے برق پلا دی جس نے

تیری آنکھوں میں وہ سمٹا ہوا مبہم سا حجاب

لب گستاخ کی تقدیر جگا دی جس نے

مصحف رخ پہ ترے مہرِ درخشاں کا فروغ

شمعِ انفاس کی لَو اور بڑھا دی جس نے

ہم کناری کی وہ مشّاطگیٔ راز و نیاز

تیری نوخیز جوانی کو جلا دی جس نے

تیری خفگی کا تصنّع مری شوخی کا خلوص

تیرے گل رنگ تبسم کو صدا دی جس نے

(۱۹۴۹ء، زخم تمنا)

یہ نظم ۱۹، ۲۰ برس کے ایک نوجوان کے قلم سے نکلی ہے۔ جذبات کی تیزی کو جس طرح خوبصورتی کے ساتھ لفظوں کے پیکر میں ڈھالا گیا ہے، وہ لائق تحسین ہے، مسعود حسین خاں اس نظم کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’اس میں جذبے کی آنچ ہے، خیال کی سجاوٹ، صوت کی نَے نوازی اور سب سے بڑھ کر نجی واردات کا تازہ لہو۔ یہ مسلک نہیں تجربہ ہے، صور نہیں فسوں ہے۔‘‘    ۵۱؎

مظہرامام کی نظموں میں واردات قلبی اور واردات عشق کے نقوش جابہ جا ملتے ہیں۔ کوئی عشق مثالی نہیں ہوتا۔ یہ محض کہنے سننے کی باتیں ہوتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ میری اس بات پر کچھ لوگ عشق حقیقی یا اہل تصوف کے رموز عشق کو سامنے رکھ کر میری زباں بندی کا سامان بہم کریں۔ یہاں میرا سروکار خالص انسانی عشق سے ہے جس میں شدت بھی ہوتی ہے اور جس کے      درجۂ حرارت میں تبدیلی واقع ہونے کے ہزار مواقع ہوتے ہیں۔ عشق نہ غالب کا مثالی تھا نہ میر کا۔ لہٰذا مظہر امام کے یہاں بھی جو عشق ہے وہ انسانی ہے۔ اس انسانی عشق میں جذبے کی آنچ ہوتی ہے جو فطری ہوتی ہے۔ میں نے تو امام کی اس فطری آنچ کو بھی مؤدب اور مہذب دیکھا ہے۔ ایک چھوٹی سی نظم ’’بے ادب ستاروں نے‘‘ ملاحظہ کیجیے:

بے ادب ستاروں نے/ نیند میں مخل ہوکر

تم سے کچھ کہا ہوگا/ لیکن ان کی باتوں کا

تم یقین مت کرنا/ آؤ، آکے خود دیکھو/ مضطرب کہاں ہوں میں

اس جذبے کی آنچ میں ایک طرح کی مہذب شکوہ سنجی ہے۔ ستاروں کو بے ادب کہنا ایک طرح کا طرز تخاطب ہے۔ اس چھوٹی سی نظم میں مکر شاعرانہ بھی ہے۔ جب شاعر کہتا ہے کہ آؤ، آکے خود دیکھو، مضطرب کہاں ہوں میں، تو گویا وہ محبوب کو کسی بہانے سے خود تک آنے کی ایک طرح کی بالواسطہ دعوت دیتا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مظہرامام کے نظمیہ متون میں باہمی تعامل (Interaction) کا سیاق موجود ہوتا ہے۔ جس نظم میں Interaction کا سیاق ہوتا ہے اس میں تجربے کی سچائی، اور ذہنی و قلبی تسکین کا سامان بھی ہوتا ہے۔

مظہرامام نے سردار جعفری، ساحر لدھیانوی، وزیرآغا، وحید اختر، عمیق حنفی، کمار پاشی کی طرح طویل نظمیں نہیں کہیں۔ لیکن چھوٹی چھوٹی نظموں میں ماضی کی یادوں اور چہروں کو جس خوبصورتی اور شدّت کے ساتھ پیش کیا ہے، ان میں ان کی ہنرمندی اور فنکاری دیکھی جاسکتی ہے۔ ایک نظم ’گوشت کا نغمہ‘ دیکھیے جس کی تہوں میں ماضی کی تاریکی ضوپاشی کرتی نظر آتی ہے:

تجھ سے بچھڑے ہوئے/ چھ سال ہوئے

وقت کی کوکھ میں کتنے لمحے/ جل گئے/ راکھ بنے

زندگی ایک نئے رنگ میں آئی ہے/ کہ اب/ گھر بھی ہے، بیوی بھی، بچے بھی ہیں

شب کی تپتی ہوئی خاموشی میں/ پھر بھی جب یاد تری نغمہ فشاں، نوحہ بہ لب آتی ہے

اپنی شہ رگ کے دھڑکنے کی صدا آتی ہے کانوں میں مرے

میری آواز میں آواز تری گونجتی ہے

میرے خوابوں میں ترے خواب چمک اٹھتے ہیں

 

کاش/ اک رات بھی/ خلوت میں کبھی تو جو میسّر آتی

پھر میں یہ فیصلہ کرتا/ کہ محبت میں تری/ روح کا نغمہ بھی شامل ہے

فقط گوشت کی فریاد نہیں

یہ نظم چوتھے حصے سے لی گئی ہے جس کے بارے میں مظہرامام نے لکھا ہے:

’’چوتھے حصّے کی نظموں میں ازدواجی زندگی کی بے معنویت اور آزاد ’’خوبصورت رشتے‘‘ کی اہمیت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اردو شاعری میں اس نوع کے موضوعات کی جانب شاذ ہی توجہ دی گئی ہے۔‘‘

(بند ہوتا ہوا بازار، ص: ۱۲۲)

جہاں تک ازدواجی زندگی کی بے معنویت اور آزاد خوبصورت رشتے کی اہمیت کا سوال ہے تو اس کے نمونے بہت ملتے ہیں۔ اس موضوع کے حوالے سے اردو شاعری تہی دامن نہیں۔ یہاں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ امام کی نظموں میں ایک طرح کی معصومیت اور وحدت تاثر کے عناصر ملتے ہیں۔ اُن کی مختصر نظموں کے حوالے سے پروفیسر وہاب اشرفی نے بہت صحیح لکھا ہے کہ:

’’یہ اپنے آپ میں چھوٹے چھوٹے افسانے ہیں جن میں وحدت تاثر کی فضا شعری آہنگ میں ڈھل گئی ہے۔‘‘  ۵۲؎

اُسی وحدت تاثر اور معصوم لہجے کی کئی نظمیں مظہرامام کے یہاں ملتی ہیں۔ یہ نظم دیکھیے:

وہ ترے الطاف بے پایاں کی رات/ وہ ترا اخلاق بے پروا، خلوص بے نیاز

میری جانب سے کوئی تحفہ نہیں/ زیور نہیں/ ساڑی نہیں/ اُجرت نہیں

حد تو یہ، شادی کا وعدہ بھی نہیں

اس کے علاوہ پوسٹ نہ ہونے والا ایک خط، ٹھہرے ہوئے لمحے سے پرے، اگر کھُل گئی آنکھ، اشتراک، بے ادب ستاروں نے وغیرہ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔

مظہرامام کی اس نوع کی نظموں پر Miniatureکا گمان ہوتا ہے۔ حالاں کہ اس لفظ کا استعمال غزل کے حوالے سے زیادہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن امام کی نظموں پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک طرح کی کسک اور جذبے کی روانی نظر آتی ہے۔ کبھی کبھی جیسے دنیا اور کائنات کے مسائل کو وہ محبت سے قریب کرنے کا بہانہ تراشتے نظر آتے ہیں۔ ایسی ہی ایک نظم ہے ’’ٹھہرے ہوئے لمحے سے پرے‘‘ جس میں خیال کی سبک روی اور جذبے کی مدھم سی آنچ محسوس کی جاسکتی ہے:

آؤ/ کچھ دیر یہاں بیٹھیں/ کوئی بات کریں/ جنگ کا ذکر سہی

باغ کے ہنستے ہوئے پھول کی تعریف سہی/ رقص اور سنگ تراشی کے مسائل پہ کوئی بحث سہی

یہ ضروری تو نہیں ہے کہ محبت ہی کریں

اب اگر اس نظم کے استعاراتی نظام پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ دراصل شاعر نے اپنے محبوب سے قرب کے بعد اس کی تعریف کے بہانے نکالے ہیں۔ یہاں جنگ کا ذکر کرنا باہمی شکوے شکایتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ باغ کے ہنستے ہوئے پھول کو محبوب کی مسکراہٹ کا استعارہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح رقص خود محبوب کا خرام ہوسکتا ہے اور سنگ تراشی میں محبوب کے خط و خال کا ذکر ہوسکتا ہے۔ یعنی شعوری طور پر یہاں شاعر نے محبوب کی تعریف و توصیف کے لیے استعارہ سازی سے کام لیا ہے۔ یہی ہے آرٹ، یہی ہے فنکاری۔ کبھی کبھی نظم کی قرأت میں دھوکا پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ التباس نظام الفاظ کے حوالے سے بھی ہوسکتا ہے اور معنیاتی نظام کے حوالے سے بھی۔ یہی وہ خوبصورت التباس ہے جو نظم کو سبک مگر تہہ در تہہ معنیاتی نظام کا حامل بناتا ہے۔

مظہر امام نے زندگی کے جمالیاتی پہلو کے ساتھ ساتھ اس کے تاریک پہلو کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ زندگی میں جو جبر ہے، منافقت ہے، ریاکاری ہے یا رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ ہے، ان کی طرف بھی ان کی نظر گئی ہے۔ انسانی زندگی کی جو بھی اہم جہتیں ہوتی           ہیں، انھیں مظہرامام نے اپنی نظموں میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ البتہ ان کی تمام نظموں پر سرسری یا بغائر نظر ڈالنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک حزنیہ جمالیت پسندی از اول تا آخر Under current کے طور پر موجود ہے۔ نظم اداس بھی ہوتی ہے اور کبھی یہی نظم اداس چہروں  پر مسرت کی لکیریں بھی کھینچ دیتی ہیں۔ یاس و محرومی میں زندگی کس طرح اپنے آپ کو بدلتی رہتی ہے، زندگی اور اپنے عہد کی اس کریہہ صورت کو مظہرامام نے اپنی ایک چھوٹی سی نظم  ’’رات دن کا قصّہ‘‘ میں پیش کیا ہے:

ایک/ پہچانا ہوا انجان شہر/ رات کے افعی زدہ لب پر بَرص کے داغ لو دیتے ہوئے

آدمی کی کھال میں چیتے کی روح/ جسم کے مرگھٹ پہ سانسوں کی چتا جلتی ہوئی

نک چڑھی بیوی کی صورت/ زندگی

پوری نظم میں زندگی کے چہرے کی تفہیم کے لیے یہاں ایک کلیدی مصرع ہے   ؎                   ’’نک چڑھی بیوی کی صورت‘‘۔ اس مصرعے نے نظم کے بھاری پن اور موضوع اور ڈکشن کے بوجھ کو قاری کے سامنے سبک کردیا ہے۔ سلسلۂ روز و شب اور زندگی کے تنفّس کو اپنی نظم میں مظہرامام نے تخلیقی ہنرمندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ زندگی اور معاشرے کی گھٹن کو ترقی پسند شاعروں نے خوب خوب پیش کیا ہے۔ مظہرامام کی شاعری کا دورِ اوّل ترقی پسندی کے شباب کا ہے لیکن وہ نظریاتی طور پر اس سے متاثر نہیں ہوئے۔  ان کے یہاں احتجاج یا سیاست کی لَو بھی مدھم اور مہذب نظر آتی ہے۔ اسی نرم لہجے کو دیکھتے ہوئے پروفیسر محمد حسن نے کہا تھا:

’’ وہ لہجے کی نرمی اور آواز کی ملائمت کے جادو سے واقف ہیں اور ان کی شاعری میں یہی سنبھلی ہوئی کیفیت، یہی شائستہ غم اور یہی نکھری ہوئی دردمندی موجود ہے۔‘‘   ۵۳؎

مظہرامام کی ایک مشہور نظم ’اکھڑتے خیموں کا درد‘ ہے، جس میں بیسویں صدی کی افراتفری اور انتشار کو پیش کیا گیا ہے۔ ۲۱مصرعوں/سطروں پر مشتمل اس نظم میں زمانے کا کرب سمٹ آیا ہے۔ شروع اس طرح ہوتی ہے: کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے/ نہ روشنی میں نہ تیرگی میں/ نہ زندگی میں نہ خودکشی میں۔ یہاں احساس کی شدت کا یہ عالم ہے کہ روشنی اور تیرگی، زندگی اور خودکُشی میں فرق مشکل ہوگیا ہے کہ کہیں بھی امان اور سکون نہیں ہے۔ آگے چل کر شاعر نے اقدار حیات اور عقائد کے زخمی اور چٗور چٗور ہونے کی بات کی ہے۔ پھر رشتوں کے ٹوٹ پھوٹ کا ذکر ہے: پتنگ کی طرح کٹ چکے ہیں تمام رشتے/ جو آدمی کو قریب کرتے تھے آدمی سے/ دلوں میں قوس قزح کی انگڑائیاں جن سے ٹوٹتی تھیں۔ نظم اور آگے بڑھ کر ایک مہیب طوفان کی اطلاع دیتی ہے جو کلائمکس کو ظاہر کرتا ہے اور پھر نظم یوں ختم ہوجاتی ہے:

مہیب طوفاں مہیب تر ہے/ پہاڑ تک ریت کی طرح اڑرہے ہیں

بس ایک آواز گونجتی ہے:/ ’’مجھے بچاؤ! مجھے بچاؤ‘‘/ جو اپنی کشتی پہ بچ رہے گا

وہی علیہ السلام ہوگا!

مظہرامام کی یہ نظم جب تاریخ کے ایک اہم واقعے سے تعلق پیدا کرلیتی ہے، اس کے بعد اس کی معنوی گہرائی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ جدید عہد کی حسّیت کو قدیم واقعے سے جوڑنا ایک خوبصورت تخلیقی فنکاری اور طرزِ اظہار ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ندا فاضلی کا تخلیقی گاؤں – پروفیسر کوثر مظہری )

مظہرامام کی مشہور اور موثر نظموں میں ’تمھارے لیے ایک نظم‘ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ یہ نظم ایک طرح سے ایک المیہ کردار کی دو زندگیوں کی تصویر پیش کرتی ہے۔ پہلے مصرعے سے شاعر اعلان کرتا ہے: تمھارے لیے میں نے اب تک کوئی نظم لکھی نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب تک کوئی نظم شاعر نے اپنے محبوب کے لیے کیوں نہیں لکھی؟ اس کا جواب آگے کے تین مصرعوں میں ہے کہ دراصل ہم کلامی کے آداب جن لفظوں کے ذریعہ سیکھے تھے، وہ سارے الفاظ   بے معنی ہوچکے ہیں:

وہ الفاظ اپنے مفاہیم کی کینچلی پھینک کر

دشتِ بے معنویت میں گم سُم کھڑے ہیں

یوں کہہ سکتے ہیں کہ شاعر اپنی حیات کی اوبڑکھابڑ زمینوں کو ازسر نو مسطّح کرنے کی سوچ رہا ہے۔ ماضی کے لمحوں کو یاد کر کے وہ ہلکان ہورہا ہے۔ اب اس شاعر کے دامن شوق میں ایک ایسی ساعت نہیں جس پر اُس کی دسترس ہو۔ وہ ایک ایسے راستے پر چل پڑا ہے جو اُسے دفتر، بیوی، بچوں اور احباب کی طرف لے جاتا ہے۔ یعنی سارا وقت ان ہی کے لیے ہے، اس محبوب کے لیے کچھ بھی نہیں جو کبھی اس کی آرزوؤں کا مرکز و محور تھا۔

مظہرامام نے آگے چل کر ایک خوبصورت استعاراتی پیرائے میں ماضی کی یادوں کو  پردۂ حال پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے پہلے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ میں اب وہ نہیں ہوں جو کبھی تھا۔ بعد کے مصرعے ملاحظہ کیجیے:

اب اک مردہ انسان کا کوٹ میرے بدن کی کثافت چھپائے ہوئے ہے

میں برسوں کی رسوائیاں

اس کی بوسیدہ جیبوں میں مدفون کرنے میں مصروف ہوں

میں شانوں پہ روز ازل سے اسی جھوٹ کا بوجھ ڈھوتا رہا ہوں

جو میں ہوں/ جو تم ہو!

راہ شوق میں جو رسوائیاں ہاتھ آئی تھیں انھیں شاعر اپنے مردہ جسم، جو ایک مردہ انسان کے کوٹ جیسا ہے اور جس میں بدن کی کثافتیں پناہ لے رہی ہیں، چھپانے اور دفن کرنے میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ یہ ایک ناکام سی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ اس طرزِ عمل کو شاعر نے اپنے شانوں پر جھوٹ کے بوجھ کے ڈھونے سے تعبیر کیا ہے، اور یہ عمل یکطرفہ نہیں بلکہ عاشق و معشوق دونوں الگ ہونے کے بعد انھی رُسوائیوں اور کثافتوں کو چھپانے اور جھوٹ کے سہارے زندگی کی کشتی کھیتے رہے ہیں۔ آگے چل کر مظہرامام نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ احساس کے زہر کو چھپانے کے لیے لطیفوں کا سہارا بے معنی ہے اور ظاہری طور پر چہرے کے غازے اور اس کی چمک یا آرائش گیسو ہی سے مسرت حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ جو بڑی بڑی سجی سنوری دکانیں ہیں ان کے پیچھے وہی ردّیوں کا ڈھیر ہے۔ دراصل ایک انسان کا ظاہری وجود ہے لیکن اس کے اندر اس کا ماضی اب محض ردّیوں کے ڈھیر جیسا ہوکر رہ گیا ہے۔

نظم ارتقائی سفر کے بعد فلسفیانہ ہوگئی ہے:

یہ دنیا اِک ایسا مکاں ہے/ جہاں کوئی کھڑکی نہیں/

صرف دروازہ ہے ایک/ اندر سے جو بند ہے

اگر کھول پائیں تو کھولیں/ کہ اندر ہمیں ہیں

دنیا ایک ایسا مکاں ہے جہاں کوئی کھڑکی نہیں ہے، البتہ ایک دروازہ ہے جو کہ اندر ہی سے بند ہے اور جس میں شاعر محبوس ہے۔ اس فلسفیانہ تفکر کے بعد شاعر پھر لمحات مسرت کی طرف آجاتا ہے۔ اس کا محبوب اب بھی اس کے لہو اور سانسوں کا حصہ ہے، حالاں کہ رات کے چند بے کیف لمحات کے علاوہ اُس روح کی شہزادی سے اس کا کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ اب شاعر کے سامنے اس کا محبوب آچکا ہے اس لیے وہ اس سے مخاطب ہے کہ گرچہ کوئی تمھارا کوئی ہوچکا ہے لیکن کیا واقعی وہ تمھاری بھٹکتی ہوئی روح کا شہزادہ بھی ہے۔ رات کے چند بے کیف لمحوں کے علاوہ تمہارااُس کا کوئی رشتہ بھی ہے۔ آخر میں مظہرامام نے متکلم سے یہ کہلوانے کی جرأت کی ہے:

بے ستون الم کاٹ کر کوئی فرہاد جوئے مسرت نکالے اگر

ایک دو گھونٹ تم بھی پیو/ ایک دو گھونٹ میں بھی پیوں

اور پھر اپنا زادِ سفر، اپنی رسوائیاں/ اپنے کاندھوں پہ دونوں اٹھالیں

اور اس طرح کھوجائیں اک دوسرے میں/ جیسے یہ آخری بار ہو

مظہرامام نے ایسی ساعتوں اور ماضی کی یادوں اور یادوں کے سائے میں تھرتھراتی ہوئی لوؤں کو لفظوں کے پیرہن سے ڈھانپنے کی کوششیں خوب کی ہیں۔ احساسات اور جذبات کے چلمن سے جب ماضی کے چراغ جھلملاتے ہیں تو انسان کی نظر نہ چاہتے ہوئے بھی اس طرف اٹھ ہی جاتی ہے۔ ان کی نظم ’رشتہ گونگے سفر کا‘ پڑھئے تو اندازہ ہوگا کہ ماضی کو    سمیٹتے ہوئے انھوں نے اپنی اور اپنے پیش روؤں کو بھی ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بچھڑا ہوا محبوب اچانک سامنے آگیا ہے:

یہ کس جنم میں/ ہم/دوبارہ ملے ہیں

یہ خط/ رنگ/ قد/ سب مجھے جانتے ہیں/ مرے لمس سے آشنا ہیں

ابھی اس سے پہلے کئی کارواں گزر چکے ہیں لیکن اچانک جو محبوب سامنے آگیا ہے تو شاعر کا احساس بولنے لگا ہے:

تحیّر سے پیدا مسرت کے آنسو لیے/ اس طرح ہم ملے، جیسے پہلے کبھی مل چکے تھے

دراصل یہ صدیوں پر پھیلا ہوا رشتہ ہے جو مختلف کاروانوں میں بٹتا چلا گیا ہے۔ جو راہی بھی اس کارواں میں ہے دراصل وہ گونگے سفر پر رواں دواں ہے۔ شاعر نے تلاش ذات کا ذکر بھی کیا ہے، پھر فون پر گفتگو ہونے لگی ہے، جس میں لمس اور جسم کا فاصلہ ہوتا ہے۔ البتہ صوت و آواز کا رشتہ رہ جاتا ہے۔ اسی رشتے کو اب شاعر غنیمت سمجھنے لگا ہے۔ اس لطیف احساس کے المیے کو مظہرامام نظم کے آخر میں یوں پیش کرتے ہیں:

کاش یہ رشتۂ صوت و آواز ہی دائمی ہو

کہ گونگے سفر کے سبھی سلسلے عارضی ہیں

مظہرامام کی نظموں میں جو حزن و ملال یا مایوسی کا رنگ دکھائی دیتا ہے، اس میں انفرادی احساس کے ساتھ ساتھ اجتماعی شعور اور آفاقی احساس بھی نظر آتا ہے۔ موضوع چاہے سماج کا ہو یا عشق کا، ہر جگہ جیسے تخیل کی اڑان کسی        منزل بے سمت کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ لیکن اس بے سمتی میں ایک طرح کا بالیدہ شعور نظر آتا ہے۔ جنوں مزاج کردار کس طرح کسی دوسرے           ہم مزاج کا استقبال کرتا ہے، اس کی مثال مظہرامام کی نظم ’اشتراک‘ (۲۷؍ ستمبر ۱۹۶۰ء) ہے۔  نظم مختصر سی ہے:

خیر اچھا ہوا تم بھی میرے قبیلے میں آہی گئے

اس قبیلے میں کوئی کسی کا نہیں/ ایک غم کے سوا

چہرہ اترا ہوا/ بال بکھرے ہوئے/ نیند اُچٹی ہوئی

خیر، اچھا ہوا تم بھی میرے قبیلے میں آہی گئے

آؤ ہم لوگ جینے کی کوشش کریں

اس مختصر سی نظم میں فنی اعتبار سے ارتکاز اور Compactness دیکھا جاسکتا ہے۔ لفظی اور معنوی ارتکاز کے سبب یہ نظم بہت ہی پُراثرار اور متحرک ہوگئی۔ جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں اس میں Personal جذبے کا اظہار ہونے کے باوجود ایک طرح کا Impersonal approach نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ ہے، شاعر کا جینے کی کوشش کرنے کی طرف اجتماعی اقدام۔ میں یہاں T.S. Eliot کی زبان میں اس متن کے  Technical excellence کی بات کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ اسی سبب یہ نظم عمدہ ہے۔ یہاں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے خود کو فن کے حوالے کردینا ہوتا ہے:

"The emotion of art is impersonal. And the Poet can not reach this impersonality without surrendering himself wholly to the work to be done.”  ۵۴؎

شخصی واردات کو غیرشخصی واردات میں بدل دینا ایک جانکاہ عمل ہے۔ کبھی کبھی آپ کسی کی نجی اور شخصی زندگی یعنی خودنوشت تحریر پڑھتے ہوئے ایک آفاقی کینوس پر خود کو محسوس کرتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا فنکار خود کو اور اپنے افکار اور فن کو ملک و قوم کی امانت سمجھتا ہے۔ مظہرامام کی اسی مذکورہ بالا نظم کے ان مصرعوں میں: ’’چہرہ اترا ہوا، بال بکھرے ہوئے/ نیند اچٹی ہوئی‘‘ میں جو آفاقیت ہے، ہم آپ محسوس کرسکتے ہیں۔ ایک عاشق خواہ امریکہ یا برطانیہ کا ہو، خواہ ایران اور ہندوستان کا، مذکورہ مصرعے اس کے لیے Signifier کا کام کریں گے۔ دوسری تعبیر ایک مفلس اور مفلوک الحال شخص کی ہوسکتی ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے اس صورت اور کیفیت میں مبتلا ہوا ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ احساس یا صورتِ حال بھی آفاقی قدرو قیمت رکھتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مظہرامام محض عصری مسائل ہی کو پیش نہیں کرتے بلکہ آفاقی اور ابدی موضوعات پر بھی نگاہ رکھتے ہیں۔ خود ’عشق‘ ایک آفاقی اور ابدی موضوع ہے جسے پر کسی رنگ و نسل، فرقے یا ملک و قوم یا پھر گورے اور کالے سے متعلق نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح   حسن و جمال یا Beauty ایک ایسا موضوع ہے جو اپنے تمام تر Shades کے ساتھ آفاقی ہوتا ہے۔ مظہرامام کی نظموں میں بھی ایسے کھوئے ہوؤں کی جستجو یا ان کے ماضی میں گم ہوجانے کا ایک اظہار ملتا ہے۔ ایّام جوانی کی بیشتر نظموں میں حسن و عشق کے ایسے موضوعات برتے گئے ہیں۔ ایسی نظموں میں   نگار شہر (۱۹۵۵)، پاک نگاہوں کی حیا (۱۹۴۹)، ہجر (۱۹۵۴)، تحفہ (۱۹۵۷)، وہ دیکھو (۱۹۴۶) کے نام لیے جاسکتے ہیں جن میں محبوب کے خط و خال سے لے کر حسن و عشق کی واردات اور جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ یہ ڈکشن اور طرز اظہار ملاحظہ کیجیے:

مرے پردۂ ذہن پر مرتسم ہیں تیرے خطّ و خال شگفتہ

وہ شب رنگ زلفیں، پریشان زلفیں جو دیتی ہیں تمکین کا درس اہل جنوں کو

وہ رخشاں جبیں، نورافشاں جبیں— روکشِ بزم پروین و زہرہ

وہ سرشار آنکھیں، فسوں کار آنکھیں، جو احساسِ مردہ میں بھی روح نو پھونکتی ہیں

وہ شاداب عارض، حیا کیش عارض کہ جس کا تصور بھی محزوں دلوں کو شفا بخشتا ہے

وہ لعل آفریں لب، گہربار لب، جن کی سرخی سے بنتے ہیں دامانِ ہستی پہ نقش و نگار تمنا

انھیں کیف زا منزلوں تک پہنچنا/ مرا مقصد زندگی ہے—!

(وہ دیکھو!، ۱۹۴۶)

مظہرامام ۵؍مارچ ۱۹۳۰ء کو پیدا ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے ان کی یہ نظم سولہ سالہ نوجوان کی تخلیقی کرشمہ سازی ہے لیکن سولہ سال کے اس نوجوان نے جس خوبصورتی سے محبوب کے خط و خال، زلف و لب و رخسار، چشم و جبیں کی پیکرتراشی کی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ ان کے کسی ہم عصر نے ایسی پُرکار اور شگفتہ، بامعنی اور سبک، دل پذیر اور ہفت رنگی نظم اُس عمر میں کہی ہوگی۔ اس پیکرتراشی میں صرف لفاظی نہیں ہے بلکہ محبوب کے جس عضو کا بھی ذکر ہوا ہے، اس کے کئی کئی اوصاف اور اس کی کئی کئی بامعنی جہتیں مصوّر ہوکر صفحۂ قرطاس پر آگئی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک آبشار ہے جو اپنی رفعتوں سے نہایت ہی سبک خرامی کے ساتھ جبین ارضی کو بوسہ دینے اتر رہا ہے اور پوری کائنات اس کی نغمگی اور موسیقی سے مسحور ہوگیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری )

اخیر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گرچہ مظہرامام کی شناخت کا حوالہ ان کی غزلیں ہیں اور انھوں نے غزلیں کہیں بھی زیادہ ہیں، لیکن ان کی نظموں میں بھی ایک طرح کی چاشنی اور دل کشی ہے۔ سب سے بڑی خوبی کی بات یہ ہے کہ یکسانیت نہیں ہے۔ شاعری میں Variety پیدا کرنے کے باوجود ایک منضبط فکر و خیال کی قوس قزح ہے جو ان کی غزلوں کے ساتھ ساتھ نظموں میںبھی نظر آتی ہے۔ ان کی خوبی یہ بھی رہی کہ ترقی پسندی سے چل کر جدیدیت کی طرف قدم بڑھانے کے ساتھ ہی وہ محتاط ہوگئے تھے۔ اسی لیے ان کی شاعری میں فیشن پرستی کے نقوش نہیں ملتے۔ ان کا محتاط رویہ ان کی زندگی اور شاعری دونوں میں دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ٹھیک ہی لکھا ہے:

’’ان کی شاعری کا رُخ نئے تقاضوں کی طرف ہے لیکن فنّی سطح پر انھوں نے روایت سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔ ان کی شاعری ایک سنبھلی ہوئی طبیعت اور صحت مند افتاد ذہنی کا پتہ دیتی ہے… ان کے فطری ضبط و اعتدال نے انھیں فکر کو جذبے میں سمونے کی راہ دکھائی ہے جس سے ان کے کلام میں انبساط اور آگہی کی ایک خوشگوار امتزاجی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔‘‘  ۵۵؎

اردو میں ماضی اور اس کی یادوں کے سہارے بہت سے شاعروں نے چراغ روشن کیے۔ ماضی کی تاریکی سے جو روشنی کی کرنیں پھوٹتی ہیں، وہ ذہن و دل کو منور کرتی ہیں۔ مظہرامام کی نظموں میں بھی  Something lostکی ترجمانی ملتی ہے۔ اس Lost کی یافت میں جو صعوبتیں اٹھانی پڑتی ہیں اور پھر ان صعوبتوں سے نبردآزما ہونے کے لیے جو راہ اختیار کرنا پڑتی ہے وہی تخلیقی آنچ کو تیز کرتی ہے۔ یہیں پر فنکار کو سنبھلنا ہوتا ہے۔ تمام کھوئے ہوئے لمحات خواب کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ شاعر اسی خواب کو لفظوں میں پیش کرتا رہتا ہے۔ خواب کی تجریدیت کی تجسیم کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ مظہرامام کی نظموں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کھوئے ہوئے لمحات کی یافت میں مصروف ہیں۔ اسی عمل میں کبھی شاعر محزونیت کا شکار ہوجاتا ہے اور جب کبھی اُسے خواب میں مسرت کے    لمحے نظر آتے ہیں تو وہ نشاطیہ لہجوں میں بات کرنے لگتا ہے۔ مظہرامام نے بھی ہر دو طرح کے لمحوں کو قید کرنے کی کوشش کی ہے۔

(مظہرامام پر مذاکرہ، منعقدہ: خدابخش لائبریری، پٹنہ، منجانب: ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی، ۲۷؍جولائی ۲۰۰۸ء)

حوالہ

۵۱۔     خیال، مظہر امام نمبر، جولائی–دسمبر ۲۰۰۶، ص: ۷۹

۵۲۔     حرف حرف آشنا: وہاب اشرفی، ۱۹۹۶ء، ص: ۱۰۴

۵۳۔    خیال مظہر امام نمبر، دسمبر ۲۰۰۶ء، ص: ۲۸۴

۵۴۔    The sacred wood by T.S. Eliot, 1976, p:59

۵۵۔    رابطہ: مظہرامام نمبر، جنوری تا جون ۱۹۹۹، ص  ۱۲۰

 


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

کوثر مظہریمظہر امام
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما – حقانی القاسمی
اگلی پوسٹ
بارہ قباؤں کی سہیلی: عذرا پروین –   ڈاکٹر وصیہ عرفانہ 

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں