امیر چند بَہار کی پیدائش ۱۲؍نومبر ۱۹۲۵ کو میانوالی(مغربی پنجاب؍پاکستان) میں ہوئی۔ان کا انتقال یکم دسمبر۲۰۱۱کو فریدآباد (ہریانہ)میں ہوا۔
ان کی تعلیم ’’لاہور‘‘ میں ہوئی ’’لاہور‘‘ جو متحدہ پنجاب کا سب سے بڑا تعلیمی، ثقافتی مرکز تھا۔ بَہار صاحب گورنمنٹ کالج لاہور (پنجاب یونی ورسٹی) میں انگریزی زبان و ادب کے طالب علم تھے۔ لیکن تقسیم ملک کے بعد بَہار صاحب مشرقی پنجاب منتقل ہوگئے اور ۱۹۴۸ئ میں ایسٹ پنجاب یونی ورسٹی کیمپ کالج نئی دہلی سے ایم ۔اے مکمل کیااور نومبر۱۹۴۸ سے پنجاب ہریانہ اور ہماچل پردیش کے مختلف کالجوں میں انگریزی ادب کے اُستاد رہے بعدہٗ وہ گورنمنٹ کالج روہتک(پنجاب) کے پرنسپل ہوئے اور اسی عہدہ سے ۳۰؍ نومبر ۱۹۸۳ کو سُبکدوش ہوئے۔ بَہار صاحب اپنے قیمتی مشوروں سے مشاہیر ادب کی رہنمائی کرتے رہتے تھے۔بہارؔصاحب کے چنداشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
وہ حلقۂ ارباب کہاں سے لائیں
وہ بزم وہ آداب کہاں سے لائیں
سر دھنتے تھے اردو کے جو سن کر اشعار
باذوق وہ اصحاب کہاں سے لائیں
٭
کس شہر میں رہتے تھے کہاں پرآئے
کس دشت و دمن کے نہیں دھکے کھائے
جس روز سے ہوا ملک کا بٹوارہ بہارؔ
ہم چھوڑ کے گھر باربہت پچھتائے!
٭
احباب سے اب رشتہ مرا چھوٹ گیا
افسوس مقدر مرا کیوں پھوٹ گیا
لاہور چھٹا پہلے ، دھرم شالہ پھر
صدمے سے مہاجرت کے دل ٹوٹ گیا !
بَہار صاحب نے خود اپنا مرثیہ بھی لکھا تھا ؎
نصف درجن ہیں جن کی تصنیف
یاد اس کی رہے رہے، نہ رہے
کیوں نہ اپنا ہی مرثیہ کہہ جائے
اور کوئی کہے کہے ، نہ کہے!
( بحوالہ سرودرفتہ ص۔۳۵۲؎ )
بَہار صاحب کی تصنیفات کی تعداد نصف درجن سے زائد ہے:۔
(۱) نسیم مغرب، (۲۶؍انگریزی نظموں کا منظوم اُردو ترجمہ) دیباچہ از، علاّمہ منور لکھنو ی
(۲) نسیم بَہار، (۳۵۰؍ رباعیوں کامجموعہ) دیباچہ از ڈاکٹر سلام سندیلوی
(۳) ارمغان بہار، (نظموں، غزلوں ، قطعات کا مجموعہ دیباچہ از عرشؔ ، صہبائی
(۴) دین و دنیا (۳۰۰؍رباعیات کا مجموعہ) دیباچہ از ڈاکٹر مظفر حنفی
(۵) نشیب و فراز (نظموں، غزلوں، رباعیات کا مجموعہ) دیباچہ از پروفیسر ظہیر احمد صد یقی
(۶) خاندانی منصوبہ بندی(اہم قومی مسٔلہ پر ایک طویل نظم اور ۲۰؍رباعیات کا مجمو عہ )
(۷) پریوار نیوجن (مذکورہ کتاب’’خاندانی منصوبہ بندی‘‘ کا ہندی ایڈیشن)
(۸) زخم و مرہم (۳۵۰؍ قطعات کا مجموعہ) دیباچہ ڈاکٹر ظ۔انصاری
(۹) سرود رفتہ (۳۰۰؍ شعرائے اُردو کو منظوم خراج عقیدت؍مجموعہ قطعات)
(۱۰) چند ادیبوں کے خطوط ، زیر طبع، پیش لفظ، قمر رئیس اور شمس الرحمٰن فاروقی
امیر چند بَہار کو پنجاب ، ہریانہ اور اتر پردیش سے کئی تصانیف پر انعامات مل چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ اُردو زبان و ادب کی خدمات کے سلسلے میں اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کی طرف سے سال ۲۰۰۲ کے لیے ’’غالب انعام‘‘ سے نوازا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ انعام ۲۵؍ہزار روپے نقد اور ایک تمغہ اور سند پر مشتمل ہے۔
امیر چند بَہار کی تعلیم و تربیت ’’لاہور‘‘ میں ہوئی جو غیر منقسم پنجاب کی راجدھانی تھی۔ لاہور کو The city of school & colleges کہا جاتاتھا۔ جس نے ’’لا ہو ر‘‘ نہیںدیکھا اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔اس زمانے میں لاہوربہت بڑا تعلیمی ، تہذیبی و ثقافتی مرکز تھا۔ یہاں ادبی محفلوں اور شعرو سخن کے چرچے آج بھی خاص و عام کی زبان پر ہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں بَہار صاحب کے اُستاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اورپطرس بخاری تھے۔حلقۂ احباب کی نشستوں میں میرا جی، یوسف ظفر، قیوم نظر اور تصدق حسین خالد جیسے نامور شعرا کودیکھا تھا۔انھوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں دوران ملازمت بے شمار مشاعروں کا انعقاد کیا تھا جس میں ہندو پاکستان کے تمام بڑے شعرا سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں اور روابط قائم ہوئے۔ بَہار صاحب کے یہاں ایسے بہت سے قطعات موجود ہیں جن میں ان شاعروں کی وفات پر محرومی اور غم کا شخصی احساس جھلکتا ہے جس سے ’’قطعات‘‘ کا شعری تاثر بڑھ گیا ہے اُردو شعرو ادب میں بَہار صاحب کا یہ انوکھا تجربہ ہے اور یہ اُردو زبان کا بے بہا خزانہ بھی ہے، جس پر اُردو کا شعری ادب ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔ (یہ بھی پڑھیں بیکل اتساہی کی غزل گوئی – ڈاکٹر محمد مقیم )
امیر چند بَہارؔ کوفخر ہے ساحرؔ لدھیانوی کے اُستاد ہونے کا …! بَہار صاحب کو فخر ہے پطرس بخاری اورصوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی شاگردی کا!بہار کوفخر ہے لاہورکے ارباب سخن کی محفلوں میں شریک ہونے کا…!بہارصاحب کوغم ہے ان تلخ یادوں کا جس نے تقسیم ملک کے ساتھ مشاعروں کوبھی مصنوعی دیواروں میں منقسم کردیا۔ بہار صاحب کو فخر ہے اردو کے اُن عظیم شاعروں اور ادیبوں پرجن کا تعلق پنجاب سے تھا ان میںخواجہ حالیؔ،علامہ اقبالؔ،سعادت حسن منٹوؔ، میراجی،راجندرسنگھ بیدی، کنہیا لال کپور، فیض احمد فیضؔ اوررام لال جیسی عظیم المرتبت شخصیتیں شامل ہیں ۔ بہار صاحب کو فخر ہے کہ انھوں نے آنجہانی تلوک چندمحرومؔ سے کسب فیض کیا، بہارصاحب کو فخرہے کہ انھوں نے جوشؔ،فراقؔ،حفیظ جالندھری اورجگن ناتھ آزاد کے ساتھ ساتھ مختلف مشاعروں میں شرکت کی۔
اسی طرح امیر چندبہار کو فخر ہے کہ انہوں نے اردو شعراکی سات سوسالہ تاریخ (سرودرفتہ)مرتب کردی،ان میں دور مقدمین، متوسطین اور متاخرین کے تمام اہم شعرا شامل ہیں۔
’’سرودرفتہ‘‘میں تین سوقطعات موجودہیں۔جن میں ۲۹۹ مرحوم شعرا کو گلہائے عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ آخری قطعہ شاعر(بہار صاحب) نے خوداپنا لکھا ہے۔ سنین ولادت، وفات کا ذکر اہم معرکۂ ہے ،ظاہرہے یہ کسی ایک جگہ نہیںمل سکتا تھا۔اس کے لیے ہزاروں کتابوں، سینکڑوں لائبریریوں کو چھاننا پڑا ہوگا۔بہارصاحب نے اس ضمن میں ڈاکٹرگیان چندجین اورآنجہانی کالی داس گپتا رضاکی علمی معاونت کا ذکر بھی کیاہے۔ گرچہ بیشتر سنین ولادت‘ وفات کے اندراج کے لیے آنجہانی مالک رام کے تذکرے ،تذکرہ ماہ وسال کاسہارا لیا گیاہے لیکن جہاں کہیں اختلافات سامنے آگئے ہیں تو بہارصاحب نے اس کا برملا اظہار (حوالہ کے ساتھ)کردیا ہے۔ اسی طرح بہارصاحب نے تحقیق کاحق بھی اداکیاہے۔ان میں شعرا کی تصاویر کا اکٹھا کرنابھی کوئی آسان کام نہ تھا ۔گرچہ ۶۳شعرا کی تصاویر وہ حاصل نہ کرسکے۔ بقیہ ۲۳۶شعراکی تصاویر جمع کر انھوں نے ایک بڑا کام کیاہے اسی طرح یہ مجموعہ قطعات تصویروں کاالبم بھی بن گیاہے۔میں یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں کہ بہارصاحب کے یہاں فراقؔ اورمالک رام کاحسین امتزاج ہے۔
واضح رہے کہ انگریزی شاعری کواردو کے قالب میں ڈھالنے کی منظوم کامیاب کوشش بہارصاحب نے ’’نسیم مغرب‘‘ میں کی ہے۔یہ شعری مجموعہ نقادان ادب سے خراج تحسین وصول کرچکا ہے۔
میںاستاذ محترم پروفیسرگوپی چندنارنگ کے ان الفاظ کوفخریہ دہرانا پسند کروںگا۔
’’امیرچند بہار ہمارے ان لایق احترام شاعروں میں ہیں،جن کی بہ دولت اردو میں قادرالکلامی کی روایت زندہ ہے اورآب و تاب سے زندہ ہے۔ انھوں نے ’’سرودرفتہ‘‘ کے عنوان سے امیرخسرو سے لیکر ۱۹۶۶ تک اردو کے تمام قابل ذکر شعرا کومنظوم خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ تین سو قطعات پرمشتمل یہ مجموعہ بہارصاحب کی سخنوری نکتہ آفرینی ،تاریخ آگہی کامنہ بولتاثبوت ہے،یہ ایسا کارنامہ ہے، جس پر فخر کیا جاسکتا ہے،وہ ہماری شاعری کی بہترین قدروں کے امین ہیں۔‘‘
(بحوالہ: سر ورق ــ’’سرود رفتہ‘‘)
٭٭٭
امیر چند بہارؔ ایک دردِ مند دِل رکھتے تھے ، بہارؔ صاحب راقم الحروف کو بے حد عزیز رکھتے تھے ۔ میں اس جگہ بہار ؔصاحب کے چند خطوط سے اقتباس نقل کر رہا ہوں، مذکورہ خطوط راقم کے پاس محفوظ ہیں۔
(۱)
’’آپ کے (سیّد شاہد اقبال) دونوں محبت نامہ اور ’’وفیات مشاہیربہارؔ کا عزازی نسخہ فرید آباد سے REDIRECTہوکر موصول ہوئے۔ یاد آوری اورکرم فرمائی کے لئے تہہ دل سے ممنون ہوں……چند ماہ قبل اہلیہ کی وفات کے بعدمیں سخت بیمار ہو گیا اور چھوٹی لڑکی عزیزہ کرن مجھے اپنے ہمراہ فی الحال ساگر لے آئی ہے۔ نشت و برخواست میں بھی دقّت ہوتی ہے… … آپ کی گرانقدر تالیف (وفیات مشاہیر بہارؔ) کی ورق گردانی کرتے ہوئے بیحد مسرت ہوئی۔ بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے، مگر خرابی صحت کے باعث جملہ محسوسات نوک قلم پرلانے سے معذور ہوں۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے نامور مرحومین کی تاریخوں تیز مقامات وغیرہ سے اُردو دنیا کو آگاہ فرما کر آپ نے ایک بہت بڑا ادبی فریضہ انجام دیا ہے ۔ مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ ادبی حلقوں میں آپ کی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اس کا رنمایاںپر میری دلی مبارکباد قبول فرمائیں…‘‘
اے ، سی، بہارؔ
(ساگر مدھیہ پردیش، مورخہ ۲۷؍جولائی ۲۰۰۰)
(۲)
’’آپ نے ناچیز (امیر چند بہارؔ) کو فراقؔ اور مالک رام کی صف میں کھڑا کرکے اپنی ادب دوستی اور دوست نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ ورنہ میں تو ادب کا ایک ادنیٰ خادم ہوں۔ بقول سعدیؔ
جمالِ ہمنشیں در برمن اثر کرد
وگرنہ من ھما خاکم کہ ہستم
آپ(سید شاہد اقبال) نے نارنگ صاحب سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ موصوف تو بہت نیک انسان ہیں اور اُردو ادب کا ستون!
عید کی پیشگی مبارکباد قبول فرمائیں‘‘
اے، سی، بہارؔ، فریدآباد (ہریانہ)
مورخہ ۳۰، نومبر۲۰۰۲
(۳)
’’آپ(سید شاہد اقبال) راقم الحروف (امیر چند بہارؔ) پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں بصد شوق لکھئے، چند دوسرے کرم فرماؤں میں نے بھی بہت کچھ لکھا ہے، مثلاً ’’نسیم مغرب‘‘ پر علاّمہ منوّر لکھنوی سیر حاصل مقالہ قلم بند کیا تھا۔ نیر ڈاکٹر شباب للت نے بھی پروفیسر ظہیر احمد صدیقی نے ’’نشیب و فراز‘‘ پر، ڈاکٹر ظؔ۔ انصاری مرحوم نے ’’زخم و مرہم‘‘ کا دیباچہ لکھا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹرسلامؔ سندیلوی مرحوم نے ’’نسیم بہار‘‘ پر اپنے تاثرات تفصیل میں تحریر کیے وغیرہ وغیرہ۔اب آپ کو جیسے سہولت ہو!‘‘
(اے ،سی، بہارؔ ۱۳؍جنوری ۲۰۰۳ئ)
امیر چند بہارؔکے خطوط کے مطالعے سے ان کی نثر نگاری کا بھی قائل ہونا پڑتا ہے، بہارؔ صاحب کی خدمت اُردو شعرو ادب زائد از نصف صدی پر محیط ہے انھوں نے غزل ’نظم‘ قطع اور رباعی پرطبع آزمائی کی ہے اور وہ مکتوب نگاری کے فن سے بھی بحُسن خوبی واقف ہیں۔
اردوشعر و ادب کی جب کوئی مکمل تاریخ لکھی جائے گی امیرچند بہارؔ کا نام سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا…!!!
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

