میں سراپا عشق، میری جاں کے درپے ہے سبھی کچھ
میرے اندر اور باہر اسلحوں کی گرم بازاری ہے ہرسو
یہ ہلالِ نو کسی کے ہجر کا خنجر ہے شاید
یہ گھڑی دیوار کی ہر لمحہ مجھ کو کاٹتی ہے
یاد کی برچھی مرے سینے پہ حملہ زن ہے ہر دم
انتظار ایسا سلگتا ہے مرے اطرافِ جاں میں
آتشیں بارود کا جلتا ہوا ہو ڈھیر جیسے
میری سانسوں میں کسی کی بے رخی کی آریاں سی چل رہی ہیں
میری دھڑکن کی تڑپ میں رقصِ بسمل کا سماں ہے
جیسے دل پر بے وفائی کی چُھری پھیری گئی ہو
جب بھی پروائی چلے تو ایسا لگتا ہے کہ توپوں کے دہانے کھل گئے ہیں
ایک تنہا عشق کتنے اسلحوں میں گھر گیا ہے
ڈاکٹر خالد مبشر
جامعہ ملیہ اسلامیہ
نئی دہلی

