پروفیسر مظفر حنفی (۱۹۳۶۔۲۰۲۰) اردو زبان و ادب سے وابستہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا شمار اگر اردو کی عہد ساز ہستیوں کی فہرست میں کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ایک ایسی کثیر الجہات شخصیت کے مالک پروفیسر مظفر حنفی جن کے فضائل و کمالات اور تخلیقی صلاحیات کا اعتراف اردو شعر و ادب کے ان مایہ ناز مصنفوں ،شاعروں اور تنقید نگاروں نے کیا جن کی آرا پر کسی کو نکتہ چینی کی ہمت نہیں ہو سکتی۔ان کا اصل نام محمد ابو المظفر تھا اور قلمی نام مظفر حنفی۔سن ۱۹۳۶میں کھنڈوا میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کا کچھ دورکھنڈوا میں ہی گزرا۔ تعلیم کے سلسلے میں ایک وقت ایسا بھی آیاجب انھیں صرف اردو کی تعلیم سے محروم رہنا پڑا۔خاندان کے لوگوں کی ضد تھی کہ مظفر حنفی اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے کاروبار میں ہاتھ بٹائیں مگر انھوں نے اپنی تعلیم کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھا۔الغرض یہ کہ جہدِ مسلسل سے مظفر حنفی نے اپنے تعلیمی سفر کو مکمل کیا۔جامعہ اردو علیگڑھ اور برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے عالم،فاضل،بی۔اے،ایم۔اے،ایل ۔ایل۔ بی، اور پی ایچ ڈی کی اعلی تعلیمی اسناد حاصل کیں۔اسی کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیات کو بھی آزماتے رہے۔پروفیسر شمیم حنفی نے ۱۹۵۰۔۵۱ کے ابتدائی زمانے سے ہی ادبی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔پہلے انھوں نے بچوں کے لیےکہانیاں لکھیں۔۱۹۵۳ میں ان کی پہلی تخلیق ’بندروں کا مشاعرہ‘شائع ہوئی۔۱۹۵۴ میں پہلا ناول نسیم بک ڈپو لکھنؤ سے شائع ہو ا جو ایک انگریزی ناول سے ماخوذ تھا۔۱۹۵۹ میں انھوں نے ایک رسالہ ’ نئے چراغ‘ جاری کیا۔ جس کے ذریعہ ان کا رابطہ شاد عارفی جیسے مایہ ناز شاعر سے ہوا۔حلقہ ادب میں مظفر حنفی کی پہچان مسلّم ہونا شروع ہو گئی تھی۔۱۹۶۲ میں انھوں نے شاد عارفی کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر لی۔۱۹۶۷ میں انھوں نے شاد عارفی پر مختلف ادیبوں، شاعروں سے مضامین لکھو اکر یکجا کئے اور انھیں ’ ایک تھا شاعر‘ عنوان سے شائع کرایا۔اسی سال مظفر حنفی کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’پانی کی زبان ‘ شب خون کتاب گھر ، الہ آباد سے شائع ہوا جو جدید غزلوں کا ہندوستان میں چھپنے والا پہلا مجموعہ تھا۔مظفر حنفی کے اس مجموعےکو حلقہ ادب میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔بڑے بڑے ناقدوں نے اس پر اپنی مثبت آرا پیش کیں۔۱۹۶۸ میں ’تیکھی غزلیں‘ اور ان کی طویل نظم ’عکس ریز‘ منظر عام پر آئی۔۱۹۶۹ میں مظفر حنفی کا پہلا افسانوں کا مجموعہ ’دو غنڈے ‘ زیور طبع سے آراستہ ہوا،جس کی تقریظ کرشن چندر جیسے اردو کےمایہ ناز ادیب اور فکشن نگار نے لکھی تھی۔مظفر حنفی صاحب نے ذریعہ معاش کے طور پر ۱۹۷۴ میں مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات میں ملازمت اختیار کر لی تھی ۔ سارا سارا دن جنگلوں کے معائینے میں گزر جاتا تھا۔آخر کار جلد ہی اس شعبے کو خیر آباد کہ دیا اور N.C.E.R.T. میں اردو زبان کے اسسٹنٹ پروڈکشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔۱۹۷۶ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں لکچر ر کی پوسٹ پر تقرری ہوئی۔ ۱۹۸۹ میں کلکتہ یونیورسٹی میں اقبال چیئر پروفیسر کے عہدے کو قبول کیا۔ درس و تدریس کی مختلف ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے مظفر حنفی صاحب نے اردو زبان و ادب کی خدمت کو جاری و ساری رکھا۔ ان کی ہر خدمت پر ادبی حلقوں میں داد و ستایش کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ انھوں نے جدید شاعر ی کے تمام لوازم کو برتا اور ان کی شناخت ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر کے طور پر عالمی سطح پر قایم ہو گئی۔ (یہ بھی پڑھیں مظفر حنفی: کھردرا پن ہی میرے شعر کا گہنا ہوگا – شاہینہ پروین )
پروفیسر مظفر حنفی کی شخصیت میں جو ہمہ جہتی ہے اس کا احاطہ کرنا اشد ضروری ہے۔اردو زبان و ادب کی جو خدمت انھوں نے کی وہ اپنے آپ میں مثالی ہے۔ ان کی شاعری کا رنگ ہو یا افسانوں کا طرز اظہار ،بلا شبہ تحقیق کو دعوت فکر دیتے ہیں۔ ان کی تخلیقی صلاحیات کا اعتراف کرنے والے اہلِ نقد و رائے ادیبوں کی آرا ان کے شخصیت اور فن کا بہترین تجزیہ پیش کرتی ہیں۔
فراق گورکھپوری مظفر حنفی کی افسانہ نگاری سے متعلق فرماتے ہیں ؎
’’مظفر حنفی صاحب ہمارے نئے افسانہ نگاروں سے متعلق ایک ہونہار ادیب ہیں۔‘‘
فراق گورکھپوری نے یہ بات مظفر حنفی کے دوسرے افسانوی مجموعے ’اینٹ کا جواب‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی تھی۔وہیں کرشن چندر جیسے فکشن نگار مظفر حنفی کی افسانہ نگاری کے قایل ان کے پہلے مجموعے میں ہو گئے تھے۔وہ لکھتے ہیں ؎
’’مظفر حنفی کو بات کہنے کا ڈھب آتا ہےاور افسانے کے سارے لوازم معلوم ہیں۔کون سی بات قاری سے کس وقت کہنا ہوگی، کون سی بات چھپا کر رکھنا ہوگی اور صرف آخر سطر میں مٹھی کھول دینا ہوگی۔حالانکہ آج کل کا قاری بہت ہوشیار ہو چلا ہے اکثر اوقات افسانہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کا انجام معلوم کر لیتا ہےمگر مظفر حنفی مصنف او رقاری کی اس شظرنجی لڑائی میںاکژر و بیشتر اپنے قاری کو مات دے جاتے ہیں۔‘‘
جس طرح مظفر حنفی کی افسانہ نگاری کے معیار کو تسلیم کیا گیا اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ ان کی شاعرانہ صلاحیات کا اعتراف قد آور ادیبوں نے کیا ہے۔مشہور و معروف ناقد اور ادیب گوپی چند نارنگ کے ان تاثرات کو ملاحظہ فرمائیں جو انھوں نے مظفر حنفی کے مختلف شعری مجموعوں کے مطالعےکے بعد سپرد قرطاس کئے۔۔۔
’’ڈاکٹر حنفی کے اکثر اشعار میں ایک خاص نوع کی واقعاتی فضا پائی جاتی ہے اور محسوس ہوتا ہے جیسے کسی افسانے کے مرکزی واقعے کو شعر کا قالب عطا کیا گیا ہو۔‘‘
’’مظفر حنفی ہمارے دور کے ان چند نئے شاعروں میں ہیںجن کی لفظیات کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔‘‘
مظفر حنفی ان تخلیق کاروں میں سے ہیں جنہوں نے وادی شعر میں اپنا سفر سینے کے بل طے کیا ہے۔‘‘
۱۹۶۹ کے تحریک دہلی میں لکھے گئے مضمون میں خلیل الرحمان اعظمی جیسے ترقی پسند ی کے نقیب شاعر کی آرا پروفیسر مظفر حنفی کی شاعری کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں ؎
’’مظفر ان شاعروں میں ہیں جنہوں نے شاعری اور فن کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے، اور اس کے لیے وہ ریاضت کی ہے جس کے بغیر شاعری کی انفرادیت نہیں ابھر سکتی۔مجھے ان کے یہاں بڑے امکانات نظر آتے ہیں۔‘‘
یہ تمام تاثرات مظفر حنفی کی ابتدائی ادبی زندگی سے متعلق ان کی خدمات سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے اس کے بعد ایک طویل اور کامیاب ادبی سفر مکمل کیا۔ تنقید و تحقیق کے میدان میں اپنی قلم کی جولانیاں دکھائیں اور شاعری تو جی کھول کر کی۔ ان کے کلام کے دس سے زاید مجموعے منظر عام پر آئے۔
ادب اطفال میں بھی مظفر حنفی کی ان کہانیوں کو ایک اضافے کے طور پر قبو ل کیا جائے گا ،جو انھوں نے اپنی ادبی زندگی کے ابتدائی دور میں لکھیں۔ان کا بچوں کے لیے کہانیوں کا مجموعہ ’نیلا ہیرا‘ مکتبہ پیام تعلیم دہلی سے ۱۹۹۹ میں شائع ہوا۔
پروفیسر مظفر حنفی کی نگارشات کو جہاں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا وہیں انھیں اعزاز وا کرام سے بھی نوازا گیا۔ ان کے مجموعہ کلام ’ دیپک راگ‘ کو پہلی مرتبہ اردو اکادمی اتر پردیش سے اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ دیگر تصانیف بھی ایوارڈ یافتہ رہیں۔
ان کی تصانیف کی فہرست بہت طویل ہے۔شاعری،افسانہ،تحقیق، تنقید اور دیگر تالیفی تصانیف پرمبنی کارناموں کی شکل مین مظفر حنفی کی اردو زبان و ادب کی خدمات کا جیتا جاگتا ثبوت آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ اگر چہ مظفر حنفی اس دارِ فانی کو خیر آباد کہہ گئے۔ ضرورت اس بات کی ہے ان کی خدمات کا تحقیقی جائزہ لیا جائے جس سے اردو زبان کی اس عظیم ہستی کی خدمات کا اصل محاکمہ ہو سکے۔ اردو کے طالب علموں کو ان کے کارناموں سے مزید آشنائی حاصل ہو سکے۔ (یہ بھی پڑھیں تخلیقی نثر کے فروغ میں جامعہ کا حصّہ – حقانی القاسمی )
پروفیسر مظفر حنفی کی تصانیف میں پانی کی زبان ،دیپک راگ،طلسم حرف، کھل جا سم سم، یا اخی،آگ مصروف ہے جیسی تصانیف شعریات میں اضافے سے تعبیر کی جا تی ہیں ۔دو غنڈے، اینٹ کا جواب،دیدہ حیراں ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔جہات و جستجو،نقد ریزے،شاد عارفی شخصیت اور فن، شاد عارفی فن اور فنکار ،تنقیدی ابعاد ، تنقیدی نگارشات اور وضاحتی کتابیات مظفر حنفی کے تحقیقی اور تنقیدی کارنامے ہیں۔اس کے علاوہ بھی ان کی متعدد تصانیف ہیں جن کے حوالے سے مظفر حنفی کی شاعری ، افسانہ نگاری ، ادب اطفال سے متعلق خددمات او ر تحقیق و تنقید کے میدان میں ان کے لاثانی کردار پر بات ہو سکتی ہے۔بلکہ اردو ادب کو نئی جہات سے روشناس کرانے کے لیے ان پر تحقیقی بات کرنا اپنے آپ میں کسی ادبی اضافے سے کم نہیں ہوگا۔
محمد عشرت صغیر
محلہ باڑو زئ اوّل ،شاہجہاں پور،یو۔پی
رابطہ:9648906342
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
مدیر ادبی میراث کا بہت بہت شکریہ۔۔۔