میں ہوں اس کا ذات ہے جس کی کتابوں کی طرح
اور کردارِ مقدس ہے نصابوں کی طرح
میرے جیسا ایک مفلس اور مدینے کا سفر
یہ حقیقت لگ رہی ہے مجھ کو خوابوں کی طرح
روزہ محشر دیکھنا شانِ کرم سرکار کی
بدلے ہوں گے جب گنہہ میرے ثوابوں کی طرح
کون کر پایا ہے دنیا میں سوالوں کو خجل
آپ کے سرکار بن بولے جوابوں کی طرح
بخش دو اب یا نبی اپنا دیارِ محترم
در بہ در کب تک پھروں خانہ خرابوں کی طرح
مجھ کو بھی مولا دکھا دے معجزوں کا شہر وہ
کے جہاں کانٹے بھی ہیں نازک گلابوں کی طرح
اے خدا آقا کے صدقے میں بدل دے بخت کو
زندگانی ہوگئی بالکل عذابوں کی طرح
اب ہمارے عشق کا مرکز ہے وہ اہلِ کمال
خامشی جس کی تھی ہیجانی خطا بوں کی طرح
( ذکی طارق بارہ بنکوی )
سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
|

