جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک ایسی تحریک کانام ہے، جس نے تعلیم و تربیت کو زندگی کے لیے ضروری سمجھا اور جس کے حصول کے لیے ممکنہ حد تک اقدام کیے گئے۔جامعہ ملیہ کے ابتدائی زمانے کا باالاستیعاب مطالعہ کریں تو حیران کُن مشاہدات سے فہم و ادراک کی حدیں روشن ہوتی ہیں اور نگاہِ استعجاب ایک ایسی سوچ کی آماجگاہ بن جاتی ہے، جس کا مقصد طلبا کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ قومی تہذیب اور عام انسانی زندگی کی ہر جہت کی قدر و قیمت کو سمجھ سکیں اور اپنی قابلیت و استعداد کے مطابق کسی ایک جہت سے وابستہ ہوکر نہ صرف جائز طریقے سے روزی کمائیں بلکہ مجموعی زندگی کے مفاد میں اپنا تن من دھن لگادیں۔ اسی سوچ نے تہذیبی و ثقافتی اور ادبی و تنقیدی نیز دیگر پروگراموں کو پروجیکٹ کی شکل بخشی۔ جامعہ میں چھاپا خانے کا انتظام ہوگیا تو اسی سوچ کے تحت مختلف موضوعات پر بے شمار کتابوں کی طباعت عمل میں آئی۔ "جوہر اور جامعہ” جیسے رسائل منظرِ عام پر آئے، اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر "شعبۂ تصنیف و تالیف” کی نگرانی میں "پیامِ تعلیم” کا اجرا ہوا، جس پر روشنی ڈالتے ہوئے عبدالغفّار مدہولی صاحب لکھتے ہیں:
"اپریل 1926 میں ڈاکٹرعابد حسین صاحب کی نگرانی میں پندرہ روزہ پرچہ جاری ہوا، اس میں پڑھنے پڑھانے کی تفصیل، چندوں کی تفصیل، جامعہ کے حالات شائع ہونے لگے۔ اگرچہ شروع میں اس کے صفحات کم تھے، لیکن بعد میں اضافہ ہوا اور بچوں کے لیے ہر قسم کے مفید و دلچسپ مضامین شائع ہونے لگے”۔)جامعہ کی کہانی، ص:80-81 (
اس اقتباس میں "پیام تعلیم” کی اشاعت کے حوالے سے کئی اہم باتوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی اور قابلِ ذکر بات یہ کہ "پیام تعلیم” 1926 میں سیدعابد حسین کی نگرانی میں "شعبۂ تصنیف و تالیف” سے شائع ہونا شروع ہوا۔ سید عابد حسین "شعبۂ تصنیف و تالیف” کے ناظم تھے، بعد میں”شعبۂ تصنیف و تالیف” اردو اکادمی سے بھی موسوم ہوا ۔ "پیام تعلیم” کا پہلا شمارہ زمانے کی نذر ہوگیا۔ دوسرے سے نویں شمارے تک اڈیٹر کا نام درج نہیں، البتہ دسویں شمارے سے مدیر کے طور پر سعید انصاری صاحب کا نام چھپنے لگا۔ یہ رسالہ اپنے ابتدائی زمانے میں پندرہ روزہ ہوا کرتا تھا یعنی مہینے کی سات اور بیس تاریخ کو عام میگزین سے بڑے سائز میں کل آٹھ صفحے پر محیط پابندی کے ساتھ شائع ہوتا تھا۔ شروع شروع میں قیمت فی شمارہ ایک آنہ اور زرِ سالانہ ایک روپیہ تھا۔ ضخامت کے اعتبار سے پہلی جلد حسبِ معمول رہی، لیکن جلد دو کے ابتدائی شمارے سے اس میں اضافہ ہونے لگا اور کئی سالوں تک سولہ صفحات کے ساتھ پیام تعلیم قارئین تک پہنچتا رہا، لیکن اسے جاری رکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا کہ جامعہ خود ہی محدود ذرائع آمدنی پر زندہ تھی۔ سبیل یوں پیدا ہوئی کہ جامعہ کے پرانے طلبا، چندہ دینے والی شخصیتوں، مکتبہ سے کتاب خریدنے والوں اور دوسرے مشہور لوگوں کی فہرستیں تیار کرائی گئیں، انہیں نمونے کے پرچے اور خطوط بھیجے گئے۔ ملک گیر سطح پر جامعہ کے لیے چندہ وصول کرنے والوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی، ان سے بھی مدد لی گئی۔ اس کے علاوہ سید عابد حسین صاحب نے اپنے رفقا عبدالعلیم اِحراری اور سعید انصاری کے ساتھ مل کر ایسی تجویز نکالی جس پر عمل کرنے سے لوگوں میں ہر سال نئی نئی کتابیں پڑھنے، رسالہ جامعہ اور پیامِ تعلیم کا مطالعہ کرنے کا شوق پیدا ہوسکے۔ اعلان یہ ہوا کہ جو شخص سال بھر میں چوبیس روپے دے، اسے ہر تیسرے مہینے اس کی پسند کی نئی نئی کتابیں دی جائیں گی، پھر رسالہ "جامعہ” مفت ملے گا۔ "پیامِ تعلیم” کے لیے رعایت رہے گی۔ یہی وہ کوششیں تھیں، جن سے رسالہ "پیامِ تعلیم” کی طباعت و اشاعت کا کام بحسن و خوبی مراحل طے کرنے لگا۔ اس رسالے کے ابتدائی شماروں میں فہرست شائع نہیں ہوتی تھی، لیکن مشمولات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں پڑھنے پڑھانے کی تفصیل، چندوں کی تفصیل، جامعہ کے حالات اور اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے خبریں تواتر کے ساتھ چھپتی تھیں۔ اس کے علاوہ قومی بیداری اور تعلیمِ نسواں پر مضامین بھی شاملِ اشاعت ہوتے تھے۔ "پیام تعلیم” کے موضوع و مواد پر جلد ایک، شمارہ نمبر دو کے اداریے سے بھی روشنی پڑتی ہے:
” پیامِ تعلیم نہ صرف جامعہ کی متعلّقہ چیزیں اور مضامین شائع کرے گا بلکہ ان تمام اربابِ فکر کی تعلیمی خیالات جو جامعہ میں کام کررہے ہیں یا تعلیم سے دلچسپی رکھتے ہیں شائع کرتا رہے گا۔ مزید برآں ایسی تعلیمی چیزیں جو عام دلچسپی اور فائدہ کا موجب ہوں، اکثر شائع ہوتی رہا کریں گی”۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دوسری درس گاہوں کے طریقۂ تعلیم اور اس کے نصابِ تعلیم پر بھی روشنی ڈالی جاتی تھی، ان میں زیادہ تر غیر ممالک کی درسگاہیں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں دنیا کی دوسری زبانوں مثلاً جرمن، فرانسیسی اور عربی میں لکھے گئے اچھے مضامین کے ترجمے بھی شائع ہوتے تھے۔اس وقت تک بچوں کا ادب پردۂ خفا میں تھا۔ البتہ جلد ایک کے شمارہ نمبر دو کے اداریے کی اس عبارت پر آنکھیں ضرور ٹھہرتی ہیں:
"ہم کوشش کررہے ہیں کہ پیام تعلیم میں بچوں کے لیے ایک مستقل صفحہ کا انتظام کریں۔ جو دلچسپ اور نتیجہ خیز قصوں اور تعلیمی مشوروں پر مشتمل ہو۔” ( یہ بھی پڑھیں شعر غالب کے انگریزی تراجم – پروفیسر کوثر مظہری )
یہ کوشش پہلی جلد کے ساتویں شمارے میں محمد مجیب صاحب کی جرمن زبان سے ترجمہ کی ہوئی "ایک چھوٹی کی کہانی” کے ذریعے سامنے آئی۔ اس کے بعد "پیامِ تعلیم” کے ہر شمارے میں دو ورق "بچوں کا صفحہ” کے نام سے مخصوص کردیے گئے۔ جن میں زیادہ تر محمد مجیب صاحب کی ترجمہ کردہ اور طبع زاد کہانیاں چھتیں۔ کبھی کبھار بچوں کی کوششیں بھی نظر آجاتیں۔ انعامی معمے کا اہتمام بھی کیا گیا تاکہ بچوں کی ذہنی ورزش ہوسکے اور وہ زیادہ اچھی طرح سے چیزوں کو سمجھنے کے قابل بن سکیں۔ ہندوستان کے علاوہ دنیا کے دوسری جغرافیائی خطوں اور سائنسی ایجادات کے متعلق جانکاریاں آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کی جاتیں۔ جرمنی، فرانس، سعودی عرب اور دوسرے ممالک سے آئے ہوئے خطوط کے تراجم بھی ایک مستقل کالم کی شکل میں دکھائی دینے لگے۔ تعلیم و تربیت، نصابِ تعلیم ، کوائفِ جامعہ، تعلیم نسواں اور قومی یکجہتی جیسے مستقل کالم بھی بدستور شائع ہو رہے تھے۔”پیامِ تعلیم” کے حوالے سے لوگوں کو شکایت تھی کہ اس میں بچوں کی شاعری کو جگہ نہیں دی جاتی، یہ شکایت کسی حد تک درست تھی کہ پہلی جلد میں بچوں کے لیے شعری تخلیقات شائع نہیں ہوئیں۔ سب سے پہلے جلد دو، شمارہ نمبر ایک میں منشی عبدالخالق کی نظم "فضیلتِ علم” چھپی۔ یہ نظم انہوں نے یومِ تاسیس کے موقع پر پڑھی تھی۔ اس کے بعد ہر شمارے میں بچوں کے لیے لکھا گیا شعری ادب جگہ پانے لگا۔ "پیامِ تعلیم” کے صفحات بتدریج بڑھتے گئے اور اسی مناسبت سے بچوں کے ادب میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔رسالے کی پبلیسٹی کے لیے جو اشتہار چھپتے ان میں یہ دعوا ہوتا:
"بچوں کے لیے بہترین رسالہ ہے جو ہر ماہ 7 اور 21 تاریخ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے شائع ہوتا ہے۔اس میں بچوں کے لیے سبق آموز کہانیاں اور سائنٹیفک مسائل نہایت آسان زبان میں پیش کیے جاتے ہیں”۔
رسالہ "پیام تعلیم” چھ سال کا ہوگیا تھا، لیکن درج بالا دعوے کے باوجود صُوری اور معنوی سطح پر اسے بچوں کا رسالہ نہیں کہا جاسکتا تھا، البتہ اپنے اجرا کے چھ سال بعد یعنی 1930 تک آتے آتے "پیام تعلیم” مکمل طور پر بچوں کا رسالہ بن گیا اور ایسے مضامین چھپنے لگے، جن سے بچے اسلامی تعلیمات سے آشنائی حاصل کرسکیں۔ ان میں قومی بیداری کا جذبہ ٹھاٹھیں مارنے لگے، وہ ہندوستان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک کی تہذیب و ثقافت کے متعلق بھی جانکاری حاصل کرسکیں۔ ان کے علاوہ دلچسپ کہانیاں اور خوبصورت نظمیں بدستور شائع ہوتی رہیں۔”بچوں کی کوششیں” کے تحت ان کے قلم سے نکلی ہوئی نگارشات، ادبی معمے اور مشہور جگہوں نیز شخصیات کی تصاویر کو الگ الگ صفحات پر جگہ دی جانے لگی۔ فروری 1934 میں "پیام تعلیم” پندرہ روزہ کے بجائے ماہنامہ ہوگیا۔ جس پر روشنی ڈالتے ہوئے اس وقت کے مدیر سعید انصاری صاحب لکھتے ہیں:
"اس نمبر سے پیام تعلیم بجائے مہینے میں دوبار نکلنے کے ایک دفعہ نکلے گا۔ اس فیصلے سے معلوم نہیں تم پر کیا اثر ہوگا۔ اس لیے کہ پہلے تو تمہیں اپنے پرچہ کے لیے پندرہ ہی روز انتظار کرنا پڑتا تھا، اب پندرہ روز اور بڑھ گئے”۔
ماہنامے کی شکل اخیتار کرتے ہی ٹائیٹل پیج رنگین ہوگیا اور اس کے صفحات بڑھ کر دوگنے ہوگئے۔ بحیثیت مدیر سعید انصاری صاحب کے ساتھ محمد حسین حسان کے نام کا اضافہ ہوا اور رسالہ "پیام تعلیم” بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی ذہنی و فکری آبیاری کو اپنا نصب العین بناکر ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا۔ نومبر اور دسمبر کا مشترکہ شمارہ سالگرہ نمبر کی صورت میں نکلا تو مدیر کے نام کی جگہ پر صرف محمد حسین حسان لکھا ہوا تھا۔ ان کے مدیر بننے کے بعد "پیام تعلیم” کو جیسے پنکھ لگ گئے۔ محمدحسین حسان بچوں کے فطری و نفسیاتی تقاضوں سے واقف تھے،چنانچہ انہوں نے جو بھی کہانیاں اور مضامین لکھے وہ بچوں کی ذہنی و فکری سطح اور ان کے معیار پر پورے اترتے تھے۔ حسین حسان صاحب بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں نہ صرف فکرمند رہا کرتے تھے بلکہ اس حوالے سے آئے دن منصوبے بھی بنایا کرتے تھے۔ انہوں نے چھوٹے اور بڑے بچوں کے علاوہ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی ہر طرح کے مضامین، کہانیاں اور دیگر تخلیقات شائع کیں۔ انہیں آپاجان )گرڈا فلیس بورن( کا بھی ساتھ ملا۔ یہ وہی آپاجان ہیں، جنہیں جرمن کی باشندہ ہونے کی وجہ سے احمد نگر کے قلعے میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ آپا جا ن جامعہ ملیہ میں مدرسۂ ابتدائی کی اقامت گاہ کی اتالیق تھیں۔ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ہر ممکن کوشش کرتیں۔ "بچوں کا میلہ” جس کا انعقاد تعلیمی میلے کے نام سے ہوتا ہے، انہی کے ذہن کی اپج تھا۔ انہوں نے پیامِ تعلیم میں "پیام برادری” کے نام سے ایک حلقہ قائم کیا تھا، جس کا مقصد "پیامِ تعلیم” پڑھنے والے بچوں کو خوش و خرم زندگی بسر کرنے، ان میں دوستی، محبت، اتفاق، ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ پیدا کرنے اور ان کے فرصت کے وقت کو مفید کاموں میں صرف کرنے کی طرف راغب کرنا تھا۔اس برادری کا دائرہ چند سالوں میں ہی پھیل گیا۔ بہت سے صوبوں میں اس کی شاخیں قائم ہوگئی تھیں۔ اس کے اراکین )بچوں( کی میٹینگیں ہوتیں اور ان کی روداد "پیام تعلیم” میں اہتمام کے ساتھ شائع کی جاتیں۔ وہ دوسرے ملکوں کے بچوں سے خط و کتابت کرتے، جس میں آپاجان کا بھرپور تعاون ہوتا۔ "پیام تعلیم” میں مضامین کے مقابلے، رنگ بھرنے کے مقابلے اور ایسی تمام سرگرمیاں آپا جان کی نگرانی میں ہوتی تھیں۔ اس زمانے میں بچوں کی دلچسپیوں کے مدِنظر "پیام تعلیم” میں نئی نئی کاوشیں دکھائی دیتی ہیں۔ مثلاً "رنگ بھرو” کے زمرے میں چرندوپرند کی تصاویر چھاپی جاتیں اور ان میں رنگ بھرنے کو کہا جاتا۔ اس زمانے میں کشیدہ کاری کا رواج عام تھا، لڑکیاں کپڑوں پر طرح طرح کے بیل بوٹے بناتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ چنانچہ لڑکیوں کی دلچسپیوں کا خیال رکھتے ہوئے تکیے کے خلاف کا کونا، رومال کے کونے اور اس طرح کی دوسری چیزیں چھپا کرتیں اور اس میں کیسے رنگ بھرے جائیں، اس کی وضاحت کردی جاتی ۔ اسی طرح "ہنڈکلیوں” میں طرح طرح کے کھانا تیار کرنے کے متعلق بتایا جاتا تھا۔ "دلچسپ معلومات” کے تحت دنیا بھر کی نایاب چیزوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتیں۔ ایسی تصاویر بھی چھپنے لگیں، جن سے دیہی اور شہری زندگی کا فرق واضح ہوسکے۔ نثر و نظم کی صورت میں بچوں کی کوششوں کا اضافہ ہوا، اتنا ہی نہیں بلکہ پہیلیوں اور چٹکلوں کے لیے بھی صفحات مختص کردیے گئے۔ اس ساری جدوجہد پر بچوں کی رائے مانگی جاتی، جسے "خط و کتاب” کے کالم میں چھاپا جاتا تھا۔
رسالہ "پیام تعلیم” کاسالگرہ نمبر یومِ تاسیس کے موقع پربڑے اہتمام کے ساتھ نکلتا تھا۔ دو شماروں پر مشتمل سالگرہ نمبر عموماً کسی خاص موضوع پر مبنی ہوتا ، جس کی تیاری مہینوں پہلے سے کی جاتی تھی۔ اس میں زیادہ تر جامعہ کے استاد اور طالب علموں کے مضامین ہوتے۔ 1938 کے سالگرہ نمبر کا موضوع "مشغلے اور دستکاری” تھا، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محمد حسین حسان صاحب اداریے میں لکھتے ہیں:
"پیامِ تعلیم میں مختلف مشغلوں پر مضمون چھپتے رہے ہیں اور یہ اکثر بچوں کے لکھے ہوتے ہیں۔ اس لیے طے کیا گیا ہے کہ اب کی سالگرہ نمبر پر تمام مضمون مشغلوں اور دستکاریوں پر ہی ہوں گے۔”
اس زمانے میں بچوں کے کئی دوسرے رسائل بھی نکلتے تھے، لیکن "پیامِ تعلیم کی یہ کوشش انوکھی اور دوسروں سے منفرد تھی۔ جس کا مقصد بچوں میں فرصت کے وقت میں اچھے، مفید اور دلچسپ کام کرنے کی عادت پیدا کرنا تھا۔ اسی سوچ کے ساتھ "پیامِ تعلیم” کا سالگرہ نمبر ابتدائی زمانے سے نکلتا اور بتدریج ترقی کرتا ہوا آخر کار زمانے کی چیرہ دستیوں کی نذر ہوگیا۔
"پیامِ تعلیم” کو شروع ہی سے اکابرینِ شعر و ادب کی سرپرستی حاصل رہی ہے، چنانچہ ایسے ایسے نابغۂ روزگار فنکاروں نے اس چمنِ صد برگ کی آبیاری میں اپنا خونِ جگر صرف کیا کہ ان کی طرف دیکھنا بھی سورج سے آنکھیں ملانے کے مترادف ہے۔ ان میں ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹرعابد حسین اور محمد مجیب صاحب کے اسما سرِ فہرست ہیں کہ بچوں کی ذہنی و فکری نشو و نما کے لیے انہوں نے نہ صرف طبع زاد کہانیاں، مضامین اور ڈرامے لکھے بلکہ دوسری زبانوں کی خوبصورت اور پُراثر نگارشات کے تراجم بھی کیے۔ ان کی تخلیقات پُروقار انداز میں رسالے کی زینت بنتیں۔محمدحسین حسان صاحب کے زمانۂ ادارت میں بچوں کے بہترین ڈرامہ نویس عبدالغفار، بچوں کے ممتاز و منفرد شاعر شفیع الدین نیّراور خلیل الرحمن اعظمی وغیرہ کی تحریروں نے "پیامِ تعلیم” کو وقار عطا کیا ۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صالحہ عابد حسین، مرزا ادیب، اے حمید، اطہرپرویز، مسعود احمد برکاتی، احمد جمال پاشا، بزمی بھارتی، سطوت رسول، شمس الرحمن فاروقی ، مظفرحنفی، شمیم حنفی اور دوسرے اکابرینِ شعر و ادب نے بچوں کی اس پھلواری کو سجانے سنوارنے کا کام بحسن و خوبی انجام دیا۔ اس سلسلے میں یاد رکھنا چاہیئے کہ "پیامِ تعلیم” کے مدیروں میں کئی نام ایسے تھے، جنہوں نے بچوں کے لیے خوبصورت کہانیاں، مضامین، ڈرامے اور نظمیں لکھ کر بچوں کے ادب کے ساتھ رسالے کی قدر و قیمت میں بھی اضافہ کیا۔میں "پیامِ تعلیم” کے پرانے شماروں کی ورق گردانی کررہا تھا کہ اچانک ایک صفحے پر میری نظریں مرکوز ہوگئیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جس "ابوخاں کی بکری” کواردو دنیا ڈاکٹر ذاکرحسین کی کہانی کے طور پر جانتی پہچانتی ہے، 21 جون1930 کے شمارے میں وہی کہانی رقیہ ریحانہ کے نام سے چھپی تھی۔میرا تجسّس بڑھا تو "پیامِ تعلیم” کے متعدد شماروں کو کھنگال دیا۔ ڈاکٹرذاکرحسین کا نام ایک دو جگہوں پر مخفّف یعنی ذ،ح کی صورت میں نظر آیا، لیکن رقیّہ ریحانہ کے نام سے کئی کہانیاں دکھائی دیں۔ میں نے اس خیال سے کہ ماضی کیا، حال میں بھی بعض ادیبوں نے اپنی اپنی نگارشات فرضی نام سے چھپوائیں ، پسندیدگی کی نگاہوں نے انہیں پھر اپنا نام واضح کردینے پر مجبور کردیا۔ ذہن میں ہلچل سی ہوئی اور میں نے آناًفاناً ڈاکٹر ذاکر حسین کی کتاب "ابو خاں کی بکری اور چودہ اور کہانیاں” دیکھی، جس کے دیباچے میں لکھا ہوا تھا:
"یہ کہانیاں بہت دن ہوئے رقیہ ریحانہ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ مجھے اُن ہی نے سنائی تھیں اور یہ کہہ کر سُنائی تھیں کہ کہیں پڑھی ہیں یا کسی سے سُنی ہیں مگر یاد نہیں کہ کب اور کہاں۔ میں نے ان سے پائی تھیں، اس لیے ان ہی کے نام سے پہلے شائع کیں۔ پھر رقیہ ریحانہ ہمیشہ کو رخصت ہوگئیں اور میں یہ بھی نہ پوچھ سکا کہ میں نے جس طرح ان کی کہانیوں کو لکھا ہے وہ انہیں پسند بھی ہیں یا نہیں، لیکن لکھی چونکہ میرے ہاتھ سے گئی تھیں اور لوگ اُسے جانتے ہیں، اس لیے اب انہیں اپنے ہی نام سے شائع کرتا ہوں۔”
ڈاکٹر ذاکر حسین کی بیٹیوں میں ایک کا نام رقیہ ریحانہ تھا۔ انہوں نے زندگی کی صرف پانچ بہاریں دیکھیں۔ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہانیاں سناتیں، دوسرے لوگوں کے ساتھ ذاکر صاحب دلچسپی کے ساتھ اُسے سنتے اور پھر لکھ لیتے تھے۔ ابو خاں کی بکری اور چودہ دوسری کہانیوں کی محرک چونکہ رقیہ ریحانہ تھیں، اس لیے ابتدائی زمانے میں ذاکر صاحب نے مصنف کے طور پر ان کا ہی نام استعمال کیا۔
رسالہ "پیام تعلیم” تب و تاب کے ساتھ نکلتا ہوا 1936 میں مکتبہ جامعہ، دہلی کا حصہ بن گیا۔ مدیر کی حیثیت سے محمد حسین حسان صاحب کا ہی نام چھپتا رہا۔ ولی شاہجہاں پوری نے 1975 میں رسالے کی ذمے داری سنبھالی۔ اس دوران رسالے نے اپنے مقاصد کی تکمیل اور روایت کی پاسداری کرتے ہوئے آگے کی منزلیں طے کیں۔اس زمانے میں بھی مغربی زبانوں سے بچوں کی اہم کہانیاں اور مضامین کے ترجمے شائع ہوئے۔ مجیب احمد خاں صاحب نے ٹیبورسیکلج (Tibor Sekelj) کے ایک ناول کا ترجمہ "کومے دادا” کے نام سے کیا تھا، جسے اہتمام کے ساتھ سلسلہ وار چھاپا گیا۔ شاہد علی خاں 1988 میں رسالہ "پیامِ تعلیم” کے مدیر ہوئے تو انہوں نے بھی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بچوں کی پُرتجسّس طبیعت کے مدِ نظر مہماتی ناولوں کو قسط وار چھاپنے کا اہتمام کیا۔ ان کے زمانے میں رسالہ نے ڈائجست کی شکل اختیار کرلی تھی، جو کسی بھی طرح بچوں کے رسائل سے میل نہیں کھاتا۔ دسمبر 2006 میں شاہد علی خاں کی سبکدوشی کے بعد ہمایوں ظفر زیدی نے "پیام تعلیم” کی ادارت سنبھالی۔پھر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پروفیسر محمد میاں اور پروفیسر خالدمحمود صاحب نے مدیر کی شکل میں اپنی خدمات انجام دیں۔ ان دنوں رسالہ ڈاکٹر عمران احمدعندلیپ کی نگرانی میں اپنی اصل یعنی میگزین سائز میں نکل رہا ہے۔ شاہد علی خاں کے زمانے سے اب تک نائب مدیر کے طور پر محمد محفوظ عالم "پیام تعلیم” کے ظاہری و باطنی حسن میں اضافہ کررہے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی نام ہیں، جن کو قلیل مدت ملی، لیکن انہوں نے اس تھوڑے سے عرصے میں رسالے کے معیار کو مزید بلند کرنے کی کوشش کی اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔
رسالہ "پیامِ تعلیم” منظرِعام پر آیا تو اس کی قیمت فی پرچہ ایک آنہ اور سالانہ ایک روپیہ تھی۔ زمانے کے ساتھ مہنگائی بھی بڑھتی گئی۔چنانچہ "پیامِ تعلیم” کی قیمت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ 1954 میں فی پرچہ چھ آنے اور سالانہ خریداری کے لیے چار روپے طے کی گئی۔ اس کی قیمت میں پھر اضافہ ہوا اور 1980 میں ایک شمارہ ڈیڑھ روپے اور سالانہ خریداری کے لیے سات روپے ہوگیا۔اسی سال ممالکِ غیر کے شائقین کے لیے بھی خریداری کی رقم چالیس روپے رکھی گئی۔ "پیامِ تعلیم” 1998 میں چھے روپے کا ہوگیا اور سالانہ خریداری پچاس روپے نیز غیر ممالک کے لیے پانچ سو روپے کر دی گئی۔ اس سال سرکاری اداروں نے بھی "پیامِ تعلیم کی خریداری پچھتّر روپے میں قبول کی۔ اسی طرح "پیام تعلیم” 2003 میں فی پرچہ آٹھ روپے، سالانہ ستّر، ممالکِ غیر سے نو سو اور سرکاری اداروں کے لیے ایک سو پچیس روپے ہوگئی۔ایک مرتبہ پھر قیمت میں اضافہ ہوا اور 2013 میں فی پرچہ دس روپے، سالانہ سو روپے، غیرممالک کے خریداروں کے لیے بارہ سو روپے اور سرکاری اداروں کے لیے دیڑھ سو روپے میں دستیاب تھا۔ ابھی آپ ” پیامِ تعلیم” خریدنا چاہیں تو فی پرچہ اٹھارہ روپے، سالانہ دو سو روپے ادا کرنے ہوں گے۔ اگر آپ کا تعلق کسی دوسرے ملک سے ہے تو دو ہزار روپے دے کر پورے سال "پیام تعلیم” پڑھنے کا لطف ا ٹھا سکتے ہیں، لیکن آپ ہندوستان کی کسی سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں تو ڈھائی سو روپے میں ہر ماہ کے حساب سے بارہ شمارے ڈاک سے پہنچ جائیں گے۔ اس قیمت کو زیادہ نہ سمجھئے کہ روپے کی بے قدری اور بڑھتی ہوئی منہگائی کے آگے کچھ بھی نہیں۔
بہت کم لوگوں کے ذہن میں ہوگا کہ "پیامِ تعلیم” ایک زمانے میں ہندی رسم الخط میں بھی چھپتا تھا۔ شروع شروع میں تو یہ صورت تھی کہ سیدھے ہاتھ سے کھولیے تو "پیامِ تعلیم” اردو رسم الخط میں نظر آتا اور الٹے ہاتھ سے ورق الٹائیے تو ہندی کا پرچہ ہوجاتا تھا۔ سرِ ورق ایک ساتھ دو چھپا کرتے یعنی داہنی طرف اردو کا اور بائیں جانب ہندی کا اور اسی اعتبار سے ہندی اور اردو میں مشمولات کی ترتیب بھی ہوتی تھی۔ یہ واقعہ فروری 1951 کا ہے، رسالے کے مدیر کے طور پر حامد علی خاں اور اطہر پرویز کا نام چھپا کرتا تھا۔ اس شمارے کے اداریے میں "پیامِ تعلیم” کے کچھ صفحے ہندی میں چھاپے جانے کی طرف اشارہ ملتا ہے:
"بہت دنوں سے پیامیوں کا اصرار تھا کہ پیامِ تعلیم کے کچھ صفحے ہندی میں بھی ہونے چاہئیں۔خوشی کی بات ہے کہ اب اس کا انتظام ہوگیا ہے، ہمارے اچھے ساتھی سندر لال گاندھی اس حصے کو ترتیب دیں گے۔”
اردو اور ہندی کو ایک ساتھ ملاکر کچھ ہی شمارے نکلے تھے کہ اچانک فیصلہ لیا گیا کہ دونوں رسم الخط میں الگ الگ "پیام تعلیم” کی اشاعت کی جائے۔ جس کی وضاحت مئی 1951 کے ادارے میں کی گئی اور اسی مہینے سے اردو اور ہندی میں الگ الگ "پیامِ تعلیم” نکلنے لگا۔ اس اداریے میں دونوں رسالوں کی قیمت اور سالانہ چندہ کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا:
"ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اردو اور ہندی کے پیامِ تعلیم الگ الگ نکالے جائیں، چنانچہ اس کی پہل اس خاص نمبر سے ہورہی ہے۔ آئندہ سے پیام تعلیم اردوکا سالانہ چندہ چار روپے اور فی پرچہ چھ آنے ہوگا۔ہندی کا سالانہ چندہ ڈیڑھ روپیہ اور ایک پرچے کی قیمت دو آنہ ہوگی۔”
اس کے بعد کے حالات پردۂ خفا میں ہیں کہ ہندی میں نکلنے والے "پیام تعلیم” کی اشاعت کب تک جاری رہی، وہ کیوں اور کیسے بند ہوگیا۔
سفر، وہ بھی طویل سفر تھکا دینے والا ہوتا ہے ۔ صد سالہ سفر میں "پیامِ تعلیم” بھی تکان سے چور کئی مرتبہ دم لینے کو ٹھہر سا گیا، لیکن تھوڑی ہی دیر میں جو تازگی آئی تو پھر سے رختِ سفر باندھا۔ 1954 سے 1963 کا زمانہ "پیام تعلیم” کے لیے بھاری ثابت ہوا کہ اس وقت ملک کے حالات بھی کچھ بہتر دکھائی نہیں دیتے تھے۔ انتشار و انحطاط کی کائی ہرایک چیز پر جمی ہوئی تھی۔یہ کائی جیسے ہی چھٹی "پیام تعلیم” ادبِ اطفال کے اُفق پر پھر سے طلوع ہوا اور آج بھی اس کی روشنی سے ننھے منے اذہان فیض یاب ہورہے ہیں۔”پیام تعلیم” کی دوسری اشاعت کے موقع پر ڈاکٹر ذاکر حسین اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رسالے کے مدیر حسین حسان صاحب کو اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں:
"یہ معلوم کرکے بہت خوشی ہوئی کہ "پیامِ تعلیم” دوبارہ جاری کیا جارہا ہے۔ اس پرچے کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ مجھے ہندوستان کے تقریباً ہر گوشے میں ایسے لوگ ملے ہیں جو اب اچھا لکھنے والے سمجھے جاتے ہیں اور جنہوں نے پہلے پہل کچھ "پیامِ تعلیم” کے لیے لکھا تھا۔ پھر خود آپ کا تعلق اس پرچے سے بہت پرانا ہے۔ ضرور نکالیے، یقین ہے کہ اچھا نکلے گا۔ ہاں زمانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی پسند کا معیار بلند ہوتا جارہا ہے، اس لیے پرچہ ایسا نکلے کہ نئی نسل اسے اپنائے۔ یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا”۔
زمانے نے ترقی کی تو بچوں کی ترجیحات اور پسند و ناپسند کا معیار بھی بدل گیا۔ ایک زندہ رسالے کی طرح "پیامِ تعلیم” میں بھی واضح تبدیلیاں ہوئیں۔ ان تبدلیوں کو بچوں نے بھی پسند کیا اور رسالہ تعداد کے اعتبار سے اپنی انتہائی بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہوا۔ اپنی اشاعت کے پہلے ہی سال میں "پیامِ تعلیم” تین ہزار کے ہندسے کو چھو گیا تھا۔ زمانے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا، لیکن گذشتہ چند دہائیوں میں اس تعداد میں تیزی کے ساتھ کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ رسالہ ان دنوں صرف ایک ہزار کے ہندسے کو بھی مشکل سے چھوپاتا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ رسالے میں چھپے مشمولات میں بھی نظر آتا ہے۔ ان میں گہرائی و گیرائی یا وہ معیار دکھائی نہیں دیتا جو کہ "پیام تعلیم” کی روح ہوا کرتا تھا۔اس کے پرانے شماروں کی معنویت ابھی تک قائم ہے کہ ان کے اوراق کو پلٹتے ہی دلچسپی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، لیکن آج کل "پیام تعلیم” کے جو شمارے آتے ہیں، انہیں دیکھ کر ہی جماہیاں آنے لگتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا "پیامِ تعلیم” نئے زمانے کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے پارہا ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔ اس پر مکتبہ جامعہ کے اربابِ حل و عقد کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

