اُردو افسانے کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے۔کہ شروع شروع میں اس صنف کو مختلف نام دئیے گئے۔کسی نے اسے افسانہ کہا ،کسی نے کہانی اور بعد میں اسے مختصر افسانے کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔آج بھی افسانے کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،ایک مختصر افسانہ،اور دوسرا طویل ،مختصر افسانہ،لیکن دراصل یہ اصطلاحیں صرف الفاظ اور صفحات کی کمیت ظاہر کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ورنہاس کا بنیادی موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔افسانے کے بارے میں ڈاکٹر شکیل احمد یوں رقم طراز ہیں:کہ
’’افسانہ انسان کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ۔اپنی اجتماعی زندگی کے ابتدائی دور سے کہانی کہنا اور
انسان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔مغرب اور مشرق دونوں میں اس نے مختلف شکلیں اختیار کیں۔
اور مختلف نام پائے۔‘‘ ؎ ۱
(بحوالہ:اردو افسانوں میں سماجی مسائل کی عکاسی۔ڈاکٹر شکیل احمد،ص:۱۹)
” My his romanace,talle,porable,fable,legand, "
کہانی،داستان،حکایت،روایت ان بہت سے ناموں میں چند ہیں!
اردو میں ابتدا سے داستانوں کا رواج رہا ہے۔اور متعدد افسانے اور داستانیں تحریر یا ترجمہ کے ذریعے ادب اردو میں موجود ہیں،کب ابتدا میں افسانوں کا رواج ہوا۔تو داستانوں اور قدیم افسانوں کی مماثلت سے اس افسانہ کو بھی مختصر افسانہ کہا جانے لگا،نام کی مناسبت کی وجہ سے قدیم افسانوں اور موجودہ افسانوں کے درمیان ایک طرح کے لغوی تعلق قائم ہو گیا۔حالاںکہ قدیم افسانوں کا پلاٹ عموماً مافوق الفطرت عُنصر کی مدد سے ترتیب دیا جاتا تھا۔جب کہ موجودہ افسانہ روز مرہ کی زندگی کا بہترین عکس ہے۔نام کے سلسلہ میں کئی نقادوں نے اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ان کے نقطہ ہائے نظر سے اس سلسلے میں کافی مدد ملتی ہے۔بقولِ وقار عظیمؔ:
’’جس طرح انگریزی میں ــــــ’Fiction‘کا لفظ ایک وسیع مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اور تقریباً تین سو برس کے افسانوی ادب کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالتے وقت اس بظاہر
سیدھے سادے اَن گَنت اور ایک سے زیادہ ایک رنگین تصویر ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔‘‘ ؎ ۲
(بحوالہ:نیا افسانہ۔وقار عظیم،ص:۱۳)
وقار عظیم نے افسانے کو داستان تک مربوط کرنے کی سعی کی اور یہ درست ہے کہ داستانوں کے اثرات ابتدائی مختصر افسانوں پر نظر آتے ہیں۔اس لئے وقار عظیم کی تحریر کا وزن قائم رہتا ہے ۔مگر ڈاکٹر عبدالغنی نے اس لفظ کی وسیع تر تعریف پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’افسانہ ایک لچک دار لفظ ہے۔داستان،ناول ،مختصرافسانے کی کسی قسم پر بھی اس کا استعمال ہو سکتا ہے۔‘‘ ؎ ۳
(بحوالہ:پریم چند کہانی کا رہنما۔ڈاکٹر جعفر رضا،ص:۹۸)
دراصل یہ بات قابلِ توجہ ہے۔کہ اُوپر کی دونوں تعریفوں میں زیادہ زور دیا گیا۔اور اس کی تعریف،وسیع زاویہ نظر کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔اور اس ادبی ذخیرے کو اس کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی،جو انگریزی ادب میں شمار کیا جاتاہے،لیکن ہمیں یہاں لغوی معنی سے ہٹ کر اصطلاحی طور پر ان سے قطی اتفاق کرنا ممکن نہیں،کیوںکہ ان کے مجوزہ نام کو عام قبولیت حاصل نہیں ہے۔ (یہ بھی پڑھیں راجندر سنگھ بیدی کا فکر و فن -امتیاز احمد )
لیکن جب ہم دیکھتے ہیں۔کہ ۱۹۶۰ تک بہت سارے فنکاروں نے علامتی اور استعاراتی پیرائے میں اپنے محض محسوسات کو افسانے کا نام دے رکھا تھا جس سے عام قاری کے درمیان یہ غلط فہمی پیدا ہو چکی تھی۔کہ یہ بھی افسانے کے ذیل میں آتے ہیں؟دراصل ایسا اس لئے ہوا کہ اچانک فارمولہ کہانیوں سے جو انحراف ہوا۔تو اس میں نا پختہ فن کار بھی شامل ہو گئے۔نا پختہ کاروں نے ہی افسانوں کو افسانہ باقی نہیں رہنے دیا۔اور انہیں محض محسوسات کا پیکر بنا کر پیش کیا۔بہت سارے مستند لکھنے والوں کے یہاں بھی ایسی صورت جابجا نظر آجاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ افسانہ نگاروں کی اس نئی ٹولی نے یہ تصور کر لیا۔کہ افسانے کے لئے کہانی پن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔حا لاں کہ افسانے کی بنیاد کہانی پن پر ہے۔
پریم چند سے لے کر آج تک کے ناقدین اور ماہرین فن نے افسانہ کی جو تعریفیں کی ہیں۔ان کو پیش نظر رکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔کہ افسانہ دراصل بیان کا فن ہے۔یہ بیان خواہ علامتی ہو یا استعاراتی ،اس میں بہر صورت ،تجربات، مشاہدات،اور محسوسات کی ہی تصویر ابھاری جاتی ہے۔یہ تصویر فضا میں معلق نہیں ہوتی۔یہ تصویر اپنے واقعات کے پسِ منظر میں ایک سلسلہ رکھتی ہے۔اس سلسلے کو افسانے کے فن میں فنکار اس قدر احتیاط سے قائم رکھتا ہے۔کہ شروع سے آخر تک تجربات اور واقعات کی مختلف کڑیاں اس طرح ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں۔کہ ایک کے چلے جانے کے بعد دوسری کڑی کو جاننے اور سمجھنے کی خواہش پڑھنے والے کے دل میں بے قراری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔اور اس بے قراری اور کشمکش سے گزرتا ہوا افسانہ نگار اپنے قاری کو اس منزل پر لے آتا ہے۔جہاں وہ ایک وحدت تاثر کا احساس کرتا ہے۔اور اسی منزل پر اسے یہ بھی احساس ہوتا ہے۔کہ اس پر ایک عایم خیال روشن ہو گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں انتظار حسین کا افسانہ آخری آدمی – نثارانجم )
اس ضمن میں وحید اختر نے اپنے مضمون’’ سخن گسترانہ‘‘میں ماضی کیاافسانوں کی تعریفوں اور جدید افسانوں کی کچھ اہم حقیقتوں کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔وہ اس ضمن میں کچھ اس طرح تمہید باندھتے ہیں :
ـ’’ادب میں افسانہ اپنے لغوی معنی کے لحاظ سے بھی کسی حقیقی یا فرضی واقعے کا بیان ہے۔یہ واقعہ تاریخی بھی ہو سکتاہے۔زمانی بھی،نفسیاتی واردات بھی۔تاثرکا زائیدہ بھی،لیکن کہانی میں واقعہ کو ہر حال اہمیت ہوتی ہے۔کہ کہانی واقعے کا بیان ہے۔اس لیے کہانی کا اسلوب ہمیشہ سے بیانیہ رہا ہے۔حتیٰ کہ طلسماتِ آفرینی بیان کے سہارے بڑھتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ آج ہم پرانی داستانوں اور قصوں،حکائیات اور اساطیر میں علامت و استعارہ تلاش کر کے انہیں نئے معانی پہنائیں۔لیکن ان کی مقبولیت کا راز کہانی پن میں ہے۔جس چیز کو تجریری کہانی کہا جاتا ہے۔اور جسے کبھی اقلیدسی شکلوں لفظوں اور ریاضیاتی یا کیمیائی علامروں میں لکھا جاتا ہے۔اور زبان کے استعمال کی نادر مشق سہی، کہانی کا حق ادا نہیں کرتی۔اسی لیے قاریئن میں دلچسپی پیدا نہیں کرتی۔۔‘‘ ؎۳
(بحوالہ : الفاظ:افسانہ نمبر،ص:۲۲۔۲۱)
اس چنیُ ہوئے کلام سے یہ بات سامنے آتی ہے۔ کہ جدید تحریک کے سائیے میں جو افسانے لکھے گئے ہیں ان میں جو تجربے کیے گیے۔اس نے افسانے سے کہانی پن چھین لیا تھا۔اور بغیر کہانی پن کے افسانہ،افسانہ باقی نہیں رہتا۔اس میں وحید اختر نے یہ بات بھی واضع کر دی ہے،کہ اقلیدسی شکلوں،لفظوں اور ریاضیاتی یا کیمیائی علامتوں میں لکھے جانے والے افسانے کہانی کا حق ادا نہیں کرتے۔اس لیے ان میں قاریئن کی دلچسپی بھی برقرار نہیں رہتی ۔لیکن جن لوگوں نے علامتی اظہار سے بھی آفرینی کا کام لیا ہے۔اور اسے غلط نہیں سمجھا ہے۔انہوںنے تمام تر علامتی معنویت کے مطالبوں کو پرا کرتی ہیں۔اور جن میں علامت مفقود بالذات نہ ہو کر کسی واقعے یا داخلی یا خارجی واردات یا تاثریا کیفیت یا تصوّر کے افسانوی اظہار کا وسیلہ ہوتا ہے۔افسانے کے بارے میں وزیر آغا کچھ اس طرح لکھتے ہیں۔:
ـــ’’افسانے کا فن بنیادی طور پر کہانی کہنے کا فن ہے۔مگر کہانی محض ہوا مین تخلیق نہیں ہو جاتی۔اس کی نقوش کو اُجاگر کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک کینوس درکار ہو گا۔اور یہ کینوس زمانی اور مکانی حدود کے تابع ہو گا۔کوئی واقعہ بہر صورت ایک جگہ اور خاص وقت ہی میں ظہور پزیر ہو سکتا ہے۔اور اس لیے کہانی لکھنے والے کی خوبی اس بات میں ہے کہ بکھری ہوئی کڑیوںکے درمیان فاصلے کو ختم کر کے ان کو یوں ملایے کہ سارے خدوخال ایک ترشے ہوئے واقعہ کی صورت میں مرتب ہو جایئں۔‘‘ ؎۴
( بحوالہ: اردو افسانہ روایت و مسائل:ڈاکٹر وزیر آغا،ص:۱۱۴)
الغرض مختصر افسانہ خواہ کردار کے بارے میں ہو۔خواہ کسی سچویشن پر روشنی ڈالے ۔اگر وہ کہانی پن سے الگ ہے۔تو وہ افسانہ نہیں ہو سکتا۔اسے انشائیہ کہ لیجئے۔یا کوئی اور نام دے لیجئے۔افسانہ تو بہر حال وہی ہے جس کی روایت پریم چند سے شروع ہوتی ہے۔اور راجندر سنگھ بیدیؔ،غیاث احمد گدیؔ،سلام بن رزاق سے لے کر مشرق عالم ذوقی اور احمد صغیر تک پہنچی ہے۔جنہوں نے تکنیک کے تجربات کے باوجود علامتی اور استعاراتی اظہار کا سہارا لے کر بھی افسانے کی افسانویت یعنی اس کی روح کو برقرار رکھا ہے۔جنہوں نے افسانوں کو ایک نئی تخلیقی زبان عطا کی ہے اور اس میں جدت کی کشش اور تاثرکا حُسن پیدا کیا ہے۔لہذٰا افسانے کی سب تعریفوں کے مطابق اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔کہ افسانہ لکھنے کے لیے کوئی اٹل قانون نہیں بنایا جا سکتا ہے۔یہ مصنف کے مشاہدے،تجربے اور محسوسات کے ساتھ اس کے (یہ بھی پڑھیں ترقی پسند اردو افسانے – ڈاکٹر پرویز شہریار ) وجدان، اس کے تخیّل کی پرواز پر منحصر ہے۔کہ وہ اپنے فن کو کس انداز میں پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اپنے اندرون و بیرون کو دوسروں پر واضع کرنے کے لیے اپنے اندر ایک کرب کا احساس رکھتا ہے۔یہی کرب مشاہدات،تجربات اور محسوسات کے لیے زنان کی اختراع کی جانب مائل کرتا ہے۔بہرحال جبان خواہ کتنی ہی وسیلہ ہے۔یہی اظہار جب تسلسل کے ساتھ زندگی کے کسی ایک پہلو،کسی ایک تجربے اور کسی ایک خیال کی غمازی اس طرح کرے۔ کہ ایک ارتقائی منزل پر پہنچ کر اس کے قاری پر ایک عالم خیال روشن ہ جائے۔اور وہ دیر تک اس تاثر میں کھویا رہے۔جس کا پیش کرنا فنکار کا مقصود مدعا تھا لہذٰا اس کا کینوس اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔کہ مکمل کردار نگاری کی جائے۔لیکن افسانے کے بطن میں ہی کردار پنہاں ہوتے ہیں۔جن سے متعلق واقعات آگے بڑھتے ہیں۔اور انہیں واقعات یا ماجرے کے درمیان اس واقعے سے متعلقہ ماحول اور معاشرہ تک سب کچھ آجاتا ہے۔اس لیے افسانے کی روایتی تکنیک کے پسِ منظر میں مندرجہ ذیل عوامل افسانے کے اجزائے ترکیبی تسلیم کیے گیے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ نئے فنکاروں نے ان میں سے بھی کچھ ملحوظ رکھا ہے۔اور کبھی کچھ کو رد کر دیا ہے۔لیکن ہر صورت ماحول کی ترتیب تزئین اور تاثر کی صورت پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔تاکہ فسانہ برقرار رہے۔
Bilal Ahmad Bhat
Research scholar
Mob:- 7006412793
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

