اردو شعروادب میں طنزو مزاح نگاری کی روایت خاصی قدیم اور وقیع ہے۔ جعفرؔزٹلی سے تاحال کئی اردو شعرا نے طنزو مزاح کے ذریعے اپنے کلام کو دلچسپ بامعنی اور پُرلطف بنانے کی سعی کی ہے لیکن ایسے شعرا کی تعداد زیادہ نہیں ہے جنھیں کُلّیتاًیا پورے طور پر طنزو مزاح نگار کہا جاسکے۔ البتہ ایسے شعر اکی تعداد زیادہ ہے جنھوں نے سنجیدہ گوئی کے ساتھ ساتھ طنزیہ، مزاحیہ انداز اختیار کرکے اپنے کلام کو شفق رنگ اور پُرتاثیر بنالیا ہے۔ سوداؔ، میرؔ، انشاؔ، نظیرؔ، غالبؔ، شبلیؔ نعمانی، اقبالؔ، داغؔ، جوشؔ، ساحرؔ لدھیانوی وغیرہ ایسے شعرا ہیں جنھوںنے جزوی طور پر طنزومزاح کو اختیار کیا لیکن جعفرزؔٹلی کے بعد رنگینؔ، جرأتؔ، جانؔ صاحب، مجید لاہوری، احمقؔ پھپھوندوی، سید محمد جعفریؔ، دلاور فگارؔ، رضا نقوی واہیؔ اور ساغرؔ خیّامی وغیرہ کو خالصتاً مزاحیہ شعرا کی صف میں اور اکبرؔالٰہ آبادی، یاس یگانہ چنگیزی، شادؔعارفی وغیرہ کو خالص طنزنگار شعرا میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
طنزو مزاح سے متعلق عام تصور یہ ہے کہ یہ دونوں اسالیب و عناصر حالات کی نامساعدت، شخصیت کے مضحک پہلو، محروی کے احساس، تہذیب اور اخلاقی قدروں کی پامالی، ظلم و زیادتی اور سماجی بے راہ روی سے پیدا ہوتے ہیں۔ گویا بعض مخصوص حالات فنکار کو طنزو مزاح نگار بننے پر مجبور کردیتے ہیں۔طنزو مزاح دونوں ہی وہبی اور فطری صلاحیتیں ہیں جو کہ فنکار کے مخصوص، ماحول اور طرزِ فکر کے سبب پیدا ہوتی ہیں جن کے سبب اس کے فن میں شوخی، ظرافت، لطافت، چُبھن، نشتریت اور بصیرت کی ایسی خوبیاں پیدا ہوجاتی ہیں جو قاری یا سامع کو بھی متاثر کرتی ہیں اور دلداری اور دل بستگی کے ساتھ ساتھ اصلاح و عمل کی تلقین کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ طنزو مزاح نگار، عام فنکار کے مقابلے میں قدرے اضافی صلاحیتوں کا حامل ہوتاہے۔ اس کے لیے غیر معمولی ذہانت، مشاہدے کی شدّت، احساس کی وسعت اور پُرلطف اظہارِ بیان کی صلاحیت ضروری ہے۔
اکبرؔالٰہ آبادی کی طرح شادؔ عارفی کا شمار بھی اردو کے اہم طنز نگار شعرا میں ہوتا ہے۔ اکبرؔالٰہ آبادی کی طرح شادؔعارفی بھی ذکی الحِس، وسیع المشاہدہ، بیدار ذہن، بے باک اور حق گو فنکار تھے۔ ان کے کلا م کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا طنزیہ انداز محض ان کی افتادِ طبع کا عکّاس ہی نہیں ہے بلکہ ان کے نجی اور ان کے عہد کے مخصوص سیاسی، سماجی، تہذیبی اور معاشی حالات کا نتیجہ بھی ہے۔ بالفاظ دیگر مزاج کی حسّاسیت حالات کی نامساعدت، اپنوں کی بے اعتنائی، تہذیبی قدروں کے زوال نے انھیں طنزنگار بننے پر مجبور کردیا تھا۔ سماجی بے راہ روی، مصلحت پسندی، دربارداری، خوشامد، ابن الوقتی، خود غرضی، خود ستائی، خود اشتہاریت، خود پسندی، خود نمائی اور منافقت جیسے عوامل کو وہ انسانیت اور اخلاقی شرافت کے منافی متصوّر کرتے تھے۔ چنانچہ انفرادی یا اجتماعی سطحوں پر یہ عوامل انھیں جہاں بھی نظر آجاتے تھے وہ ان کے خلاف آوازِ احتجاج بلند کیے بغیر نہ رہتے تھے۔ جعفرزٹلی کا دردناک انجام شادؔعارفی کے سامنے تھا۔ حق گوئی، بے باکی اور طنزنگاری کے نتائج سے وہ نہ صرف بخوبی واقف تھے بلکہ اس کے سبب زندگی بھر انھیں سازشوں، پریشانیوں، مصیبتوں، نفرتوں، محرومیوں اور ناآسودگیوں سے دوچار ہونا پڑا لیکن وہ حق گوئی اور بے باکی کے فریضے کی ادائیگی سے باز نہیں آئے۔ غالبؔ کے شعر ؎
موجِ خوں سر سے گذر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اُٹھ جائیں کیا
کے مصداق ہر ظلم سہنے اور غم برداشت کرنے کے باوجود انھوں نے حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا یہ شعر ان کے اسی خیال و مزاج کی غمّازی کرتا ہے ؎
یہ فنِّ طنز، مِرے حق میں در حقیقت شادؔ
’بہت بڑا المیہ ہے، اختصار کے ساتھ
شادؔ عارفی نے مذکورہ بالا مقطع کی وضاحت کرتے ہوئے آل احمد سرورؔ کے نام خط میں لکھا تھا :
’’… یعنی اس مقطعے میں میری تمام زندگی اور اس کی الجھنوں کا تجزیہ ہے۔ ریاست کے زمانے میں مجھے، میرے تنقیدی جائزوں سے تنگ آکر نواب رام پور اور ان کے اربابِ حل و عقد نے تو ’’ففتھ کالومسٹ‘‘، ’’اشتراکی‘‘، ’’کمیونسٹ‘‘، ’’کافر‘‘ اور نہ جانے کیا کیا ٹھہرایا۔ اس لیے کبھی سرکاری ملازمت مِل ہی نہ سکی … حُکّامانِ رام پور کو جب معلوم ہوتا کہ میں فُلاں جگہ ٹیوشن کرتا ہوں تو وہاں کہہ کر جواب دلوایا جاتا رہا، ملازمتیں ختم کرائی جاتی رہیں، جس کے نتیجے میں میرا طنز اور تیزہوتا گیا۔ فولاد لچکتا نہیں ٹوٹ جاتا ہے چنانچہ میں نہ لچنا تھا، نہ لچا۔‘‘
شادؔ عارفی کی پوری زندگی گونا گوں غم و آلام میں بسر ہوئی۔ انھوں نے زندگی سے جو کچھ حاصل کیا، اسی کو بعینہ اپنے شعروں میں ڈھال دیا ہے۔ حق گوئی، بے باکی اور بے ریائی اُن کی شخصیت کی کمزوری بھی تھی، مجبوری اور خوبی بھی! ایک خط میں انھوں نے لکھا ہے :
’’میری سب سے بڑی کمزوری (جس کو میں اپنی دانست میں سب سے بڑی خوبی سمجھتا ہوں) یہ ہے کہ انتہائی ضرورت کے وقت بھی دھوکہ اور فریب نہیں کرتا، نہ جھوٹ بول کر فائدہ اُٹھاسکتا ہوں …‘‘
شادؔ عارفی کی غزلوں، نظموں، گیتوں، قطعات اور خطوط غرض کہ ان کی ہر تحریر و تخلیق میں حقیقت بیانی اور طنزو نشتریت نمایاں نظر آتی ہے، بقولِ خود ؎
گیت، افسانہ، رباعی، داستاں، نغمہ، غزل
سیکڑوں سانچوں میں ڈھالا ہے غمِ حالات کو
٭
عظمتِ فن کی روایات کو مرنے نہ دیا
شعر سے بچ کے کوئی ظلم گزرنے نہ دیا
٭
فکرِ ہرکس بہ قدرِ ہمتِ اوست
بھینس کے آگے بین مجھ سے نہ بجی
٭
اغیار کی فطرت ہی ’درست‘ اور ’بجا‘ ہے
اور ہم سے غلط بات پہ ’جی ہاں‘ نہیں ہوتا
٭
شادؔ مجھے یہ دُھن رہتی ہے
اپنا نغمہ، اپنی لَے ہو
٭
ہم سے اس قسم کی امّید نہ رکھے دنیا
ہم کسی شخص کی تعریف تو کرتے ہی نہیں
٭
بے کسوں پر ظلم ڈھاکر طنز فرمایا گیا
طنز کی جانب میں خود آیا نہیں، لایا گیا
شادؔ عارفی دراصل تنقیدِ حیات کے شاعر تھے۔ غزل کا فن کار گہِ شیشہ گری سے عبارت ہے اس میں جمال کی جگہ جلال اور گُل افشانیٔ گفتار کے بجائے طنزو نشتریت پیدا کرنا قادر الکلامی پر دال ہے۔ ان کے یہ اشعار میرے اس خیال کی تائید کرتے ہیں :
جلال کو بھی وقت نے سمودیا ہے شعر میں
غزل کا مطمحِ نظر جمال ہی نہیں رہا
٭
شباب و خلوت کی بات اچّھی تو ہے مگر آجکل نہ کہیے
غزل برائے حیات لکھیے، غزل برائے غزل نہ کہیے
٭
نقدِ ماحول کہ فن ہے میرا
ہر طرف روئے سخن ہے میرا
شادؔ عارفی سچّے محبِ وطن تھے۔ ہر طرح کی تکالیف برداشت کرنے اور پاکستانی دوستوں کے پیہم اصرار کے باوجود، وطنِ عزیز رام پور کی گلیاں انھیں عزیز تھیں۔ ان کے ان اشعارسے ان کی وطن پرستی کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔
منتظر ہے پاکستان اور میں نہ جائوں گا
برہمن کے مصرعے پر طبع آزمائوں گا
٭
وطن کی اس سرزمیں کو اے شادؔ کون سے دل سے چھوڑدیں ہم
وطن کی جس سرزمیں پہ گزرا ہے دورِ دار و رَسن ہمارا
صاف گوئی اور طنز نگاری کے سبب شادؔعارفی کے اشعار میں نغمگی کم اور تیکھا اور سپاٹ پن زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے اکثر شعروں میں گفتگو یا مکالمہ طرازی کاانداز پیدا ہوگیا ہے مثلاً :
آپ کے تیور بتاتے ہیں، بُرا مت مانیے
آپ سے کوئی اصولی کام ہونے سے رہا
٭
جب چلی اپنوں کی گردن پر چلی
چوم لوں منہ آپ کی تلوار کا
٭
وہ ہمیں تلقین فرماتے ہیں ایسے مشورے
جیسے اندھے سے کہا جائے کہ ’بائیں ہاتھ کو‘
٭
آپ کو کتنی اذیّت ہوگی
میں اگر آپ کی باتوں میں نہ آئوں
٭
اس نے جب سو تیر چلائے
میںنے ایک غزل چپکا دی
٭
میں نے نزدیک سے دیکھا ہے اُسے
وہ نہیں ہے کہ جو مشہور ہے وہ
شادؔ عارفی کے یہ اشعار اس امر کا ثبوت ہیں کہ وہ ایک صاف، کھرے انسان اور فطری شاعر تھے۔ بقولِ مظفر حنفی :
’’شادؔ عارفی چومکھی لڑے … اُن کا ظاہر بالکل ویسا تھا جیسا ان کا باطن۔ ایسے لوگ دوست کم پیدا کرتے ہیں، دشمن زیادہ بناتے ہیں، چنانچہ یہی ہوا بھی۔‘‘
اگرچہ شادؔ عارفی نظریاتی طور پر ترقّی پسند نہیں تھے اور نہ ہی انھوں نے ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستگی کا اظہار کیا ہے لیکن لہجے کی تمازت، فکری، موضوعی اور عملی اعتبار سے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے سبب اُن کی شاعری ترقی پسندانہ فکرو معیار سے قریب تر نظر آتی ہے۔ وہ اعلیٰ انسانی اقدار اور احترامِ آدمیت کے شاعر تھے کہ انھوں نے شاعری کو سماج اور زندگی سے علاحدہ نہیں سمجھا۔ اُن کے ان اشعار سے ان کے ترقی پسندانہ فکرو خیال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ؎
ہم خدا کے ہیں، وطن سرکار کا
حکم چلتا ہے مگر زردار کا
خشک لب کھیتوں کو پانی چاہیے
کیا کریں گے ابرِ گوہر بار کا
٭
سینک سکتے ہیں آپ بھی آنکھیں
جل رہے ہیں نشیمنوں کے الائو
٭
یہاں چراغ تلے لوٗٹ ہے، اندھیرا ہے
کہاں چراغ جلانے کی بات کرتا ہوں
مالی کے اُترے چہرے پہ کچھ رونق سی آجاتی ہے
جب پھولوں کے مُرجھانے کو موسم کی خرابی کہتا ہوں
٭
رنگ کو دھوپ کھاگئی، بوُ کو ہوا اُڑا گئی
کہیے اس اعتبار سے آئی بہار یا گئی
٭
ظالموں کی دل لگی تکمیل پاتی ہے یونہی
بے ضرر مخلوق کو دنیا ستاتی ہے یونہی
٭
ہمارے ہاں کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھِری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
٭
کیا تعجب ہے کہ تیشوں کی طرف بڑھ جائیں
لوگ ہاتھوں کو سوالوں سے جو مہلت دیں گے
٭
جس کی لاٹھی، اُسی کی بھینس ہے آج
کیا اُسی کو کہیں گے جنتا راج؟
٭
اِک انقلاب دیکھ رہا ہوں چمن چمن
میری نظر جہاں ہے، تمہاری نظر نہیں
شادؔ عارفی کے کلام کو جہاں ترقی پسند نظریات سے قریب تر سمجھا جاتا ہے وہیں صاف گوئی اور جدّت طرازی کے سب اُنھیں نئی غزل کے بنیاد گزاروں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
بقولِ شمس الرحمن فاروقی :
’’اُن کا تیور نئے مزاج کی فریبِ شکستگی سے زیادہ قریب تر ہے … یہ نئی غزل کی طرف اشارہ کرتی ہے لیکن خود نئی نہیں ہے… انھوں نے شاعرانہ موضوعات کی کچّی عمارت ڈھادی اور یہ دکھایا کہ خلّاقانہ ذہن کے لیے ہر موضوع شعر کا موضوع بن سکتا ہے…‘‘
(ماخوذ : ’فنون‘ لاہور، جدید غزل نمبر)
بہرحال شاد عارفی کی شاعری کا خمیر زندگی اور سماج کے سچّے مسائل سے اُٹھاہے اس لیے اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی سچّائی ہے اور سچّی بات کیونکہ تلخ و تُند ہوتی ہے اس لیے جابروں اور ناحق پسندوں کے لیے تیرو نشتر بن جاتی ہے۔ شادؔ عارفی نے کلام میں نشتریت پیدا کرنے کے لئے محض سچّے موضوعات کو ہی عنوان نہیں بنایا بلکہ زبان کے خلّاقانہ استعمال اور مخصوص طنزیہ لہجے نے اسے مزید تیکھا، تُند اور تلخ بنادیا ہے۔ کلامِ شادؔ اِسی وصف خاص سے عبارت ہے۔ بطورِ نمونہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے :
اصطلاحاً بُرے کو بَھلا کہہ دیا
یعنی گالی نہ دی، رہنما کہہ دیا
٭
یہ تو بدنام کررہے ہیں لوگ
قاتلوں میں تِرا شمار کہاں؟
٭
تمہیں رہبر سمجھنا پڑ گیا ہے
ہماری بے کسی کی انتہا ہے
٭
لاکھوں ہیں ہم سب بے چارے
اے شہزادو ! تم کَے ہو؟
٭
کل تھا لیکن آج نہیں ہے
طاقت وَر کا ٹھینگا سَر پر
کلامِ شادؔ کا یہ طنزآمیز اکّھڑلہجہ دراصل ان کے اس مزاج و ماحول کی دین ہے جس نے انھیں صاحبِ طرز شاعر بھی بنادیا ہے اور جو ان کی پہچان بھی بن گیا ہے۔
شادؔعارفی کے طنزیہ اسلوب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ تو مصنوعی ہے اور نہ ہی آورد کا نتیجہ ہے۔ وہ احوالِ واقعی کا ایسا فطری اظہار ہے جو انھیں معاصرین میں ہی نہیں اردو کی طنزیہ شاعری میں منفرد و ممتاز مقام عطا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
شادؔ عارفی کی زندگی کے حالات اوران کا تخلص شادؔ بجائے خود طنز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی طنزیہ اسلوب ان کی شخصیت اور شاعری کے لیے ایسا لازمی جُزبن گیا ہے کہ جسے علیحدہ کرکے دیکھایا سوچا نہیں جاسکتا۔
اُن کے یہ اشعار ان کی شخصیت اور شاعری دونوں پر صادق آتے ہیں ؎
اے شادؔ میں اکثر غزلوں میں، اے شادؔ میں اکثر نظموں میں
مجھ پہ صادق آتی ہے ایسی جگ بیتی کہتا ہوں
٭
یہی ہے شادؔ میں سب سے بڑا عیب
وہی لکھتا ہے، جو کچھ دیکھتا ہے
شادؔ عارفی ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کا یہ شعر نہ صرف ہمیشہ اُن کی یاد تازہ کرتا رہے گا بلکہ سوال بن کر آنے والی نسل کے ذہنوں میں گونجتا رہے گا ؎
شادؔ ضعیف العمر ہے، اس کے شعر جواں ہوتے ہیں
ایسے لوگ کہاں ہوتے تھے، ایسے لوگ کہاں ہوتے ہیں؟
٭٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

