Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

میں اور میرے رفیق حیات( ابو الکام قاسمی) – پروفیسر دردانہ قاسمی

by adbimiras جولائی 8, 2021
by adbimiras جولائی 8, 2021 1 comment

الحمدﷲ، رب العزت کا بڑا کرم اور احسان ہے کہ میرے رفیق حیات ابوالکلام قاسمی تقریباً چالیس سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خدمت انجام دے کر دسمبر ۲۰۱۵ء میں یونیورسٹی کی خدمات سے سبک دوش ہورہے ہیں۔ اﷲتعالیٰ سے دعا کرتی ہوںکہ قاسمی صاحب صحت اور سلامتی کے ساتھ اپنے علمی منصوبوں کو آگے بڑھائیں اور مزید کامیابی حاصل کریں۔ ان چالیس سالوں میں جس طرح قاسمی نے علمی و ادبی کاوشوں کے لیے اپنے آپ کو وقف رکھا، یہ بات قابلِ تعریف اور قابلِ رشک ہے۔ انھوںنے نہ صرف یہ کہ درس و تدریس کے میدان میں اپنے آپ کو باخبر رکھا اور اپنے شاگردوں کے لیے گفتگو کے راستے ہمیشہ کھلے رکھے۔ بلکہ اپنے علمی اور تحریری کاموں سے کبھی غفلت نہیں برتی، نہ ہی تساہل برتا اور خود کو علمی کاموں کے لیے پوری طرح وقف کیے رکھا۔

میری شادی ابوالکلام قاسمی سے مارچ ۱۹۷۹ء میں ہوئی۔ اس کے بعد سے اب تک جیساکہ میں نے ان کو سمجھا اور جانا شروع سے ہی بہت اصولی، وقت کے پابند، فضول کاموں سے اپنے آپ کو الگ رکھنا، پڑھائی کا وقت مقرر، انھیں کہیں بھی کیسی ہی مصروفیت ہو، لکھنے پڑھنے کا وقت نکالنا طے ہوتا۔ شام کی مصروفیات میں عام طورپر مغرب کی نماز پڑھے بغیر گھر سے نہیں نکلتے ہیں۔ نو بجے تک گھر واپس آکر کھانا کھانا اس کے بعد چہل قدمی کے لیے چلے جانا، واپس آکر عشاء کی نماز اور اس کے بعد۱۰؍ بجے سے ۱۲۔ ۱؍بجے تک پڑھنے لکھنے کا کام کرنا، اس درمیان میں اٹھ کر تازہ ہوا کھانا ان کی زندگی کے معمولات میں شامل ہے۔

گھر، مہمان نوازی، بچے ان کی پڑھائی یا گھریلو ضروریات کی کسی چیز سے قاسمی کو زیادہ مطلب نہیں ہوتا۔ یہ سب ذمہ داری میری ہوتی کہ میں کس طرح ان سب چیزوں کا انتظام کروں۔ قاسمی کی پسند و ناپسند بہت سخت ہے، کوئی چیز جلدی پسند نہیں آتی اور جب پسند آتی ہے تو ایک ہی نظر میں فیصلہ ہوجاتاہے۔ بچوں کے کپڑے یا گھرکی ضروریات کی چیزوں کی خریداری میں قاسمی کے ساتھ میں ہی کرتی ہوں کیوںکہ وہ ناپسندیدہ چیزوں کو بہت کم برداشت کرتے ہیں۔ گھر میں کیا پکنا ہے، کون مہمان آیاہے، کس چیز کی ضرورت ہے وہ سب انتظام کرنا میری ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر زیادہ پریشانی ہوتی ہے تو سامان منگوا دیا کرتے ہیں یا خود لاکر دے دیتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں نقد غزل اور ابوالکلام قاسمی – پروفیسر کوثر مظہری )

لکھنے پڑھنے کے لیے پُرسکون جگہ کا ہونا ان کی پہلی شرط ہے اور اس میں کسی قسم کی خلل اندازی یا شور شرابا بالکل پسند نہیں۔ کسی طرح کی بے جا مداخلت (disturbance) نہیں ہوناچاہیے۔ ایک مرتبہ بجلی بہت دیر سے غائب تھی، اِنورٹر کے ڈسچارج ہونے کا خدشہ تھا۔ میں نے کہاکہ سمیر کو بہت ضروری ہوم ورک کراناہے، میں بھی یہاں بیٹھ جاتی ہوں۔ فوراً بولے نہیں تم لوگ دوسرے کمرے میں جاؤ اور پنکھا چلالو۔

جس زمانے میں سمینار ہوتے اور قاسمی کو مضمون تیار کرنا ہوتا اُس وقت بھی یہی حال ہوتا۔ کسی کام کے لیے فرصت نہیں، اگر بچے کہتے کہ پاپا سے فلاں کام کروا دیجیے تو میرا جواب یہی ہوتا کہ سمینار سے پہلے کسی قسم کی بات کرنا بے کار ہے، ورنہ اُلٹی ڈانٹ پڑے گی۔ ایک مرتبہ تو حدہی کردی بچے چھوٹے تھے، میں ان کو لے کر اپنے والد کے گھر گئی ہوئی تھی۔ سمینار چل رہا تھا، انھیں پیپر پڑھنا تھا، جلدی میں گھر کھلا چھوڑ کر سمینار میں چلے گئے۔ شام کو جب گھر واپس آئے تو دیکھا کہ اپنے گھر میں کوئی دوسرا تالا لگا ہواہے۔ ایک منٹ کے لیے گھبرائے اور سناٹے میں آگئے کہ دوسرا تالا کس کا ہے اور کیوں؟ اتفاق سے برابر والے گھر میں جو لوگ رہتے تھے انھیں معلوم تھاکہ میں اباکے گھر گئی ہوں، لہٰذا انھوں نے ہمت کرکے گھر چیک کیا اور اپنا تالا لگادیا اور ان کو اندازہ ہوگیاکہ قاسمی صاحب جلدی میں گھر کھلا چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ بعد میں مجھے پتا چلاکہ آج آپ کا گھر دن بھر کھلا پڑا تھا۔ جب ساری کہانی قاسمی کو معلوم ہوئی تو بولے، کیا ہوگیا کھلا رہ گیا ہوگا۔

قاسمی جب کہیں باہر سے آتے تو سب سے پہلے بچوں کو تلاش کرتے اور سامنے نہ دیکھ کر ہزاروں سوالات کرتے کہ بچے کہاں ہیں؟ میں حتی الامکان قاسمی کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھتی ہوں۔ چاہے وہ کھانے پینے کے معاملے ہو یا روزمرہ کے معمولات میں، اکثر یوپی اور بہار کی عادتیں ٹکراتیں لیکن فوراً ان کا حل نکل آتا اور کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنتا۔ مثلاً پورے بہار میں چائے میٹھی پی جاتی ہے اور میٹھا پھیکا کھایا جاتاہے جو مجھے اور بچوں کو کبھی قابلِ قبول نہیں ہوتا، لیکن میں اس کا حل فوراً نکال لیتی۔ قاسمی کے لیے کم میٹھا بناکر الگ کردیتی اور پھر اپنے حساب سے میٹھا ڈال دیتی اور اپنے حساب سے سب کو کھانے کا موقع مل جاتا۔ ویسے عام طورپر کھانے کی عادتیں تاثیر اور سمیر کی مجھ سے الگ ہیں بلکہ اکثر یہ تینوں ایک ہوجاتے ہیں اور میں اکیلی پڑجاتی ہوں۔ لیکن اب ماشاء اﷲ بڑی بہو شمائلہ اور چھوٹی بہو نادیہ بھی میرے ساتھ ہوجاتی ہیں۔ ایک مرتبہ نادیہ بولی پاپا مجھے سمیر کی آپ سے شکایت کرنی ہے۔ اس زمانے میں وہ لوگ دہلی میں رہتے تھے۔ میں بھی چونکی کیا ہوگیا۔ کہنے لگی کہ یہ سحری میں نہاری کھانے نظام الدین جاتے ہیں۔ تو میں نے کہاکہ تم نے کس سے شکایت کی ہے۔ اس پر قاسمی بولے ہاں بیٹا کہاں کھانے جاتے ہو، کبھی ہم کو بھی کھلاؤ۔ اس پر سب لوگ خوب ہنسے، تب نادیہ کی سمجھ میں آیاکہ اس بات کی شکایت کرنا بے کار ہے۔ کھانے میں دال اور سبزی کا ذکر آنا بے معنی ہے۔ گوشت کے تینوں شوقین ہیں، فرمائش کرکے بنواتے ہیں اور داد دیتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئی دعوت ہوتی تو قاسمی گوشت کی طرح طرح کی چیزیں بنواتے اور خود خوش ہوکر کھاتے اور مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں میراتنقیدی موقف – پروفیسر ابو الکلام قاسمی )

تعلقات کو نبھانا اور رواداری قاسمی کے مزاج میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ بہت زیادہ سوشل اور ملنے جلنے والے آدمی ہیں جب کہ میں مزاجاً بالکل سوشل نہیں ہوں۔ میں گھر میں رہنا زیادہ پسند کرتی ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ شروع سے اپنے دادا کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہے ہیں۔ اس زمانے میں گھر کی لڑکیاں بہت کم باہر نکلتی تھیں، اس کے علاوہ میری والدہ کا بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا اس لیے ابا کو ہم لوگوں کا اکیلے آناجانا پسند نہیں تھا۔ نتیجہ کے طورپر مزاج میں وہی سب باتیں رچ بس گئی تھیں۔ قاسمی کی طرف سے میرے اوپر کبھی بھی کسی قسم کی کوئی پابندی یا روک ٹوک نہیں رہی۔ لیکن میں اس کے بعد بھی کبھی اکیلی نہیں نکل پاتی تھی۔ وقت یا زمانے کے ساتھ یا ملازمت کی وجہ سے اکثر و بیش تر باہر جانا ہوتاہے، لیکن میں اب بھی غیر ضروری طورپر کہیں نہیں جاتی ہوں اور اگر جاتی بھی ہوں تب بھی مزید وقت ضائع کیے بغیر گھر واپس آجاتی ہوں۔

قاسمی اپنے والدین کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے خاص طورپر اپنے والد کا بہت احترام کرتے تھے اور ان سے ڈرتے بھی تھے۔ مجال نہیں کہ ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام یا کوئی بات کریں۔ یہ صرف قاسمی کا ہی نہیں بلکہ ان کے اور بھائیوں کا بھی یہی حال تھا۔ گرمی کی چھٹیوں میں اکثر عید اور بقرعید ہوتی تو پابندی سے ہم سب لوگوں کو گھر لے جاتے، وہاں ان کے والدین بڑی بے صبری سے ہم لوگوں کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ بچوں کے کپڑے وغیرہ بھی سل کر تیار رہتے کیوںکہ اکثر دیر سے جاتے اور اس وقت کپڑے سلوانے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کبھی تو تین چار دن ہی رُک پاتے تھے۔ جب چھٹی کم ہوتی تو طے کرتے کہ اب کی عید میں نہیں جائیں گے، لیکن ابا کے ایک خط سے فوراً جانے کا پروگرام بنا لیتے اور جیسے تیسے ریزرویشن کروا کے ہم لوگ گھر پہنچ جاتے تھے۔ پھر جب قاسمی کے بھائیوں کو پتا چلتاکہ بھائی جان آرہے ہیں تو وہ سب لوگ بھی جلدی جلدی آنے کا پروگرام بنا لیتے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو شاعری کی کلاسیکی شعریات – پروفیسر ابو الکلام قاسمی )

ایک مرتبہ عید دسمبر کے آخری زمانے میں ہوئی۔ ٹرین میں ریزرویشن نہیں مل سکا اس لیے پروگرام ملتوی کردیاگیا، لیکن سب لوگوں کے اصرار پر غور کیا گیا اور یہ سوچاکہ کیوں نہ دن ہی دن کا سفر کیاجائے۔ رمضان کا زمانہ تھا، ہم لوگوں نے یہ طے کیاکہ لکھنؤ جاکر ایک دو دن رُک کر گھر چلے جائیں گے۔ میری بڑی بہن لکھنؤ میں رہتی ہیں، دودن ہم لوگ ان کے گھر رُکے اس کے بعد وطن کے لیے روانہ ہوئے۔ آپا نے ساتھ میں بہت ساری افطاری اور سحری کا سامان کردیا تھا، ہم دونوں (قاسمی) اور دونوں بچے سبھی روزہ سے تھے۔ ساڑھے تین بجے دوپہر میں ٹرین تھی، ہم لوگ وقت پر اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس زمانے میں کہرا بہت سخت ہورہا تھا اس لیے ٹرین لیٹ ہونے کے سبب رد ہوگئی اور اعلان کردیاگیاکہ آپ لوگ اپنا اپنا ٹکٹ واپس کردیں۔ ٹکٹ تو واپس ہوگیا، اب اس پس و پیش میں کہ آگے کیسے جائیں۔ دوسری ٹرین صبح ۶ بجے تھی لیکن اب وہ بھی یقینی نہیں تھی۔ روزہ تو ہم لوگ اسٹیشن پر ہی کھول چکے تھے۔ کہرے کی رات میں گھر جانا اور پھر صبح ۶ بجے واپس آنا ممکن نہیں تھا، اس لیے اسٹیشن پر ہی انتظار کرنے کو ترجیح دی گئی۔ میں تو سارے گرم کپڑے پہنے ہوئے تھی لیکن بچے ٹھنڈ سے پریشان، ان کو ایک ایک سوئٹر نکال کر اور پہنایا تب کہیں جاکر قدرے سکون آیا۔ اسی درمیان میرے بہنوئی صاحب کا فون آگیاکہ آپ لوگ کہاں پہنچے، تو انھیں بتایاکہ ہم لوگ تو ابھی تک آپ کے شہر ہی میں بیٹھے ہیں۔ شدید کہرے کے باوجود ۱۰ بجے رات میں بیٹے کو ساتھ لے کر فوراً اسٹیشن آئے اور ہم لوگوں کے لیے ریلوے کا گیسٹ ہاؤس کھلوا کر وہاں شفٹ کرادیا۔ میرے بہنوئی اس وقت D.R.M.Office میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے، اس لیے بہت عمدہ قسم کا گیسٹ ہاؤس مل گیا۔ ٹھنڈ سے راحت ملی، رات وہاں گزاری اور صبح سے پھر ٹرین کا انتظار شروع ہوگیا۔ بچے بہت پریشان ہوگئے تھے۔ میں نے کہا سوچ لو ابھی وقت ہے واپس علی گڑھ چلو ورنہ انھیں مشکل حالات میں سفر کو انجوائے کرو۔ غرض آگے جانے والی جس ٹرین میں ہمارا ریزرویشن تھا وہ ٹرین تو نہیں ملی، جب دوسری ٹرین میں پہنچے تو ٹی ٹی کو ساری روداد سنائی۔ بھلا آدمی تھا، چنانچہ اس نے ہم چاروں کے لیے برتھ کا انتظام کردیا۔ اﷲ اﷲ کرکے ٹرین چلی اور ہم لوگوں کو راحت ملی۔ ہم سب لوگ سردی سے کانپ رہے تھے، خیر دھیرے دھیرے ٹرین کی گرمی سے ہم لوگوں کے حواس درست ہوئے۔ شام ہوتے ہی راستے میں روزہ کھولا، پھر سوگئے۔ سحری کے وقت گاڑی نے ہم لوگوں کو مظفرپور پہنچادیا۔ اسٹیشن پر اُترتے ہی سب سے پہلے سحری کی فکر ہوئی۔ اسٹیشن سے باہر نکل کرگئے، سحری کا سامان خرید کر لائے اور پھر ہم سب لوگوں نے سحری کھائی۔ اس کے بعد گھر جانے کے لیے ٹیکسی لی، سامان رکھاگیا، ہم لوگ بیٹھے۔ ابھی باہر نکلے ہی تھے کہ پتہ چلا گاڑی خراب ہے اور آگے نہیں جاسکتی۔ خیریت یہ تھی کہ زیادہ دور نہیں نکلے تھے۔ فوراً دوسری گاڑی لی، سامان شفٹ کیا اور روانہ ہوئے۔ آدھ گھنٹہ چلنے کے بعد اندازہ ہواکہ پٹرول ختم ہوگیاہے۔ صبح سویرے کا وقت، آس پاس کے سارے پٹرول پمپ بند پڑے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر تو ٹیکسی گیس پر چلی پھر وہ بھی ختم ہوگئی۔ بڑی مشکل سے ایک جگہ پٹرول ملا، گاڑی میں پٹرول ڈلوایا تب جاکر جان میں جان آئی۔ غرض اس طرح تین دن کی صحرانوردی کے بعد ہم لوگ الوداع کے دن گیارہ بجے گھر پہنچے۔ سب لوگ ہم لوگوں کا بڑی شدت سے انتظار کررہے تھے۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ قاسمی کی والدہ نے بچوں کو بلاکر خوب خوب بلائیں لیں اور پیار کیا۔ میں اب تین دن کے سفر سے پریشان ہوچکی تھی، اس لیے منزل پر پہنچنے کے بعد سب سے سلام دعا کرکے ایک موٹا لحاف اوڑھ کر سونے چلی گئی۔ الوداع تھا، اس لیے بچوں اور قاسمی کے کپڑے نکال کر رکھ دیے اور یہ تاکید کردی کہ اب مجھے دو ایک گھنٹہ کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ غرض دو گھنٹے سونے کے بعد اُٹھی، بچے نہا دھوکر مسجد جانے کے لیے تیار تھے۔ میں بھی غسل کرکے فریش ہوئی اور نماز کی تیاری کرنے لگی۔ یہ تھا قاسمی اور ان کے بچوں کا یادگار سفر جو ان کے ابا کی خوشی کی خاطر کیا گیاتھا۔ گھر پہنچ کر والدین سے مل کر سفر کی ساری کلفتوں کو بھول چکے تھے اور نئے عزم کے ساتھ سب لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔ (یہ بھی پڑھیں راشد کی فکری اور فنی جہات اور نوآبادیاتی مضمرات -پروفیسر ابو الکلام قاسمی )

اﷲتعالیٰ کا بڑا کرم اور احسان ہے کہ جس طرح قاسمی نے اپنے والدین اور خاندان کے بزرگوں کو عزت اور قدرمنزلت کی نگاہ سے دیکھا، آج ماشاء اﷲ ہمارے بچے تاثیر اور سمیر بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ یوں تو ہم دونوں تقریباً ۱۵ سال سے اکیلے رہ رہے ہیں، پہلے بچے پڑھائی اور پھر معاش کی خاطر باہر چلے گئے لیکن اﷲکے فضل سے کوئی دن بھی ایسا نہیں ہوتاکہ وہ لوگ ہماری خیرخبر نہ لیں۔ آج بھی تاثیر عید اور بقرعید پر اپنی بیوی شمائلہ اور بیٹی تمارا کو لے کر پابندی سے علی گڑھ آتے ہیں اور ہم سب لوگ ایک ساتھ عید کرتے ہیں۔ ہم لوگ بچوں اور تمارا سے ملنے کے اتنے ہی مشتاق ہوتے ہیں جیسے قاسمی کے والد تاثیر اور سمیر کے لیے اپنا پیار نچھاور کرنے کو تیار رہتے تھے۔ گھر کے تمام اہم کاموں میں تاثیر کی مدد اور مشورہ کو بہت دخل ہوتاہے۔ اسی طرح سمیر شروع سے ہی بظاہر بہت لااُبالی مزاج کے تھے لیکن اب اتنی دور بیٹھ کر ہم لوگوں کی ذرا ذرا سی بات کی فکر کرنا اور بلاناغہ کینیڈا سے فون کرنا اور خیریت معلوم کرنا ان کی عادت بن گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی نادیہ بھی برابر خیال رکھتی ہے اور وہاں رہنے کے باوجود ہر معاملے میں صلاح مشورے کرتی رہتی ہے۔

قاسمی کے والد بہت زیادہ غصہ کرنے والے انسان تھے اور یہی غصہ ان تینوں بھائیوں کو وراثت میں ملاہے اور اس کا تھوڑا بہت اثر بچوں میں بھی آیاہے۔ شروع شروع میں ہماری بہویں شمائلہ اور نادیہ قاسمی کے غصہ سے بہت ڈرتی تھیں لیکن میں نے بتایاکہ ابھی تھوڑی دیر میں دیکھنا غصہ بالکل غائب ہوجائے گا۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ بادل کہاں سے آئے اور برس کر چلے گئے، لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ قاسمی کے مزاج میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔ بچوں کے معاملے میں جذباتی پہلے بھی تھے مگر اب بہت جذباتی ہوگئے ہیں اور پہلے سے زیادہ خبرگیری کرتے ہیں۔

قاسمی کے لیے وقت کی پابندی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے جس طرح کلاس کے لیے ہوتی ہے۔ زندگی کے تمام معمولات بھی پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے ڈپارٹمنٹ جانا، اگر کلاس ہے تو پڑھانا ورنہ بیٹھ کر اپنے لکھنے پڑھنے کے کاموں میں مصروف رہنا ان کا معمول ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ بجے دن میں گھر واپس آتے ہیں۔ دوسرے لوگ اس پابندیِ وقت پر تبصرے کرتے ہیں جب کہ وہ لوگ خود کبھی گیارہ بجے سے پہلے ڈپارٹمنٹ نہیں آتے اور کلاسیں بھی دیر کی لگوا رکھی ہوتی ہیں اور پھر دوتین بجے تک بیٹھ کر گویا شعبے پر احسان کرتے ہیں۔ اکثر صبح سویرے وائس چانسلر صاحب visit کرتے ہیں تو قاسمی کے علاوہ شاید ہی کوئی استاد  انھیں موجود ملتا ہے۔

قاسمی کا ہمیشہ سے یہ معمول رہاکہ جب کبھی بچوں کی یا میری طبیعت خراب ہوتی تو قاسمی ہم لوگوں کی پوری نگہ داشت کرتے۔ ڈاکٹرکے ہاں جاکر لمبی لمبی لائن میں انتظار کرنا قاسمی کو سخت ناگوار گزرتا، مگر وہ برداشت کرتے۔ ذاتی طورپر قاسمی ایلوپیتھی، حکیمی اور ہومیوپیتھی دواؤں کی کافی شُدبُد رکھتے ہیں۔ اپنی معلومات کے حساب سے اکثر دوائیں دیا کرتے ہیں اور ہم سب لوگوں پر اپنی ڈاکٹری چلاتے رہتے ہیں اور کسی حدتک کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ مہتاب حیدرنقوی صاحب آئے، سخت نزلہ اور جکڑن کے شکار تھے۔ قاسمی گئے اور ایک معجون ہلکے گنگنے پانی میں بناکر لائے اور نقوی صاحب کو پلا دیا اور کہا اب اس کا چمتکار دیکھیے گا۔ اگلی صبح جب ڈپارٹمنٹ میں نقوی صاحب کا حال دریافت کیا تو نقوی صاحب کہنے لگے، مجھے کیا ہوا میں تو بالکل ٹھیک ہوں، انھیں یہ احساس ہی نہیں رہاکہ کل وہ نزلہ و جکڑن سے کتنے پریشان تھے۔ اسی طرح گھر کے ملازمین بھی دوا مانگتے کہ فلاں تکلیف ہے۔ میرا جواب ہوتا ابھی رُک جاؤ صاحب آتے ہوںگے، وہ دوا دے دیں گے اور قاسمی حال سن کر دوا دیتے۔ خواہ انگریزی ہو یا ہومیوپیتھی کی پڑیا بنا کر دیں جس سے ان کو اکثر کافی فائدہ ہوتاہے۔

قاسمی کے ملنے جلنے والوں کا حلقہ خاصا وسیع رہاہے۔ دوست، احباب سب رابطے میں رہتے ہیں، کسی کی طبیعت کے بارے میں سنا تو فوراً عیادت کے لیے پہنچ گئے یا ٹیلی فون کرکے خیریت معلوم کرتے ہیں۔ بزرگ اور خاص طورسے ریٹائرڈ دوستوں کے ساتھ ملنا جلنا، ان کی خیرخیریت دریافت کرنا قاسمی کے لیے بہت ضروری ہوتاہے۔ ریٹائر حضرات کے ہاں عام طورپر لوگوں کی آمدورفت کم ہوجاتی ہے لیکن قاسمی کو جہاں موقع ملا یا کوئی چھٹی ملی فوراً بزرگ دوستوں، ساتھیوں اور استادوں کی خیریت معلوم کرنے پہنچ جاتے ہیں۔

قاسمی دورانِ ملازمت بہت بڑے اور اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ مثلاً کوآرڈی نیٹر جنرل ایجوکیشن سنٹر، ڈین فیکلٹی آف آرٹس، چیرمین ڈپارٹمنٹ آف اردو، اسٹیٹ آفیسر وغیرہ وغیرہ۔ قاسمی نے ہرجگہ پوری ایمان داری اور دیانت داری سے کام کیا۔ صدرشعبہ کی حیثیت سے شعبہ کے تمام ارکان کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی تاکہ کہیں کوئی بات کسی کی ناراضگی کا سبب نہ بنے۔ اصول و ضوابط کو بہت اچھی طرح جانتے، سمجھتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور کہیں بھی قانونی اڑچنوں کو نظرانداز نہیں کرتے ہیں بلکہ انہی اصولوں پر آگے بڑھنا قاسمی کی اوّلین کوشش ہوتی ہے۔

آج بھی ڈپارٹمنٹ کے بارے میں سوچتے ہیں، قابل اور پڑھے لکھے لوگوں کی بہت ستائش کرتے ہیں اور ہروقت اسی سوچ میں رہتے ہیںکہ ان سے کچھ نہ کچھ حاصل کرلیں۔ اپنے ساتھیوں اور چھوٹوں کے لیے ان کا سب سے بڑا پیمانہ صلاحیت اور اہلیت ہے۔ باقی ساری چیزوں کو قاسمی بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔ مارچ اور اکتوبر نومبر کے زمانے میں جگہ جگہ سمینار ہوتے ہیں، قاسمی ان میں مدعو کیے جاتے ہیں اور پھر پیپر لکھنے کے عمل سے مقالہ پڑھنے کے وقت تک کا زمانہ ہم لوگوں کے لیے بہت سخت گزرتاہے، پھر گھر کی کسی چیز سے مطلب نہیں ہوتا۔ دیررات تک ڈپارٹمنٹ میں بیٹھ کر پیپر لکھنا اور رات کے کھانے کے بعد ایک بجے رات تک بیٹھے رہنا، بہ مشکل پانچ گھنٹے کے لیے سونا اور پھر فجر کی نماز کے لیے اُٹھ جانا ان کے معمولات میں شامل ہے۔ میں آج بھی کہتی ہوںکہ آپ کتنا کم سوتے ہیں۔ میری جب آنکھ کھلتی ہے مجھے قاسمی جاگتے ہوئے ملتے ہیں۔ غرض اس طرح رات اور دن ایک کرکے پیپر مکمل کرنا اور اس بات کی کوشش کرناکہ پیپر بہتر سے بہترہو۔ اﷲ کا احسان ہے کہ آج قاسمی کی کاوشوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے اور اس کا ان کو کریڈٹ بھی ملتاہے۔ اس ستائش کا ثبوت ان کے وہ انعامات یا ایوارڈز ہیں جو ہندوستان کی مختلف تنظیموں نے قاسمی کو دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ان تمام ممالک میں جہاں جہاں اردو ہے وہاں کے لوگ قاسمی کو ان کے نام سے ان کی تحریروں سے خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور پڑھے لکھے طبقے کو ان کی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہے۔ اس لیے قاسمی کی پذیرائی ہرجگہ ہوتی ہے اور انہی وجوہات کی بناپر قاسمی بیرون ملک خاص طورپر پاکستان، لندن، امریکہ، کناڈا، موریشس، رنگون، قطر وغیرہ اکثروبیشتر کئی کئی سفر کرچکے ہیں۔ کہیں لکچرزدینے جاتے ہیں تو کہیں چیف گیسٹ، کہیں اکزامنر اور کہیں صدارت کے فرائض انجام دینے جاتے رہتے ہیں۔

قاسمی کی تقریباً دس بارہ کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں، ان میں زیادہ تر تنقید کی ہیں۔ ان کے علاوہ تین تراجم اور متعدد تالیفات اب تک نہ صرف شائع ہوچکی ہیں بلکہ عزت کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان کو جو اعزازات و انعامات مل چکے ہیں ان میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، امتیاز میر ایوارڈ، یوپی اکیڈمی کا لائف اچیومنٹ ایوارڈ، غالب ایوارڈ اور تقریباً ہرکتاب پر ملنے والے امتیازی انعامات کسی معمولی اہمیت کے حامل نہیں۔

 

نوٹ : یہ مضمون ڈاکٹر معید الرحمن صاحب کی کتاب ’نذر ابو الکلام ‘ میں شامل ہے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں

ابو الکلام قاسمیدردانہ قاسمی
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
عربی اور اردو کے نامور ادیب مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کی حیات وخدمات اور طریقۂ تدریس – خورشید عالم داؤد قاسمی
اگلی پوسٹ
غزل۔ سیمیں فلک

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

1 comment

"ابوالکلام قاسمی " - ناصر عباس نیّر - Adbi Miras جولائی 9, 2021 - 7:11 شام

[…] متفرقات […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں