حالی نے سرسید کے متعلق بالکل بجا فرمایا تھاکہ:
تیرے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کو
کریں گے ذکر ہر مجلس میں اور دہرائیں گے ان کو
سرسید احمد خاں کا شمار انیسویں صدی کی قدآور اور انقلابی شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ یہ صدی ہندوستانیوں خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کے زوال کی صدی تھی۔ انیسویں صدی کا ہندوستان تعلیمی، تہذیبی اور سیاسی تبدیلیوں سے دو چار تھا پرانا نظام دم توڑ رہاتھا اور ایک نئے جہان کی تعمیر ہو رہی تھی۔ یہ دور انتہائی بے چینی اورمایوسی کا دور تھا ۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ دور اس اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس وقت محض نظام حکومت ہی نہیں بدلا بلکہ تمام افکار و نظریات مثلاً تعلیمی نظریات، تہذیب و تمدن، طرز معاشرت وغیرہ میں بھی زبردست تبدیلی واقع ہوئی ۔ یہی وہ دور تھا جب سات سمندر پار سے آئی ہوئی ایک اجنبی قوم نے ہندوستان پر مکمل طور سے اقتدار حاصل کر لیا تھا۔ یہ صورتحال ملک کے دانشوروں کے لئے یقینا پریشان کن تھی۔ لہٰذا ان کی طرف سے ردِّ عمل کے طور پر سرسید احمد خاں جیسی مایۂ ناز اور قدآور شخصیت کے اعمال نے ہندوستانیوں کو اس پریشانی سے باہر نکالنے کی کامیاب کوشش کی ۔ ۱۸۵۷ کی ناکام جنگ آزادی اور ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں کی ابتر حالی و لاچاری اور تنزلی نے سرسید کو حددرجہ متاثر کیا کیونکہ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد برصغیر پر انگریزوں کی گرفت مکمل طور پرہو گئی تھی ۔ انگریز طبقے کا ملک کے باشندوں کے خلاف ظلم و ستم اور استحصال روزبروز بڑھتے ہی جا رہے تھے لہٰذا سرسید احمد خاں اس انقلاب کے بعد ہندوستانیوں کے لئے ایک عظیم رہنما بن کر سامنے آئے۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی نہ صرف سیاسی قیادت کی بلکہ اس سے کہیں زیادہ ان کی سماجی، تعلیمی، مذہبی اور ذہنی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تمام تر تصانیف، خطبات، مضامین اور تقریریں اسی امر کا مظہر ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ۱۸۵۷ے جنگ آزادی میں ناکام ہونے کے بعد خاص طور سے برصغیر کے مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر و بد تر ہو چکی تھی۔ تعلیم کے میدان میں وہ یہاں کی دیگرقوموں کے مقابل بہت پچھڑ چکے تھے ۔ ان کی سماجی حیثیت تو تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو چکی تھی۔ سر سید کو ان باتوں کا شدید ملال تھا لہٰذا انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو گمنامی اور جہالت کے غار سے نکالنے ، توہم پرستی سے باز رکھنے اور سیاسی و سماجی اعتبار سے انہیں ایک زندہ قوم بنانے کے لئے تعلیم کا سہارا لیا۔
سرسید ،مسلمانوں کو جدید علوم وفنون حاصل کرانا چاہتے تھے ۔ سرسید اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ ہندوستان کی دوسری قومیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے بہت آگے نکل چکی ہیں اور مسلمان ان سے بہت پیچھے ہیں۔ نذیر احمد بھی اسی کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
’’ہم جس جس پہلو سے ہندوؤں کے ساتھ اپنی حالت کا موازنہ کرتے ہیں ہندوؤں کا ہی پلہ جھکا ہوا ہے۔ بے مقدوری اور تہی دستی نے ہم کو رہا سکا اور بھی پست کر دیا ہے۔ ‘‘
سرسید چاہتے تھے مسلمان دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح جدید علوم و فنون حاصل کریں اور تہذیبی و سیاسی سطح پر بھی ان سے ربط قائم کریں تبھی مسلمان ترقی کرسکتے ہیں۔ عام مسلمان سوچتے تھے کہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے ہمارا مذہب کمزور ہوگا ہم عیسائی ہو جائیں گے، ہمارے بچوں میں غلط افکار رائج ہوں گے اور وہ بے راہ روی اختیار کریں گے جس سے ہمارے معاشرے میں خلفشارپیدا ہوگا۔ جبکہ سرسید جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم حاصل کرنے پر بھی زور دیتے تھے کیوںکہ وہ جانتے تھے بغیر مذہبی تعلیم کے بھی ہم ترقی نہیں حاصل کر سکتے۔ اس ضمن میں تہذیب الاخلاق کے ایک مضمون میں سرسید لکھتے ہیں۔
’’مجھ کو اس بات کا رنج ہے کہ میں اپنی قوم میں ہزاروں نیکیاں دیکھتا ہوں پر ناشائستہ، ان میں نہایت دیری اور جرأت پاتا ہوں پرخوفناک، ان میں نہایت قوی استقلال پاتا ہوں پر بے ڈھنگا، ان کو نہایت دانا اور عقلمند پاتا ہوں پر اکثر مکرو وفریب اور زور سے ملے ہوئے ان میں صبر و قناعت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے مگر غیر مفید اور بے موقع۔ پس میرا دل جلتا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ اگر یہی ان کی عمدہ صفتیں عمدہ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو جاویں تو دنیا دونوں کے لیے کیسی کچھ مفید ہوں۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن )
سرسید کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ محض چند کتابوں کا مطالعہ کرلینے سے ہی تعلیم حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے تربیت بھی بہت ضروری ہے، جس کے لیے اچھی سوسائٹی اور سماج و معاشرت درکار ہے۔ سرسید آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کی طرز پر ہی ہندوستانیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے تھے۔ جب انھوں نے وہاں کا نظام و تعلیم و تربیت اپنی آنکھوں سے دیکھا تو ان کا یہ خیال اور بھی پختہ ہو گیا کہ تربیت تعلیم کا سب سے اہم حصہ ہے بغیر تربیت کے تعلیم بے معنی ہے۔
اس وقت نہ صرف تعلیم حاصل کرنالازم تھا بلکہ بہبود کے لیے سیاسی و سماجی اور اقتصادی فلاح و بیداری بھی لازمی تھی۔ انگریزی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہونا گویا بہت ضروری ہوگیاتھا ۔ اس کے بغیر مسلمان سرکاری ملازمت ، تجارت اور درو تدریس میں ترقی نہیں حاصل کر سکتے تھے۔ ہندوؤں نے انیسویں صدی کی ابتدا میں ہی اس ضرورت کو محسوس کر لیا تھا جس کے پیش نظر ہندو قوم میں بیداری کا آغاز ہو گیا تھا۔ راجا رام موہن رائے، ایشورچندر ودیا ساگر اور مدن موہن الویہ وغیرہ جیسے مفکرین و مصلحین کی کوششوں سے ہندوؤں میں نئی بیداری کی لہر دوڑ گئی اور ان میں تعلیم خاص کر انگریزی تعلیم اور علوم و فنون حاصل کرنے کا چلن عام ہو گیا جس کے سبب تمام سرکاری ملازمت و تجارت غرض کہ تمام شعبوں میں ہندو ،مسلمانوں سے بہت آگے نکل گئے لیکن مسلمان انگریزی سے بے بہرہ رہے کیوںکہ انگریزوں نے اقتدار انھیں سے حاصل کیا تھا اسی لیے وہ انگریز اور انگریزی تعلیم و تربیت کو بھی نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے جس کے نتیجے میںمسلمان اور بھی زیادہ پچھڑ گئے۔ مسلمان انگریزی کو اسلام کے خلاف سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے انگریز اس کے ذریعہ انھیں عیسائی بنا دیں گے۔ لیکن سرسید نے ہار نہیں مانی اور مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ ہونے کی ترغیب دیتے رہے۔ انھوں نے معاشرے نقائص کا غور و خوض کے ساتھ مطالعہ و مشاہدہ کیا اور صدق دل اور قوت عمل کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے مسلمانوں کی کمزوریوں کا گہرائی سے مشاہدہ کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ اس وقت اپنے ملک و قوم کی ترقی و ترویج کے لیے انگریزی تعلیم حاصل کرنا ہی سب سے زیادہ ضروری ہے اور اس بے بسی ولاچاری اور ادبار سے گڑھے سے باہر نکلنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ لہٰذا اسی راستے پر سرسید نے تمام مسلمانوں کو گامزن ہونے کی ترغیب دی۔
اس وقت مغربی علوم و فنون حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کی کوئی زبان ایسی نہ تھی جس میں مغربی تعلیم حاصل کی جا سکے سوائے مادری زبان کے لہٰذا اس امر کے پیش نظر سرسید نے سب سے ضروری اقدام یہ کیا کہ پہلے جدید علوم کو ہندوستانی زبانوں میں منتقل کیا جانا نہایت ضروری ہے جس کے لیے انھوں نے ۱۸۶۴ میں سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی جس کا مقصد جدید مغربی علوم و فنون اور افکار و نظریات کو اردوزبان میں منتقل کرنا تھا۔ وہ اس خیال سے بخوبی واقف تھے کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کو تمام علوم و فنون اس کی اپنی زبان میں نہ سکھائے جائیں۔ اس بارے میں وہ فرماتے ہیں۔
’’میری یہ رائے ہندوستان کے ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی پر نہایت بڑے بڑے حرفوں میں آئندہ زمانے کی یادگاری کے لیے کھودی جائے کہ اگر تمام علوم ہندوستان کو اس کی زبان میں نہ دیے جائیں گے تو کبھی ہندوستان کو شائستگی و تربیت کا درجہ نصیب نہیں ہوگا۔‘‘
(سر سید احمد خان، مسافران لندن، لاہور ۱۹۶۱، ص۱۹۷)
سر سید نے غازی پور میں مدرسہ میں قائم کیا جو آگے چل کر وکٹوریہ کالج کے نام سے مشہور ہوا۔ انھوں نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ بھی جاری کیا جس کا بنیادی مقصد انگریزی زبان اور مغربی علوم کی ترویج اشاعت تھی اور یہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوتا تھا سرسید کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ مسلمانوں کی پسماندگی اور ان میں پیدا ہو رہی خرابیوں کا بنیادی سبب عوام کی جہالت ہی ہے اور جب تک مسلمانوں کی معاشرت میں اصلاح و فلاح نہ ہوگی ان کی تعلیمی حالت بھی درست نہیں ہو سکتی۔ اس لیے انھوں نے مدارس اور اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی معاشرتی ترقی کے لیے قلمی کوششیں بھی شروع کیں اور تہذیب الاخلاق کا اجراء کیا جس کے ذریعہ انھوں نے مسلمانوں کی سماجی حالت سدھارنے غلط رسم و رواج کو ترک کرنے، نئی تہذیب سے روشناس ہونے اور مسلمانوں کو اخلاق حسنہ اختیار کرنے پر زور دیا۔ اس رسالہ میں انھوں نے مسلم معاشرے میں رائج مذہبی، اجتماعی اور تہذیبی برائیوں پر سخت وارکیا اور جدید رجحانات کو پیش کر کے عام کیا۔ سرسید کو یہ کامل یقین تھا کہ مسلمان قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ عمدہ تعلیم و تہذیب سے آراستہ نہ ہوں۔ اسی لیے انھوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کو اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں۔
’’اے دوستو! مجھ کو یہ بات کچھ زیادہ خوش کرنے والی نہیں ہے کہ کسی مسلمان نے بی اے کیا یا ایم اے کی ڈگری حاصل کی بلکہ میری خوشی قوم کو قوم بنانے کی ہے۔‘‘
سرسید کا سفر انگلستان بھی اسی غرض سے تھا کہ وہاں جا کر انھوں نے آکسفوڈ و کیمبرج کامطالعہ اپنی چشم بصیرت سے کیا اور اسی کی طرح پر علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اورمسلمانوںکو یہاں سے فیضیاب ہونے کے مواقع فراہم کیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مسلمانوں کے تعلیمی فروغ کے لیے ’’کمیٹی خواست گاران ترقی تعلیم مسلمانان‘‘ قائم کی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنا قدیم دور سے نکل کر جدید علوم اختیار کرنے کی تجاویز پیش کرنا تھا۔سرسید نے جدید علوم کے ساتھ مذہبی علوم حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔ وہ اپنے بنائے ہوئے اداروں سے نیک اور باصلاحیت نوجوانوں کا عروج دیکھنا چاہتے تھے اور ان کو ترقی کی منزلوں پر پہنچانا چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ مسلمان جدید علوم و فنون اور انگریزی زبان وادب کے ساتھ ساتھ مشرقی تعلیم حاصل کرنے پربھی توجہ دیں اس سلسلے میں سرسید فرماتے ہیں۔
’’اے میرے عزیزو! میری یہ آرزو ہے کہ میں اپنی قوم کے بچوں کو آسمان کے تاروں سے اونچا اور سورج کی طرح چمکتا ہوا دیکھوں… پس میں چاہتا ہوں کہ میرے تمام بچے طالب علم جو کالجوںمیں پڑھتے ہیں اور جن کے لیے میری آرزو ہے کہ ووہ یورپ کے سائنس اور لٹریچر میں کامل ہوں اور تمام دنیا میں اعلیٰ شمار کیے جائیں، ان دو الفاظ لاالہٰ الااللہ اور محمد رسول اللہ کو نہ بھولیں۔‘‘
(خطبات سرسید، جلد۲، ص۷۴)
سرسید نے وقت کے تقاضے کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور مسلمانوں کی تعلیمی حالت بہتر بنانے کے لیے کانفرنس، کالجز، ادارے وغیرہ قائم کیے گئے تاکہ مسلمان وقت کے تقاضے کو سمجھیں اور علم حاصل کر کے ترقی کی راہوں پر گامزن ہوں۔ تہذیب الاخلاق میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’اس وقت ہم کو ضرورت ہے کہ جس قدر جلد ہو سکے ایک تعداد کثیر اور اگر کثیر نہیں تو ایک تعداد معقول اپنی قوم کے نوجوانوں کی پیدا کریں جو علم اور قابلیت میں اور ان علوم میںجو اس زمانہ کی حاجتوں کے لیے ضروری ہے سربرآوردہ ہوں۔‘‘
(تہذیب الاخلاق، اکتوبر ۱۹۹۲، ص۴۴)
سرسید نے جو سائنسی ذہن پیدا کرنے کی کوشش کی اور عصری علوم کو حاصل کرنے پر زور دیا ہے وہی آج کی بھی سب سے بڑی ضرورت ہے یعنی اگر سرسید کی کوششوں اور کاوشوں کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہوتی اور مسلم قوم کے تجزیے کے بعد عملی کوشش اور جدوجہد کی گئی ہوتی تو آج ہم وہاں نہیں ہوتے جہاں سچر کمیٹی کی رپورٹ ہمیں شرمندہ کر رہی ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پورے ملک میں مسلمانوں کی آبادی ملک کا تقریباً ۱۴ فیصد ہے مگر اقتصادی سطح پر ان کی حالت درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے بھی گئی گذری ہے۔ تعلیمی حالت کی بات کریں تو حالیہ سروے کے مطابق ہندوستانی گائوں کے ۵۴ فیصد اور شہروں کے تقریباً ۶۰ فیصد مسلم بچے ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اسکول کامنھ تک نہیں دیکھا، اور مذہبی اداروں میں بھی ان کے صرف ۱۴فیصد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ آزادی کے بعد سے لیکر اب تک سرکاری ملازمتوں میں ان کی تعداد پانچ فیصد سے زیادہ نہیں پہنچ سکی ہے۔ ہندوستانی عدلیہ میں مسلمانوں کی حصہ داری دیکھیں تو صرف ۶ فیصد ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستانی سپریم کورٹ کے ۳۷چیف چسٹس ہوئے ہیں اور موجودہ ججوں میں ۲۷ میں سے صرف ۲ مسلم نام ہیں۔ یہی حال سیاست میں بھی ہے اب اس سے زیادہ اور محسوس مثال کیا ہو سکتی ہے۔ کانگریس کی سربراہی کرنے والی گزشتہ حکومت نے سچر کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ۲۰۰۵ میں اقلیتوں کی فلاح و بہود کے لیے جو ۱۵ نکاتی پروگرام تیار کروایا تھا اس کا فائدہ بھی مسلمانوں کے بجائے دیگر مذاہب کے طبقوں میں منحصر ہو کر رہ گیا۔موجودہ سرکار نے تو اس پر صاف طور سے ’’خط نسخ‘‘ پھیردیا گیا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک منظر نامہ تو یہ ہے کہ آج دن وہ مزید انحطاط اور زوال پذیر یوں کی جانب گامزن ہو رہے ہیں اور دوسری جانب ملک کی فسطائی طاقتوں کی ان کو کچلنے اور ملک سے صفایا کر دینے کی کوششیں بھی تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سرسید احمد خان اور تہذیب الاخلاق- ڈاکٹر نوشاد منظر )
یہ اکیسویں صدی کے جمہوری ہندوستان کے تقریباً ۳۵کروڑ مسلمانوں کا حقیقی منظر نامہ ہے۔ کیا انیسویں صدی کے سرسید نے اس منصوبے کے تحت تعلیم کی ترویج و اشاعت کی تھی کہ مسلمان ترقی کے بجائے مزید پسماندگی اور تنزل کے گڑھے میں جاگریں۔ یہ سرسید کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ آج سرسید زندہ ہوتے تو بے انتہا مایوس ہوتے اور یقینی طور پر ترک وطن کر چکے ہوتے ۔ ایک ماہر تعلیم احمد رشید شیروانی کے مطابق آج ۲۲ کروڑ مسلمانوں اور ۸۵ کروڑ ہندوؤں کی تعلیمی شرح میں بہت فرق ہے۔ پہلے مسلمان غیر مسلموں سے دو گنا پیچھے تھے اور اب ۶ گنا پیچھے ہیں۔ مزید وہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دیکھ کر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آج ہر شہر کو ایک ایک سرسید کی ضرورت ہے حالی کی نظم مسدس مدوجزر اسلام کے یہ اشعار آج اس دور میں بھی پوری طرح مسلمانوں پر صادق آتے ہیں فرماتے ہیں ؎
گھٹا سر پہ ادربار کی چھا رہی ہے
فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے
نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے
چپ و راست سے یہ صدا آرہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہو گئے تم
ابھی جاگتے تھے ابھی سو گئے تم
نہ ثروت رہی ان کی قائم نہ عزت
گئے چھوڑ ساتھ ان کا اقبال و دولت
ہوئے علم و فن ان سے ایک ایک رخصت
مٹیں خوبیاں ساری نوبت بہ نوبت
رہا دین باقی نہ اسلام باقی
اک اسلام کا رہ گیا نام باقی
سرسید نے انیسویں صدی کے اخیرمیں مسلم قوم کی ترقی و خوش حالی کا جو مسبوط خاکہ پیش کیا تھا وہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اتنا ہی موثر اور معتبر ہے جو ان کی بصیرت اور دوراندیشی کی دلیل ہے۔ آج بھی تعلیم کے ماہرین اسی نقطے پر اتفاق کرتے ہیں کہ جدید علوم سے باخبر ہونا اور جدید و اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہی مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کا واحد راستہ ہے۔ انھوںنے مستقبل میں دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ آنے والے دور میں ہندوستان میں وہی قومیں عزت و وقار اور ترقی حاصل کر سکیں گے جو جدید علوم اور اعلیٰ تعلیم سے خود کو پوری طرح آراستہ کریں گی۔ کیوں کہ آنے والا دور سائنس اور ٹکنالوجی کا دور ہے۔ سرسید کی جدیدیت کے حامل یہ تعلیمی افکار و نظریات ہمارے آج کے معاشرے میں موجود متعدد ایسے مسائل کے دور کرنے میں معاون و مددگار ہو سکتے ہیں جن سے مسلمان جو جھ رہے ہیں۔ سرسید کی ساری تحریریں عہد حاضر میں زندگی کے مسائل کا احاطہ کرتی ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے لیے جو راہِ عمل قائم کی تھی، آج ہمیں اسی راہِ عمل اور اسی رہنما کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے تمام تعلیمی افکار و نظریات اور تحریریں بلاشبہ آج بھی ہماری رہبری کر سکتی ہیں اگر ہم خود سائنسی طرز فکر اور کشادہ ذہنی کے ساتھ ان کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوششیں کریں اور سچے دل سے ان راہوں پر گامزن ہوں۔
ان معروضات کے پیش نظر ضرورت اس بات کی نہیں ہے کہ ہم سرسید کے تعلق سے اپنا جائزہ لیں کہ ہماری زندگی میں سرسید اور ان کے افکار و نظریات کس حد تک بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ سرسید کی تعلیمات اور ان کے افکار و نظریات کو عام کرنے نیز ان کی تعلیم کے فروغ کے لیے اہل اردو اور ان کے ماننے والے اس طرح کوشاں رہتے ہیں جیسا کہ رہنا چاہیے یا جیسا کہ ہمیں حیات سرسید سے درس ملتا ہے۔ ہم ان کی خدمات کو کتنا مانتے ہیں اور کس طرح انھیں سچا خراج عقیدت پیش کر سکتے ہیں جس سے کہ سرسید کی روح کو مسرت و سکون حاصل ہو۔ نذیر احمد نے سرسید کے لیے کہا تھا کہ:
وہ اپنے وقت کا اک فرد کامل بلکہ اکمل تھا
کہ ہم میں ہر اک اعلیٰ سے اعلیٰ اُس سے اسفل تھا
خردمندوں کی صف میں سب موخر تھے وہ اول تھا
غرض اسلامیوں کی فوج کا لیڈر تھا جنرل تھا
اب اس کے بعد لشکر ہے مگر افسر نہیں کوئی
بھٹکتا پھر رہا ہے قافلہ رہبر نہیں کوئی
٭٭٭
رخسار پروین
ریسرچ اسکالر
الہ آباد یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] تعلیم […]