نورالحسنین صاحب سے میری پہلی ملاقات ادارۂ ادب اسلامی، مہاراشٹر کی سالانہ ادبی کانفرنس کے تیسرے و آخری دن ہوئی تھی۔ یہ کانفرنس جلگاؤں میں، 26 تا 28 جنوری 2018 کو منعقد ہوئی تھی،جہاں انھوں نے ”ناول نگار نورالحسنین سے ملاقات“ (انٹرویو سیشن) میں ”فنِ ناول نگاری“ پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دے کر قارئین کی تشنگی کو دور کیا تھا۔ موصوف نے ناول پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے ایک ایک پہلو کو مثالوں سے واضح کیا تھا۔ اس پروگرام میں موقع پاتے ہی میں ان کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے میں نے انھیں صرف کتابوں اور رسالوں میں ہی پڑھا تھا اور فیس بک تصویروں کی زبانی ان کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس روزوہ میرے سامنے تھے،ہاں بالکل سامنے۔ درمیانہ قد، خندہ پیشانی، متناسب ناک، گھنی بھنویں اور شگفتہ انداز ِ گفتگو۔مجھے یوں لگا جیسے کوئی فرشتہ آسمان سے زمین پر اتر آیا ہے۔
معین الدین عثمانی صاحب نے جناب نورالحسنین سے میری ملاقات کراتے ہوئے کہا تھا، اس لڑکے کو کچھ نصیحتیں کیجیے۔ یہ سوشل میڈیا پر بہت دھوم مچاتا ہے۔ نورالحسنین صاحب سے دوسری ملاقات 27 مئی 2018 کو اورنگ آباد میں موصوف کے گھر پر وسیم عقیل شاہ کے توسط سے ہوئی تھی۔ اس روز اورنگ آباد میں وسیم عقیل شاہ سے میری ملاقات بی.ایڈ انٹرینس ٹیسٹ سینٹر پر اچانک ہوگئی تھی۔ میرے افسانہ نگار دوست اشفاق حمید انصاری اور وسیم عقیل کے دوست احباب بیل بجتے ہی امتحان گاہ میں چلے گئے۔ اس کے بعد میں اور وسیم عقیل شاہ اردو افسانے کے بازیگر سے ملاقات کے لیے نکل پڑے تھے۔
نورالحسنین 1980 کے بعد کے افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام ہیں۔وہ گزشتہ 40 برسوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ اب تک ان کے چار افسانوی مجموعے، سمٹتے دائرے(1985)، مور رقص اور تماشائی(1988)، گڑھی میں اترتی شام(1999) اور فقط بیان تک(2012)شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے افسانے نہ ترقی پسندی کا پروپیگنڈہ ہیں نہ ہی جدیدیت کے مہر زدہ ہیں۔ان کے افسانوں میں جنسیات کا دخل بہت کم ہے۔ وہ کہتے ہیں، جنسیات انسانی زندگی میں اتنی ہی ہے جتنا کھانے میں نمک۔ تہذیب و اخلاق کا زوال اور ماضی کی بازیافت ان کے پسندیدہ موضوعات معلوم ہوتے ہیں۔ گڑھی میں اترتی شام، کلمہ گو، پیتل کی چھئیاں، بیساکھیوں پر کھڑے لوگ، بھوربھئی جاگو، ایک اداس شام وغیرہ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی میں اردو ناول۔ ایک تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی )
افسانہ ”ایک اداس شام“ آنکھوں کے سامنے ابھرتے ماضی کے جھلملاتے اور آپ ہی تحلیل ہوتے خوش گوار مناظر اور یادوں کے سہارے آگے بڑھتی کہانی ہے۔ کہانی دھیرے دھیرے قاری کو یوں جکڑ لیتی ہے کہ اسے یہ اپنی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ اخلاص و محبت میں ڈوبا ہوا ایک ہنستا کھیلتا مخلوط خاندان جہاں امی،ابا، چچی اور دادی منوں میاں کو منانے میں لگے رہتے ہیں۔ بعد میں منوں میاں کی پسند کی شادی ہوئی اور چولہے الگ ہوگئے، گھر کا بٹوارہ ہوا اور ساری خوشیاں وقت کی چکی میں پس کر ریزہ ریزہ ہو گئیں۔ اب ناراض منوں میاں کو منانے والی کوئی آواز کانوں تک نہیں آرہی ہے۔پہلے لوگ اپنے بزرگوں کے فرماں بردار ہوا کرتے تھے۔ نہ لڑکے کو لڑکی دکھائی جاتی تھی اور نہ ہی لڑکی کو لڑکا۔ وہ کہاں اپنے پسند کی شادیاں کرتے تھے پھر بھی اللہ نے ان کے رشتوں میں وہ تاثیررکھی تھی کہ ایک ان دیکھے ساتھی کی محبت میں پوری زندگی گزار دیا کرتے تھے۔ آج کل تو بات بات پر سیز فائر کا معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
”کل شام بیوی سے ان بن ہوگئی تھی۔ تب سے تنہا بھوکا پیاسا پلنگ پر اوندھا منھ پڑا ہوں۔ منانے والی کوئی آواز میرے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہے کیونکہ مقابل کے کمرے میں ناراض بیوی اور بچے ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور میں انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی چپکے سے آکر مجھے منا لے…..“
یہ ایک عمدہ لیکن د لخراش کہانی ہے۔ یہ نورالحسنین کے قلم کی سحر البیانی ہے کہ جس نے منوں میاں کے ذہن کی اسکرین پر بنتے ماضی کے دائروں سے بچپن کی سیر کرادی ہے۔ اس کہانی میں نورالحسنین نے فلیش بیک کے واقعات کو اسکرین پلے کی تکنیک میں ڈھالا ہیں۔ اس لیے کہانی کا ہر منظر ایک اکائی ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مربوط ہے۔ (یہ بھی پڑھیں صوفی منش شخص کا صوفیانہ ناول : تلک الایّام – ڈاکٹر ذاکر فیضی )
افسانہ ”کلمہ گو“ دکنی ماحول و فضا میں سانس لیتا ہے۔ جس میں کرداروں کی زبان اپنے ماحول اور علاقے کی ترجمان ہے۔ یہ ایک ابو دادا نامی غنڈے کی کہانی ہے۔ جس میں خامیوں کے ساتھ ساتھ چند خوبیاں بھی جمع ہو گئی ہیں۔ اس کا اصل کاروبار سود کا ہے اور حسن اس کی کمزوری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ رحم دل بھی ہے۔ غریبوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ جمعے کے دن کوئی برا کام نہیں کرتا۔ ایک انگریز طالبہ ماریا برونٹ ابودادا سے سود پر پانچ ہزار روپے لیتی ہے۔ ابودادا اس کے حسن کا دیوانہ ہے۔ پیسے ادا نہ کر پانے کی صورت میں ایک دن ماریا پیسوں کے عوض اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے ابودادا کے سامنے پیش کرتی ہے ”ہم انگریز کمیونٹی کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتا۔“ تب ابودادا کا ایمان بھی جوش مارنے لگتا ہے اور وہ کہتا ہے:
”ماریا ہم مسلمان ہیں…..کلمہ گو…..کس چیز کی کیا قیمت ہوتی ہے۔ وہ ہم بھی جانتا ہے…..“
افسانہ ”بھور بھئی جاگو“ کی شوٹنگ نورالحسنین نے ریاست کیرالہ کے دیہات اندلور سے شروع کی۔ اس کے بعد منگلور، کریم نگر، ایلورہ ہوتے ہوئے واپس اندلور پہنچ گئے۔ ہر مقام کے لحاظ سے منظر نگاری اور زبان و بیان کا انھوں نے پورا خیال رکھا ہے۔ کنجوپائتما (فاطمہ)، احمد علی اور کنجوپائتما کے والد افسانے کے اہم کردار ہیں۔کنجو پائتما ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے جو کیرالہ کے ایک دیہات اندلور سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ ماں کی ممتا سے محروم ہے۔ اس کے والد حکیم و عامل ہیں۔ افسانے کا دوسرا اہم کردار احمد علی آثار قدیمہ کا ملازم ہے۔ جو پہلی نظر میں ہی کنجوپائتما پر عاشق ہو جاتا ہے۔ افسانے میں شعور کی رو سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ کہانی کی شروعات رومانی انداز سے ہوتی ہے۔ اور اختتام مسلمانوں کے 73 فرقے ایک ہوجانے کی خواہش پر ہوتا ہے۔ نورالحسنین مسلمانوں کے 73 فرقوں سے، مسلکی جھگڑوں سے اور اسلامی تہذیب و تمدن کے مٹتے ہوئے نقوش سے دکھی ہیں۔ وہ اسلام کے شاندار ماضی کی بازیافت چاہتے ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری بامقصدہے،لیکن ان کا مقصد فن پر حاوی نہیں ہوتا۔
”گڑھی میں اترتی شام“ 1948 کے پولیس ایکشن کے بعد، حیدرآباد کے ماحول میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ پولس ایکشن سے قبل شیروں کا شکار کرنے والے کریم الدین کہانی کے مرکزی کردار ہیں۔ وہ تیتر باز ہیں۔ اور تیتروں کا شوق انھیں اس وقت ہوا جب پولیس ایکشن میں ان کی بندوق چھین لی گئی۔ کریم الدین کے علاوہ زمیندار فاطمہ خالہ، زمیندار کا پوتا خورشید، نائی کاشی ناتھ اور بوڑھا گھسٹری افسانے کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔
”پیپل کی چھیئاں“ مہاراشٹر کے ایک نہایت سخت گیر مذہبی برہمن خاندان کی کہانی ہے،جس میں مذہب کے غلط تصورات کے خلاف احتجاج و کشمکش افسانے کا نقطہئ عروج ہے۔ پنڈت روی شاستری، ان کے دو بیٹے وجے شاستری اور اجے شاستری افسانے کے اہم کردار ہیں۔ جس میں وجے شاستری کٹر مذہبی روایات اور اندھے عقائد کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ افسانے میں پیپل کی کونپل کو اکھاڑ پھینکنا اندھے عقائد کو ماننے سے انکار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
افسانہ ”بیساکھیوں کے پر کھڑے لوگ“ میں جذباتی و نفسیاتی الجھنوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ افسانہ مادی خوشحالی اور روشن مستقبل کے لیے بچوں کو بیرون ملک بھیجنے اور پھر ان گنت یادوں کے سہارے زندگی کے مشکل دن گزارنے والوں کی کہانی ہے، جس میں زندگی گھڑی کے پنڈولم میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار حیدر ہے۔ جس کے جذبات و احساسات پورے افسانے پر چھائے ہوئے ہیں۔ بہترین طرزبیان اور فلسفیانہ رنگ نے افسانے کو شہکار بنا دیا ہے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں اہلِ فن کی نظر میں نورالحسنین کامقام ومرتبہ!
”آپ کے فنی رویے میں خاصی تازگی اور تہہ داری ہے، اور بڑی بات یہ ہے کہ آپ ہم عصر زندگی کے جلتے ہوئے مسائل سے منحرف نہیں ہیں۔“
(ڈاکٹر قمر رئیس، دہلی)
”آپ کے ہاں کہانی سنانے کا جو انداز ہے،وہ افسانے کے موضوع کی اہمیت بھی بڑھا دیتا ہے۔“ (جیلانی بانو، حیدرآباد)
”آپ کو کہانی بیان کرنے کا سلیقہ ہے۔“ (نیر مسعود،لکھنؤ)
”ماضی کی بازیافت نورالحسنین کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہے۔“
(سلام بن رزاق، ممبئی)
”اس کے ہاں کہانی بنتی ہے۔“(بشر نواز، اورنگ آباد)
”1970 کے بعد جدید افسانوں میں جن مثبت تبدیلیوں کی باتیں میں کرتا ہوں،ان کی جھلکیاں آپ کی بعض کہانیوں میں ملتی ہیں۔“
(شوکت حیات، پٹنہ)
”نورالحسنین کا فن روشن امکانات کا حامل ہے۔ ان کے یہاں موضوعات میں تنوع اور مشاہدے کا عام فہم زبان میں اظہار ہے۔“(ارتضیٰ کریم، دہلی)
نورالحسنین کے افسانوں کے پلاٹ مربوط ہوتے ہیں۔ اور واقعات میں ترتیب ہوتی ہیں۔ وہ کہانی میں ماحول کی ہوبہو تصویر کھینچتے ہیں،ہرافسانے میں موضوع کی مناسبت سے ہی اسلوب کا انتخاب کرتے ہیں۔ افسانے میں اپنے نقطہئ نظرکو زیادہ نمایاں ہونے نہیں دیتے۔ آخر میں کوئی فیصلہ نہیں سناتے بلکہ سب کچھ قاری پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کرداروں کو بڑی محنت سے گڑھتے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں کے لیے ایک ماحول منتخب کرتے ہیں۔ پھر اس ماحول میں ان کرداروں کو بساتے ہیں۔ انھیں زندگی عطا کرتے ہیں اور ماحول کے عین مطابق انھیں زبان عطا کرتے ہیں۔ ان کے کردار ملی جلی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں،جن میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں گہری تاثیرہوتی ہے،جسے پڑھنے کے بعد قاری کے دل پر ایک کیفیت گزرتی ہے۔
راجندر سنگھ بیدی کی طرح نورالحسنین بھی دھیمے لہجے سے ا فسانوں کی شروعات کرتے ہیں۔ پھررفتہ رفتہ کشمکش اور اضطراب سر اٹھاتے ہیں اور ایک تجسّس پیدا کر دیتے ہیں۔
بقول آل احمد سرور:
”راجندر سنگھ بیدی اینٹ پر اینٹ رکھ کر افسانہ تعمیر کرتے ہیں۔ ان کا ہر افسانہ تراشا ہوا ہیرا ہے۔“
اور بقول کنہیا لال کپور:
”راجندر سنگھ بیدی تھیم کا بادشاہ ہے۔“
یہ دونوں اقوال مجھے نورالحسنین کی افسانہ نگاری پربھی صادق نظر آتے ہیں۔ بلا شبہ وہ افسانہ نگاری کے بازیگر ہیں۔
٭٭٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

