عظیم آباد تو رہتا ضرور ہوں لیکن
میں سہسرام کی مٹّی ہوں ، سہسرام کا ہوں
(سلطان اختر)
صدیاں گزر گئیں لیکن جہان ِ علم وادب میں گزرانِ وقت کے علمی وادبی اور تخلیقی کارناموں اور دیگر تہذیبی وثقافتی سرگرمیوں کے تناظر میں ہمارے ذخیرۂ ادب و تاریخ کے ابواب روشن اور تابناک ہیں۔ چنانچہ جب کبھی ہم کسی مخصوص عہد یا پھر کسی مخصوص نامور شخصیت کا مطالعہ کرنا چاہیں ، خواہ اس شخصیت کا تعلق ماضی کے شاہانِ وقت سے رہا ہویا بعد کے عہد سے۔۔۔۔ بہر حال اس کی تفصیل میں جانے کے لئے ہمیں اوراقِ پارینہ سے ذہنی وابستگی قائم کرنا لازمی ٹھہرا — اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ ہماری دھرتی ، ہماری مقدس سرزمین پر کیسے کیسے فن پارے ، جواہر پارے ، ہمارے بزرگانِ علم وادب نے چھوڑ رکھے ہیں اور ان میں بعض یادگاریں تو ایسی ہیں کہ جن کا تعلق اپنے زمانے میں رائج فارسی ہندوی اور اودھی— بھوجپوری وغیرہ علاقائی زبانوں سے رہا ہے ۔ ہر چند کہ ہمارے جدید ذخیرہ ٔ ادب کی زبان زیادہ تر اُردو ۔فارسی رہی ہے۔ اوریہ بھی سچ ہے کہ زمانۂ غدر کے ناسازگار ماحول میں بھی ہمارے مشاہیر شعرا وادبا اپنے عہد کی تاریخیں قلم بند کرتے رہے ہیں۔
سند رہے کہ ہندوستان کی آزادی سے قبل تک اُردو زبان کسی مخصوص مذہب ، ذات برادری یا کسی مخصوص علاقے کی زبان نہیں تھی۔ بلکہ یہ ہماری مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان رہی ہے اورہے۔ بقول صاحبِ طرز ادیب ونقادحقانی القاسمی:’’یہ زبان نہ تو اذان ہے نہ یہ ایمان ہے اور نہ ہی مسلمان ۔۔۔۔۔۔ نہ یہ مذہب ہے نہ یہ تہذیب یہ تو دراصل تہذیبی امتزاجیت کا خوبصورت مذہب ہے اور محبت کا ستعارہ ہے۔ اُردو کا ویسے کوئی مذہب تو نہیں مگر اس کا مذہب محبت اور انسانیت ضرور ہے۔ ‘‘
(بحوالہ تجزیے اور تبصرے: نازبرداران اُردو، صفحہ۸۸)۔ بلا شبہ شیریں سخن اُردوزبان کا کوئی مخصوص مذہب یا علاقہ نہیں بلکہ یہ زبان تو مختلف پھولوں کا گلدستہ ہے جو مختلف علاقوں کی تہذیب وتمدن کو اپنی جلوؤں میں سمیٹے ہوا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے بعض نامور غیر مسلم شعرا و ادبا کسی بھی طرح کی لسانی عصبیت کا شکار نہ ہوکر اُردو زبان وادب کو صدیوں سے گلے لگائے بیٹھے ہیں اور جن کی شمولیت سے وطن عزیز میں قومی یکجہتی کو فروغ ملا ہے۔ یہی وہ غیر مسلم ادبا وشعرا ہیں جن کی نگارشات و فکری فن پاروں میں لسانی رواداری اور بھائی چارگی کے عمدہ نمونے پائے جاتے ہیں جن کے مطالعہ کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ رواداری ہمارا تہذیبی جوہر ہے تو بقائے باہمی ہماری ثقافت کی جڑ۔
دراصل اُردو زبان ہمارے مشترکہ کلچر کی نمائندہ اور بقائے باہم کی تابندہ وزندہ روایات کا سرچشمہ بھی ہے۔ سچ تو یہ کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہرگز نہیں ۔یہ ملک کے تمام اُردو پرستوں کی زبان ہے، خواہ اُن کا تعلق ہندو،سکھ، یہاں تک عیسائی مذہب سے رہا ہو۔ چنانچہ اُردو مذکورہ تمام مذاہب کے افراد کی باہمی ذہنی ہم آہنگی اور اختلاط کا ثمرہ ہے جس کی ترقی میں بطور خاص غیر مسلم شعرا وادبا کی نمایاں شراکت اور بے لوث خدمات کا اعتراف نہ کیا جانا میرے خیال سے ادبی کوتاہ نظری ہوگی۔ یہ حقیقت پسندانہ اظہار ہے کہ اُردو زبان کی زلفِ پیچاں کو سنوارنے اور اس کے ناز نخرے اٹھانے والوں میں پنڈت دتاتریہ کیفی ، تلوک چندر محروم، پنڈت چکبست، مالک رام، پریم چند، کرشن چندر، رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری اور ہمارے زمانے کے معروف ماہر لسانیات ، مابعد جدید نظریۂ ادب کے عہد ساز ناقد پروفیسر گوپی چند نارنگ وغیرہم کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پروفیسر موصوف نے اُردو زبان کے تئیں اپنی فکر مندی اور قلبی لگائو کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ : ’’اُردو زبان نے سیکولرزم کو فروغ دینے اور اُسے زندہ رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیاہے۔ آج جس طرح ہم تاج محل پر فخر کرتے ہیں اُسی طرح اُردو زبان بھی ہماری تہذیبی وراثت کا اہم حصّہ ہے اور اس زبان پر ہم تمام ہندوستانیوں کو فخر کرنا چاہئے۔ یہ واحد زبان ہے جو بغیر کسی ترجمان کی مدد کے دلوں میں سیدھے اُتر جاتی ہے۔ درحقیقت یہ ہندوستانی زبانوں کا تاج محل ہے۔۔۔۔۔۔۔ تمام دنیا میں میری پہچان اُردو کے حوالے سے ہے۔۔۔۔۔۔ اُردو اگرچہ میری مادری زبان نہیں لیکن یہی زبان میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔‘‘ ( بحوالہ’ تمثیل نو‘، دربھنگہ، ۲۰۰۹) ۔ یہ بھی سچ ہے کہ بعض مسلم سلاطین کے دورِ حکومت میں بھی کئی نامور غیر مسلم ادبا وشعرا نے اپنی فارسی واُردو زبا ن میں معرکۃ الآرا تصانیف وتالیف ودیگر تخلیقی کاوشوں سے جہانِ اُردو کو ثروت مند بنایا ہے، مالامال کیاہے۔ ۔۔۔۔۔ انہیں میں عہد سلاطین کے ایک روشن تر ستارے کا نام ہے راجہ رام نرائن ، متوطن سہسرام ، تخلص موزوں تھا اور جو موزوں عظیم آبادی کے نام سے دبستانِ عظیم آباد میں مشہور ومقبول ہوئے اور یہ وہی موزوں عظیم آبادی ہیں جنہیں اہل سہسرام چمنستانِ شعرائے سہسرام کا گلِ لالہ تصور کرتے ہیں۔ اور بلا شبہ ان کی وطنی نسبت ’’سہسرامی‘‘ ہمارے لئے وجہ افتخار بھی ہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جب تاریخی شہر سہسرام اُردو شعرو ادب کی دنیا میں ایک اہم مرکز کے طورپر اپنی جداگانہ شناخت قائم کرنے کے پروسیس سے گزر رہا تھا۔ چنانچہ ناسخ لکھنوی ہوں کہ مرزا رفیع سودا یا خواجہ میردردؔ جو دورِ اولین کے ممتاز شعرائ میں شمار کئے جاتے ہیں کو یہاں سے ایک نسبت خاص رہی ہے۔
واضح ہو کہ موزوں ؔ عظیم آبادی ثم سہسرامی مضافات سہسرام کے معروف کائستھ یعنی لالہ خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ لالہ گھرانے کے کئی اہم فارسی واُردو زبان کے شعرائ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کی نصف دہائیوں تک شہر کے مقامی شعرائ میں اپنی موجودگی درج کراتے نظر آتے ہیں۔ بطورِ مثال منشی کلدیپ سہائے تخلص فداؔ(المعروف بہ فداؔ سہسرامی) ، ٹھاکر کلدیپ نرائن سنہا ، آنندی سنیما ہال کے لالہ پرساد شریواستوا (للّی بابو) مختار سہسرامی اور ہمارے زمانے میں سہسرام ہائی اسکول (موجودہ نام شیر شاہ سوری انٹر کالج)کے میرے درجہ ششم کے کلاس ٹیچر شیاما پرساد شریواستوا تخلص رندجو واقعی اسم با مسمیٰ تھے ان کے علاوہ پروفیسر ششی ورما کھرے ،ایس پی جین کالج ،سہسرام وغیرہُم کے اسما گرامی قابل ذکر ہیں۔ بہر حال میری اس تحریر کامحور ومرکز موزوںؔ ، متوطن سہسرام ہیں جو شیخ حزیں کے شاگرد تھے۔ راجہ رام نرائن حاکم وقت کا تخلص موزوں ؔ آپ ہی کا عطا کردہ تھا۔ موزوںؔ محض ایک راجہ یا حاکم ِ عظیم آباد وصوبۂ بہار ہی نہیں تھے آپ ایک معزز خاندان کے سپوت تھے۔ جن کے افراد خانہ کا ذہنی لگاؤ عربی، فارسی اور اُردو زبان سے گہرا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کائستھ یا لالہ خاندان کے بعض افراد کا شعری ذوق کافی ستھرارہا ہے۔ بطور مثال موزوںؔ کے ایک ماموں رائے سُروپ سنگھ المتخلص دیوانہ اپنے وقت کے نامور استادشاعر گزرے ہیں ۔ جن کے شاگردوں میں میرشیر علی افسوس ، قلندربخش جرأت وغیرہ کے نام لئے جاسکتے ہیں۔ اور جو باضابطہ خود اپنے زمانہ کے استادِ فن تسلیم کئے گئے ہیں۔ موزوںؔ ایک ادب پرور شخصیت اور فارسی کے قادرالکلام شاعر کا نام ہے جنہیں بیک وقت اُردو کے ساتھ فارسی زبان پر بطور خاص عبور حاصل تھا۔ میر حسن دہلوی نے یہ اعتراف کیاہے کہ ’’ موزوںؔبہت اچھے شاعر تھے۔ ‘‘
خانوادۂ موزوں ؔ کے بیشتر افراد علم وادب بطور خاص شعر وشاعری کے دلدادہ گزرے ہیں۔ جن میں ایک ایسری پرساد عطا عظیم آبادی ہیںجنہیں شاد عظیم آبادی سے شرف تلمذ حاصل تھا اور جو کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔(بحوالہ رجال سہسرام،صفحہ ۱۲۶)
زمانۂ قدیم کی تو بات چھوڑئیے ۔عہد رفتہ سے عہدموجود میں بھی ان کے جانشین فارسی واردو شاعری سے اپنے ذہن ودل کو روشن کرتے نظر آئے ہیں ۔ اس کی ایک زندہ مثال تو پروفیسر کلیم عاجزکی ان (موزوں)کی تاریخی شاہی عمارت (قلعۂ عظیم آباد /قلعہ جالان) میں موزوںؔکے پرپوتا رائے جالان سے ایک ملاقات ہے جس کے حوالے سے موزوںؔ کی یادیں مزید تازہ دم ہوگئی ہیں۔عظیم آباد کے شاندار ماضی اور اس کی خالصتاً گنگا جمنی تہذیب کے تصوراتی آبشار میں شرابور اپنی یادداشت کو تازہ کرتے ہوئے رنگِ میر میں رنگے شہنشاہِ غزل آبروئے بہار پروفیسر کلیم عاجز ایک تقریب میں ’’غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی‘‘کے خالق کو یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے۔ اس شعر کے پسِ منظر میں عظیم آباد کے ماضی کی عظمتوں کی بازیافت کے ساتھ موزوں کی یادیں ان کے ذہن میں تازہ ہوگئیں اور ان کی جبین شوق پر شکنیں اُبھرنے لگیں۔ خود پر قابو پاتے ہوئے اپنے ہر دلعزیز وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی موجودگی میں بموقع ’’ غیر مسلم کل ہند مشاعرہ میں دورانِ خطبۂ صدارت انہوں نے فرمایا۔
’’ راجہ رام نرائن موزوں ؔ اپنی نسل میں زندہ تھے(اور یہ ہیں) ۔میں ان کی اولاد سے ملا ہوں۔ پٹنہ لودی کٹرہ سے آگے پچھم جانب مجھے ایک آدمی وہاں لے گئے۔ ایک بڑا شاندار مکان ۔ ۔۔۔۔۔۔ مکان میں داخل ہوا تو ایک صاحب ملنے آئے۔ سفید سلک کی دھوتی اور سلک کا کرتا۔ سفید سلک کی ٹوپی۔ پاؤں میں کامدار کا جوتا۔ گورے چٹھے۔ پچاس برس کا سن۔ مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا۔ کچھ اخلاقی گرم گفتگو کے بعد جو میں نے کتابوں میں پڑھی تھی ۔ وہ فارسی اور اردو کے شعر بے تحاشہ پڑھ رہے تھے۔یہ رائے جیلان تھے۔موزوں کے پرپوتے ۔ ان کے خاندان کی یادیں اور اپنے اسلاف کے دور کی دوسرے نوادرات ۔ ایک الماری میں ایک تلوار رکھی ہوئی تھی۔ہم لوگوں کو اُس الماری کی طرف لے گئے اور شیشے میں رکھی تلوار کی طرف اشارہ کیا۔ انگلی تھرتھرانے لگی اور ایسا لگا وہ آبدیدہ ہوگئے ہیں۔ بولے ۔ یہ نواب سراج الدولہ کی تلوار ہے۔ یہ پہلا حکمراں تھا جس نے تہیا کرلیا تھا کہ دشمن کو ملک بدرکرنے کے بعد ہی اسے نیام میں رکھوں گا۔لیکن یہ نیام میں نہیں جاسکی۔ اپنے ہم وطنوں کی سازش میں انہیں کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ جنہیں وہ نکالنے پر کمربستہ تھا۔‘‘ ( بحوالہ مجلہ غیر مسلم اردو شعرا کا کل ہند مشاعرہ ، ۲۰۰۹ئ،اردو ڈائرکٹوریت ،محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ، بہار)
دبستانِ مرشدآباد کے شعری ادب میں رام نرائن موزوں ؔ کا تذکرہ کرتے ہوئے سبھاش چندربوس سنٹینری کالج ، مرشدآباد ، بنگال کی اُردو معلمہ (پروفیسر) سیدہ جنیفر رضوی نے تو اشاروں ہی اشاروں میں موزوںؔ کو دبستان مرشدآباد کا ایک شاعرقرار دیتے ہوئے اپنے طورپر بعہد علی وردی خاں مہابت جنگ اور نواب سراج الدولہ کے تناظر میں بہت سارے شعرائ کی دبستان ِ مرشدآباد سے جو نسبت رہی ہے اُسی کو بنیاد بتاتے ہوئے موصوفہ نے انھیں (موزوںؔ) مرشدآباد دبستان کا شاعر بتایا ہے۔ گویا وہ جذباتی طورپر موزوں ؔعظیم آبادی کو موزوںؔ مرشدآباد ی تسلیم کرنے پر اصرار کرتی نظر آتی ہیں۔ جبکہ دبستانی حیثیت رکھنے والے ارض بنگالہ کے تاریخی شہر مرشدآباد سے دبستانِ عظیم آباد میں رونق افروز ہوکر اپنی موجودگی درج کرانے والے کئی شعرا کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایک مثال تو اپنے زمانے کے قادرالکلام شاعر اشرف علی خان فغاں جن کا دربار ِ راجہ شتاب رائے سے وابستہ ہونا ثابت ہوتاہے۔ یہ وہی راجہ شتاب رائے ہیں جو موزوںؔ کے ہم جلیس رہے اسی خانوادے سے موزوںؔ کا بھی تعلق رہاہے۔کہتے ہیں کہ شتاب رائے بھی اپنے زمانے کا ادب شناس اور سخن ور گزراہے۔ یہ بھی ثابت ہے کہ نواب شجاع الدولہ کے دربارِ اودھ اور دبستانِ مرشدآباد سے جب فغاں ؔ نکلے تو عظیم آباد میں قیام پذیر ہوئے اور پھر راجہ شتاب رائے جو خودبھی شاعر تھے کی سرکار میں جلیل القدرعہدے پر فائز بھی ہوئے۔ محفل سخن میں عظیم آبادیوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیااورفغاںؔ (متوفی 1186ھ،عظیم آباد) جیسے استادِ فن شاعر کے رتبے کو پہچانا۔غالباً یہ اٹھارہویں صدی کے نصف آخرا کا ہی زمانہ رہا ہوگا۔بہر حال اتنا توموصوفہ رضوی صاحبہ مرشدآباد نے بھی تسلیم کیاہے کہ موزوں کاوطن سہسرام ہے جو ان کی درج ذیل عبارت میں صاف جھلک رہاہے۔’’ آپ کا اسم گرامی رام نرائن اور موزو ں ؔ تخلص تھا۔ آپ مہاراجہ دیوان رنگ لال کے صاحبزادے تھے۔ آپ کا آبائی وطن سہسرام ، موضع کشن پور تھا۔آپ کی تاریخ ولادت میں ہنوز پردہ ہے۔ آپ تاریخ شاعری میں موزوںؔ عظیم آبادی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اُردو میں موزوں کے بعض زبانِ زدِ عام وخواص اشعار ان کے تخلیق کردہ ہیں یا کسی اور کے ؟ اس پر ہمارے بیشتر محققین وناقدین کے درمیان ہنوزاختلاف پایا جاتاہے۔ تذکرۂ شعرائے اردو (از میر حسن ، مرتبہ : حبیب الرحمن خاں شیروانی،۱۹۲۲) میں میر حسن نے تو اس حد تک لکھ دیا ہے کہ ’’ شعر ریختہ کم گفتہ بلکہ نا گفتہ‘‘ نامور ادبی مورخ فصیح الدین بلخی نے تذکرۂ ہندو شعرائے بہار میں بھی یہ اعتراف کیاہے کہ ’’ اردو بہت کم لکھتے تھے گنتی کے چند اشعار ان کی طرف منسوب ہیں۔‘‘ راقم السطور کا بھی ایسا ماننا ہے کہ موزوںؔ بنیادی طورپر فارسی زبان کے صاحب دیوان ، قادرالکلام شاعر تھے اور یہی ان کی شعری شخصیت کی نمایاں پہچان بھی ہے۔بہر حال مختلف حوالوں سے ان کے اردو کے چند اشعار درج ہیں ؎
کچھ گرانی نہیں مجھ کو وہ ستم گار کے ساتھ
دل پگھل چوہی پڑا اشک سبک بار کے ساتھ
(چمنستان الشعرائ ۔لچھمی نارائن شفیق ، ۱۹۲۸)
ابر ہوگا تو خجالت سیتی پانی پانی
مت مقابل ہو میرے دیدۂ خونبار کے ساتھ
( تذکرۂ گلزار ابراہیم از علی ابراہیم خاں خلیل گلزارؔ)
پروفیسر شہاب ظفر اعظمی،صدر شعبہ اردو ،پٹنہ یونویورسٹی ،نے اپنی کتاب ’’متن او رمعنی‘‘ میں موزوںؔ کا اُردو شاعری کے حوالے سے یہی شعرنقل کیا ہے جبکہ محترمہ رضوی مرشدآباد نے اس شعر کو بحوالہ دبستانِ شعرا میں کچھ یوں درج کیا ہے ؎
ابر تو خود ہی خجالت سے ہے پانی پانی
کب مقابل ہو مرے دیدۂ خونبار کے ساتھ
(تاریخ شعرائے بہار ،ص ۶۰، پر بھی یہی درج ہے)
زلف ورخسار دیکھتا ہوں
کیا لیل ونہار دیکھتا ہوں
(عظیم آباد ،پٹنہ کی گذشتہ ادبی محفلیں ۔ ثاقب عظیم آبادی)
موزوںؔ کا ایک دوہا بھی بہت مشہور ہے ؎
امبا امرت پھل دیت ہیں سدا رہت ہیں مون
نا ہرتے، ناہر ملے ، باگ بیرتے کون
(بحوالہ پٹنہ سیٹی کی ایک قلمی بیاض : پروفیسر حسن عسکری)
اس دوہے کی بہ زبانِ موزوں ؔ برجستہ ادائیگی میں جو تخلیقی کرب پنہاں ہے اس کی ایک طویل رزمیہ داستان بعہد حکمرانِ وقت میر قاسم کی باغِ موزوںؔ میں خیمہ زنی اور اس کی بے حرمتی کے حوالے سے تاریخ میں درج ہے۔ جس کا آگے ایک مختصراً ذکر یوںہے کہ جب میر قاسم راجہ رام نرائن (موزوںؔ)کے باغ میں خیمہ زن ہوئے اور ان کے فوجیوں نے ان کے باغ کو نقصان پہنچانا شروع کیا تو برجستہ موزوں نے ایک ہندی دوہا پڑھا ۔ تاریخ کے اوراق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ موزوں مہابت جنگ (علی وردی خاں) اور سراج الدولہ کے دورِ حکومت میں ہی حکمرانِ عظیم آباد وبہار رہے ہیں۔ایسے میں بقول مصنف ’’رجالِ سہسرام‘‘موزوں ؔ کا زمانہ 1719-1763رہا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو 34سال کی عمر میں وہ حکمرانِ عظیم آباد ہوئے اور اس جلیل القدر عہدے پر تقریباً دس سال جلوہ افروز رہے۔ ایسا گمان غالب ہے کہ ان کے زمانے میں سرزمین عظیم آباد میں شعر وسخن کی سرگرمیاں شباب پر رہی ہوں گی کہ اسی زمانے میں شاہ رکن الدین عشق (مرزا گھسیٹا شاہ) اور راسخ عظیم آبادی وغیرہم کی موجودگی درج ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ماضی میںموزوں کے خانوادے کے کئی افراد نہ صرف شاعر تھے بلکہ فارسی واردو زبان سے بھی لگائو رکھتے تھے۔ جس کا اعتراف شہاب ظفر اعظمی ،پٹنہ یونیورسٹی بھی کچھ یوں کرتے نظر آتے ہیں:’’ فارسی کے یقینا ایک اہم شاعر تھے اس کے علاوہ سخن سنج ، علم دوست اور شعروادب کو اپنے صوبے میں فروغ دینے کا جذبہ رکھنے والے شاعر تھے۔ ‘‘بلا شبہ ارض سہسرام کا یہ گلِ لالہ دبستان عظیم آباد کی اُردو شعری روایات کی تشکیل میں بھی نمائندہ کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ سہسرام میں غیر مسلم شعرائ میں بطور خاص کائستھ یا لالہ سماج کے افراد کو زمانۂ قدیم سے ہی فارسی و اردو زبان سے والہانہ شیفتگی اور قلبی لگائو رہا ہے۔ کہا جاسکتاہے کہ دبستانِ عظیم آباد کی شعری محفلوں کی رونقیں ماضی میں موزوں ؔ کے دم سے قائم تھیں ہر چند کہ وہ خاک سہسرام کے ایک نخل شاداب تھے لیکن ان کے نام کے ساتھ سہسرامی کی جگہ عظیم آبادی ہونے کی مہرثبت تھی۔ جبکہ شعرالعجم فی الہند کے مؤلف شیخ اکرام الحق نے بھی اپنی کتاب کے زیر حاشیہ صفحہ نمبر 52پر یہ اعتراف کیاہے کہ :
’’ راجہ رام نرائن موزوںؔ ۔ لالہ رنگ لال کائستھ کے فرزند تھے۔ اصل وطن کشن پور(سہسرام) ،ضلع شاہ آباد ،صوبہ بہار میں تھا۔ علوم عربی وفارسی اور حساب سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے خسر کی وساطت سے جو سرکار دہلی میں تھے ، شجاع الدولہ ناظم بہار وبنگال کے ہاں ملازم ہوگئے اور ترقی کرکے ناظم پٹنہ بنے ۔ میرقاسم کے والیٔ بنگال ہونے پر 1117ھ/1763 میں دیگر امرا کے ساتھ قید میں آگئے۔ تین دن بے آب ودانہ رکھے گئے ۔تیسرے دن جب ان کے سامنے پانی لایا گیا تو یہ شعر پڑھا اور اسے زمین پر گرا دیا ؎
آزردہ رفت از لب تشنۂ حسین
اے آب خاک شو کہ ترا آبر نماند
راجہ رام نرائن فارسی میں بڑی دست گاہ رکھتے تھے ۔شعرکہتے اور موزوںؔ تخلص کرتے تھے۔ شیخ علی حزیں کے شاگرد اور مربی تھے۔‘‘شیخ حزیں استادِ فن سے اپنی گہری عقیدت کا اظہار موزوں ؔ کچھ یوں کرتے نظر آتے ہیں ؎
چو خاکپائے حزیں طوطیائے دیدۂ ماست
چہ قدر درنظرم سُرمۂ صفا ہاں را
شعرالعجم میں درج تحریری سند سے یہ تو ثابت ہوہی جاتاہے کہ موزوں کے آباد اجداد کا تعلق موضع کشن پور ہے جو شاہ آباد ضلع میں واقع تھا۔ غالباً زمانۂ قدیم میں قلعہ رہتاس کی پہاڑی کے دامن میں کوئی بستی کشن پور نام سے آباد رہی ہوگی جو اسی طرح غیر معروف رہی ہے جس طرح سہسرام بستی ’’حسن پور‘‘ کے نام سے آباد تھی۔یعنی جو شیرشاہ کے والد حسن شاہ سور سے منسوب تھی(دیکھئے اکبر نامہ ، جلد۔3) بہر حال موزوں کا وطن سہسرام ہی ہے حسب ذیل تحریر واضح طورپر موزوں کو اصلاً سہسرامی ہونے کا مستحکم ثبوت وجواز فراہم کرتی نظر آتی ہے۔
’’راجہ رام نرائن نام۔ موزوں تخلص(بن رنگ لال) ناظم صوبۂ بہار وبنگال متوطن موضع کشن پور ، پرگنہ سہسرام، ضلع شاہ آباد( آرا) حالیہ ضلع رہتاس۔ سال ولادت 1714یا 1719‘‘
(بحوالہ : رجال ِ سہسرام،ص ۱۲۴، ناشر خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری ،پٹنہ)
کہا جاسکتا ہے کہ اردو زبان وادب کی نشو ونما میں دبستانی حیثیت کے حامل سہسرام کے بعض مشاہیر شعرا وادبا اورعلما ومشائخ کا بھی کلیدی رول رہا ہے۔ بقول ادبی مورخ ومصنف ’’رجال سہسرام‘‘ اس شہر کی علمی ودابی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی عظیم آباد یا دوسرے مقامات (دبستان) کی۔یوں کہا جانا چاہئے کہ سہسرام میں دیگر ادبی دبستانوں کی طرح (دہلی، لکھنؤ، مرشد آباد وغیرہ) شاعری کی باضابطہ روشن اور عہد ساز صدی دراصل ۱۸ویں صدی عیسوی ہی کہلائے گی۔ ویسے یہ بھی سچ ہے کہ ۱۷ویں صدی عیسوی کی آخری دہائیوں سے سہسرام میں محفل شعر وسخن کی گونج تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۱۸ویں صدی میں بھی سہسرام میں شعر و سخن کا خوب چرچا رہا۔ لیکن ۱۹ویں صدی کے ابتدائی دہے میں تو بیرون سہسرام میں بھی بعض سہسرامی شعرا کا نام محتاج تعارف نہیں تھا بلکہ ان کے کلام و مقام کا تعین کیا جانے لگا تھا۔افسوس کہ زمانۂ غدر میں اس قبیل کے اکابرینِ غزل گو شعرائ کا بیشتر شعری اثاثہ ضائع ہوگیا۔ اسی زمانے میں ناسخ لکھنوی کا بار بار سہسرام آنا اور بعض شعرائے سہسرام کا ان کی شاگردی اختیار کرنا بھی ثابت ہوتاہے۔ اور بقول ڈاکٹر شعیب راہی (بحوالہ خواجہ حیدر علی آتش:حیات اور شاعری، صفحہ ۲۱) ’’وہ (ناسخ) جب آتے تو ان کے اعزاز میں دھوم دھام سے مشاعرے ہوتے تھے۔ ‘‘
تاریخ ساز شہر علم وفن سے ایک خاص نسبت اور قلبی لگائو رکھنے والی عظیم صوفی صفت شعری شخصیت یعنی خواجہ میر درد (متوفی1785) کے خانوادے کے چند بزرگانِ علم ومعرفت شیر شاہ کی نگری سہسرام کے موضع ناصری گنج میں آسودۂ خاک ہیں۔میر درد کے والد بزرگوار کا نام میرناصر دہلوی تخلص عندلیب تھا۔ایسا قرین قیاس ہے کہ ناصری گنج بستی کا نام انھیں سے منسوب ہے۔(دیکھئے ’’رجالِ سہرام، صفحہ۲۹۶) یہ بھی سند رہے کہ۱۸۵۰ئ میں دیوانِ دردؔ کی فارسی واردو میں بعنوان کلیات دردؔپہلی بار اشاعت سہسرام کے مطبع کبیرشاہ کبیر الدین ثانی کے زیر اہتمام اشاعت پذیر ہوئی۔(بحوالہ دیوانِ درد ،مرتب نسیم احمد، صفحہ ۲۹، ناشر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، دہلی)
بہرحال مرزا محمد رفیع سوداؔ(متوفی 1781) خواجہ میردرد دہلوی(متوفی 1785)ہوں کہ امام بخش ناسخ لکھنوی (متوفی 1838) اور شاہ غلام جنوں سہسرامی (متوفی 1785)وغیرہ جیسے رجحان ساز اور انفرادی رنگ وآہنگ اور لسانی تازگی کے نامور بلکہ اُردو شاعری کے دوراوّل کے ممتاز ترین شعرا کے درمیان یا پھر ان کے آس پاس کے معاصرین میں ہی بشمول راسخ عظیم آبادی (متوفی1806) موزوں عظیم آبادی ثم سہسرامی(متوفی1763) کا شمار کیا جاسکتاہے۔ یوں سہسرام کے پہلے اُردو کے صاحبِ دیوان شاعر شاہ غلام جنوں سہسرامی جو میر دردؔ اور مرزا رفیع سودا کے قریب ترین ہمعصر گزرے ہیں ان کا بھی یہی زمانہ رہاہے۔ بقول مصنف ’’رجال سہسرام ‘‘ جنوں کا تعلق دردؔدہلوی سے بھی تھااور درد کو بھی اہل سہسرام سے گہرا تعلق تھا، ان کے اہل خاندان کے مزارات ناصری گنج سہسرام میں آج بھی زیارت گاہِ عام ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ مرزا سودا ؔ جنون سہسرامی ابن تیمورسہسرامی سے حددرجہ متاثر تھے اور جو جنوں کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کچھ یوں کرتے نظر آتے ہیں ؎
اے جنوں مصر عہ ترا سوداؔ کی ہے زنجیرِ پا
قید سے تیرے نہیں ہونے کو اب آزاد ہم
گذشتہ صفحات سے مذکورہ بالا دستاویزی نوعیت کی تفصیلات و مقامی روایات اور حقائق کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیر شاہ کی تاریخی ودبستانی حیثیت کی حامل نگری سہسرام کا بہ زبان فارسی پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہونے کا شرف موزوںسہسرامی کو حاصل ہے۔ اب یہ الگ بات کہ یہ اپنے زمانہ میں موزوں عظیم آبادی کے طورپر متعارف ہوئے اورآج بھی عظیم آبادی کہلاتے ہیں ہر چند کہ ان کا وطنی تعلق سہسرام سے ہے۔ سند رہے کہ صحف ابراہیم میں بھی عی ابراہیم خاں نے راجہ رام نرائن موزوں وک سری واستو کائستھ لکھا ہے اور باشندہ شہسرام۔بہر حال اصلاً اور نسلاً موزوں کے سہسرامی ہونے کے اور بھی معتبر ادبی و تاریخی دستاویزی حوالے موجود ہیں۔ جن کا اجمالاً تذکرہ ذیل کی سطروں میںبھی درج ہے:
٭ ’’ سہسرام کا پہلا شاعر سلطان ہند شیرشاہ تھا اس کے بعد راجہ رام نرائن موزوں سہسرامی سہسرام کے پہلے صاحب دیوان فارسی کے بے بدل شاعر تھے۔ ۔۔۔۔۔‘‘ (بحوالہ ’’رجالِ سہسرام‘‘ خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری ،پٹنہ)
٭ ’’ راجہ رام نرائن دیوان رنگ لال کے بیٹے اور قوم کا ئستھ سری واستو سے تھے ۔ان کا آبائی وطن سہسرام ضلع میں کشن پور موضع تھا۔ تاریخ ہند میں ان کی شہرت ہے۔ مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے بعد صوبۂ بہار کے نائب ناظم ہوگئے تھے اور عظیم آباد وبہار پر فرماں روائی کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ ‘‘
(بہار میں اردو ادب کا ارتقائ،۱۹۵۷ ، اختراورینوی)
سند رہے کہ پروفیسر اختر اورینوی نے سہواً سہسرام کو ضلع لکھا ہے جبکہ زمانۂ قدیم میں کوئی بستی کشن پو رنام سے رہی ہوگی تو بھی اس کا ضلع شاہ آباد ہی ہوگا۔ ایسا قیاس کیا جاتاہے کہ ’’کشن پور‘‘ نام کی بستی قلعہ رہتاس کے راجہ ہرکشن کے نام سے موسوم رہی ہو۔ایسی موروثی روایت ہے کہ راجہ ہرکشن کی حکمرانی کبھی قلعۂ رہتاس پر رہی ہے ۔
شیر شاہ پر لکھے گئے بعض ناولوں اور افسانوں میں ہر کشن راجہ اور اس کی بیٹی راج کماری کی داستان محبت کا ذکر ملتاہے۔ ہر چند کہ یہ سارے کردار تخیلاتی اور اساطیری کہے جاسکتے ہیں۔ بہر حال جدید نسل کے ادیب ومحقق ڈاکٹر مظفر حسن عالی نے پروفیسر اورینوی کے اس خیال سے کہ ’’موضع کشن پور کا ضلع سہسرام ہے ‘‘ کی وضاحت کچھ یوں کی ہے:
٭ ’’ اختر اورینوی نے اپنے تحقیقی مقالے بہ عنوان ’’بہار میں اردو زبان وادب کا ارتقائ‘‘ میں سہسرام کو ضلع لکھا ہے۔ حالانکہ اس زمانے میں جب کہ موصوف کی تحقیق ۱۹۵۷ئ میں منظر عام پر آئی سہسرام ضلع شاہ آباد (آرا) کا سب ڈویژن تھا۔ ۱۹۷۲ئ سے تادم تحریر ضلع رہتاس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ ‘‘ ( قمرنعمانی :شخصیت اور فن، صفحہ ۴۴)
یہتو متحقق ہے کہ موزوں کو ہم سے رخصت ہوئے تقریباًڈھائی سو سال سے زائد کا زمانہ گزرا اس درمیان فارسی کے جس صاحب دیوان شاعر (’’دیوانِ موزوں‘‘ مطبوعہ ۱۸۷۲ئ) کو ہم موزوں عظیم آبادی کے طورپر یاد کرتے ہیں وہ اصلاً موزوں ؔ سہسرامی ہی کہلانے کے حقدار ہیں۔ ادبی تاریخ کے مطالعہ سے یہ انکشاف ہوتاہے کہ ہمارے بعض نامور شعرائ بسلسلۂ ذریعہ معاش اپنا وطن چھوڑ کر ناصرف اجنبی شہر میں بود وباش اختیار کرتے رہے ہیں ان میں تو بعض اجنبی شہر کی شعری وادبی مجلسوں کے میر مجلس رہے بلکہ اپنی جدت پسند سخن سنجی سے ایک عہد ایک صدی پر اپنی گہری چھاپ چھوڑ گئے۔ یہاں تک کہ اُسی دیار میں آسودۂ خاک بھی ہوئے۔
ایسے میں عرض ہے کہ دیار غیر کو دوامی شان وشوکت عطا کرنے والے یعنی اس قبیل کے شعرائ کو مورخین وقت نے اس متعلقہ شہر کو وطنی طورپر ان کے نام سے وابستہ کردیا جہاں کے وہ ہورہے۔ بطور مثال شاہ رکن الدین عشق المعروف بہ مرزا گھسیٹا دہلوی عظیم آبادی بن گئے تو مرزایاس عظیم آبادی یگانہ چنگیزی لکھنوی اور شاہ غلام جنوں سہسرامی جنوں الٰہ آبادی کے طورپر شعر و ادب کی دنیا میں متعارف ہوئے۔ سند رہے کہ ہمارے ممدوح موزوںؔ عظیم آبادی ثم سہسرامی کو بھی مصنف ومؤلف ’’حقیقت ہائے ہندوستان‘‘ لچھمی نارائن اورنگ آبادی نے عظیم آبادی کی جگہ موزوں شاہ جہاں آبادی لکھا ہے۔ (دیکھئے:چمنستان شعرا)
اس میں شک نہیں کہ موزوںؔ بطور حکمرانِ وقت یا ناظم صوبہ بہار، اپنے عہد کی تاریخ ّساز شخصیت کے مالک تھے بلکہ بہ یک وقت فارسی اور اردو زبان کے شاعر اور ادب نواز بھی گزرے ہیں۔ ایسے میں یہ فطری امر ہے کہ اس زمانہ کے بعض ناقدین ومورخین نے موزوںؔ کے منصبی وقار کو بھی ذہن نشیں رکھتے ہوئے ان کے عہد حکمرانی کو بھی تفصیل سے فوکس کیا لیکن موزوں کی دوامی شہرت میں ان کے فارسی کلام (دیوان فارسی) کے ساتھ ہی ان کے چند معروف اردو زبان کے اشعار کا بھی اہم دخل رہا ہے جو بحیثیت اردو غزل گو ان کی شعری شناخت قائم کرنے میں معاون ہوتا نظر آرہا ہے، ہرچند کہ موزوںؔ فارسی کے غزل گو صاحب دیوان شاعر تھے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ فارسی اور اردو زبان کے شعرا میں بحیثیت شاعر ان کا ذکر مشترک ہے۔ یوں تو ان کا محض ایک شعر ہی انہیں اُردو زبان کے شاعر کے طورپر تسلیم کئے جانے کے لئے کافی ہے اور جو بلاشبہ ہر خاص وعام میں بے حد مقبول بھی ہے ؎
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دِوانہ مرگیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
مذکورہ مقبول شعر کے علاوہ اسی موڈ اور قوافی وردیف میں مزید چند اشعار کا منشی عیوض رائے متخلص مسرتؔ اپنی تصنیف ’’ آفتاب مسرت‘‘ میں نہ صرف غزالاں تم۔۔۔۔۔۔الخ کو ہی نہیں، موزوں کا شعر بتایا ہے بلکہ دلائل وبراہن سے ثابت کرتے ہوئے اسی قوافی وردیف کے مزید اشعار قلمبند کئے ہیں ساتھ ہی موزوں کے اُردو زبان میں کہے گئے ان اشعار کی تعریف بھی کی ہے اور بقول عیوض رائے حسرت ’’فاخر مکیںؔ رام نرائن موزوں کی نازک خیالی ، خیال آفرینی اور بندشِ الفاظ کے بڑے مداح تھے۔‘‘ اشعار دیکھیں:
کوئی رندوں سے پوچھے ایک ساقی کے نہ ہونے سے!
مئے ومینا پہ کیا بیتی ہے، میخانے پہ کیا گزری؟
کوئی تو تبصرہ یارو! گداز شمعِ محفل پر
یہی سب کی زباں پر ہے کہ پروانے پہ کیا گزری
لُطفِ مقطع اٹھائیے ؎
یہ سچ ہے دل کو راہِ عشق میں سمجھا لیا موزوںؔ
مگر یہ کون جانے دل کے سمجھانے پہ کیا گزری
ان کے علاوہ اُردو کے چند اور اشعار بھی موزوں کے نام درج ہیں جن کا ذکر یہاں پر غیر ضروری ہوگا کہ جو ہنوز تصدیق طلب ہیں ۔ زیر مطالعہ راقم کی تحریر کا یہ قطعی موضوع نہیں کہ میں موزوںؔ کو اُردو شاعری کا ایک نمایاں اور صاحبِ طرز شاعر ثابت کروں۔ پیش نظر میری اس تحریر کا اصل مقصد ومنشا تو بس اتنا سا ہے کہ موزوں وطنی اعتبار سے سہسرامی شاعر کہلانے کے حقدار ہیں کہ اصلاً اور نسلاً وہ شیرشاہ کی نگری کے جانباز سپوت تھے۔ ایک ایسا سپوت جو وقت شناس بھی تھا اور فارسی زبان کا باکمال صاحبِ دیوان شاعر بھی۔
موزوں ؔ کے محض چند اشعار کیا ان کو بحیثیت اردو شاعر ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں؟ ہر چندکہ قاضی عبدالودود نے اپنے ایک تبصرے میں یہ شبہ ظاہر کیاکہ موزوں کا ؎ ’’غزالاں تم تو ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘والا مشہور شعر ان کا نہیں لگتا، اس شبہ کی ہم نوائی میں شاہ عطائ الرحمن عطاؔ کاکوی بھی پیش پیش نظر آتے ہیں اور بقول پروفیسر شہاب ظفر اعظمی’’۔۔۔۔۔۔شبہات اور دعوؤں کے باوجود اردو ادب کی تاریخ میں اسے موزوں کا ہی شعر سمجھا جاتارہا ہے۔ اسی لئے نہ صرف فصیح الدین بلخی ، پروفیسر اختر اورینوی اور جمیل جالبی وغیرہ نے اپنی کتابوں میں میر حسن (تذکرہ ٔ میر حسن) کے حوالے سے اسے موزوں کا ہی شعر قرار دیاہے۔ بلکہ بالعموم اردو کی بیشتر تاریخوں اور بالخصوص غیرمسلم شعرا پر لکھی جانے والی تمام کتابوں میں یہ شعر موزوں ؔ کے نام سے ہی ملتاہے۔‘‘
(بحوالہ’’ متن اور معنیٰ ،صفحہ ۔۱۲)
یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بنیادی طورپر موزوں فارسی زبان کے غزل گو شعرائ میں خاص اہمیت رکھتے ہیں جس کا تاریخی ثبوت ان کی فارسی شاعری کا مجموعہ بعنوان ’’دیوان موزوں‘‘ ہے جو خدابخش لائبریری کی زینت بنا ہواہے۔ جس کی ضخامت 340جبکہ صفحہ 339پر سال طباعت 1872درج ہے۔بطور نمونہ موزوں کے چند اشعار بہ زبان فارسی ان کے مذکورہ دیوان سے یہاں پر نقل کیا جانا ناگزیر معلوم پڑتاہے ؎
ایک مطلع ؎ بمدّ آہ کنم افتاح دیواں را!
کہ زیب فاتحہ است دگر خاطر قرآں را
ایک مقطع ؎ بہ زُلف یار صبا شانہ میزند موزوںؔ
چہ چارہ است دگر خاطر پریشاں را
ایک شعر ؎ تنہا منم وشمع کہ از سوزِ دل خویش
شب تا بہ سحر گریہ بود مشغلۂ ما
مقالات قاضی عبدالودود میں (جلد اوّل بحوالہ تذکرہ میر حسن)موزوں کے مزید اشعار کو بھی کسی اور سے منسوب کیا گیاہے۔ اب جہاں تک موزوں کے مشہور ومعروف شعر ؎ غزالاں تم تو واقف ہو۔۔۔۔۔۔الخ۔کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں خالقِ شعر کا دفاع کرتے ہوئے جدید ادبی مورخ وناقد ڈاکٹر مظفر حسن عالی نے واضح کیا کہ ’’یہ درست ہے کہ اس شعر کی بندش موزوں کے دیگر اشعار سے بہتر ہے۔ تاہم موزوں کے اس شعر کی ردیف خالص سہسرامی طرز ادا میں ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ اہل سہسرام کی زبان لکھنؤ اور دہلی کی زبان نہیں، سہسرام کی زبان ہے جس کی خصوصیات جداگانہ ہیں اور اس کی خصوصیات بھی انوکھی اور سہسرام کے محاورے بھی مختلف جس میں اس کی مقامیت کا جوہر بھی پوشیدہ ہے۔یعنی بھوجپوری طرز ادا کا حسن بھی، جس میں تذکیر وتانیت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ اس طرح قاضی صاحب نے موزوں کے بعض شعر کو بھی کسی اور شاعروں کی طرف منسوب کیاہے۔ تو اس سلسلے میں کچھ کہا جاسکتاہے۔ مگر یہاں صرف ایک شعر پر ہم اکتفا کرتے ہیں —بہر کیف موزوںؔ کے اشعار کے پیش نظر ان کی سخندانی اور ان کی اردو غزل گوئی سے انکار ممکن نہیں —اوریہ بھی ثابت ہوتاہے کہ سہسرام میں اردو شاعری کی داغ بیل اور شعرو سخن کا صاف ستھرا مذاق موزوں کے زمانے سے ہی پایا جاتاہے۔‘‘
(بحوالہ قمر نعمانی— شخصیت اور فن)
سخن گوئی کے حوالے سے موزوں ؔ کے دیگر صاحبِ ذوق افراد ِ خانہ کے بارے میںمزید کوئی تفصیل نہیں ملتی۔پٹنہ کا ایک گھاٹ جو اب مہاراجہ گھاٹ کہلاتا ہے کسی زمانے میں راجہ رام نرائن موزوں گھاٹ سے معروف تھا۔مختصر یہ کہ اپنے عہد کے فرماں روا علی وردی خاں المعروف مہابت جنگ کی سرپرستی میں وہ حاکمِ بہار یا عظیم آباد رہے ۔ان کی مدّتِ حکمرانی تقریباً دس سال کی رہی اور ان کا دارالسلطنت عظیم آباد تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس زمانے کے بطور خاص زبان ِ فارسی واُردو کے مشاہیر غزل گو شعرا کا عظیم الشان مرکز ومحور دبستانِ عظیم آباد ہی تھا۔ ہائے افسوس کہ اُٹھ گئی رونقِ عظیم آباد۔
اپنے عہد کے نامور ادیب وناقد غلام محی الدین خاں یونس نے میرے ممدوح الیہ کا شمار اُردو کے اساتذہ شعرا میں کیاہے۔ مضمون کا عنوان ہے ’’اُردو زبان اور غیر مسلم شعرا وادیب‘‘ موصوف رقم طراز ہیں کہ ’’ اٹھارہویں صدی عیسوی کے اُردو کے اساتذہ شعرا میں مہاراجہ بینی بہادار لکھنوی ، راجہ جسونت سنگھ پروانہ، راجہ کلیان سنگھ عاشق۔۔۔۔۔ وغیرہم کے ساتھ راجہ رام نرائن موزوں کے نام نامی کو تاریخ سے مٹایا نہیں جاسکتا۔‘‘(بحوالہ اشارہ ماہنامہ ، مدیر علامہ قیوم خضر۔۱۹۶۵)
ہرچند کہ موزوں کو وطنی طورپر سہسرامی ثابت کرنے کے لئے گذشتہ سطور میں مستند مآخذ پیش کئے گئے ہیں۔ اسے مزید توانا دم کرنے کے لئے ان کے خاندانی حسب نامہ کی محض ایک جھلک یہاں پردکھلانا ناگزیر معلوم پڑتا ہے۔ اس کا حوالہ تاریخ صوبۂ بہار ،صفحہ ۱۰۵ پر بھی ملاحظہ کیا جاسکتاہے ۔ جس میں یہ واضح اشارہ ملتاہے کہ عظیم آباد میں اُس وقت کاظم خاں ،جعفر خاں کے بھائی ناظم اور راجہ رام نرائن موزوں کے چھوٹے بھائی دھیرج نرائن نائب راجہ شتاب رائے دیوانِ بادشاہی میں تھا ۔ طوالت میں نہیں جاکر میں اب ذیل میں موزوں کے نسب نامہ پر محض اس لئے لوٹتا ہوں کہ میری اس تحریر کا مقصد محض موزوں کا نسلاً اور وطناً سہسرامی ثابت کرنا ہے او رجو میرا اصل مدعا ہے ۔
ورثائے راجہ رام نرائن و دھیرج نرائن:
دیوان رنگ لال سری واستوشہسرامی
راجہ رام نرائن موزوںؔ دھیرج نرائن
لاولد لاولد
بیسوادھیرج نرائن
رائے بنواری لال (سالے کا بیٹا)
وارث۔۔۔۔۔الخ
(بحوالہ کاروانِ رفتہ ۔نقی احمد ارشاد)
یہ تو فطری امر ہے کہ جس شہر میں شاعر نے اپنی شناخت بنائی ، بودوباش اختیار کیا تو پھر اس شہر سے اس کی نسبت قائم ہوگئی۔ لیکن راجہ رام نرائن ابن (لالہ) رنگ لال سری واستوشہسرامی، متوطن سہسرام کو ان کے ہم وطن یہ کہنے میں حق بجانب نظر آتے ہیں کہ موزوںؔ عظیم آبادی ثم سہسرامی ۱۸ویں صدی کے نصف میں اپنی نمایاں پہچان بنانے والے سہسرامی شعرائ کی فہرست میں بھی اپنی شعری شخصیت کے تشخص اور ایک مخصوص لب ولہجے یعنی ایک ذرا بھوجپوری زبان کی چاشنی اور شعری لسانیات لئے سہسرامی ادائے طرز سخن کے انفراد کو سنبھالتے نظر آتے ہیں ؎
نہالِ آرزوئے ما بہ برگ وبار آمد
خوشا بہار کہ در صوبۂ بہار آمد
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

