پیاسی سبیلیں/ راجیو پرکاش ساحر – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
اکیسویں صدی کے افسانوی ادب میں راجیو پرکاش ساحر ایک اہم اور ابھرتا ہوا نام ہے۔ساحر نے اپنا تخلیقی سفر شاعری سے شروع کیا اور اس صنف میں ایک شعری مجموعہ’تعارف‘2014میں شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے اور علمی حلقوں میں اس کی پذیرائی بھی ہو رہی ہے۔ساحر نے جہاں شعری کے میدان میں اپنی انفرادیت قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی وہیں افسانوی ادب میں اپنے پہلے افسانوی مجموعے’ایک بھیگے لمحے کی لمبی سڑک‘2015میں شائع کراکے اس صنف میں بھی اپنے معاصر فکشن نگاروں میں ایک الگ شناخت قائم کی۔انھوں نے اپنے افسانوں میں غربت و افلاس، بھوک پیاس،جنسی بے راہ روی،سماجی جبر و تشدداور ظلم و بربریت کا ذکر کیا ہے وہیں دوسری طرف امن و انصاف،اتحاد، قانونی خامیوں اور سماجی برائیوں کا بھی مکمل احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ بہت زیادہ کامیاب بھی نظر آتے ہیں لیکن ان کے افسانوں کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ ان میں سائنسی فکشن کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ان کے افسانوں کی بہتر تفہیم وہی قاری کرسکتا ہے جسے سائنسی ایجادات،سائنسی اصطلاحات اور اس کے تجربات و مشاہدات سے واقفیت ہوگی نیز معلومات کے ساتھ وہی لطف اندوز ہو سکتا ہے جسے اس میدان میں دلچسپی ہو گی۔سائنسی فکر کی پیش کش ہی ان کو ان کے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے۔سائنسی ایجادات اور اس کے افکار و خیالات کو فکشن کے قالب میں ڈھالنا ایک مشکل امر ہے لیکن ساحر نے اس مشکل امر کو اپنے افسانوں میں پیش کرکے فنی اور فکری دونوں سطح پر بہت آسان کردیا ہے،اس کے لیے وہ انتہائی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ افسانوی ادب کے مختصر سے کینوس میں سائنس جیسی وسیع فکر کو سمو کر قاری کی تفہیم کے لیے راستہ آسان کر دیا۔حال ہی میں ان کا ایک اور افسانوی مجموعہ ’پیاسی سبیلیں ‘2018 میں شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔اس میں کل گیارہ افسانے شامل ہیں جس میں پہلا افسانہ ’تشنہ لبی‘ہے۔اس میں ساحر نے شہری زندگی میں زیست کے مسائل کو بیان کرتے ہوئے سیلس مارکیٹنگ کے ذاتی تجربات و مشاہدات کو بہت موثر انداز میں پیش کیا ہے۔عصری منظر نامے میں تعلیم یافتہ طبقہ دو وقت کی روٹی اور پیاس بجھانے کے لیے کیا کیا سبیلیں تلاش کرتا ہے اور کمپنی کے پروڈکٹ بیچنے میں کتنی طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے پڑھتے ہوئے آپ بہتر طور پر اندازہ کر سکتے ہیں۔ندی ،نالے دریا،تالاب اور سمندر کے پانی کے زہر آلود مادے کی صفائی کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں واٹر پیوریفائرس تیار کرتی ہیں اور اسے شہر اور گاؤں میں بیچنے کے لیے سلیس مین کو تارگیٹ دیا جاتا ہے جسے پورا کرنے کی صورت میں اس کے دو وقت کی روٹی میسر ہو تی ہے ۔آج نوجوان طبقہ ان مسائل سے کس طرح جوجھ رہا ہے اس افسانے کو پڑھ کر شدت کے ساتھ محسو س کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا افسانہ’خلائی موسیقی ‘ہے۔یہ سائنسی اور خلائی مشن کے نقطہ نظر سے ایک اہم افسانہ ہے۔اس میں سائنسی دریافت اور مذہبی افکار دونوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔افسانہ پڑھتے ہوئے قاری صرف سائنسی ایجادات سے ہی واقف نہیں ہوتا بلکہ وہ ان سیاروں سے بھی واقف ہوتا ہے جو آسمان میں چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ بلکہ وہ وہاں کی آب و ہوا ،رہن سہن اور وہاں کے لوگوں سے بھی واقف ہوتا ہے۔یہ افسانہ ایسا ہے جسے آفاقی سطح کا افسانہ کہہ سکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اب تو کچھ کرو نا – راجیو پرکاش ساحر )
اس مجموعے کا تیسرا افسانہ’شیطان نیسٹی‘بھی ایک بہت ہی اہم افسانہ ہے جسے لسانی تغیر کے ساتھ عالمی تباہ کاری کے طور پر ہونے والے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ’دھرنا استھل‘ بھی اچھا افسانہ ہے اسے پڑھتے ہوئے ہمارے ملک میں اِن دنوں جس طر ح کی لا قانونیت پھیلی ہوئی ہے اس کی خامیوں اور کمیوں کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ایک افسانہ’زنانہ پارک‘ہے جو پارکوں میں ہو رہی موجودہ سماجی برائیوں اور جنسی بے راہ رویوں کو اجاگر کرتا ہے،ساتھ ہی اعلیٰ ااور ادنیٰ طبقے کے درمیان جو طبقاتی کشمکش ہے اس کو بھی موثر انداز میں پیش کیاہے۔زنانہ پارک کو ایک طرح سے موجودہ منظر نامے میں سماجی غلاظت ،عصمت دری، جنسی بے راہ روی جیسی ہر طرح کی برائیوں کی علامت کے ساتھ تانیثی نقطہ نظر سے بھی دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ایک اور افسانہ’وزن‘ ہے جس میں علامتی زبان اور اسلوب کے ذریعے انھیں مسائل کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ اشارے ، کنایے اور طنز آمیز جملوں کے ذریعہ اصلاحی پہلوؤں پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ساتھ ہی مختلف سائنسی اور تحقیقی اصطلاحات کے ذریعے افسانے کو وسیع سے وسیع تر بنانے کی کوشش کی گئی ہے نیز اس میں ہندو مسلم اتحاد کو جہا ں تلاش کیا جا سکتا ہے وہیں باہری خطرات سے آگاہی بھی ملتی ہے۔اسی افسانے سے ملتا جلتا ایک اور افسانہ’بونے سیارے کی بد رنگ دنیا‘ہے۔اس میں بھی طنز آمیز جملوں کے ذریعہ انسانوں کو بونا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔انسانوں کے اندر سے انسانیت اس قدر ختم ہوگئی ہے کہ وہ اپنی روایتی اور پرانی قدروں کے سامنے خود کو بونا محسوس کرنے لگا ہے۔پرانی قدروں کے زوال سے انسانیت کا خاتمہ کس طرح ہوا ہے اس کی تہذیب و ثقافت اپنی ہی نظروں میں کس قدر بونا لگنے لگی ہے۔یہ تمام باتیں افسانے کی قرأت کے دوران محسوس کی جا سکتی ہیںاور ماحولیات کے مضر اثرات کو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ایک اور افسانہ’میری رات کھو گئی ہے تیرے جاگتے بدن میں‘بھی جنسی نا آسودگی کے موضوع پر ایک اہم افسانہ ہے۔اس میں جنس بھی ہے ،مذہب بھی ہے اور سائنس بھی۔گویا یہ ان تینوں کا حسین امتزاج ہے۔مذکورہ بالا افسانوں کے علاوہ ’میرا کچھ وجود و عدم نہیں‘منظر اور پیاسی سبیلیں بھی اہم افسانے ہیں جو اس مجموعے میں شامل ہیں۔ساحر کے اندر جدید تصورات کو پیش کرکے اسے افسانوی رنگ دینے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔موجودہ عہد میں جس طرح کے افسانوں کی ضرورت ہے ان تمام مسائل پر ان کی نظر گہری ہے اور مسائل کی پیش کش میں وہ ہر طرح سے کامیاب نظر آتے ہیں۔ان کے سبھی افسانے معاصر تخلیق کاروں سے کئی اعتبار سے منفرد ہیں۔اسلوبیاتی سطح پر بھی اور موضوعاتی سطح پر بھی۔سائنسی فکر ،سماجی مسائل اور مذہب کے امتزاج سے جو فکر ابھر کر سامنے آرہی ہے وہ معاصر منظرنامے پر ایک نئے طرح کی بنیاد ڈالنے کا کام کرے گی ۔امید قوی ہے کہ یہ مجموعہ علمی اور ادبی حلقوں میں پڑھا جائے گا اور اس پر کھل کر گفتگو بھی ہوگی۔ ( یہ بھی پڑھیں تحلیل ہوتا صفر – راجیو پرکاش ساحر )
(یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی سے 2018 میں شائع ہوئی ہے۔ اس کی قیمت 200 ہیں۔)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

