محمد دانش غنی کا شعورِ نقد و نظر : ’’ شعر کے پردے میں ‘‘ کی روشنی میں – ایم نصراللہ نصر
شعور سخن اور تنقیدی بصارت واقعی ادب شناسی کے لازمی اجزا ہیں ۔ شعر فہمی یوں تو دیکھنے میں آسان لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ چیزِ دیگر سے کم نہیں ۔ شاعر کس ماحول اور کن حالات میں شعر کہتا ہے یاا س پر شعر کی آمدکب اور کیسے ہوتی ہے۔آورد کا کیا معاملہ ہے ۔ ان محرکات کا بخوبی علم شاعر کو ہی ہوتا ہے ۔ اب جب شعر حصارِ تحریر میں آکر زینتِ قرطاس ہو جاتا ہے تو قارئین اس کے ہزار معنیٰ نکالنے شروع کر دیتے ہیں جو شاعر کے تخیل سے مماثلت بھی رکھتے ہیں ۔وسیع اور بالا تر بھی ہو جاتے ہیں اور کم فہمی کا شکار بھی ۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ شاعر نے جس شعر کو بھرتی کاشعر سمجھ کر اسے غزل میں چھوڑ دیا ہے مگر کسی مخصوص ناقد کی پارکھی نظراس شعر پر پڑتی ہے تو وہ اسے زمین سے آسمان پر پہنچا دیتا لیکن زیادہ تر ناقد اور مبصر اس کی سادہ تشریح،توضیح عام روش کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتے۔ اس سے یہ ہو تا ہے کہ شعر کے خصوصی جواہر پسِ پردہ رہ جاتے ہیں ۔ مضمون تو ہوجاتا ہے مگر نہ شاعر کی شخصیت اورنہ اصلیت ابھر پاتی ہے نہ ہی شعر برہنہ بدن ہو پاتا ہے۔ اس سے دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ناقد یا مبصر کی تنقیدی بصیرت بھی متاثر ہو کر رہ جاتی ہے یا پھر تشنۂ معنی کا شکار۔ محمد دانش غنی اس معاملے میں کس قدر کامیاب اور ناکام ہیں ان کے مضامین اس کے گواہ ہیں ۔میں ان کو کوئی سند عطا کرنا نہیں چاہتا ۔تخلیق یا تحریر خود ہی تائید اور تردید کا مجاز رکھتی ہے ۔ اسی کے پیشِ نظر میں نے جب موصوف کی شعر فہمی اور شعور نقد و نظر کے تعلق سے موقر ناقدینِ ادب کا جائزہ لیا ہے تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ محمد دانش غنی نے فضول گوئی میںخامہ فرسائی نہیں کی ہے ۔ یہ تضیع اوقات بھی نہیں، کاغذ اور سیاہی کی زیاں کاری بھی نہیں ہے بلکہ اہم کارنامہ سے کم نہیں۔ بطور ثبوت ان کے پاس پروفیسر ابن کنول ، سید معراج جامی ، پروفیسر یونس اگاسکر ، ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل اور حقانی القاسمی کے دلائل حاضرِ خدمت ہیں ۔ جنھوں نے بیک زبان محمد دانش غنی کی ذہنی بالیدگی ، شعورِ نقد و نظر کی درک کی حمایت اور طرز نگارش کی تعریف کی ہے ۔ لہٰذا میں بھی ان کی آرا سے اتفاق کرتے ہوئے ان کی تنقیدی بصارت میں کچھ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
تحقیق ،تنقید اور تجزیہ و تبصرہ ظاہری طور پر کچھ آسان عمل لگتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ان کے تقاضے کچھ اور ہیں ۔ نفسِ مضمون اور نغزتخلیق تک رسائی مشکل سے ہوتی ہے ۔ کافی مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے ۔مشاہدے سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ اسلوب اور زبان و بیان پر دسترس بھی لازمی ہے ۔لفظیات کی کشیدہ کاری اور مینا کاری کا بھی علم ہونا چاہئے تب جا کر معاملہ بنتا ہے ۔ محمد دانش غنی نے جن ادبائے ذی وقار اور شعرائے عظام کی شعری خدمات کا محاسبہ کیا ہے بیشک یہ بڑی جرأت مندی کی بات ہے ۔ ایسی شخصیات میں الطاف حسین حالیؔ ، محسن کاکوری ، علامہ اقبال ، محمد علی جوہرؔ ، حسرت موہانی ، جگر مراد آبادی ، ساحر لدھیانوی ، غنی اعجاز ، بشر نواز ، خضر ناگپوری ، قاضی فراز احمد ، شریف احمد شریف ، شمیم طارق ، ساحر شیوی، نذیر فتح پوری ، ظفر کلیم ، شکیب غوثی ، سعید کنول ، تاج الدین شاہد ، حیدر بیابانی اور اقبال سالک کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کوکن کے لوک گیت ،ودربھ میں جدید اردو غزل اور رتنا گری کی شعری روایت کے عناوین سے مفصل مضامین بھی موجود ہیں ۔ کچھ ایسے تنقیدی مکتوبات بھی شاملِ کتاب ہیں جن میں شرکائے جریدہ کی تخلیقات پر خوبصورت تنقیدی تبصرے رقم ہیں ۔ جس سے راقم کی ادب فہمی ،علمی لیاقت ،خصوصی طور پرشعری رموز و اوقاف اورصنائع و بدائع سے واقفیت عکس ریز ہے ۔ اسی بنیاد پر ناقد معتبر ادیب ِ ذی فہم اور مبصر بے مثال حقانی القاسمی کو کہنا پڑا :
’’محمد دانش غنی ایک باشعور اور زیرک قاری ہیں ۔ معاصر ادب اور اس کے رجحانات پر ان کی اچھی نظر ہے ۔ ان کی ادب فہمی پر شاید ہی کسی کو شک ہو ۔ شاعری کے تنوع ،تضاد ،تکرار اور توارد پر بھی ان کی نظر ہے ۔ صنائع و بدائع محاسن ومعائب ِ سخن سے بھی بخوبی آگاہ ہیں ۔ کلاسیکی شعری روایت اور معاصر شعری رویے سے بھی واقف ہیں اور لسانی لطافتوں اور نزاکتوں سے بھی آگاہ ہیں ۔ان کے اندرتجزیاتی قوت بھی ہے ۔اس لئے شعر فہمی کے مشکل معرکے کو انہوں نے بخوبی سر کیا ہے ۔ ‘‘ (ص۔۲۰)
اب اس بڑی سند کے بعد کچھ دیکھنے ،پرکھنے اور کہنے کو کیا رہ جاتا ہے اگر انحراف کریں تو بے ادبی اور کم مائیگی میں شمار ہوگا اور اعتراف کروں تو جانب داری کا ثبوت فراہم کرنے کے مصداق ہو گا ۔ لیکن مجھے تو ناقد محترم سے پورا اتفاق ہے اس لئے کہ ابھی میری حیثیت طفلِ مکتب سے زیادہ نہیں ۔ لیکن حقانی صاحب نے جو کہا ہے بڑے سلیقے سے اپنی بات رکھی ہے ۔سچ کیا ہے آیئے تلاش کرتے ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں منٹو کا تخلیقی جہان – امتیاز سرمد )
حالی کی اصلاحی شاعری کے تعلق سے وہ لکھتے ہیں :
’’۱۸۵۷ کی ناکام جنگ آزادی کے بعد حالی ؔنے اردو شاعری کو ایک نیا موڑ دیا ۔اسے روایتی ڈگر اور غیر صحت مند جذبات و احساسات کے دائرے سے نکال کر زندگی کا ترجمان و آئینہ دار بنایا ۔حالی کے بعد ہی اردو شاعری کو حقیقت پسندی سے وابستہ کرتے ہوئے نظم کو زندگی کے حقائق کے اظہار کا سلیقہ دیا گیا ۔ ‘‘(ص۔۲۵)
یہ بات بہت نئی نہیں ہے اور نہ کوئی نئی تحقیق میں اضافہ مگر اس حقیقت کا انکشاف قابل تحسین ضرور ہے ۔ موصوف نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ نظم نگاری (شاعری )کو گلے شکوے سے پاک کر کے فطری جذبات و احساسات کے اظہار کے لئے حالیؔ نے ہی ماحول تیار کیا جس میں سرسید احمد خاں کا بھی اچھا خاصا رول رہا ۔ دراصل یہ تحقیق کا معاملہ ہے جس میں وہ پاس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔کچھ اور تحقیق ملاحظہ فرمائیں:
’’محسن کا کوروی کی شاعری کی ابتدا نو سال کی عمر میں ایک خواب سے متاثر ہو کر ہوئی ۔ خواب میں انہوں نے حضرت محمد ؐ کا دیدار کیا اس کے بعد نعت گوئی کی شروعات کی ۔ ‘‘ص۔۳۱ )
’’ سر سید احمد خاں اردو شاعری کے فروغ کے لئے جس انداز کی نظم نگاری کا تقاضا کرتے تھے حالیؔ نے اسے پورا کر دکھایا سادہ وفطری اظہار خیال کے لئے حالیؔ کی نظمیں سب سے موزوں ہیں ۔دراصل حالی نیچرل شاعری کے علم بردار تھے۔‘‘(ص۔۲۹)
’’اقبال نے بچوں کے لئے طبع زاد ،اصلاحی ،اخلاقی اور وطنی نظمیں لکھیں اور انگریزی نظمیں اردو میں منتقل کیں وہ بچے کے ذہن کی تعمیر اسطرح کرنا چاہتے تھے جس سے وہ خدا آگاہ ہو۔صداقت شعار ہو، حریت پسند ہو ہمدردِ مجسم ہو ،غرور اور تکبر کی لعنت سے پاک ہو ، محسن شناس ہو، خدمت گزار ہو ،برائیوں سے پاک ہو اور پیکر عمل ہو۔ ‘‘(ص۔۴۳)
’’ محمد علی جوہر ایک عہد ساز شخصیت تھے ،وہ نہ صرف تاریخ کا حصہ بنے بلکہ انہوں نے نئی تاریخ رقم کی ۔ہندوستانی سیاست کو گفت و شنید کے دائرے سے نکال کر عوامی تحریک کا مزاج دینے کا بھی محمد علی جوہر کے سر ہے ۔ پہلی عدم تعاون کی تحریک کا خاکہ بھی محمد علی جوہر نے مرتب کیا تھا ،‘‘(ص۔۵۱)
مذکورہ ساری باتیں اور مزید ایسی معلومات بیشتر شعرا کے تعلق سے اس کتاب میں درج ہیں جو ایک خوبصورت تحقیق کا حصہ ہو سکتی ہیں ۔ یہ بھی سچ کے کہ اسے دہرانے کا عمل کہا جاسکتا مگر ایسی اطلاعات نئی نسل کے لئے نئی چیز ضرور ہو سکتی ہے اس لئے کہ ان کو بسیط مطالعے کی عادت نہیںبلکہ مطالعے کا شوق ہی نہیں۔ موصوف کی یہ کتاب ان کے لئے مفید اور اطلاع گزار ثابت ہو سکتی ہے ۔ ایک ایک مضمون کی احاطہ بندی میں دانش صاحب نے کافی محنت کی ہے ،کافی مطالعے سے گزرے ہیں ۔تلاش و جستجو کے زینے بھی طے کیے ہیں ،عرق ریزی اور دیدہ ریزی کا مظاہرہ بھی کیا ہے ۔ بہت رونا پڑا ہے بلبلوں کو تب بہار آئی کہ مصداق یہ چند اوراق سیاہ ہوئے ہیں ۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے کی طرح انہیں بھی رونا پڑا ہے تب یہ خوبصورت کتاب منظر عام پر آئی ہے ۔ اس کے لئے وہ بیشک مبارباد کے مستحق ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں نیا اردو افسانہ:علامت سے حقیقت تک (حصہ 1)- ڈاکٹر محمد غالب نشتر )
جہاں تک تنقید کا تعلق ہے تو اس میں انہوں نے بخالت سے کام لیا ہے ۔اس معاملے میں وہ عام روش کے شکار ہیں۔اس طرح کے مضامین لکھنے والے پہلے پسندیدہ یا باریاب اشعار کو نقل کرتے ہیں ،معنوی اعتبار سے اس کے محاسن کی بات کرتے ہیں،شعر کے نفسِ مضمون کی تعریف کے پل باندھتے ہیں اور شاعر کے تعلق سے منقولہ حوالے درج کرنے کے بعد اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں ۔ ان پر فنی گفتگو سے کترا کے نکل جاتے ہیں ۔انہیں پتہ ہو نا چاہئے کہ اتنی بات تو قاری بھی سمجھتا ہے اس لئے کچھ ایسا دریافت کریں جو قاری کے لئے نیا اور چونکانے والا ہو ۔تنقید کا حصہ ان کو اپنی گرفت سے آزاد نہ ہونے دے ۔تجسس انہیں باندھ کر رکھے اور تحیر کے وسیع خلا کی سیر کرائے ۔یہ باتیں بہت کم مقالہ نگار وںمیں نظر آتی ہیںجس کی اشد ضرورت ہے۔ دانش صاحب کی تحاریر بھی اس کا تقاضا کرتی ہیں۔ امید ہے وہ اس کا خیال رکھیں گے۔ہاں مکتوبات میں انہوں نے اس ہنر کو دکھانے کی کوشش ضرور کی ہے مگر بات اشارے اور کنائے میں ہو کر رہ گئی ہے ۔ان کو ذرا اور کھلنا چاہئے تھا۔اس لئے کہ ان کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے لیکن احترام اور خاطر احباب درمیان میں حائل ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے جو بات مجھے زیادہ متاثر کرتی رہی وہ ان کا طرز نگارش ہے ۔ موصوف کی زبان شستہ اور شائستہ ہے ۔با محاورہ بھی ہے ۔ تراکیب و استعارے کا خوب استعمال ہوا ہے الفاظ کے گہر پارے خوب لٹائے گئے ہیں ۔ تماثیل پہ تماثیل پیش کی گئی ہیں ۔ جو پڑھنے میں بیشک بھلی لگتی ہیں اور ان کی رسائی دل کے نہاں خانوں تک بھی ہوتی ہے ۔چند مثالیں ملاحظہ کریں:
’’(حالی ؔکی نظموں )میں الفاظ کی بندش ، خیالات کی پیشکش،اظہار کی تازگی ،اور زبان کا برجستہ اور بر محل استعمال ملتا ہے ۔حالی ؔ نے قومی شعور ،حب وطن ،علم کی اہمیت ،آزادی اور خودداری جیسی اعلا اقدار پیدا کرنے پر زور دیا ۔ (ص۔۲۷)
’’غزل کا فن ایمائیت اور اشاریت سے عبارت ہے ۔غزل میں لفظوں کا استعمال معنی کے اعتبار سے جامد نہیں ہوتا۔تہہ دارری اور معنی کے پرتوں کی کثرت غزل کو تاثیر عطا کرتی ہے ۔اردو شاعری کو کلاسیکی دور میں ،ترقی پسندی کے دور میں ، یا رومانیت کے دور میں جو شہرت ملی وہ جدیدیت کی تحریک کے دوران نہیں ملی۔‘‘(ص۔۱۳۰)
’’ترقی پسند تحریک نے اردو شاعری کو ایک نکھرا نکھرا سا صاف لب و لہجہ ،زبان کی مٹھاس ، صحت مند الفاظ کی آمیزش ، معیار سلاست ، روانی ،روزمرہ کے بولے جانے والے الفاظ ،جدت اور نیا پن ، ہندی و فارسی کے الفاظ کا کثرت سے مناسب استعمال ،غزل کا صاف ستھرا اور وسیع میدان، ہئیت کے تجربے اور تجزئیے، نئی اصناف کی ترقی اور امیجری وڈکشن کو ترقی عطا کی جس سے شاعر میں صحت مندرجحان منظر عام پر آیا اور اردو شاعری دنیا کے ادب میں اپنا نمایاں مقام بنانے میں کامیاب رہی۔(ص۔۱۳۳)
ان تراشوں میں جو زبان ، محاورے ، تراکیب اور استعارے استعمال کیے گئے ہیں اور لفظیات کے جو قیمتی گوہر لٹائے گئے ہیں اس بنیاد پر کہاجاسکتا ہے کہ دانش غنی صاحب خالی ہاتھ تنگ دامن نہیں ہیں بلکہ گدڑی میں لعل چھپائے ہوئے ہیں ۔ ان کو ذرا اور بے باک اور بے خوف ہونا چاہئے ۔ ان کے پاس صلاحیت کی کمی نہیں ۔ ترتیب و تہذیب،تشکیل و تعمیر کا سلیقہ موجود ہے ۔ بقول پروفیسر ابن کنول : (یہ بھی پڑھیں منٹو وارث علوی کی نظر میں – امتیاز احمد )
’’ڈاکٹر محمد دانش غنی کا شمار ایسے ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو زبان و ادب کے ماحول میں پرورش پائی اور بہت جلد نمائندہ ادیب کی حیثیت سے اپنی شناخت بھی قائم کر لی ۔‘‘
مختصر یہ کہ ڈاکٹر محمد دانش غنی آج کی نئی نسل میں ایک پُر وقار ادبی شخصیت کے طور پر ابھر رہے ہیں ۔اللہ نے مواقع بھی عطا کیے ہیں ۔والدین کی دعائیں بھی ساتھ ہیں۔دوست احباب کی پذیرائی اور اہل ادب کی توجہ کے وہ متمنی ہیں ۔امید کرتا ہوں ان کی تمنائیں شرمندۂ تعبیر ہوں گی اور مقصد حیات کی جلد ہی تکمیل بھی ہو سکتی ہے ۔ اہل ادب میں مناسب مقام و مرتبہ بھی مل سکتا ہے ۔ اردو تحقیق و تنقید میں وہ اچھا خاصہ اضافہ بھی کر سکتے ہیں ۔
وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ
جو کرتے ہیں دنیا میں محنت زیادہ
( علامہ اقبال ؔ)
ایم نصراللہ نصر
کلکتہ ( مغربی بنگال )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ماشاءاللہ۔۔۔۔ڈاکٹر محمد دانش غنی کی کتاب”شعر کے پردے میں” پرایم نصراللہ نصر صاحب نے پر مغز تبصرہ قلم بند کیا ہے جس سے کتاب کی اہمیت، افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔۔۔