1980کی دہائی جسے مابعد جدید رجحان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ،اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شعری و نثری اظہار کے سکہ بند اصول وضوابط متعین نہیں ہیں۔ترقی پسندی کی اجتماعیت اور جدیدیت کی انفرادیت دونوں یہاں ضم ہو گئی ہیں۔اس رجحان میں اظہار کی تمام سطحیں خواہ وہ علامتی ہوں یا استعاراتی،تمثیلی ہوں یا تجریدی،اصلاحی ہوں یا تہذیبی،مذہبی ہوں یا جنسی اور نفسیاتی یاکوئی اور،سب کھلی ہوئی ہیں۔اسی لئے اس عہد میں ہر طرح کی شعری و نثری تخلیقات دیکھنے کو ملتی ہیں۔اسّی کے بعد کی غزلیہ اور نظمیہ شاعری میں جہاں موضوعاتی تنوع پایا جاتا ہے وہیں لسانی شکست و ریخت سے انحراف کے ساتھ غزل اور نظم دونوںمیں ایک نیا لہجہ اور نیا آہنگ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔نئی غزل میں نئے لہجہ اور نئے آہنگ کے ایک معتبر اور مستند شاعر کا نام شہپر رسول بھی ہے۔ان کی غزلوں کے کلاسیکی رنگ و آہنگ نے انھیں معاصر شعرا میںاہم مقام عطا کیا ہے۔سہل ممتنع کی خوبی ہو یا تشبیہات و استعارات کا اچھوتا استعمال،فکری بالیدگی ہو یا تخلیقی ذہانت،موضوعاتی سطح پر مہجری مسائل ہوں یا انسانی المیے کی داستان،روایتی قدروں کی پامالی کا نوحہ ہو یا تہذیب و ثقافت کے زوال پذیری کی داستان،تقسیم کا کرب ہو یا اپنی جڑوں سے کٹنے اور بکھرنے کا غم،عفو ودر گزر کی صورت ہو یا وصال و ہجر کی کیفیت،فنی سطح پر تجربات و مشاہدات کا تخلیقی اظہار ہو یا عصری حسّیت کی ترجمانی،غرض یہ کہ زندگی کے بہت کم ایسے پہلو ہیں جو شہپر رسول کی غزلیہ شاعری کا حصہ نہ بنے ہوں گے۔ان کی غزلوں میں لکھنؤ اور دلی کی تہذیب و ثقافت کا امتزاج اور لسانی تفاوت کی آمیزش بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ان کی غزلوں کی تازگی اور شگفتگی ایسی ہے جو سامع کے دل پر سحر کا کام کرتی ہے۔ان کی نظموں کے مقابلے ان کی غزلیہ شاعری میں امکانی پہلو بہت ہیں ۔اس لیے ان کی غزلیہ شاعری کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک سچی اور اچھی شاعری کی ترجمان ہے۔ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح ان کی شخصیت میں ایک قسم کی مقناطیسیت ہے اسی طرح ان کی شاعری میں بھی ایک قسم کی مقناطیسی کشش ہے جو قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔سوز وگداز میر ہو یا حزن و یاس کی کیفیت،داخلی کرب ہو یا خارجی مسائل ،رومانی پہلو ہوں یا المیاتی کرب ہر زمانے میں شعرا کے کلام میں یہ خصوصیات مشترک رہی ہیںلیکن ہر زمانے میں اس کے اظہار و اسلوب میں ڈکشن کے استعمال میں کافی فرق آیا ہے۔ڈکشن کے برتنے کا یہی فرق مابعد جدید شعرا کا طرۂ امتیاز بھی ہے۔ڈکشن کے برتنے کا جو سلیقہ شہپر رسول نے اپنی غزلوں اور نظموں میں اختیار کیا ہے اس سے ان کی شاعری میں معنوی تہہ داری پیدا ہونے کے ساتھ مختلف جہتوں کے در بھی وا ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سنجیدہ اور کثیرالجہت شاعری کے عمدہ اور نادر نمونے ان کی غزلوں اور نظموں میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔مذکورہ بالا خصوصیات پہلے ان کی غزلوں کے چند اشعار سے ملاحظہ کیجیے:
اس کی کیا باتیں کرتے ہو وہ لفظوں کا بانی تھا
اس کے کتنے لہجے تھے اور ہر لہجہ لا فانی تھا
فراق و وصل کے معنی بدل کے رکھ دے گا
ترے خیال کا ہونا مرے خیال کے پاس
زباں کا زاویہ لفظوں کی خو سمجھتا ہے
میں اس کو آپ پکاروں وہ تو سمجھتا ہے
میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی
وہ بھی تصویر سے نکل آیا
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کردیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
کچھ بھی نہیں بدلا یہاں کچھ بھی نہیں بدلا
آنکھیں بھی وہی ہیں اور خواب پریشاں بھی وہی
اے سے اوسے ابے سے جناب ہو گئے کیا
ابھی تو اچھے بھلے تھے خراب ہو گئے کیا
مذکورہ بالا غزلوں کے مختلف اشعار کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کے یہاں موضوعاتی تنوع کس حد تک ہے۔شہپر رسول نے پہلے شعر میں جو بات کہی ہے اس سلسلے میں میں یہی کہوں گا کہ شہپر رسول بھی لفظوں کے بانی ہیں اور ان کی غزلوں کے لہجے اور ان کا آہنگ ان کے معاصر شعرا سے مختلف بھی ہے اور لافانی بھی۔بہر کیف اسّی کے بعد کی شاعری میں شہپر رسول کی بنیادی شناخت ایک غزل گو کی ہے۔ان کی غزلیں ہی ان کو شہرت دوام بخشیں گی۔شہپر رسول نے غزلوں کے ساتھ کچھ نظمیں بھی کہی ہیں لیکن غزلوں کے مقابلے نظموں کو وہ شہرت نہیں مل سکی جو ملنی چاہیے۔ان کی نظموں کوشہرت نہ ملنے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔پہلی وجہ تو یہی ہو سکتی ہے کہ انھوں نے نظمیں تو کہی ہیں لیکن بہت کم کہی ہیں ۔دوسری یہ کہ وہ نظمیں کہیں مجموعے کی شکل میں دستیاب بھی نہیں ہیں۔تیسری یہ کہ نظمیں انھوں نے اپنا فکری اور لسانی ذائقہ تبدیل کرنے کے لئے کہی ہیں۔چوتھی یہ کہ نظموں میں وہ فکری تنوع نہیں ہے جسے آفاقی کہا جاسکے۔پانچویں یہ کہ نظموں میں زندگی کی طرح فکری انتشار بہت ہے۔البتہ بعض نظمیں ایسی ہیں جو عصری حسیت کی ترجمانی کرتی ہیں اورفکری سطح پر بلند بھی ہیںلیکن ان کی تعدا دکم ہے ۔کچھ نظمیں ایسی ہیں جن کے علامتی ،استعاراتی اور تمثیلی اسلوب نے اپنا انفرادی رنگ پیدا کیا ہے۔بہر کیف ،اس وقت میرے سامنے ان کی کل پندرہ نظمیں ہیں جو مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔کچھ نظمیں مختصر ہیں اور کچھ طویل۔میرے انتخاب میں ان کی پہلی نظم’’گریزاں لمحے‘‘ ہے جس میں انھوں نے وقت کے ساتھ زندگی کی بے ثباتی کا ذکر مختصر مگر انوکھے انداز میں کیا ہے۔اس دار فانی میں روز ازل سے نہ جانے کتنے گل کھلے اور مرجھا گئے اور نہ جانے کتنے اور کھلیں گے اور کھل کر مرجھا جائیں گے لیکن خوش کار گریزاں لمحے ایسے ہی آتے جاتے رہیں گے۔ان کی دوسری نظم ’’بہت دور کہیں‘‘ ہے جس میں زندگی کی مختلف کیفیات اور اس کے نشیب و فراز کو استعاراتی اور تمثیلی پیرائے میں بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔پہلے نظم دیکھیے:
زندگی پھول ہے/کھلتی ہے ہنسا کرتی ہے/ماہِی آبِ جفا کار ہے/ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے/سست اور سنگ ہیں/تجربے رنگ ہیں/آنکھوں سے گزر جاتے ہیں/تجربے لمس ہیں/لمحوں سے لپٹ جاتے ہیں/برسوں میں سمٹ جاتے ہیں/انفاس میں بٹ جاتے ہیں/مضطرب روح ہے/شعلوں میں بسر کرتی ہے/صدیوں میں گزر کرتی ہے/ادارک میں در کرتی ہے/سانسوں میں حذر کرتی ہے/لہروں پہ سفر کرتی ہے/دور بس دور/کہیں دور/بہت دور کہیں۔
مذکورہ بالا نظم میں ’’زندگی پھول ہے‘‘میں ’زندگی‘ کو ’پھول‘ کہہ کر استعاراتی اسلوب میں اہم بات کہہ دی گئی ہے۔پھول جس کی زندگی دائمی نہیں ہوتی بلکہ بہت مختصر ہوتی ہے لیکن وہ اپنے اندرکئی خصوصیات رکھتا ہے مثلاً خوشبو،حسن،دلکشی،نظر کو خیرہ کرنے والا،محبت جگانے والا،خوشی اور غم میں کے موقعوں پر پیش کیا جانے والا،کسی کی عزت افزائی کرنے والا،اظہار محبت کرنے والا،معشوق کی چوٹیوں کی زینت بننے والا وغیرہ۔ یہ وہ تمام خوبیاں ہیں جو پھولوں میں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کو گلزار کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔اس لئے ’زندگی پھول ہے/کھلتی ہے ہنسا کرتی ہے‘ کہہ کر زندگی اور پھول کے مابین جو امتیازی خصوصیات ہیں ان تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔جس طرح پھول کی زندگی ’کھلنے‘ اور ’ہنسنے ‘ کے بعد مرجھا کر ختم ہو جاتی ہے تقریباًیہی قضیہ زندگی کا بھی ہے۔ایک طرف زندگی کو پھول سے تعبیر کیا تو دوسری طرف تمثیلی پیرائے میں’ماہِی آبِ جفا کار‘ کہا ہے جو ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے۔یعنی زندگی کا مسئلہ بھی اس ماہی آب جفاکار کی مانند ہے جس کا کوئی سرا جلد ہاتھ نہیں لگتا اور اگر کبھی لگتا بھی ہے تو وہ زیادہ دیر پا نہیں ہوتا ،بلکہ گرفت مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے بہت جلد اس کا سرا چھوٹ جاتا ہے۔جس طرح ظالم اور سرکش مچھلی کو پکڑتے ہوئے بار بار وہ ہاتھوں سے پھسل کر خود کو آزاد کرالیتی ہے ،وہی مسئلہ زندگی کا بھی ہے۔اس کے بعد نظم جیسے آگے بڑھتی ہے اس میں زندگی کے وہ تمام مناظر جو ہماری آنکھوں کے سامنے رقص کرتے ہیں اور آئے دن ان سے جس طرح دو چار ہوتے ہیںان سب کا اظہار خوبصورت پیرائے میں ہوا ہے۔ہماری روح کا مضطرب ہونا،شعلوں میں بسر کرنا،صدیوں میں گزر کرنا،سانسوں میں حذر کرنا اور لہروں پہ سفر کرنا وغیرہ ایسی خصوصیات ہیں جو زندگی کے گونا گوں پہلوئوں پر غور و فکر کرنے پرہمیں مجبور کرتی ہیں۔اسی طرح ان کی ایک اور نظم ’’کون ہے اب بے حال‘‘ ہے۔اس نظم میں دنیا میں آئے دن رونما ہونے والے ان واقعات و حادثات کی طرف اشارہ ہے جس سے انسانی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔اس دنیا میںراتوں رات آنے والے مصائب و آلام سے انسان جب دو چار ہوتا ہے توایسے لمحے میں اسے یہ فانی دنیاحسین لگنے کے بجائے ایک ’جنجال‘ لگنے لگتی ہے جس میں راحتیں کم اور آفتیں زیادہ ہیں۔شاعر کے تجربات و مشاہدات ہماری آنکھوں کو وحشت میں ڈال دیتی ہیں ،مستقبل کا خوف ہمارے سر پر اژدہا بن کر پھنکارتا رہتا ہے اور ماضی کی کرب ناک اذیت ہمارے ماتھے ٹھنکاتی رہتی ہے۔وہ آوازیں جن میں مٹھاس ہوتی تھی، زہر آلود لگنے لگتی ہیں۔شاعر کا یہ استفہامی لہجہ کہ’ کون ہے اب بے حال‘ یہاں طنزیہ پیرایہ اختیار کر لیتا ہے۔یعنی کسی کی بھی حالت درست نہیں ہے بلکہ سبھی بیحال ہی نظر آرہے ہیں۔اس لئے ان دکھوں کے ماروں کو حسن حقیقت کے بجائے حسن تخیل ہی کام آتی ہوئی نظر آتی ہے۔نظم کا ابتدائی حصہ ہی قاری کو حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ وہ دن کون سا تھا جس میں دن میں سپنے چمکتے تھے۔پہلے نظم ملاحظہ کیجیے:
اک دن/ایسا سورج نکلا/دن میں سپنے چمکے/پھول پتنگے تتلی پھونرے/بن کر تارے جھمکے/ہونٹ ہنسی کے وصل سے جسے اپنا ماضی بھولے/اور…. /یکایک۔۔۔آہٹ ٹھٹھکی/ماتھا ٹھنکا/رقص میں آئے بگولے/فلک زمیں کو جیسے چھو لے/ساری دنیا جھولے/راتوں رات کیا اک غم نے کیوں ہم کو پا مال/دنیا ہے جنجال/ایسی آنکھیں جو آنکھوں پر جادو بن کر چھائیں/وحشت کیوں بر سائیں/مست خرامی سے لمحوں کی صدیاں بھی شرمائیں/سمتیں سب چھپ جائیں/سرسرسرسرسائیں سائیں کرتی جائیں ہوائیں/راتوں رات کیا مستقبل نے کیوں ہم کو بے حال/دنیا ہے جنجال/لفظ کے پیالے سے معنی کا امرت چھلکا جائے/کیسے کوئی گائے/دل سے نکلے ہائے/آوازیں ہی ہواتی ہیں آوازوں میں حل/کتنا میٹھا پھل/آج پھر اپنے کام آئی ہے خوابوں کی ٹکسال/کون ہے اب بے حال/دنیا ایک دھمال
مذکورہ نظم میں ایک محاورہ کااستعمال ہے’’دن میں سپنے چمکنا‘‘ اصل محاورہ ہے ’دن میں سپنے دیکھنا‘ لیکن سورج کی مناسبت سے’ دیکھنا‘ کے بجائے’ چمکنا ‘ کا لفظ استعمال کیاگیا ہے جوبر محل ہے ۔یہ محاورہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی کام محال تصور کیا جاتا ہے یا کسی انہونی بات کو ہونی بنانی ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ میاں دن میں سپنے دیکھنا چھوڑ دو یہ کام تم سے نہیں ہوگا۔لیکن اگر کوئی انہونی کو ہونی بنا دیتا ہے تو یہاں مقام حیرت و استعجاب کا ہوتا ہے کہ ایسا کیسے ہوگیا۔یہی حیرت و استعجاب شہپر رسول نے اپنی اس نظم میں ڈکشن کو ایک نئے رنگ اور نئے معانی میں پیش کرکے اپنی خلاقانہ ذہنیت کا جواز فراہم کیا ہے۔ان کی ایک اور نظم’’نہیں دیکھنا ہے بہتر‘‘ہے جس میں ادب اور ادیبوں کا ماجرا بیان کیا گیا ہے۔گداگران جلوہ کو مخاطب کرکے ادب میں ادب اور بے ادب دونوں طرح کے افراد کا خیمہ جس طرح نصب کیا گیا ہے،ان کی خصوصیات کو سفید کبوتر اور کالی بلی کی علامتوں کے ذریعہ ان کے محاسن و معائب کوواضح کیا گیاہے۔پہلے نظم دیکھیے:
اے گداگران جلوہ/ذرا بند کرلو آنکھیں/یہ ادب کا ماجرا ہے/جو سفید ہیں کبوتر/سو ہیں کالی بلیاں بھی/کئی مسندیں ہیں خالی/کئی حوصلے ہیں جعلی/کئی نام ہیں سوالی/کئی حوصلوں کے پیچھے/کئی ہاتھ ہیں مقدس/کئی جام ہیں مثالی/کئی شعر کہنے والے/کئی شعر گانے والے/کئی لفظ لکھنے والے/کئی لفظ ڈھونڈھنے والے/چلو چھوڑتے ہیں سب کو/اس ادائے بے ادب کو/کبھی بھول جائیں شاید/نہیں بھول پائیں شاید/اے گداگران جلوہ/ذرا بند کر آنکھیں /کہیں دیکھنے سے بہتر /نہیں دیکھنا ہے شہپر
یہ پوری نظم ادب میں چل رہی نظری اور عملی صورتحال کی ترجمان کہی جا سکتی ہے۔شاعر اپنے قاری کو ادب کے معاملے میںایک طرف آنکھیں بند کرکے آمنّاو صدّقنا کی تلقین کر رہا ہے تو دوسری طرف ڈرا بھی رہا ہے کہ ایک طرف تو سفید کبوترہیںجو امن و شانتی اور پیغامبر کی علامت ہیں دوسری طرف کالی بلیاں بھی ہیں جو بد شگونی اور نحوست کی علامت ہیں۔جہاں یہ دونوں چیزیں ہیں وہیں ادب کی کچھ مسندیں ایسی ہیں جو ابھی تک خالی پڑی ہیں ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ دونوں طرف کے کچھ جعلی حوصلے والے افرا بھی آگے پیچھے دم ہلا رہے ہیں اور سوالی بن کر ان کے آگے پیچھے منڈرارہے ہیں۔لیکن یہ مت بھولنا کہ ان جعلی حوصلوں والے افراد کے پس پشت کئی مقدس ہاتھ ہیں جن کی حیثیت ایک مثالی جام کی مانند ہے،ان سے ٹکرانا اپنے آپ کو غارت کرنا ہے ۔اس لئے شاعر ’چلو چھوڑتے ہیں سب کو /اس ادائے بے ادب کو‘کہہ کر ان سے نکلنے کی راہ تلاش کرتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ یہ جو شب و روزتماشا ہو رہا ہے ہم تو اسے کبھی بھول نہیں پائیں گے۔اس لئے اے گداگران جلوہ اپنی آنکھیں بند کر کیونکہ کہیں دیکھنے سے نہ دیکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ان کی ایک اور نظم ’’جواز‘ ہے جس میں زندگی کے انتشار کو پیش کیا گیا ہے۔شاعر اپنے داخلی کرب کا اظہار خود کلامی کے انداز میں کرتا ہے اور ماضی کی بازیافت کرتے ہوئے اپنے اچھے اور برے وقتوں کو یاد کرتا ہے اور اپنے ضمیر کو مخاطب کرکے کہتا ہے:
مرا میں، مجھ سے کہیں کھو چکا تھا/سب اچھے بروں کو رو چکا تھا/رستوں کے پھیر میں سبھی ہیں/کھو کر بھی کہیں پہنچتے ہی ہیں/کوئی حد ہے نہ کوئی ہے قدغن/جیسے ہر اک سمت ہے روشن/پرواز پروں کو جیسے مل جائے/مرجھاتی ہوئی کلی جیسے کھل جائے/جسم سے جان آملی ہے/لفظوں سے زبان آملی ہے/دور کا وہ لمحہ لیکن قریب آرہا ہے/شہپر کوئی مجھے بلا رہا ہے/وہ رو رہا ہے کہ گا رہا ہے/وقت سہما جا رہا ہے/یہ کیسی آواز آرہی ہے/سانس تک بھیگتی جا رہی ہے/دل رک رک کے دھڑک رہا ہے/شاید کسی ڈگر پر آلگا ہے/دھیمے سروں کو ساز مل گیا کیا/رونے کا جواز مل گیا کیا۔
(یہ بھی پڑھیں بلراج کومل اور رسالہ ’شاہراہ‘ -نوشاد منظر )
مذکورہ بالانظم میں زندگی کی منتشر کیفیات کا خوبصورت اظہار ہوا ہے۔اس دار فانی میں انسان ہر لمحہ ڈوبتا ابھرتا نظر آتا ہے۔منزل مقصود ملنے پر اسے ایسا لگتا ہے جیسے چہار جانب روشنی ہی روشنی ہے اور اسے ہر وہ چیز جو اس کی زندگی کو تاریکی میں ڈبونے والی تھی اس سے نجات کی راہ اور شکستہ پروں کو پرواز مل گئی ہے۔لیکن قُرب اور بُعد کی منزل سمٹنے کے باوجود شاعر کسی دیکھی اَن دیکھی کیفیت کا اظہار کرتا ہے۔اس ہا و ہو کے عالم میں یہ شناخت کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ بلانے والا مجھے آواز دے رہا ہے یا کہ رو رہا ہے یا پھر گنگنا رہا ہے،کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا۔ لیکن وقت بھی اس آواز کو سن کر سہم گیا ہے اور بھانت بھانت کی آوازوں کے آنے سے اس پر بھی خوف اور دہشت طاری ہو گئی ہے۔خوف اور دہشت کی وجہ سے سانسیں پھولنے لگی ہیں اور دلوں کی دھڑکن رکنے لگی ہے۔یہی بے چہرگی،خوف اور دہشت اور منتشر کیفیات ہیںجو انسان کو رونے کا جواز فراہم کرتی ہیں۔ان کی ایک اور نظم ’’جام تخلیق ‘‘ ہے جس میں تخلیقی اور تولیدی صفات کو پیش کرتے ہوئے اسے خیال اور جذبوں کا جمال بونے سے تعبیر کیا ہے۔خیال اور جذبوں کے جمال سے پھوٹنے والی کونپل اور لمحۂ تخلیق کو بہت ہی منفرد انداز اور اسلوب میں پیش کیا گیاہے۔شہپر رسول کی ایک اہم نظم’’چلو ان پانیوں کو پھر سے یکجا کر دیا جائے‘‘ہے۔پہلے نظم ملاحظہ کیجیے :
چلو!ان پانیوں کو پھر سے یکجا کر دیا جائے
یہ مانا مختلف دریائوں کے اپنے علاقے ہیں
یہ مانا مختلف دریائوں کی سمتوں میں اور رفتار میں بھی فرق کا امکان وافر ہے
یہ مانا مٹیوں کا لمس ان کے ذائقے اور رنگ میں بھی فرق کرتا ہے
مگر۔۔۔اِن پانیوں کے اول و آخر پہ بھی غور کر لیجیے
وہی مطلع،وہی مقطع
غزل کے شعروں کے اُس ربطِ بے مربوط کے مانند
بظاہر جو ہے نا دیدہ مگر باطن میں رقصاں ہے
اگر اس راز سے پردہ اٹھانا ہے
دماغ و دل کی آنکھوں کو اگر دیدار کے قابل بنانا ہے
تو پھر۔۔۔رفتار اور سمتوں۔اچھوتے ذائقوں۔رنگوں کے
بے معنی تفاوت کو
گوارا کر لیاجائے
چلو! ان پانیوں کو پھر سے یکجا کر دیا جائے
اس نظم میں شاعر نے ہندوستان کی اس گنگا جمنی تہذیب کے اتصال اور اس کی دیرینہ روایت کی بازیافت کی کوشش کی ہے جس کے علاقے تو مختلف ہیں لیکن سنگم ایک ہے۔اس سنگم میں جو انتشار اور بُعدذات پات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر پیدا ہو گیا ہے اس پر غور و فکر کیا جائے۔ دل اور دماغ کی آنکھوں سے اس فرق کو دیکھا اور سمجھا جائے اور بے معنی تفاوت جو ہمارے درمیان پیدا ہوتا جا رہا ہے اس کو ختم کرکے پھر سے اتحاد و یگانگت اور امن کا ماحول پیدا کیا جائے۔ شاعر نے مطلع اور مقطع کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ غزل کے شعر کی طرح اگرچہ ہر قوم ایک اکائی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن شعر کی طرح اپنے آپ میں مکمل بھی ہوتی ہے البتہ غزل کے شعروں کے اس ربط بے مربوط کے مانند جو بظاہر تو نا دیدہ ہیں مگر ہمارے باطن میں کہیں نہ کہیں وہ رقص کرتی ہیں ۔اگر باطن کے اس راز سے پردہ اٹھانا ہے تو ان پانیوں کو جن کی اصل ایک ہے مگر مختلف سمتوں اور علاقوں میں تیزرفتاری کے ساتھ بہہ رہے ہیں ان کو ایک مشرب پر لاکر ان کی اصل کی بازیافت کی جائے۔یہ ایک اہم نظم ہے جس کو عصری تناظر میں دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔شہپر رسول کی ایک اور طویل نظم ’’ہوا چلی تو‘‘ہے جو چار حصوں پر مشتمل ہے۔یہاں بھی اُسی شکست و ریخت اور انتشاروالی کیفیات کا تفصیلی بیان ہے جو اور نظموں میں پایا جاتا ہے۔اسی طرح ’تیرگی اک فسوں‘ ’مدافعت‘’اک یہی تو رستہ ہے‘ ’سچ‘’ پیش خیمہ‘ ’بس سانس لیتے رہیں‘ اور رمز ایسی نظمیں ہیں جن میں زندگی کے مختلف نشیب و فراز،داخلی و خارجی کیفیات، باطنی انتشار،آتے جاتے لمحوں کا سکوت اور ہنگامہ،عروج وزوال،قدیم و جدید تہذیب و ثقافت کی بازیافت،عصری مسائل اور حسیت کا اظہارکہیں استفہامی،کہیں تشبیہاتی،کہیں استعاراتی اور کہیں تمثیلی پیرائے میں خوبصورت انداز میں کیا ہے جسے پڑھتے ہوئے کہیں کہیں جدیدیت پسندی کا اشتباہ ہوتا ہے۔مگر شہپر رسول کی خوبی یہی ہے کہ انھوں نے اپنے معاصرین میں اپنا انفرادی رنگ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ان کی نظموں اور غزلوں کے مطالعے کی بنیاد پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان کی غزلوں میں جو توانائی ہے،نظموں میں اس قدر توانائی کا فقدان نظر آتا ہے۔تا ہم ان کی نظمیں مسائل اور ان کی پیش کش کی سطح پر قارئین کو مایوس بھی نہیں کر تیں۔
نوٹ: مضمون نگار NCERT سے وابستہ ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
نظموں کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ شہپر رسول غزلوں کے ہی اچھے شاعر ہیں