تھانے دار: منشی؟
اوے منشی؟
ابے کدھر مر گیا ہے توں؟
منشی: جی جناب
تھانے دار: کدھر مر گیا تھا توں؟
منشی: حاضر جناب
حکم جناب؟
تھانے دار: یہ باہر رولا کیسا ہے؟ کیا کوئی مر گیا ہے؟
منشی: نہیں جناب وہ ایک بابا آیا بیٹھا ہے۔
تھانے دار: کیوں؟۔اسے کیا مئلہ بن گیا ہے اب؟
منشی: سر اس نے بیٹے کے کاغذات پہ دستخط کروانے ہیں۔
تھانے دار: دکھنے میں کیسا لگتا ہے؟
منشی:جناب غریب گھرانے سے ہی لگ رہا ہے۔
تھانے دار: اچھا کوئی نا۔ ابے تیری بک بک سے دیکھ میری چاے ٹھنڈی ہو گئی ہے جاہل۔اچھا جا اور اس بابے سے کہو کہ صاحب سے آپ کی بات کرنے گیا تو صاحب کی چاہے ٹھنڈی ہو گئی ہےوہ بہت غصے میں ہیں۔
منشی: جناب دستخط کر کے دے دیں بےچارا اتنی گرمی میں آیا ہے۔
تھانے دار: ابے جا سالے، نکل یہاں سے بڑا آیا بابے کا کچھ لگتا۔۔۔۔ جا اسے کہہ کہ کل جلدی آائے آج لیٹ آئےہو اور سنو اسے کہنا کہ تیری وجہ سے چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ہوٹل سے چائےاور ساتھ میں کوئی چیز لیتے آنا اور پیسے اس بابے سے کہنا کہ دیتا جائے۔
منشی:جی بہترجناب۔
بابا او بابا ، صاحب کی طبیعت خراب ہے وہ آرام کر رہے ہیں۔کل صبح جلدی آ جانا۔ کام ہو جاے گا انشاءاللہ۔
بابا: صاحب بہوں دوروں آیا واں ، اگر مہربانی ہو سکدی اے تے کر دیووو آ۔۔۔
منشی: بابا تم کو بتایا تو ہے کہ صاحب کی طبیعت خراب ہے۔ اب آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا کل صبح جلدی آ جانا۔
بابا: صاحب جی مجھاں واسطے چارا وی بناناں ہوندا اے تے میکوں اے ٹائم ہو جاندا۔
منشی: نہیں بابا کل آپ کو ٹائم سے ہی آنا پڑے گا۔ اچھا بابا آپ کی وجہ سے صاحب کی چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے ان کےلیے سامنے والے ہوٹل پہ چائے اور ساتھ میں بھی کچھ کہہ دینا اور پیسے یاد سے دیتے جانا اگر کام کروانا ہے تو۔۔۔
بابا: صاحب جی آنے کول پیسے نہی ہوندے۔
منشی: نہی بابا دراصل آپ کی وجہ سے ٹھنڈی ہوئی ہے تو اس لیے آپ سے کہا۔
بابا: آہ! چلو ٹھیک اے جناب۔
منشی: اللہ حافظ۔ اور صبح جلدی آ جانا۔
بابا: السلام علیکم۔
ہوٹل والا: وعلیکم السلام۔ جی بابا کیا کھائیں گے؟ کیا پیئیں گے؟
بابا: بچیا اساں کی کھاناں تے کی پیناں۔۔۔ تھانے دار صاحب وس تے چاے تے نال کوئی ہور چیز وی بھیج دینا۔
ہوٹل والا: ٹھیک ہے بابا ہمیں پتہ ہے وہ کیا کھاتے ہیں اور کیا پیتے ہیں؟۔۔۔
بابا: تج ھی اندروں عجیب عجیب آوازاں آندیاں پئیاں سن۔
ہوٹل والا: بس ابھی گئی چائے۔
بابا: کنے پیسے دیواں؟
ہوٹل والا: بابا اگر کام کروانا ہے تو کم سے کم۵٠٠ روپے کی چاے تو بنتی ہے۔
بابا: اے لے بچیا ساڈا اللہ وارث اے۔
ہوٹل والا:رب راکھا بابا دھیان سے۔
تھانے دار: منشی او منشی۔
منشی : جی جناب؟
تھانے دار: ابھی تک چائے نہیں آئی دو گھنٹے ہو گئے ہیں۔ جا پتہ کر کدھر مر گیا وہ۔؟
ہوٹل والا:سر اندر آ جاوں؟
تھانےدار: آ یار ۔ آج تو بھوک نے مار دیا ہے؟ اتنی دیر کیوں لگائی ہے؟۔
ہوٹل والا: مریں آپ کےدشمن، آپ کےلیے کڑک چائے تیار کر رہا تھا۔ اچھا چھوڑیےآپ یہ گرما گرما چائے پئیں اور ساتھ میں یہ مٹھائی لیں۔
تھانےدار: آج صرف یہ مٹھائی ہی کیوں لاے ہو، کرارا کیوں نہیں لائے؟لایا کرو یارتم نے کونسا اپنے پلے سے لانی ہوتی ہے۔
ہوٹل والا: سر اس لیے لایا ہوں تاکہ پ کی زبان سے پہلے بھی میٹھی باتیں نکلتی ہیں ان میں مزید شیریں لانے کےلیے لایا ہوں۔
تھانے دار: ٹھیک ہے ٹھیک ہے بہتا مکھن نہ لگا۔ چل اب نکل۔
ہوٹل والا: ٹھیک ہے جناب کھائیں اور موج اڑائیں۔
تھانے والا:ہاں ہاں ٹھیک ہے اچھا سن۔
ہوٹل والا: جی جناب؟
تھانے دار:اب صرف چائے اور مٹھائی سے سارا سارا دن کام نہیں ہوتا اور تم نے یہ چیزیں اپنے پلے سے نہیں دینی ہوتیں لہذا کچھ اور بھی ساتھ بھیج دیا کرو۔سمجھا۔؟
ہوٹل والا: جی جناب سب سمجھ گیا ہوں ، سب۔
تھانے دار: منشی بات سن۔۔۔ یہ کپ ہوٹل والے کو دے دینا۔اور چار بج چکے ہیں۔ آج ٹائم کافی ہو چکا ہے میں چلتا ہوں۔
منشی: جی بہتر جناب۔
تھانے دار: ہائے آج اتنی جلدی آنا پڑا ہے۔
منشی ابے کہاں ہو۔آٹھ بج چکے ہیں تم ابھی تک پہنچے نہیں؟
منشی: جی جناب پہنچنے ہی والا ہوں۔۔۔بس دو منٹ میں آپ کے پاس۔۔
تھانے دار: جلدی آؤ، سیدھا میرے آفس آؤ۔
منشی: جو حکم جناب۔
تھانے دار۔ ارے یارکہاں پہنچے ہو۔
منشی : جناب یہ آ گیا ہوں۔
تھانے دار:آؤ آؤ جلدی آؤ۔۔۔ اچھا بات سنو۔ابھی کچھ دیر تک ایم-پی- اے صاحب آ رہے تھانے۔۔۔ ان کےلیے ناشتہ تیار کرواو اور دور سے آتی ہوئی جونہی ان کی گاڑی دیکھو تودروازہ کھول دینا۔ یہ نہ ہو کہ ان کو انتظار کرنا پڑے۔
منشی: جو حکم سرکار۔
تھانے دار: ٹھیک ہے جاؤ اور ہوشیاری سے کھڑے ہونا۔ دیکھو تم جانتے ہو کہ مجھے کسی طرح کی کوتاہی پسند نہیں۔ان کے علاوہ کوئی بھی اندر نہ آئے۔
منشی: جی بہتر جناب۔
بابا: اسلام علیکم منشی صاحب۔
منشی: وعلیکم السلام۔ بابا آپ کو صبح صبح اتنی کیا جلدی تھی۔
بابا: جناب تساں آپ ای کہیا سی کہ کل صبح جلدی آ جاناں۔
منشی: ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔ صاحب کے مہمان آ رہے ہیں اس کے بعد ہی تمہارا کام ہو گا۔اتنے تک ایسا کرو کہ جلدی سے اس ہوٹل سے اپنے لیے بھی چائے لیتے آو اور میرے لیے بھی لیتے آو۔ اور ساتھ میں کوئی اور چیز بھی لیتے آنا۔ گھر سے صبح جلدی نکلا ہوں تو ناشتہ نہیں کر سکا۔
بابا: پر صاحب جی میں تے ناشتہ کر آیا واں۔
منشی: او بابا اب میں اکیلا آپ کے سامنے چائے پیتا بھلا اچھا لگوں گا؟
بابا: اچھا ٹھیک اے۔صاحب جیلاندا واں۔ پر اج میرا کم ہو جاوے گا نا۔
منشی: انشاء اللہ ضرور ہو جاے گا۔
بابا: اچھا ٹھیک اے۔
منشی: جلدی لا بابا۔
بابا: لایا صاحب جی۔
منشی:لائے ہو بابا۔
بابا: یہ لیں جناب۔اچھا آج تیرا کام ہو جاے گا۔ بڑی مشکل سے صاحب کو راضی کیا ہے۔
بابا: مہربانی جناب۔ بچے جیونی۔
منشی: اچھا ادھر ہو جاو ایم۔پی۔صاحب کی گاڑی آ رہی ہے۔
بابا: اے چاےئےتے پی لوو جناب۔
منشی: ادھر ہو بابا۔ تجھے چائے کی پڑی ہے چل ادھر ہو۔
بابا: اچھا صاحب جی۔
منشی: اسلام علیکم ایم۔پی۔ اے صاحب۔۔۔خوش آمدید۔
بابا: السلام علیکم۔ بچیا کے حال ہن۔
ایم۔پی: ماموں جی آپ صبح صبح خیریت سے آئےہیں؟
بابا: نہی بچیا، اے بچے دے فارم تے دستخط کروانے سن۔۔۔ کل وی آیا واں تے صاحب نے حکم دتا کہ کل جلدی آویں۔۔۔ تے میں اج جلدی آ گیا واں۔
ایم۔پی: تو اب ہو گئے ہیں کیا۔؟
منشی: نہی جناب۔وہ صاحب نے کہا ہے کہ آپ سے پہلے کوئی بھی اندر نہ آئے۔
ایم۔پی: کیوں بھائی یہ میرے ماموں ہیں۔ اور اگر آپ نے ان کے کام نہیں کرنے تو آپ لوگوں کا کیا فائدہ؟۔
بابا: مہربانی بچیا مہربانی۔۔۔ بچیاں دی زندگی ہوینے۔
ایم۔پی: آ پ آئیے میرے ساتھ۔۔۔ادھر لائیے فارم۔اور آئیں میرے ساتھ۔ میں دیکھتا کون سائن نہیں کر دیتا۔
بابا: اے لو جی۔
ایم۔پی: تھانے دار صاحب ان کو سائن کر کے دیجیے نا۔کل بھی یہ آئےتھے اور آج بھی آے کھڑے ہیں۔
تھانے دار: لائیے جناب۔ جو حکم۔
بابا جی آپ کل بھی تشریف لاے تھے؟ آپ کل ہی مجھے بتا دیتے کہ آپ ایم۔پی -اےصاحب کے قریبی ہیں۔
بابا: جناب جہڑے صاحب باہر کھلوتن۔ اناں آکھیا کہ اج تسی لیٹ آئے او۔ کل تسی جلدی آووناں۔
تھانے دار: اچھا اس کی طبیعت میں صاف کرتا ہوں۔۔۔۔ آپ یہ لیجیے۔ اور آئندہ کوئی بھی کام ہو آپ میرےآفس میں ڈائریکٹ آ جائیے گا۔
بابا: بہوں مہربانی ۔۔۔اللہ وڈے عہدے دیوے تہاکوں۔ رنگ لگے رہن۔۔۔بچے جیونے۔۔۔ رب راکھا۔۔۔
تھانے دار: ایم پی اے صاحب آپ کو ان کی اتنی ہمدردی کیسے؟۔
ایم۔پی صاحب: جناب یہ میرے قریبی ہیں ان ہی لوگوں کی وجہ سے ہم اقتدار میں ہیں۔ اگر اپنوں کے کام نہیں کریں گے تو اور کس کے کریں گے۔؟
تھانے دار: اچھا چھوڑیے ، آپ آئیں کھانا کھاتے ہیں۔
ایم۔پی: ہاں چلیں۔
منشی: ہاں بابا کام ہوگیا۔
بابا: صاحب جی تسی تے کہندے سی کہ صاحب بہوں غصے آلے ہن۔ اے تے بہوں رحم دل بندے ہن۔
مینوں کہیا نے کہ کوئی کم ہووے تے اسی حاضر ہا۔
منشی: ہاں بابا ضرور آنا۔اور سنو، لازمی آنا۔

