ادب پڑھنا ادب لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے گرچے میں خود کو ادب کا معمولی طالبہ سمجھتی ہوں اور انشا اللہ سمجھتی رہوں گی میں کسی بھی شاعر کو اس کی شخصیت سے نہیں اس کی شاعری سے پہچانتی ہوں گرچے یہ بھی سچ ہے کہ شاعری شخصیت کا آئینہ دار ہے مجھے ہروہ شاعر اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے جس کی شاعری میں ذات اور کائنات مکس ہو صرف ذات نہیں صرف کائینات نہیں اب آپ یہ تو نہیں سوچنے لگے کہ میں اپنی خود ستائی میں مشغول ہوں جی نہیں میں وہی لکھ رہی ہوں جو میں سوچتی ہوں سہیل آزاد صاحب کے ایک شعر نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا وہ شعر آپ بھی پڑھیں
اب بھی ترے نقوش اُبھر تے ہیں جا بجا
دیوارو در کے ساتھ بھی تنہا نہیں ہوں میں
آزاد صاحب کے اس شعر نے مجھے بہت متاثر کیا ۔دیوارودر کے ساتھ رہنے والا شخص بھی یعنی ایک گھر بار والا آدمی بھی اپنے محبوب کو بھول نے میں نا کام ہے اور محبوب کے نقوش اب بھی جا بجا ابھرتے ہیں جو اسے تنہا نہیں رہنے دیتےاس شعر کے پڑھنے کے بعد میں نے ان کے اشعار ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنا شروع کیا ان کی شخصیت کو بھی پڑھا پتہ چلا کہ وہ ایک اچھے شاعر کے ساتھ ایک اچھے انسان بھی ہیں اور محکمہ پولس میں ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں مگر مجھے ان کی شخصیت سے ذیادہ ان کی شاعری میں دلچسپی رہی کہ شاعری میری روحی غزا ہے اور اچھے اشعار مجھے متاثر بھی کرتے ہیں اور ادب سے جوڑ کر بھی رکھتے ہیں اردو شاعری کے جتنے ادوار ہیں ان سے کچھ حد تک میں واقف ہوں کلاسیکی دور ترقی پسندوں کا دور جدیدیوں کا دور اور اب مابعد جدیدیت کا دور لیکن میں آپ سے یہ کہنا چاہوں گی کہ مجھے ہر دور کے وہ شعرا بھلے معلوم ہوتے ہیں جو اپنے عہد میں رہ کے بھی مسقبل پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے اشعار میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ بہت دنوں تک قاری اور سامع کو متاثر کرتے رہیں
محترم سہیل آزاد صاحب کی شاعری اس خوبی سے مزین ہے کہ ان کی شاعری دیر تک محسوس کی جائے گی اور دور تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اب میں اپنی اس بات کی دلیل میں ان کے کچھ اشعار پیش کرنا چاہوں گی
تیری نگاہ انتخاب ہم بھی رہے تو خیر
ریگ سیاہ،رہے مگر تیرے نگیں رہےتوخیر
پھر کبھی سیر کے لئے جائیں گے ہم فلک فلک
رہتے رہے زمیں پہ گر زیر زمیں رہے تو خیر
اب ان دو اشعار سے اہل ادب اندازہ لگائیں کہ سہیل آزاد صاحب کس طرز نگارش کے شاعر ہیں
رہے تو خیر کو جس طرح انہوں نے نبھا یا ہے وہ ایک اعلی اور ہنر مند شاعر ہی کرسکتا ہے
رات بھر کوئی پھرتا رہا دشت میں
رات بھر کوئی وحشت سنواری گئ
دشت اور وحشت کو مصرعہ اولا اور ثانی میں جس معنویت کے ساتھ انہوں نےاستعمال کیا ہے اورشعر کو بلندی عطا کی ہے وہ ان کا ہی حصہ ہے
سہیل آزاد صاحب نے جہاں غزل کے اشعار کہے ہیں اور خوب کہے ہیں وہیں ان کی نظمیں بھی پڑھے جانے کے قابل ہیں ان کی دو مختصر نظمو ں کا زکر میں کروں گی جو مجھے بہت پسند ہیں اور آپ کو بھی پسند آئیں گی اس کی اُمید بھی رکھتی ہوں مشینی دور میں جب زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ دماغی الجھنوں سے ذرا دیر کے لیے چھٹکارہ پانے اور ذہن کا ماحول بدلنے بلکہ بسا اوقات ضروری مسئلوں پر گفتگو کی خاطر بھی وقت نکالنا انسانوں کے لیے دشوار ہو رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ طویل نظموں اور افسانوں کی جگہ مختصر نظمیں اور افسانے رواج پارہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں غزل کی اہمیت و مقبولیت اور بھ بڑھ جاتی ہے۔ غزل کی اشاریت و رمزیت بسیط مضمون اور وسیع مفہوم کو ایک شعر میں سمو دینے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ اس دور کے لیے نہایت اہم ، کار آمد اور جاذبِ توجہ ہے۔غزل کے غیر مربوط اشعا ر الگ الگ افکار و خیالات کے مظہر ہوتے ہیں اور جداگانہ کیفیت رکھتے ہیں۔غزل کی یہ ہیئت بھی موردِ طعن و الزام رہی ہے۔لیکن اسے کیا کہا جائے کہ آج یہی ہیئت غزل کی خوبیوں اور کمال میں ایک خاص دلکشی کے اضافہ کی حامل نظر آتی ہے۔ ایک مخصر غزل کو سن کر یا پڑھ کر سامعین و قارئین کے مختلف جذبوں کی کشفی بیک وقت اور جتنے کم وقفہ میں ہوجاتی ہے ، وہ ایک طویل نظم سے ممکن نہیں۔غزل کی انھیں خصوصیات کے باعث سہیل ازاد کا میلانِ ذوق غزل کی طرف دوسری صنفوں کی بہ نسبت زیادہ رہا ہے۔ میرے خیال میں اگر ہم سہیل اڑاد کی شاعری میں فکر کی گیرائی اور گہرائی اور جذبے کی متوازن لہروں کے ساتھ متناسب لب و لہجہ اختیار کیا جائے تو غزل غمِ دل اور کربِ زمانہ کی ہم آہنگی کا وہ آئینہ دکھاتی ہے جس میں زندگی، ادب اور ادب ، زندگی نظر آتا ہے۔ سہیل اڑاد خوش فکر ، خوش گو ،پختہ خیال شعرا ء میں شمار ہوتے ہیں۔کم عمری میں ہی شعری انجمنوں اور ادبی محفلوں میں ان کی شرکت محفلوں کی رونق میں اضافے کا سبب بنتی ہے ،پختگی اور سلیقہ مندی ان کی شاعری کے خاص جوہر ہیں۔ حسن و عشق کی کشمکش ، جو شاید ازلی بھی ہے اور ابدی بھی ، ان کی غزلوں کا بنیادی موضوع ہے۔محبت کی واردات و کیفیات کو وہ مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور ہزار بار سننے سنانے کے باوجود یہی باتیں ان کے یہاں ایک نیا لطف دے جاتی ہے
نظم ،،یادوں کے خالی پیکٹ،،
یادوں کے خالی پیکٹ میں اک دیوانہ دل لپٹا تھا
جانے کون سڑک پر یارو اس پیکٹ کو پھینک گیا تھا
نظم ،،فنا،،
دھندلکے بھی کچھ اور گہرا گئے ہیں
کتابوں کے اوراق مجروح ہونے لگے ہیں
لیمپ کی روشنی تیز تلوار ہے
اوس میں بھیگی رات
اور عمر میں مجھ سے دونا بڑا ریڈیو
چھپکلی کا وہ جوڑا نکل آیا
میرے مکان کے پیچھے سے
آپ نے دونوں نظمیں پڑھیں اب آپ کو ان کی نظمیہ شاعری کا بھی انداز ہ ہوگیا ہوگا۔ایسی بہت ساری نظمیں انہوں نے تخلیق کی ہیں۔ میں اس مختصر سے مضمون نے ان کے شعری قد کا کوئ تعین نہیں کر سکتی اس لئے کہ میرا مطالعہ اور میری سوچ سے بہت بلند ان کی شاعری ہے یہ کام تو ان ناقدان ادب کا ہے جو گروہ بندیوں کا شکار ہیں اور اچھے جینوئن شاعروں سے نظریں چراتے رہتے ہیں مگر یہ سچے اور اہم شعرا اپنی شعری قوت سے ہمیں اپنی طرف کھنچنے میں کامیاب ہیں اور یقین ہے کہ ان جیسے شاعروں کی شاعری سے نظر چرانا مشکل ہے اب میں اپنے پسندیدہ اشعار آپ کے حولے کرتی ہوں جنہیں پڑھکر آپ میری باتوں سے متفق بھی ہوسکتے ہیں اور اگر پسند نہ آئے اسے رد بھی کر سکتے ہیں مگر میں یہ ضرور کہوں گی کہ سہیل آزاد صاحب ایک بہت ہی اچھے شاعر ہیں
اک آس تھی کہ اپنی طرف لوٹ آوں گا
اک بات ہے کہ آج بھی اپنا نہیں ہوں میں
آزاد ہم کئے گئے کس دھوم دھام سے
کھولا گیا ہمارا قفس شام زندگی
اک دن شکستہ ہو کے بکھر جاوں گا کہیں
پتھر سمجھ رہا ہے کہ شیشہ نہیں ہوں میں
عکس کی بےچارگی کو دیکھ کر
میں یہ سمجھا آئینہ باقی نہیں
امیدوں کی ایسی گھٹن تھی
عمر گزاری جیسے اُمس میں
حسرت بن جاتی ہے تمنا
یوں نہ سما دل کی نس نس میں
قلم پر بوجھ ہے ساری وراثت
کہیں بکھری پڑی ہے اک کہانی
ان اشعار کی روشنی میں آپ سہیل آزاد صاحب کو پڑھئے اور مجھے اس کا یقین ہے کہ آپ میری باتوں سے متفق ہوں گے کہ سہیل آزاد صاحب ایک باکمال اور اچھے شاعر ہیں.
راشدہ منصوری
:Rashida Mansuri
Musalaman para Lane
Po. Nibra Dist Howrah
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

