بیانیہ اصناف کی طرح شعری اصناف میں بھی کردار ہوتے ہیں مگر دونوں کے تقاضے الگ ہیں اور دونوں کے مطالعے کا طریقہ بھی الگ۔اس فرق کو سمجھنے کے لیے پہلے چند کرداروں پر غور کرنا لازمی ہے۔یہ چند افسانوی کردار؛شیخ وجودی، ہمایوں فر، بلغان خاتون، نصوح، ظاہر دار بیگ، ہوری،دھنیا گوبر، کالو بھنگی، شمن وغیرہ، ہیں۔پھر شاعری کے چند کرداروں پر نظر ڈالیں:کدم راؤ ، پدم راؤ، اکھرناتھ، قطب مشتری ، مریخ خان، عطارد، سمن بر، ہمایوں فر، زین الملوک ، حسن آرا۔ ان تمام افسانوی اور شاعرانہ کرداروں کے برتاؤ میں یک گونہ مماثلت ہے۔ کیوں کہ باضابطہ ناموں کے ساتھ ان کی تشکیل ہوئی۔ اردو تنقید میں ایسے کرداروں کا کم وبیش مطالعہ کیا بھی گیا۔ مگر جب شاعری کے ان کرداروں کو ابھاراجا ئے جن کے ناموں کی وضاحت نہیں ہوتی (صیغہ واحد، غائب ، جمع ، متکلم وغیرہ کے پس منظر والے شاعرانہ کرداروں کامطالعہ کیا جائے ) تو تنقیدی مطالعے کا ایک نیا طریقہ سامنے آئے گا، یا اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ کلاسیکی شاعری میں چند معروف کردار تھے، مثلاً: عاشق، معشوق، واعظ، پیرِ مغاں، رقیب ،وغیرہ ۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ تمام شاعروں نے ہرکلام میں مذکورہ معروف کرداروں کے فقط حقیقی معنی مراد نہیں لیے۔بہت سے مقام پر عاشق کے لفظ سے فقط عاشق ہی مقصودنہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کہنا مناسب ہے کہ بیانیہ اصناف کے کرداروں سے شاعری کے کرداروں کا مطالعہ ذرا مختلف ہوتا ہے۔
اس سرسری وضاحت کے بعد کردار کے تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالنا مناسب ہے۔ انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے حوالے سے پروفیسر نجم الہدی لکھتے ہیں:
’’۔۔۔انگریزی میں کیریکٹر براہ راست یونانی کسی لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں: نقش کرنا، کندہ کرنا۔ اسی وجہ سے ابتدا یہ لفظ، سکوں پر مہرلگانے کے رنگ کے لیے استعمال ہوتا تھا اور اس صورت کے لیے بھی جس سے مہر ہوتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کا مفہوم وسیع ہوگیا اور اس کے معروف استعمال کی جہتیں مختلف النوع ہوتی گئیں۔پانچویں صدی قبل مسیح سے کردار نے کسی فرد یا قوم یا کسی تحریری صورت ِ اظہار کے ممیز اور انوکھے پہلوؤں کا مفہوم اختیار کرلیا ہے۔‘‘ (1)
’کردار‘ کے یونانی پس منظر کے بعدموجودہ مختلف اردو لغات کی طرف رجوع کر نے سے یہ تمام معانی ’’روش، طرز، طور طریق، عمل، فعل، چلن،قاعدہ،عادت، رویہ خصلت، اخلاق‘‘ برآمد ہوتے ہیں۔اب ان لغوی معانی کو کردار کے اصطلاحی معنی سے ملائیں تو بہت زیادہ فرق نظر نہیںآئے گا۔کیوں کہ ادبی اظہار میں’’ کردار‘‘ کئی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ کبھی کردار کے تناظر میں ماحول کے مطالعے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی کردار کے مدنظر تخلیق کار کی فن کاری کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی کردار کے مطالعے سے موضوع کو ابھارا جاتا ہے۔ مطالعۂ کردار کے ان رویوں پر غو کریں تو معلوم ہوگا کہ ان مطالعوں میں بھی کردار کے لغوی معنی کسی نہ کسی سطح پر پوشیدہ ہوتے ہیں ۔
اس تاریخی تناظر کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرداروں کا مطالعہ ایک دل چسپ مطالعہ ہے اورکرداروں کی رنگارنگی یا کردار وں کے جمود وتحرک کی بنیاد پر ہم شاعروں کے کلام کی شدت وحدت بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ معروف ناقد شمس الرحمن فاروقی نے جہاں کلامِ میر کی بہت سی خصوصیات واضح کرتے ہوئے ان کی انفرادیت ثابت کی ، وہیں میر کے کلام کے کرداروں کو بھی پیش نظر رکھا اور ان کے ذریعہ میر کی خصوصیت طے کی۔ میر کے کردار کے متعلق وہ لکھتے ہیں:
’’میر کا زبردست کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے عاشق کے رسومیاتی کرداروں کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو انفرادیت بھی عطا کی ہے۔ اگر وہ باقاعدہ کردار خلق کررہے ہوتے تو انھیں مثنوی نگارکا منصب ملتا۔۔۔ غالب کے یہاں عاشق کا کردار سراسررسومیاتی ہے۔ غالب نے اپنی انفرادیت پرستی کو یوں ظاہر کیا کہ انھوں نے عاشق کے رسومیاتی کردار کو اس کی انتہا پر پہنچا دیا۔ ‘‘(2)
مضمون کی ابتدا میں بیانیہ اور شعری اصناف کے کرداروں کی تھوڑی سی وضاحت کی گئی اور اب فاروقی صاحب کے اس اقتباس سے کرداروں کے مطالعے کا ایک اہم طریقہ بھی سامنے آ رہا ہے۔گویایہ کہنا مناسب ہے کہ ہم شاعری کے کرداروںکا مطالعہ مختلف طریقوں سے کرسکتے ہیں اور کرداروں کی انفرادیت سے شعرا کی انفرادیت بھی طے کی جاسکتی ہے۔ذیل میں ہم فقط چند متفرق اشعار پر سرسری بحث کریں گے، تاکہ کرداروں کے مطالعے کا ایک دھندلا سا طریقہ سامنے آجائے ۔
ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے
قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے
(مخمور سعید ی)
شاعر ی میں افسانوں کی بہ نسبت ذی روح اور غیر ذی روح کردار زیادہ بنتے ہیں۔ افسانوی کرداروں میں بھی غیر ذی روح چیزیں بطور کردار سامنے آتی ہیں، مگر شاعری سے کم۔ مخمور سعید ی کے مذکورہ شعر میں غیر ذی روح کردار ہیں۔ وہ بھی اس طرح کہ’’ گلیاں‘‘ فاعل بن رہی ہیں اور’’ ڈگر ڈگر‘‘ مفعول۔پھر ’’تیرا شہر‘‘ کا ذکر آتا ہے۔اس طرح دیکھیں تو’’تین مقامات‘‘بنیادی طور پر کردار بن گئے، مگر ’’ گلیاں‘‘ فاعل کی حیثیت سے مضبوط کردار ہے۔
راقم نے مخمور سعیدی پر مبسوط کام کیا۔ اس لیے کہ اسے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ موضوعی تناظر میں ان کے یہاں یاد کا پہلو مختلف طریقوں سے آیا۔ مذکورہ شعر میں ایک شہر کودیکھ کر دوسرے شہر کو یاد کرنا بھی اپنے آپ میں یاد کا نفسیاتی پہلو رکھتا ہے۔اس لیے یہ کہا جاسکتاہے کہ نفسیاتی معاملات سے جہاں فن پارے کے موضوعات پر بحث کی جاسکتی ہے،وہیں کردار کی تخلیق کا معاملہ بھی اٹھایا جاسکتاہے۔وقارعظیم نے لکھا ہے :
’’اچھے افسانہ نگار ہمیشہ اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں، وہ اپنے گرد وپیش کے ہر آدمی کی ہر حرکت کا مطالعہ بغور کرتے ہیں۔۔۔ ان کے کاموں پر دلچسپی اور اشتیاق سے نظر ڈالتے ہیں اور جب انھیں ان کی کوئی ایسی چیز مل جاتی ہے جسے وہ دلچسپ سمجھتے ہیںتو فورا اسے اپنے افسانہ کے لیے کام میں لے آتے ہیں۔‘‘ (3)
اس لیے یہ کہاجاسکتا ہے کہ کرداروں میں سب سے بڑا کردار خود تخلیق کار پوشیدہ ہوتا ہے۔ چناںچہ نفسیاتی مطالعے کا وجود خواہ کتنا ہی فرضی کیوں نہ ہو، تحلیلِ نفسی کے بغیر کرداروں کا مطالعہ بہت حد تک مکمل نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اسی عمل کے ذریعہ ہم ادب کے کرداروں کو تخلیق کار کی زندگی سے جوڑ سکتے ہیں اور تخلیق کار کے معاشرے( عہد ) سے بھی۔
خیر، مذکورہ شعر میں مقامات کردار بن رہے ہیں۔ ان مقامات کے علاوہ دو کردار اور ہیں ۔ایک خود شاعر ہے جو کہہ رہا ہے اور دوسرا وہ فرد جس سے کہا جارہا ہے۔ گویا اس شعر میں ’’ذی روح اور غیر ذی روح دونوں کرداربن کر سامنے آئے ۔ ذیل میں ایسے دو اشعار پیش کیے جارہے ہیں جن میں ذی روح کردار کا پلڑا بھاری ہے:
گلاب اس نے آنسوؤں میں ڈبو دیے تھے
میں اُس کے نزدیک سرجھکائے کھڑا تھا
(عتیق اللہ )
اس شعر میں فقط دو کردار ہیں۔ ایک’’ اس ‘‘ صیغہ واحد غائب۔ دوم،’’میں‘‘ صیغۂ متکلم ۔ اس طرح دیکھیں تو شعر میں کردار کم ہیں مگر عتیق اللہ نے ان کرداروں میں انتہائی جدت پیدا کردی۔اس شعر کو ’’محبت، تعظیم ‘‘ کے پس منظر میں سمجھ سکتے ہیں۔ پہلے ’’گلابی رنگ کی سرخی ، خون کے آنسوں، پھر سرجھکا کر کھڑا ہونا‘‘ پر غور کیجیے ۔اس پہلو سے شعر کی غمگینی واضح ہوتی ہے، یعنی ایک کردار نے دوسرے کردار کو گلا ب کا پھول تو دیا،مگر پھول دینے والے نے کچھ دنوں کے بعد پھول لینے والے کا دل توڑ دیا ہو۔ ظاہر جب عشق میں دل ٹوٹ جائے تو خون کے آنسو رونا پڑتا ہے۔ اس نکتے پر آکر گلاب کا خون ہوتا ہے اور’’گلاب کا یہ خون‘‘ خون کے آنسو کی شکل میں بہہ جاتا ہے۔
دوسرے مصرعے کو اس طرح سمجھنے کوشش کیجیے کہ پھول دینے اور لینے والے کرداروں کے درمیان ناچاقی ہوگئی ہو اورپھر دونوں کی اتفاقیہ ملاقات ہوجائے۔اب پھول لینے ولا،پھول دینے والے کردار کے سامنے خوب روئے اور گلاب، خون کے آنسو بن کر بہہ جائے۔ ان کی تفہیم اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ دو کردار ہیں،جو کبھی قریب آئے، مگر کسی وجہ سے وہ دونوں دور ہوگئے، پھر تیسر ے مرحلے میں کہیں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر ایک کردار نے شکوہ کیا اور دوسر ا سرجھکائے نادم کھڑا رہا۔ہوسکتاہے کہ ندامت کے آنسو بہانے والے کردار نے شکوہ سنج اپنی محبوب کو دوبارہ اپنا لیا ہو۔ اس طرح چوتھا مرحلہ وجود میں آ جاتا ہے۔ عتیق اللہ کے اس شعر کا مطلب چاہے کچھ اور ہو، مگر اس شعر کے کرداروں سے مطالعے کا ایک نیا طریقہ بھی سامنے آتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محبت اور نفرت کے مسئلے کو شاعر نے کرداروں میں بڑی خوب صورتی سے پیش کردیا۔
سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں
میں کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرا ہی نہیں
سلطان اختر
دانستہ طور پر سلطان اختر کے اس شعر کا انتخاب کیا گیاجو کئی معنوں میں عتیق اللہ کے مذکورہ شعر سے بالکل مختلف ہے۔ اس شعر کی تفہیم بالکل آسان ہے،جب کہ عتیق اللہ کے شعر میں معنیاتی ابہام ہے۔ ان کے شعر میں دو کردار بہت واضح تھے اور سلطان اختر کے اس شعر میں بہ ظاہر ایک ہی کردار ہے۔وہ ’’ میں ‘‘ واحد متکلم ہے، مگر گہرائی سے دیکھیں تو اس شعر میں کئی کردار ہیں۔ شعر کے دونوں مصرعے ’’میرے سفر۔۔۔ میں کسی موڑ‘‘ سے ایک ہی فرد واضح ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ شاعر کس سے کہہ رہا ہے کہ میرے سفر کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا؟کیا وہ خود سے کہہ رہاہے؟ کیا دوستوں کی ایک بڑی جماعت سے وہ مخاطب ہے؟ اگر شاعر خود سے مخاطب ہے تو خود شاعر کے اندر دو کردار ابھر رہے ہیں۔ ایک وہ کردار جو بول رہا ہے اور دوسرا جو سن رہا ہے۔ اسی طرح شاعر کسی محفل سے مخاطب ہے تو اس شعر میں بہت سے کرداروں کی شمولیت از خود ہوگئی۔ عتیق اللہ کے مذکورہ اشعار سے دو کرداروں کے علاوہ بھی کردار دریافت کئے جاسکتے ہیں، مگر سلطان اختر کے مذکورہ شعر میں جہاں بہت سے کردار ابھر سکتے ہیں، وہیں خود کلامی کا عنصر بھی ہے۔
کیا حادثہ ہوا ہے جہاں میں کہ آج پھر
چہرہ ہر ایک شخص کا اترا ہوا ساہے
(شہریار)
عتیق اللہ اور سلطان اختر کے اشعار میں بیان کی ایک کیفیت ہے۔ ایک آپ بیتی ہے کہ میں نے ایسا کیا یا ویسا کیا ، مگر شہریار کے اس شعر میں کردار کا ایک الگ رنگ ہے ۔ اول،’’ کیا حادثہ‘‘ یعنی کس قسم کا حادثہ ہوا۔ دوم، سوالیہ انداز میں کہ کیا کوئی حادثہ ہوا ہے۔ شاعر جس فرد سے یہ سوال کررہا ہے ، وہ فرد بھی ایک کردار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کردار کی اسی وقت وضاحت ہوسکتی ہے کہ جب اس شعر کی قرأت کئی طرح سے کی جائے ۔ گویا اس شعر میں کردار کو دریافت کرنے کا ایک الگ طریقہ موجود ہے۔
آؤ پھر آج کریدیں دل افسردہ کی راکھ
آؤ سوئی ہوئی یادوں کو جھنجھوڑا جائے
ملک زادہ منظور احمد
سلطان اختر کے اوپر والے شعر میں فقط گنجائش تھی کہ وہ کسی محفل کے کرداروں سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں کسی موڑ پر ٹھہرا ہی نہیں، مگر ملک زارہ منظور احمد کے اس شعر میں خطابیہ انداز ہے، یعنی جب خطاب ہوگا تو ازخود بہت سے کرداروں کی شمولیت ہو جائے گی۔
بطور مثال یہاں پر فقط پانچ اشعار پیش کیے گئے اور ان اشعار میں کرداروں کی کیفیت اور انداز الگ الگ بھی ہے۔ اردو میں افسانوی کرداروں پر معمولی توجہ دی گئی ، مگرشاعری کے کرداروں پر نہیں۔اگر شاعری کے کرداروں کا مطالعہ کیا بھی گیا تو فقط مثنوی کے کرداروں کا، غزلیہ کرداروں کا مطالعہ خال خال ہی نظر آتاہے ۔ پھر مثنوی کے کرداروں کا مطالعہ بھی بہت خوب نہیں ہوا۔سید محمد عقیل رضوی نے لکھا ہے :
’’۔۔۔ان تمام منظوم وغیر منظوم افسانوں میں کردار کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں رہی۔۔۔ اس کا سب سے بڑا سبب اردو ادب میں ابتدا سے ڈراموں کے نہ ہونے میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔‘‘(4)
ظاہر سی بات ہے کہ مثنوی کے کرداروں کا بھی مطالعہ بہتر طریقے سے نہیں کیا گیا تو غزلیہ کرداروں کی روایت کیسے مستحکم نظر آئے گی لیکن اب ہمیں افسانوی کرداروں کے ساتھ ساتھ غزلیہ کرداروں پر بھی توجہ دینی چاہئے تاکہ مطالعے کا ایک اور بہتر طریقہ سامنے آئے ۔
کرداروں کے اس سرسری مطالعے سے میر امقصد یہ نہیں تھا کہ کسی شاعر کی فوقیت ثابت کی جائے اور نہ ہی اس مختصر مضمون میں اس کی گنجائش ہے۔ البتہ اس میں کئی حوالوں سے کرداروں کی بحث آگئی اور شعری کرداروں کی انفرادیت بھی واضح ہوئی:
اول: اردو میں شعری کرداروں کا مطالعہ کم ہوا ہے۔ ایسا شاید اس لیے ہو اہو کہ ڈراموں کی شروعات ہمارے یہاں تاخیر سے شروع ہوئی یا پھر ہماری بھی کچھ تساہلی رہی۔
دوم: افسانوی کرداروں میں انسان زیادہ ہوتے ہیں، مگر شاعری میں انسانوں کے ساتھ وقت اور حالات بھی کثرت سے کردار بنتے ہیں۔
سوم: کرداروں سے زمانے کے نشیب وفراز بھی ابھرتے ہیں۔ہمارے دور میں جو سیاسی اتھل پتھل ہے، اس کا اثر شاعری کے کرداروں میں بھی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں کے اسلوب میں مزاحمت کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ سماج کے طرز عمل،افتادطبع اور ذہن ومزاج سے تخلیق کارکوئی نہ کوئی رنگ منتخب کرتا ہے اور اسی میں اپنے تخیل سے رنگ آمیزی کرتا ہے اور اسی رنگ آمیزی سے ادبی کردار تشکیل پاتے ہیں۔
چہارم: یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اسلوبیات اور لفظیات کے مطالعے سے جس طرح لسانی مباحث ابھرتے ہیں، اسی طرح کرداروں کے مطالعے سے بھی مختلف النوع انکشافات ہوسکتے ہیں۔کیوں کہ لفظیات کا تعلق جہاں بیانیہ سے ہوتاہے وہیں مکالموں سے بھی۔ ظاہر ہے جہاں مکالمے ہوں گے، وہاں ازخود کردار بھی ابھر کر سامنے آ ئیں گے مگر ہمارے ادبی اور تنقیدی رویوں میں کرداروں کے مطالعے کا کوئی خاص اہتما م نہیں ملتا۔بہ مشکل تمام افسانوی کرداروں پر نظر ڈالی جاتی ہے اور اس کی بھی کوئی مضبوط ومستحکم روایت نہیں۔
حواشی
(1)نجم الہدی ، کردار اور کردار نگاری ، شمشاد اختر ، میر بخش علی اسٹریٹ، مدراس، 1980، ص 7۔
(2)شمس الرحمن فاروقی ، شعر شور انگیز ، حصہ اول ، قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، نئی دہلی ، 1990، ص 80-81۔
(3)وقار عظیم ،فن افسانہ نگاری،سرسوتی پبلشنگ ہاؤس، الہ آباد،1935، ص99-100 ۔
(4)سید محمد عقیل ، شمالی ہندمیں ، اردو مثنوی کا ارتقا ،اترپردیش اکادمی، لکھنؤ،983 1، ص 320۔
نوٹ: مضمون نگار پورنیہ یونیورسٹی ، پورنیہ( بہار)میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

