مجھے کبھی پرفیسر بیگ احساس سے بالمشافہ ملاقات کا موقع میسر نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی موبائل پر گفتگو کرنے کا شرف حاصل ہوا۔البتہ ان کے نام اور کام کی وجہ سے انھیں پڑھنے کا اشتیاق پیداہوا۔دورانِ مطالعہ مجھے معلوم ہوا کہ انھوں نے کبھی کسی ادبی تحریک سے وابستہ ہو کر ادب تخلیق نہیں کیا بلکہ ان کی ذات و صفات خود ایک تحریک کا درجہ رکھتی ہے۔ان تمام باتوں کے باوصف میرے دل میں ان کی قدر و قیمت اور بڑھ گئی۔میں نے گِدھوں کے حوالے سے لکھے گئے افسانوں کا مطالعہ کیا تو ان میں پروفیسر بیگ احساس کے افسانے’’دخمہ ‘‘نے مجھے بہت متاثر کیا ۔ اس افسانے میں وہ باتیں نظر آئیں جن کی وجہ سے خاکسار قلم اٹھانے پر مجبور ہوا۔سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ GLOBLIZATION نے نہ صرف انسانی فطرت،چال ڈھال اور رہن سہن کو متاثر کیا بلکہ چرندوں اور پرندوں پر بھی اس کے اثرات نمودار ہوئے۔یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ دنیا اب ایک گاؤں بن گئی ہے اوراب ہمارے مسائل ذاتی نہ ہو کر عالمی ہو گئے ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ قدرت کے ذخائر سے انسانی چھیڑ چھاڑ نقصان دہ ہے۔ان کے اثرات ایک خطّے کو ہی متاثر نہیں کرتے بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہوتی ہے ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فضا گِدھوں کے لیے معقول نہیں رہی ساتھ ہی GLOBAL WARMINGاورFERTILIZATION کاسب سے زیادہ اثر گِدھوں نے قبول کیا۔مردار(خواہ وہ انسان ہو یا چرند پرند)کا گوشت گِدھوں کی محبوب ترین خوراک ہے۔اپنی غذا کے حاصل کرنے کے لیے یہ میلوں کا سفر طے کرتے ہیں۔لیکن 2000کے بعدغلّے کی پیداوار اور دیگر اجناس کی تعدادمیں اضافے کے علاوہ زمین کوزر خیز بنانے کے لیے کھیتوںمیں استعمال ہونے والے FERTILIZERS نے ہماری صحت کے ساتھ ساتھ گِدھوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ماضی بعید میں درختوں کی اونچی شاخوں پر گِدھ بیٹھ کر اپنے شکار کی تلاش میں ہمہ تن گوش رہتے تھے۔اسی وجہ سے گِدھوں کو ECO FRINDLYتصور کیا جاتا تھا۔یہ وبائی امراض کو روکنے میں انسانوں کامددگار ہے۔ 1980کی دہائی میں ہندوستان میں سفید پونچھ والے گِدھوں کی تعداد 80میلین سے زیادہ تھی لیکن سال2016تک ان کی تعدادصرف40000رہ گئی ہے۔گلوبل وارمنگ کے سبب ان کی تعداد میں روز بروز کمی ہوتی جا رہی ہے ۔(یہ بھی پڑھیں بیگ احساس کا افسانہ کھائی – نثار انجم )
پروفیسر بیگ احساس کو2017میں ان کے افسانوی مجموعے’دخمہ‘پر ساہتیہ اکادمی انعام دیا گیا۔یہ مجموعہ پہلی بار 2015 میں منظرِ عام پر آیا اور دوسری بار 2020میں۔لیکن اس مجموعے کے زیادہ تر افسانے 2015سے قبل ہی رسائل و جرائد میں شائع ہو کر قارئین اور ناقدین سے دادِ تحسین حاصل کرچکے تھے۔ بالخصوص افسانہ دخمہ اپنے بیانیہ،اسلوب، اقلیتی مسائل(مسلم اور پارسی)، ختم ہوتی ہوئی رواداری ،ٹوٹتی ہوئی قدریںتقسیمِ ہند کے بعد حیدرآبادکی شناخت اور تشخص کو قائم رکھنے کی کسک،مذہبی کٹر پن کی مخالفت اور گِدھوں کی کم ہوتی تعداد کی وجہ سے موضوعِ بحث بنا۔پرفیسر گوپی چند نارنگ نے2013میں نیشنل بُک ٹرسٹ، نئی دہلی سے شائع کتاب’’آج کی کہانیاں‘‘میں’’ دخمہ ‘‘کو بیگ احساس کا نمایندہ افسانہ تسلیم کیا ہے۔’’دخمہ‘‘ میںکُل 11افسانے شامل جن کا تجزیہ ’’ابتدائیہ‘‘ کی شکل میں پاکستان کے مشہور ادیب و ناقدمرزا حامد بیگ نے کیا ہے۔
’’دخمہ‘‘کہانی میں پروفیسر بیگ احساس نے پارسیوں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی رشتوں کے علاوہ گِدھوں کا پارسی قبرستان کی جانب رُخ نہ کرنے کا المیہ ،حیدرآباد شہر کی مٹتی ہوئی تہذیب،رواداری اور آبادی کے تناسب میں بے تحاشہ اضافے کو پیش کیا ہے۔بیگ احساس نے آزادی سے قبل آصف جاہی حکومت میں پارسیوں کے مقام و مرتبے پر بھی تنقیدی و تحقیقی نگاہ ڈالی ہے۔ پارسی گٹہ اور دخمہ کا احوال پر سوز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔راوی نے بچپن میں اپنی بھانجی کے ساتھ پارسی گٹہ کی جانب جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ گِدھوں کے جھنڈ کے جھنڈ ’دخمہ ‘‘پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور چند منٹوں میں وہ نعش کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔راوی پارسی گٹہ کے چوکی دار سے معلوم کرتا ہے کہ یہ گِدھ کہاں سے آتے ہیں۔اس وقت چوکی دار راوی کے کان میں پھسپھساتا ہے کہ جب زمین پر چینی گِر جاتی ہے تو چینٹی کہاں سے آتی ہیں؟ٹھیک اسی طرح گِدھ بھی اپنی خوراک کو دیکھ کر دور سے کھنچے چلے جاتے ہیں۔یہ باتیں آزادی سے قبل کی تھیں۔لیکن تقسیمِ ہند کے بعد حیدرآباد شہر کی شکل و صورت ،تہذیب ،نشست و برخاست اور آداب و احترام میں تبدیلیاں نمودار ہوئیں۔پرانے شہر سے لوگ نکل کر اس کے اطراف میں بسنے لگے۔نیا شہر بے ترتیب طریقے سے آباد ہوا۔یہاں بھانت بھانت کے لوگ جمع ہو گئے ۔کسی کو کسی کی تہذیب ،قدروں اور اخلاقیات کا ذرا بھی خیال نہ تھا ۔ہر انسان کے اندر اپنی دنیا آباد تھی۔شہر کے بہت سے لوگ مغربی ممالک میں روزی روٹی کی تلاش میں چلے گئے۔عمر کے آخری پڑاؤ پر وہ بھی حیدرآباد واپس آگئے ۔راوی کا دوست جو امریکہ چلاگیا تھا وہ بھی لوٹ کر حیدرآباد آ یا اور راوی سے درخواست کی کہ اسے حیدرآباد شہر کی ہر اُس جگہ تک لے جائے جو انھوں نے ایک ساتھ اپنا وقت گزارا تھا۔یادِ ماضی کے سنہرے اوراق کو پلٹے ہوئے اورحیدرآباد شہر کی سیر کرنے پر معلوم ہوا کہ اب شہر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے ۔آخر کار راوی اپنے دوست کو حیدرآباد شہر کے مشہورمے کدہ MAI KADA EST:1904لے جاتا ہے ۔اس مے کدے کا مالک سہراب نامی پارسی تھا۔اتفاق سے وہ مے کدہ بند تھا ۔معلوم ہوا کہ اب یہ مکمل طور سے بند ہو گیا ہے۔دونوں سہراب کے گھر کا پتا معلوم کرنے کے بعد اس سے ملتے ہیں۔تینوں کے مابین باتوں کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔بات ذاتی کٹّر پن سے شروع ہوکر مذہبی کٹّر پن تک پہنچ جاتی ہے۔سہراب کا مے کدہ مسلمانوں کی اس شکایت کے بعد بند کیا گیا کہ یہاں سے مسجد صرف سو قدم کے فاصلے پر ہے۔سہراب راوی اور اس کے دوست کو بتاتا ہے کہ پارسیوں نے آصف جاہی حکومت میں وہ دور بھی دیکھا تھا جب لوگ فلم کے انٹرویل کے دوران نماز ادا کر کے واپس اپنی سیٹ پر آتے تھے۔نظام شاہی حکومت میں پارسیوں کو اعلا عہدوں کے ساتھ اعزازات سے نوازا گیا تھا۔
سہراب اس بات پر بھی افسردہ ہے کہ اب پارسی لوگوں کی تعداد میں روز بروز کمی ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ وہ اپنی برادری کے علاوہ کسی دوسری برادری میں شادی نہیں کرتے۔سہراب راوی کو یہ بھی بتاتا ہے کہ بہت سے پارسی نعش کو دخمہ کی چھت پر برہنہ رکھنے کے بعد گِدھوں کے انتظار کے خلاف ہیں۔ایک طبقہ ایسا ہے جو نعش کو الیکٹرانک طریقے سے جلا دینا چاہتا ہے اور ایک طبقہ قدیم طریقۂ کار کا حمائتی ہے۔لیکن جب راوی اس سے معلوم کرتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد کس طرح کی رسومات کو پسند کرے گا؟اس کے جواب میں سہراب قدیم طریقے کو پسند کرتا ہے۔لیکن جب راوی یہ معلوم کرتا ہے کہ اب گِدھ پارسی گٹہ کے دخمہ پرنعش کو اپنا نوالہ بنانے نہیں آتے تواس پر سہراب کہتا ہے کہ کوئی جب کوئی نیک پارسی مرے گا تو گِدھ خود بہ خود چلے آئیں گے۔ (یہ بھی پڑھیں بیگ احساس کے افسانوں میں ہندوستانی معاشرت کی عکاسی-ڈاکٹر احمد علی جوہر )
آخر وہ دن بھی آیا جب راوی کے سامنے سہراب کی نعش تھی اوربہت سے پارسی لوگ سہراب کے برہنہ جسم کو دخمہ کی چھت پر چھوڑ کر اس انتظار میں کھڑے ہو گئے کہ دیکھتے ہیں گِدھ آتے ہیں یا نہیں۔اچانک راوی دیکھتا ہے کہ گِدھوں کا ایک چھنڈ تیزی کے ساتھ دخمہ پر رکھی سہراب کی نعش کے ارد گرد منڈراتا ہوا اس کو اپنا نوالہ بنا رہا ہے۔تقریباً بیس سال بعداس منظر کو دیکھ کر راوی اور پارسی لوگوں کے چہرے کھل اُٹھے ۔
پروفیسر بیگ احساس نے افسانہ دخمہ میںاقلیتی ذہنی کشمکش کو نفسیاتی طور پر پیش کیا ہے۔در اصل اس افسانے میں موصوف نے قاری کی توجہ اُن امور کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی جن کا تعلق ہماری مشترکہ تہذیب سے ہے۔افسانے میں کئی جگہ اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا کہ نظام شاہی دور کے مقابل آزادی کے بعد سیاست نے اپنا رنگ اور چولابدلا اور اقلیتوں کے مسائل کو حکومت نے اپنے ترجیحی ایجینڈے میں رکھا۔خود سہراب نے یہ محسوس کیا اور دورانِ گفتگو راوی سے اس کا برملا اظہار بھی کیا کہ مسلمان اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔اگر حکومت ان کی آواز کو نہیں سنے گی تو اس پر جانب داری کا الزام عائد ہو جائے گا۔سہراب کا مے کدہ اقلیتی سیاست کا نشانہ بنا۔موصوف نے دخمہ میں پارسی لوگوں کی تعداد میں روز بروز ہونے والی کمی کو قارئین کے سامنے پیش کیا۔ہندوستان میں آج پارسی لوگوںکی تعداد انگلیوں پر گننے لائق رہ گئی ہے۔پروفیسر بیگ احساس نے گِدھوں کی گھٹتی ہوئی تعداد کو پارسی لوگوں کی تعداد سے مشابہ قرار دیا ہے۔افسانے کی خوش آیند بات یہ ہے کہ موصوف نے سچ اور جھوٹ ،نیکی اور بدی کو گِدھوں کے جھنڈ کو نعش کے قریب چکر لگانے سے جس انداز میں بیان کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔یہاں تک کہ پارسی گٹہ کا کتا سگ دید کی ہیجانی کیفیت بھی سچ اور جھوٹ کے رزمیے سے منسوب کی گئی ہے۔جزئیات نگاری ،منفرد اسلوب اور بیانیہ افسانے کا خاص وصف ہے۔اس کی بنیاد پر دخمہ کا خمیر اٹھایا گیا ہے۔دورِ حاضر کے تناظر میں اگر اس افسانے کے ڈسکورس پر بات کی جائے تو اسے اقلیتوں(چرندوں ،پرندوں اور انسانوں) کیسچ اور جھوٹ کے اعمال نامے کی تثلیث کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
(مضمون نگار کا مختصر تعارف ڈاکٹر ابراہیم افسر)
BRAHEEM AFSAR
WARD NO-1,MEHPA CHAURAHA
SIWAL KHAS,MEERUT U.P 250501 MOB 9897012528
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

