قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
محمد علی جوہرؔؒ
مندرجہ بالا شعر کیونکر ممکن ہے کہ کسی کے لیے جدید یا غیر مانوس ہو ، حسین اور کربلا کے مضمون کو فصاحت کی زبان نے شائد ہی اس سے بہتر طریقہ پر بیان کیا ہو ، یہ جوہرؔ ہی کے خاص ایمانی جوہر تھے جس نے کربلا جیسے روح فرسا واقعہ کو بھی دو لائن میں یوں پرو دیا ہے کہ آدمی سنتا ہے تو بس "علمه البيان” کا عقدہ حل کر لیتا ہے ،وہ زبان کے مقام کا قائل اور غم حسین سے گھائل ہو کر رہتا ہے مگر اس دور کے ایک نہایت ذی علم ، باہوش ، معتدل اور حق گو فرد یا قرآنی اصطلاح کی رو سے عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا مذکورہ شعر پر اشکال گردش کر رہا ہے۔ اس میں کسی کو شبہ ہو تو ہو مگر اپنے ذہن میں ڈاکٹر صاحب ، صاحب دل بھی تھے اور صاحب عقل بھی ، ذہانت و فطانت کی مثال بھی تھے اور شرافت و وجاہت کا پیکر بے مثال بھی ، وسعت ظرف اور وسعت نظر کے حامل بھی تھے اور داعی بھی ، بہر حال ان کی خصوصیات ایک علاحدہ مضمون کی متقاضی ہیں مگر یہاں ان کے اس شعر پر کئے گئے تبصرہ پر تبصرہ کرنا مقصود ہے۔۔۔۔
سو لڑکھڑاتے ہوئے قلم کو حرکت دیتے ہیں ۔۔۔
ڈاکٹر اس شعر کے بارے میں فرماتے ہیں ۔۔۔
"یہ شعر بالکل مہمل (بے معنی) شعر ہے، اسلام مرا ہی نہیں تھا ،زندہ ہونے کا کیا سوال ہے،اور اگر کسی درجہ میں مضمحل یا زخمی ہوا تھا تو وہ تو رہا ، کربلا کے بعد بھی رہا ، یزید کی حکومت بھی رہی، بنو امیہ کی حکومت بھی چلی، کوئی تبدیلی تو نہیں آئی، یہ کیا کہ رہے ہیں
"اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد”
میں نے کہا اسلام مرا نہیں تھا ، جیسے میں نے یہ کہا کہ ملوکیت جو ہے وہ اب شروع نہیں ہوئی بلکہ بیس برس پہلے حضرت معاویہ کے دور سے ہی شروع ہو گئی تھی”
ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اور ان کی ذہانت و فطانت کو تسلیم کرتے ہوئے ادبا عرض ہے ۔۔۔ ( یہ بھی پڑھیں ’’مرثیہ‘‘ یعنی جذبۂ دردوغم کا شعوری اظہار(منظر وپس منظر)-پروفیسر صغیر افراہیم )
کسی بھی شعر کی مکمل تفہیم و تشریح صرف ایک فرد کے بس میں نہیں گرچہ وہ بلا کا ذہین و فطین ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اشعار وہ کوہ ہوتے ہیں جن سے ایک نہیں معنی کے ہزار چشمہ پھوٹتے ہیں ، ہزار آب شارہ رواں ہوتے ہیں اور رہا انسان کا ذہن تو وہ بے چارہ اکثر اپنی طبیعت کے تناسب کی وجہ سے اور ذاتی میلانات و رجحانات کے باعث ایک ہی فلسفہ کو قبول کر کے بلکہ اس کا غلام بن کے ہر شئے اور ہر واقعہ کو اسی نقطہ سے دیکھتا، پرکھتا اور جانچتا ہے۔۔۔۔۔ کسی نے نبوی زندگی کی تبلیغ دیکھی اور بس تبلیغ کو ہی تشخیص کر رہا ہے ہر مرض کے علاج کیلئے ، کسی کی نظر نبوی زندگی کے گوشہ جہاد پر جا پڑی تو لیجئے اب نسخہ کیمیا فقط جہاد ۔۔۔۔ زندگی کی ہر کجی کا علاج واحد اب انکے یہاں صرف جہاد ہی ہے۔۔۔ کسی کی نگاہ اڑتی اڑتی نبوی اخلاق پر جا پڑی تو اب بس اخلاق ہی تریاق۔۔۔ وہ نبی کی ذات ہی ہوتی ہے جس کی نظر جامع و مانع ہوتی ہے ، ورنہ ہر دامن تنگ اور ہر نظر محدود۔۔۔۔
یہاں ہرگز یہ مقصود نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو تنگ نظر ثابت کیا جائے مگر یہ انسانی ذہن کا خاصہ ہے جسے بیان کر دینا مناسب معلوم ہوا ۔۔۔۔
نیز کسی بھی تنقید نگار اور مبصر کے تبصرہ کو اشعار کے دائرہ میں حرف آخر تسلیم نہ کر لینا چاہئے ، جیسا کہ ہمارے بعض دوست ڈاکٹر صاحب کی رائے کو نقل در نقل کر شعر کو آج بے وزن یعنی بے معنی ثابت کر دینا چاہتے ہیں ، کوکن کے مشہور و معروف نثر نگار اور بہترین شاعر منظر خیامیؔ رقم طراز ہیں –
"جب بھی کوئی تنقید نگار کسی قادر الکلام، مشاق، فطری شاعر کے شعری مطالعہ کے بعد جس طرح کی بھی رائے قائم کرتا ہے، وہ حتمی نہیں ہوتی”۔
رہی شعر کی تشریح تو بندہ کے نزدیک یہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یزید کی بیعت کے بعد ، کسی اعلانیہ مخالفت اور بڑے پیمانہ پر اظہار اعراض نہ ہونے کے سبب قریب تھا کہ سلطانِ جائر کے سامنے حق گوئی اور طاغیوں اور باغیوں کے مقابلہ میں بے باکی اور حق کی تصدیق و تصویب کی روایت جو در حقیقت اسلام کے خصائص میں سے ایک بنیادی خصوصیت ہے (بلکہ یہ کہا جائے کہ جانِ ایمان اور نشانِ اسلام ہے تو ادنی مبالغہ نہ ہوگا) وہ سیاہ الفاظ میں مقیَّد تو نظر آتی مگر تاریخ کی عملی کتاب کوئی ایسا روشن تر ورق پیش کرنے سے قاصر و عاجز ہوتی جو اس صفت کی مثال پیش کرتا اور رفتہ رفتہ اسلامی صفت کا یہ چشمہ خشک اور بے آب ہو کر رہتا مگر قربان جائیے حسین کی بے باکی پر، جذبہ شہادت پر ، حق کی محبت پر ، نانا کی شریعت کی حفاظت پر کہ انہوں نے خون کا آخری قطرہ دیکر اسلامی فکر اور اس روایت کے احیا کیلئے ایک لازوال روح مسلمانوں میں پھونک دی بلکہ ہر دور میں وہ اسلامی خلافت کی خاطر تگ و دو کرنے والوں کیلئے جذبہ اور حوصلہ کی ایسی غذا ہیں کہ کوئی بھی خلافت کی داعی تنظیم اس غذا سے تقویت لیے بغیر طاغوت کے سامنے قدم نہیں جما سکتی ، وہ حسین ہی ہیں جنکی وجہ سے مسلمانوں میں خلافت کا فلسفہ زندہ اور تابندہ ہے ، گرچہ اس کی کوئی کامل صورت اب تک قائم نہیں ہوئی مگر جو بھی تگ و دو ، دوڑ دھوپ اس سلسلہ میں ہوتی اس میں قوت محرکہ کا درجہ کربلا ہی کو حاصل ہے ۔۔۔ (یہ بھی پڑھیں اردو مرثیہ نگاری میں میر انیس کا درجہ – نکہت فاطمہ )
نیز یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ کربلا استعارہ ہے قربانی کا ،کربلا مظہر اتم ہے خدا کیلئے ہر چیز نثار کر دینے کا لہذا جب تک یہی کربلا بالفاظ دیگر یہی جذبہ قربانی جب تک ہر مسلمان کے اندر موجود نہ ہوگا ، اسلام ہوگا مگر برائے نام ، ایمان ہوگا مگر ناقص، شریعت ہوگی مگر ادھمری لہذا یہ کہنا درست ہوا
"اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد”
مزید یہ کہ ایک زندگی وہ ہوتی ہے جو موت کے بعد میسر آتی ہے ایک زندگی وہ ہے جسے نشاط ثانیہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ، تو یہ کہنا کہ اسلام کو زندگی ملنے کیلئے اس کی موت ضروری تھی جو واقع ہوئی ہی نہیں لہذا یہ شعر مہمل ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
بالکل حق بجانب نہ ہوگا
اسلام کے اہلیان میں وہ زندگی یعنی نشاط ثانیہ کربلا نے پیدا کی ، طاغوت کے سامنے ڈٹ جانے کی روایت کو سمبھالا کربلا نے دیا ، سلطانِ جائر کے سامنے کلمہ حق بولنے کے حوصلہ کو روح کربلا نے دی پھر کوئی کیوں کہے کہ یہ شعر مہمل ہے۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

