Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

شاعری کے کرداروں کا مطالعاتی تناظر- ڈاکٹر قسیم اختر

by adbimiras ستمبر 29, 2020
by adbimiras ستمبر 29, 2020 0 comment

بیانیہ اصناف کی طرح شعری اصناف میں بھی کردار ہوتے ہیں مگر دونوں کے تقاضے الگ ہیں اور دونوں کے مطالعے کا طریقہ بھی الگ۔اس فرق کو سمجھنے کے لیے پہلے چند کرداروں پر غور کرنا لازمی ہے۔یہ چند افسانوی کردار؛شیخ وجودی، ہمایوں فر، بلغان خاتون، نصوح، ظاہر دار بیگ، ہوری،دھنیا گوبر، کالو بھنگی، شمن وغیرہ، ہیں۔پھر شاعری کے چند کرداروں پر نظر ڈالیں:کدم راؤ ، پدم راؤ، اکھرناتھ، قطب مشتری ، مریخ خان، عطارد، سمن بر، ہمایوں فر، زین الملوک ، حسن آرا۔ ان تمام افسانوی اور شاعرانہ کرداروں کے برتاؤ میں یک گونہ مماثلت ہے۔ کیوں کہ باضابطہ ناموں کے ساتھ ان کی تشکیل ہوئی۔  اردو تنقید میں ایسے کرداروں کا کم وبیش مطالعہ کیا بھی گیا۔ مگر جب شاعری کے ان کرداروں کو ابھاراجا ئے جن کے ناموں کی وضاحت نہیں ہوتی (صیغہ واحد، غائب ، جمع ، متکلم وغیرہ کے پس منظر والے شاعرانہ کرداروں کامطالعہ کیا جائے ) تو تنقیدی مطالعے کا ایک نیا طریقہ سامنے آئے گا، یا اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ کلاسیکی شاعری میں چند معروف کردار تھے، مثلاً: عاشق، معشوق، واعظ، پیرِ مغاں، رقیب ،وغیرہ ۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ تمام شاعروں نے ہرکلام میں مذکورہ معروف کرداروں کے فقط حقیقی معنی مراد نہیں لیے۔بہت سے مقام پر عاشق کے لفظ سے فقط عاشق ہی مقصودنہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کہنا مناسب ہے کہ بیانیہ اصناف کے کرداروں سے شاعری کے کرداروں کا مطالعہ ذرا مختلف ہوتا ہے۔

اس سرسری وضاحت کے بعد کردار کے تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالنا مناسب ہے۔ انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے حوالے سے پروفیسر نجم الہدی لکھتے ہیں:

’’۔۔۔انگریزی میں کیریکٹر براہ راست یونانی کسی لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں: نقش کرنا، کندہ کرنا۔ اسی وجہ سے ابتدا یہ لفظ، سکوں پر مہرلگانے کے رنگ کے لیے استعمال ہوتا تھا اور اس صورت کے لیے بھی جس سے مہر ہوتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کا مفہوم وسیع ہوگیا اور اس کے معروف استعمال کی جہتیں مختلف النوع ہوتی گئیں۔پانچویں صدی قبل مسیح سے کردار نے کسی فرد یا قوم یا کسی تحریری صورت ِ اظہار کے ممیز اور انوکھے پہلوؤں کا مفہوم اختیار کرلیا ہے۔‘‘ (1)

’کردار‘ کے یونانی پس منظر کے بعدموجودہ مختلف اردو لغات کی طرف رجوع کر نے سے یہ تمام معانی ’’روش، طرز، طور طریق، عمل، فعل، چلن،قاعدہ،عادت، رویہ خصلت، اخلاق‘‘ برآمد ہوتے ہیں۔اب ان لغوی معانی کو کردار کے اصطلاحی معنی سے ملائیں تو بہت زیادہ فرق نظر نہیںآئے گا۔کیوں کہ ادبی اظہار میں’’ کردار‘‘ کئی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ کبھی کردار کے تناظر میں ماحول کے مطالعے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی کردار کے مدنظر تخلیق کار کی فن کاری کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی کردار کے مطالعے سے موضوع کو ابھارا جاتا ہے۔ مطالعۂ کردار کے ان رویوں پر غو کریں تو معلوم ہوگا کہ ان مطالعوں میں بھی کردار کے لغوی معنی کسی نہ کسی سطح پر پوشیدہ ہوتے ہیں ۔

اس تاریخی تناظر کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرداروں کا مطالعہ ایک دل چسپ مطالعہ ہے اورکرداروں کی رنگارنگی یا کردار وں کے جمود وتحرک کی بنیاد پر ہم شاعروں کے کلام کی شدت وحدت بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ معروف ناقد شمس الرحمن فاروقی نے جہاں کلامِ میر کی بہت سی خصوصیات واضح کرتے ہوئے ان کی انفرادیت ثابت کی ، وہیں میر کے کلام کے کرداروں کو بھی پیش نظر رکھا اور ان کے ذریعہ میر کی خصوصیت طے کی۔ میر کے کردار کے متعلق وہ لکھتے ہیں:

’’میر کا زبردست کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے عاشق کے رسومیاتی کرداروں کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو انفرادیت بھی عطا کی ہے۔ اگر وہ باقاعدہ کردار خلق کررہے ہوتے تو انھیں مثنوی نگارکا منصب ملتا۔۔۔ غالب کے یہاں عاشق کا کردار سراسررسومیاتی ہے۔ غالب نے اپنی انفرادیت پرستی کو یوں ظاہر کیا کہ انھوں نے عاشق کے رسومیاتی کردار کو اس کی انتہا پر پہنچا دیا۔ ‘‘(2)

مضمون کی ابتدا میں بیانیہ اور شعری اصناف کے کرداروں کی تھوڑی سی وضاحت کی گئی اور اب فاروقی صاحب کے اس اقتباس سے کرداروں کے مطالعے کا ایک اہم طریقہ بھی سامنے آ رہا ہے۔گویایہ کہنا مناسب ہے کہ ہم شاعری کے کرداروںکا مطالعہ مختلف طریقوں سے کرسکتے ہیں اور کرداروں کی انفرادیت سے شعرا کی انفرادیت بھی طے کی جاسکتی ہے۔ذیل میں ہم فقط چند متفرق اشعار پر سرسری بحث کریں گے، تاکہ کرداروں کے مطالعے کا ایک دھندلا سا طریقہ سامنے آجائے ۔

ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے

قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے

(مخمور سعید ی)

شاعر ی میں افسانوں کی بہ نسبت ذی روح اور غیر ذی روح کردار زیادہ بنتے ہیں۔ افسانوی کرداروں میں بھی غیر ذی روح چیزیں بطور کردار سامنے آتی ہیں، مگر شاعری سے کم۔ مخمور سعید ی کے مذکورہ شعر میں غیر ذی روح کردار ہیں۔ وہ بھی اس طرح کہ’’ گلیاں‘‘ فاعل بن رہی ہیں اور’’ ڈگر ڈگر‘‘ مفعول۔پھر ’’تیرا شہر‘‘ کا ذکر آتا ہے۔اس طرح دیکھیں تو’’تین مقامات‘‘بنیادی طور پر کردار بن گئے، مگر ’’ گلیاں‘‘ فاعل کی حیثیت سے مضبوط کردار ہے۔

راقم نے مخمور سعیدی پر مبسوط کام کیا۔ اس لیے کہ اسے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ موضوعی تناظر میں ان کے یہاں یاد کا پہلو مختلف طریقوں سے آیا۔ مذکورہ شعر میں ایک شہر کودیکھ کر دوسرے شہر کو یاد کرنا بھی اپنے آپ میں یاد کا نفسیاتی پہلو رکھتا ہے۔اس لیے یہ کہا جاسکتاہے کہ نفسیاتی معاملات سے جہاں فن پارے کے موضوعات پر بحث کی جاسکتی ہے،وہیں کردار کی تخلیق کا معاملہ بھی اٹھایا جاسکتاہے۔وقارعظیم نے لکھا ہے :

’’اچھے افسانہ نگار ہمیشہ اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں، وہ اپنے گرد وپیش کے ہر آدمی کی ہر حرکت کا مطالعہ بغور کرتے ہیں۔۔۔ ان کے کاموں پر دلچسپی اور اشتیاق سے نظر ڈالتے ہیں اور جب انھیں ان کی کوئی ایسی چیز مل جاتی ہے جسے وہ دلچسپ سمجھتے ہیںتو فورا اسے اپنے افسانہ کے لیے کام میں لے آتے ہیں۔‘‘ (3)

اس لیے یہ کہاجاسکتا ہے کہ کرداروں میں سب سے بڑا کردار خود تخلیق کار پوشیدہ ہوتا ہے۔ چناںچہ نفسیاتی مطالعے کا وجود خواہ کتنا ہی فرضی کیوں نہ ہو، تحلیلِ نفسی کے بغیر کرداروں کا مطالعہ بہت حد تک مکمل نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اسی عمل کے ذریعہ ہم ادب کے کرداروں کو تخلیق کار کی زندگی سے جوڑ سکتے ہیں اور تخلیق کار کے معاشرے( عہد ) سے بھی۔

خیر، مذکورہ شعر میں مقامات کردار بن رہے ہیں۔ ان مقامات کے علاوہ دو کردار اور ہیں ۔ایک خود شاعر ہے جو کہہ رہا ہے اور دوسرا وہ فرد جس سے کہا جارہا ہے۔ گویا اس شعر میں ’’ذی روح اور غیر ذی روح دونوں کرداربن کر سامنے آئے ۔ ذیل میں ایسے دو اشعار پیش کیے جارہے ہیں جن میں ذی روح کردار کا پلڑا بھاری ہے:

گلاب اس نے آنسوؤں میں ڈبو دیے تھے

میں اُس کے نزدیک سرجھکائے کھڑا تھا

(عتیق اللہ )

اس شعر میں فقط دو کردار ہیں۔ ایک’’ اس ‘‘ صیغہ واحد غائب۔ دوم،’’میں‘‘ صیغۂ متکلم ۔ اس طرح دیکھیں تو شعر میں کردار کم ہیں مگر عتیق اللہ نے ان کرداروں میں انتہائی جدت پیدا کردی۔اس شعر کو ’’محبت، تعظیم ‘‘ کے پس منظر میں سمجھ سکتے ہیں۔ پہلے ’’گلابی رنگ کی سرخی ، خون کے آنسوں، پھر سرجھکا کر کھڑا ہونا‘‘ پر غور کیجیے ۔اس پہلو سے شعر کی غمگینی واضح ہوتی ہے، یعنی ایک کردار نے دوسرے کردار کو گلا ب کا پھول تو دیا،مگر پھول دینے والے نے کچھ دنوں کے بعد پھول لینے والے کا دل توڑ دیا ہو۔ ظاہر جب عشق میں دل ٹوٹ جائے تو خون کے آنسو رونا پڑتا ہے۔ اس نکتے پر آکر گلاب کا خون ہوتا ہے اور’’گلاب کا یہ خون‘‘ خون کے آنسو کی شکل میں بہہ جاتا ہے۔

دوسرے مصرعے کو اس طرح سمجھنے کوشش کیجیے کہ پھول دینے اور لینے والے کرداروں کے درمیان ناچاقی ہوگئی ہو اورپھر  دونوں کی اتفاقیہ ملاقات ہوجائے۔اب پھول لینے ولا،پھول دینے والے کردار کے سامنے خوب روئے اور گلاب، خون کے آنسو بن کر بہہ جائے۔ ان کی تفہیم اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ دو کردار ہیں،جو کبھی قریب آئے، مگر کسی وجہ سے وہ دونوں دور ہوگئے، پھر تیسر ے مرحلے میں کہیں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر ایک کردار نے شکوہ کیا اور دوسر ا سرجھکائے نادم کھڑا رہا۔ہوسکتاہے کہ ندامت کے آنسو بہانے والے کردار نے شکوہ سنج اپنی محبوب کو دوبارہ اپنا لیا ہو۔ اس طرح چوتھا مرحلہ وجود میں آ جاتا ہے۔ عتیق اللہ کے اس شعر کا مطلب چاہے کچھ اور ہو، مگر اس شعر کے کرداروں سے مطالعے کا ایک نیا طریقہ بھی سامنے آتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محبت اور نفرت کے مسئلے کو شاعر نے کرداروں میں بڑی خوب صورتی سے پیش کردیا۔

سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

میں کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرا ہی نہیں

سلطان اختر

دانستہ طور پر سلطان اختر کے اس شعر کا انتخاب کیا گیاجو کئی معنوں میں عتیق اللہ کے مذکورہ شعر سے بالکل مختلف ہے۔ اس شعر کی تفہیم بالکل آسان ہے،جب کہ عتیق اللہ کے شعر میں معنیاتی ابہام ہے۔ ان کے شعر میں دو کردار بہت واضح تھے اور سلطان اختر کے اس شعر میں بہ ظاہر ایک ہی کردار ہے۔وہ ’’ میں ‘‘ واحد متکلم ہے، مگر گہرائی سے دیکھیں تو اس شعر میں کئی کردار ہیں۔ شعر کے دونوں مصرعے ’’میرے سفر۔۔۔ میں کسی موڑ‘‘ سے ایک ہی فرد واضح ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ شاعر کس سے کہہ رہا ہے کہ میرے سفر کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا؟کیا وہ خود سے کہہ رہاہے؟ کیا دوستوں کی ایک بڑی جماعت سے وہ مخاطب ہے؟ اگر شاعر خود سے مخاطب ہے تو خود شاعر کے اندر دو کردار ابھر رہے ہیں۔ ایک وہ کردار جو بول رہا ہے اور دوسرا جو سن رہا ہے۔ اسی طرح شاعر کسی محفل سے مخاطب ہے تو اس شعر میں بہت سے کرداروں کی شمولیت از خود ہوگئی۔ عتیق اللہ کے مذکورہ اشعار سے دو کرداروں کے علاوہ بھی کردار دریافت کئے جاسکتے ہیں، مگر سلطان اختر کے مذکورہ شعر میں جہاں بہت سے کردار ابھر سکتے ہیں، وہیں خود کلامی کا عنصر بھی ہے۔

کیا حادثہ ہوا ہے جہاں میں کہ آج پھر

چہرہ ہر ایک شخص کا اترا ہوا ساہے

(شہریار)

عتیق اللہ اور سلطان اختر کے اشعار میں بیان کی ایک کیفیت ہے۔ ایک آپ بیتی ہے کہ میں نے ایسا کیا یا ویسا کیا ، مگر شہریار کے اس شعر میں کردار کا ایک الگ رنگ ہے ۔ اول،’’ کیا حادثہ‘‘ یعنی کس قسم کا حادثہ ہوا۔ دوم، سوالیہ انداز میں کہ کیا کوئی حادثہ ہوا ہے۔ شاعر جس فرد سے یہ سوال کررہا ہے ، وہ فرد بھی ایک کردار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کردار کی اسی وقت وضاحت ہوسکتی ہے کہ جب اس شعر کی قرأت کئی طرح سے کی جائے ۔ گویا اس شعر میں کردار کو دریافت کرنے کا ایک الگ طریقہ موجود ہے۔

آؤ پھر آج کریدیں دل افسردہ کی راکھ

آؤ سوئی ہوئی یادوں کو جھنجھوڑا جائے

ملک زادہ منظور احمد

سلطان اختر کے اوپر والے شعر میں فقط گنجائش تھی کہ وہ کسی محفل کے کرداروں سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں کسی موڑ پر ٹھہرا ہی نہیں، مگر ملک زارہ منظور احمد کے اس شعر میں خطابیہ انداز ہے، یعنی جب خطاب ہوگا تو ازخود بہت سے کرداروں کی شمولیت ہو جائے گی۔

بطور مثال یہاں پر فقط پانچ اشعار پیش کیے گئے اور ان اشعار میں کرداروں کی کیفیت اور انداز الگ الگ بھی ہے۔ اردو میں افسانوی کرداروں پر معمولی توجہ دی گئی ، مگرشاعری کے کرداروں پر نہیں۔اگر شاعری کے کرداروں کا مطالعہ کیا بھی گیا تو فقط مثنوی کے کرداروں کا، غزلیہ کرداروں کا مطالعہ خال خال ہی نظر آتاہے ۔ پھر مثنوی کے کرداروں کا مطالعہ بھی بہت خوب نہیں ہوا۔سید محمد عقیل رضوی نے لکھا ہے :

’’۔۔۔ان تمام منظوم وغیر منظوم افسانوں میں کردار کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں رہی۔۔۔ اس کا سب سے بڑا سبب اردو ادب میں ابتدا سے ڈراموں کے نہ ہونے میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔‘‘(4)

ظاہر سی بات ہے کہ مثنوی کے کرداروں کا بھی مطالعہ بہتر طریقے سے نہیں کیا گیا تو غزلیہ کرداروں کی روایت کیسے مستحکم نظر آئے گی لیکن اب ہمیں افسانوی کرداروں کے ساتھ ساتھ غزلیہ کرداروں پر بھی توجہ دینی چاہئے تاکہ مطالعے کا ایک اور بہتر طریقہ سامنے آئے ۔

کرداروں کے اس سرسری مطالعے سے میر امقصد یہ نہیں تھا کہ کسی شاعر کی فوقیت ثابت کی جائے اور نہ ہی اس مختصر مضمون میں اس کی گنجائش ہے۔ البتہ اس میں کئی حوالوں سے کرداروں کی بحث آگئی اور شعری کرداروں کی انفرادیت بھی واضح ہوئی:

اول: اردو میں شعری کرداروں کا مطالعہ کم ہوا ہے۔ ایسا شاید اس لیے ہو اہو کہ ڈراموں کی شروعات ہمارے یہاں تاخیر سے شروع ہوئی یا پھر ہماری بھی کچھ تساہلی رہی۔

دوم: افسانوی کرداروں میں انسان زیادہ ہوتے ہیں، مگر شاعری میں انسانوں کے ساتھ وقت اور حالات بھی کثرت سے کردار بنتے ہیں۔

سوم: کرداروں سے زمانے کے نشیب وفراز بھی ابھرتے ہیں۔ہمارے دور میں جو سیاسی اتھل پتھل ہے، اس کا اثر شاعری کے کرداروں میں بھی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں کے اسلوب میں مزاحمت کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ سماج کے طرز عمل،افتادطبع اور ذہن ومزاج سے تخلیق کارکوئی نہ کوئی رنگ منتخب کرتا ہے اور اسی میں اپنے تخیل سے رنگ آمیزی کرتا ہے اور اسی رنگ آمیزی سے ادبی کردار تشکیل پاتے ہیں۔

چہارم: یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اسلوبیات اور لفظیات کے مطالعے سے جس طرح لسانی مباحث ابھرتے ہیں، اسی طرح کرداروں کے مطالعے سے بھی مختلف النوع انکشافات ہوسکتے ہیں۔کیوں کہ لفظیات کا تعلق جہاں بیانیہ سے ہوتاہے وہیں مکالموں سے بھی۔ ظاہر ہے جہاں مکالمے ہوں گے، وہاں ازخود کردار بھی ابھر کر سامنے آ ئیں گے مگر ہمارے ادبی اور تنقیدی رویوں میں کرداروں کے مطالعے کا کوئی خاص اہتما م نہیں ملتا۔بہ مشکل تمام افسانوی کرداروں پر نظر ڈالی جاتی ہے اور اس کی بھی کوئی مضبوط ومستحکم روایت نہیں۔

 

حواشی

(1)نجم الہدی ، کردار اور کردار نگاری ، شمشاد اختر ، میر بخش علی اسٹریٹ، مدراس، 1980، ص 7۔

(2)شمس الرحمن فاروقی ، شعر شور انگیز ، حصہ اول ، قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، نئی دہلی ، 1990، ص 80-81۔

(3)وقار عظیم ،فن افسانہ نگاری،سرسوتی پبلشنگ ہاؤس، الہ آباد،1935، ص99-100 ۔

(4)سید محمد عقیل ، شمالی ہندمیں ، اردو مثنوی کا ارتقا ،اترپردیش اکادمی، لکھنؤ،983 1، ص 320۔

 

 

نوٹ: مضمون نگار پورنیہ یونیورسٹی ، پورنیہ( بہار)میں  اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثشاعریکردار
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پرندے کی فریاد- علامہ اقبال
اگلی پوسٹ
’’اداس نسلیں‘‘ ۔۔۔ کہانی اور منظر نگاری کی جنگ- محمد ارشاد

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,047)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں