میں ایک شوخ سی لڑکی
گلستانِ علی گڑھ کی
خوب صورت راہوں میں
منفرد خیالوں میں
بیٹھ کر کے فرصت سے
نظم لکھتی رہتی ہوں
مشک بوئے اردو سے
لفظ بنتی رہتی ہوں
بانی قوم کی خاطر
موتیوں کو چنتی ہوں
چوڑیوں تلک پر بھی
شاعری جو کرتی ہوں
لفظ اپنے پلو سے
باندھ کر جو چلتی ہوں
بانی علی گڑھ میرا
بادشاہ اردو تھا
قوم کا مسیحا تھا
ہے یہی سبب میرا
عشق اس سے کرنے کا
اس جہان فانی میں
اپنی پیاری سی آنکھیں
کھول کر کے فطرت کا
کشید حسن کرتی ہوں
بارہا دماغ میں میرے
آیت قرآنی بھی ورد کرتی رہتی ہے
مفہوم جسکا اردو میں اعلی شان والا ہے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
فردوس فاطمہ
شعبہ انگریزی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

