پہلا منظر
ایک تقریب سے لوٹنے کے بعد
رخسانہ اپنی بیٹی رابعہ سے :
دیکھا تم نے فرزانہ کا نواسہ (3 سالہ) کس قدر اس پر ہاتھ اٹھا رہا تھا!!! اور محفل میں شامل تمام لوگوں سے کتنی منہ زوریاں کررہا تھا!
رابعہ: ہاں نا !! اوردونوں ماں اور نانی کتنا ہنس رہے تھے اس کی اس حرکت پر ,ابھی سے اسے کنٹرول کرنا چائیے ورنہ اسے ایسے ہی عادت پڑجائے گی, ابھی تو بہت اچھی لگ رہی ہے اس کی یہ عادتیں, بعد میں بہت پریشانی جائے گی انھیں اس کی ایسی حرکتوں سے –
دوسرا منظر
ابھی یہ دونوں ماں بیٹی اپنی ہی باتوں میں مشغول تھے کہ موبائیل فون کی رنگ نے انھیں اپنی طرف متوجہ کیا. رخسانہ کی بڑی بیٹی فرح کا فون تھا
ادھر ادھر کی باتوں کے بعد رخسانہ نے اپنے نواسہ سفیان کی خیریت دریافت کی تو فرح نے نہایت ہی فخرانداز میں کہا کے ہاں وہ اچھا ہے اور بہت زیادہ شرارتی ہو گیا ہے, بہت ہوشیار, بالکل حاضر جواب ہے کوئی کچھ بھی کہہ دے فوراً اسے جواب دے دیتا ہے ابھی کل ہی کی بات ہے اس کے چاچو آئے تھے گھر ان سے توایسے بحث و مباحثہ کررہا تھا کہ وہ بھی دنگ رہ گئے”!!!
رخسانہ : (حیرت سے )اچھا!!! ہائے نظر نہ لگے میرے سفیان کو”
"رابعہ سن تو اپنے بھانجے کے کرتوت” اتنا کہ کر رخسانہ نے ہنستے ہوئے ریسیور رابعہ کے ہاتھ میں تھما دیا اور پھر رابعہ بھی سفیان کی حرکتوں کے متعلق سنتی جارہی تھی اور ہنستی جارہی تھی….. ( یہ بھی پڑھیں عورتوں کے ساتھ انصاف کیجئے! – ابو بکر)
پہلے منظر کے مطالعہ کے بعد امید یہ تھی کہ رخسانہ اور رابعہ دوسرے منظر میں اپنی بیٹی اور بہن کو سمجھاتی کہ وہ اس طرح سفیان کو غلط حرکتوں پر نہ سراہے… اسے بڑوں کی تمیز, ان کا ادب ان سے گفتگو کی حد ان تمام باتوں سے آگاہ کرے… لیکن دوسرے منظر میں جو باتیں مطالعہ سے گزری وہ اس کے بالکل برعکس تھیں.
دراصل ہمارے معاشرہ کا یہی المیہ ہے کہ کسی کو بھی خود کی برائی نظر نہیں آتی……لوگ دوسروں میں برائیوں کو خوردبین کی نظر سے دیکھتے ہیں…اور خود کی صاف نظر آنے والی برائیوں سے ہی نظریں چراتے ہیں, اسے موٹی عینک سے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے….. یہ تو صرف ایک چھوٹی سی مثال تھی اس کے علاوہ
معاشرے میں جو مختلف برائیاں پھیلی ہوئی ہے مثلاً جھوٹ, دھوکا دھڑی, قتل وغارت گری, بے حیائی, نوجوانوں کی بے راہ روی, بزرگوں سے ناروا سلوک, طلاق کا عام ہونا, اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ کوئی اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ برائی اس کے گھر میں یا اس کے اندر پل رہی ہے… اسی لیے پھر اس کی اصلاح کی طرف بھی کسی کا دھیان نہیں ہوتا… اور اگر کوئی دوسرا اصلاح کرنے کو کوشش بھی کرے تو اس کے اندر ہزار خامیاں گنوا کر اسے خاموش کروا دیا جاتا ہے …
اس میں محرک کردار ادکرتے ہیں. "ہٹ دھرمی ” , "انا ” یہ ہٹ دھرمی اور انا انسان کو جھکنے ہی نہیں دیتی… اسے اس بات کو تسلیم کرنے ہی نہیں دیتی کہ "وہ غلطی پر ہے, اس سے کوئی غلط کام سرذد ہورہا ہے ". مثلاً جب تک انسان کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس کے اندر کوئی بیماری موجود ہے اس وقت تک وہ اس کے علاج کی فکر سے مستثنی رہتا ہے.. لیکن جوں ہی اسے بیماری کا ادراک ہوتا ہے وہ اس کے معالجہ کے لیے دوڑ دھوپ کرنا شروع کردیتا ہے…کہ کسی طرح اسے بیماری سے چھٹکارا ملے…
جتنی دوڑ دھوپ اور کوشیشیں انسان جسمانی بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے کرتا ہے, اگر اتنی ہی یا اس سے تھوڑی کم بھی اخلاقی بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے کرے تو یقیناً یہ خود اس کے اور معاشرہ کے لیے بہترین کوشش ثابت ہوگی…..
کیونکہ فرد سے مل کر خاندان اور خاندان سے مل کر ہی معاشرہ بنتا ہے.
اور آج کے بچے کل کےمعاشرہ کا مستقبل ہے. ان کو بہترین تربیت دینا مطلب اخلاقی معاشرہ کی تعمیر میں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہے…..
لہذا والدین اور تمام افراد خانہ کو چائیے کہ وہ بچے کی بچپن سے بہتر تربیت میں اپنا اپنا کردار ادا کریں. اس کے اندر کون سی برائیاں فروغ پارہی ہے اس کا دھیان رکھے اور انھیں دور کرنے کی کوشش کرے, اس کی غلط حرکتوں کو خوبیوں کا نام دے کر نہ سراہے, اس کی ہر حرکت پر کڑی نگاہ رکھے اور وقتاً فوقتاً اس کی اصلاح کرتے جائے, اپنے بچے پر مکمل دھیان دے کیونکہ آپ کے بچے آپ کی ذمہ داری ہے ان کی پرورش و تربیت کے متعلق آپ سے پوچھ ہوگی, کسی اور کے بچے کے متعلق نہیں……جو برائیاں آپ کو دوسروں میں بری لگتی ہیں, آپ اس بنا پر خود کو جانچے کہ کہیں وہ برائی میری اپنی ذات, میرے بچوں, میرے گھر کے کسی فرد میں تو نہیں پرورش پارہی ؟؟؟ پھر اس کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب آپ خود کو واقعی احتسابی نگاہوں سے جانچے گے ,خود کی غلطیوں کو تسلیم کریں گے…..
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

