پاکیزہ اصنافِ سخن کی روایت بہت پرانی ہے۔ جہاں تک نعتِ رسولِ کریم کا تعلق ہے یہ حضورسرکارِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہی شروع ہو گئی تھی اس زمانے کے عربی شعرأاور صحابہ کرام نے نعتِ رسول کہتے ہوئے تمام عالم کو نعت گوئی کاسبق عطاکیا ۔چنانچہ عربی زبان سے نعت گوئی کا آغاز ہوا۔ صحابہ کرام میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ،حضرت عمرؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علی مرتضیٰؓ اور شعرأ میں حضرت عبداللہؓ بن رواحہ، کعبؓ بن زبیر، کعبؓ بن مالک اور شاعر رسول حضرت حسان بن ثابت انصاریؓ کے اسمائے گرامی خاص طوپر قابلِ ذکر ہیں۔حضرت حسانؓ کویہ سبقت حاصل تھی کہ وہ شعرأ میں رسولِ کریمؐ کے پسندیدہ شاعر تھے۔ انھیں نعتیہ کلام پیش کرنے کے لیے خاص طورپر منبر رکھوایاجاتا تھا کہ حضرت حسانؓ تعمیلِ حکم رسول کریمؐ میں اپنا کلام پیش فرماتے تھے۔
عربی زبان سے یہ سلسلہ فارسی زبان میں در آیا۔ فارسی شعراکرام نے فارسی زبان پر خوب خوب مدح ِرسولِ کریمؐ کی اور ایک خاص امتیازحاصل کیا۔چنانچہ مولانا جامعیؒ،،شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ،قطب الدین بختیار کاکیؒ، خواجہ نظام الدین اولیاؒ، امیرخسروؔ، بوعلی شاہ قلندرؒاور دیگر شعرأنے مدح ِرسولِ کریمؐ کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔
ہندوستان میں اردوشعرأ ملاّوجہی، قلی قطب شاہ ،ولی دکنیؔ سے میرؔ،غالبؔ و داغؔ کے وقت کے شعرأ نے نعتیں کہیں اور دواوین میں برکتاََ سب سے پہلے ان اصناف کو جگہ دی۔ نعت گو شعرأمیں محسنؔ کاکوروی، امیرؔمینائی، اقبالؔ، مولانا احمد رضاؔخاںبریلوی،الطاف حسین حالی ؔاور بہزاؔدلکھنویٔ وغیرہ نے خاص طورپراس صنف سخن کو اپنایااورامتیاز حاصل کیا۔ان حضرات کے بعد یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ دورِحاضر کے شعرأ نے بھی نعت گوئی کے میدان میں اپنی فکر کے جوہر دکھائے ہیں۔یہ بھی ہوا ہے کہ پورے برّصغیر میں نعت گوئی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسلوب میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ روایتی شاعروں کے بعد شعرأ نے جدید لہجہ اختیار کیاہے۔ روایت اور جدیدلہجے کے امتزاج سے بھی ایک لہجہ اور اسلوب وجود میں آیاہے جو سماعتوں کو بھی اچھا لگا اور بصارتوں کو بھی۔
آج بھی حمدوثنا ئے رسولِ کریم ؐکالامتناہی سلسلہ نہایت عقیدت و احترام سے تمام عالم میں جاری وساری ہے۔شعرأ کرام بارگاہِ رسالت مآب میں خراجِ عقیدت نعت پیش کرکے نعتیہ ادب میں اضافہ کر رہے ہیں۔ تاہم ایسے شعرا ٔکی تعداد بہت کم ہے جنھوں نے صرف نعت کو ہی اپنافکرسخن کا موضوع بنایاہویاجن کے دواوین یا مجموعے بھی شائع ہوئے ہوں۔
ضلع بجنوراترپردیش کے روہیل کھنڈ کے سات اضلاع (اوراب نو ضلع: چونکہ امروہہ اورسنبھل بھی ضلع ہو گئے ہیں )میں اپنے ادبی و شعری تخلیق کاروں کی وجہ سے خاص طور پرجاناجاتا ہے۔ پاکیزہ اصنافِ سخن میں یہاں کئی شعرأ کو امتیاز حاصل ہوا۔ سیرتِ مقدمہ کی تین جلدیں، تاریخ اسلام، اکبرشاہ خاںنجیب آبادی نے وہ کارنامہ عظیم انجام دیا جس نے انھیں زندہ جاوید کردیا۔ حضرت قائم چاند پوری نے نگار ِشاعری کے گیسو اس طرح سنوارے کہ دنیا ئے شعروسخن میںقایم ودائم ہو گئے۔ ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری نے اردوادب کے غالب کے دیوان کا مقدمہ لکھ کر بیکراں شہرت حاصل کی۔علامہ تاجورؔنجیب آبادی کااسم گرامی برِ صغیرمیں اردو کے حوالے سے نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔اخترالایمانؔ جدید شاعری کے آسمان پر ضوافگن ہوئے ۔ اردو شاعری کے حوالے سے نشترؔخانقاہی، طالب ؔکرت پوری،ہری چنداسیرؔؔ کرتپوری،عشرت ؔکرتپوری، انعامؔ کرت پوری، اظہارؔاثر، شوق بجنوری، ولیؔ بجنوری، رفعت سروشؔ، فرّخؔ نگینوی، بیخودؔ نگینوی، نہال سیوؔہاروی، ہلالؔ سیوہاروی، اخترؔ نجیب ٓآبادی ، اجمل ؔخاں نجیب آبادی،بیناؔبجنوری، عزیزؔ نہٹوری، سجاد حیدر یلدرم، قرۃالعین حیدر، شوقؔ مانوی، مطیرؔچاند پوری حضرات کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں ادبأوشعرأ کی ایک طویل فہرست ہے جوآج نگارِاردو کے گیسوسنوارنے میں پیش پیش ہیں۔
کئی سال پیشتر احقرضلع بجنور کے مختلف قصبات، مشہور مقامات پر اس غرض سے حاضر ہواکہ نعت گو شعرأ کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔چنانچہ میں نے یہ معلومات حاصل کیں کہ ہمارے ضلع میں ماشااللہ شعرأ کی تعداد تو کثیر ہے۔ لیکن جہاں تک نعت گوئی کا تعلق ہے کم شعرأ ایسے ہیں جنھوں نے نعت گوئی کو اپنا شعار بنایا ہواور اس مضمون پرمختصر معلومات پیش ہیں۔
تاثّرات اور خلاصۂ معلومات
نعت گوشعرأ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف قصبات اور مقامات پرحاضری ہوئی اورمختلف حضرات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ کس طرح اور کس قسم کی معلومات حاصل ہوئیں۔ ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں تاثّرات اورمعلومات کا خلاصہ پیش کیا جائے :
نجیب آباد :ہم نے اپنا سفر نجیب آباد سے شروع کیا۔یہاں جناب شکیلؔ رحمانی نے معلومات بہم پہنچائی۔ پتہ چلا کہ نجیب آباد میں کوئی ایسا نعت گو شاعر نہیں گزرا جس کا ذکر کیا جائے۔ البتہ کرتپور کے شاعراور صحافی جناب ارشد ندیمؔ نے بتایاکہ اکبرشاہ خاں نجیب آبادی شاعربھی تھے اوران کا غیر مطبوعہ مجموعۂ نعت لڈّن خاںصاحب (مشہورشکاری) کی بیگم کے پاس موجودتھااور جس کو ارشدندیم صاحب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
موضع کلیڑی : جناب محمد حسین قریشی کا مجموعۂ نعت شائع ہوا۔ ان کے ایک عزیز نے بتایا کہ ایک کتاب رہ گئی ہے وہ کوئی صاحب لے گئے ہیں۔ اس کے بارے میں معلومات بہم کی جائیں گی۔ لیکن وہاں سے کوئی معلومات حاصل نہ ہوسکی۔ شکیلؔ رحمانی صاحب نے بتایا کہ نجیب آباد میں ایک شاعر شمیم ؔالقادری تھے جو فلمی گیتوں کی طرزوںں پر نعتیں کہتے تھے ۔ان کو لوگ یہاں ہمدرد والے حکیم جی کہتے تھے۔ ان کا کوئی نمونہ ٔکلام حاصل نہ ہوسکا۔ ایک صاحب یہاں جناب عبدالحکیم مخفیؔ تھے جو نعت بھی کہتے تھے۔ غیرمسلم شعرأمیں جناب مہندر سنگھ اشکؔ نعت گو بھی ہیں۔
ساہن پور :نجیب آباد کے نزدیک قصبہ ساہن پور ہے جسے بعض لوگ نجیب آباد کا محلہ تصور کرتے ہیں۔اس قصبے سے تعلق رکھنے والے بزرگ شاعرجناب عبدالرحمن شوقؔ مانوی نعت گو ہیں۔ ایک سو سے زائدنعت کہہ چکے ہیں۔ جوکتابی شکل میںجلد شائع ہوں گی۔ ان کے علاوہ اخترؔملتانی، شاہد نجیب آبادی اورسوزؔ نجیب آبادی کے اسمائے گرامی قابلِ ذکرہیں۔
کرت پور : کرت پورضلع بجنور تاریخی بستیوں میں سے ہے یہاں علم وادب کی شمعیں ہمیشہ روشن رہی ہیں۔ حضرت الحاج مولانا قاضی سجاد حسین مرحوم عربی فارسی کے مستند عالم اورمدرسہ عالیہ فتحپوردہلی کے پرنسپل اورشیخ الحدیث بھی تھے۔شعرأ میں طالبؔ کرت پوری، حکیم محمد ابراہیم خلیلؔ، مفتی اقتداؔر حسین، مفتی افتخار حسین، عابدنسیمؔ، ہری چنداسیرؔ، انعام اللہ خاں انعامؔ کرت پوری، عشرت ؔکرت پوری، اظہار اثرؔ، افضل کرت پوری اور نئی نسل کے نوجوان شعرانگارِ سخن کے گیسو سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کرت پور میں نعت گوئی کا سلسلہ جاری ہے۔ کرت پور کے تین شعرأ کو ہم نعت گوشاعر کہنے میں حق بہ جانب ہیں۔ ان میں ابرارؔ کرت پوری، قاضیؔ کرت پوری (مرحوم) اور جناب شاکرؔ ؔؔؔؔکرت پوری کاذکر ضروری ہے۔ان تینوں کے مجموعے موجود ہیں، شائع ہونے والے مجموعوں میں شاکر ؔکرت پوری کانعت کا مجموعہ شائع ہوچکا ہے۔ ان کی ایک کتاب بزرگ شعرأ کی نعتوں پر تضمین بھی کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہے۔ قاضیؔ کرت پوری کامجموعہ شائع نہیں ہوا۔ کوشش کی جائے گی کہ وہ چھپ جائے۔یہاں ابرار کرت پوری کی نعتیہ کتب کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔
نعتیہ کلام : وَرَفعنالکَ ذکرک(نعتیہ کلام)،مدحت(نعتیہ کلام)،غزوات (مثنوی(۔نعتیہ کلام)،شہرِ علم (۔نعتیہ کلام)،حرف حرف ثنا (نعتیہ کلام)، عقیدت پارے(نعتیہ کلام)،خدا(نعتیہ کلام)،روشنی ہی روشنی(نعتیہ کلام)،نعت کہوںتو خوشبو آئے(نعتیہ کلام)،ان کے نام(نعتیہ کلام)، کوثرسخن (نعتیہ کلام)،۱بزرگ توئی(نعتیہ کلام)،نعت(نعت سے متعلق مضامین)
حکیم ابراہیم خلیلؔ، عابد نسیمؔ بھی نعت کہتے تھے۔ مولوی نظیرؔ احمدمحلہ کوٹلہ میں رہتے تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں استادرہے نعت گو تھے۔ ان کی کئی کتب شائع ہوئیں لیکن کلام حاصل نہ ہو سکا،منشی توقیرؔکرت پوری کا کلام بھی حاصل نہ ہو سکایہ نعت و منقبت کہتے تھے۔
دھام پور :دھام پور میں حافظ دھام پوری نعت گو شاعر تھے۔سیمابؔ اکبر آبادی کے شاگرد حافظ دھام پوری کا مجموعہ کلام شائع نہ ہو سکا۔کاترے نے اس کی کتابت کی تھی۔ اسکانامــــــ’’صبح روشن‘‘ ان کا ذکرــ’’الحسنات‘‘ رام پور کے سالنامہ 1972 میں موجود ہے۔
فداؔدھام پوری:مشہور نعت گو شاعر تھے۔ان کا نعتیہ کلام کا مجموعہ’’ تحفۂ بہشتیــ‘‘ شائع ہوا تھا۔اب دستیاب نہیں۔نسیم دھام پوری نے تقریباً اسّی نعتیں کہیں ہیں جو عنقریب کتابی شکل میں شائع ہونگی۔
نور پور :نور پور میں کئی شعرا ہوئے ہیں اور موجود بھی ہیں۔ان میں جناب عبدالغفار صدیقی، دانش ؔ نور پوری کے نعتیہ کلام کا مجموعہ ’’نورِحرأ‘‘ شائع ہوکر مقبولِ خواص و عوام ہو چکا ہے۔ نو رپور کے ایک اور شاعر جناب گوہرؔ نور پوری کا مختصر کتابچہ شائع ہوا تھا۔ ان کا کلام دستیاب نہ ہوسکا۔
بجنور :بجنور میں جناب شکیلؔ بجنوری اورمنصور ؔبجنوری سے معلومات حاصل کیں۔ کسی نعت گو شاعرکا پتہ نہیں چلا جن کاکلام کتابی شکل میں چھپا ہوالبتہ پاکستانی لٹریچر کے ذریعہ معلوم ہوا۔
۱۔ جناب اختر ؔبجنوری :’’مضرابِ جاں‘‘ مجموعۂ نعت ۱۹۸۶ کراچی میں شائع ہوا۔
۲۔جناب ممتازؔ بجنوری :’’‘نگارِ حرم‘‘مجموعۂ نعت ۱۹۸۹ کراچی میں شائع ہوا۔
۳۔جناب سرؔور بجنوری :’’حمدونعت‘‘ ۱۹۸۲ کو پہلا ایڈیشن فیصل آباد پاکستان میں شائع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن ۱۹۹۲ فیصل آباد پاکستان میں شائع ہوا۔
بجنور کے شعرأمیں جناب محمد یامین خاںشوقؔ بجنوروی،افسرؔ جمشید،چندر پرکاش جوہرؔ، سعید ؔزیدی،ولیؔ بجنوری، سید اسدرضاؔ کے اسمائے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ جنھوں نے نعتیہ کلام کہا۔
نگینہ :جناب حافظ رفیقؔ اورجناب عشرت جاویدؔ کے توسّط سے نگینہ کے شعرأ کی نعت گوئی سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔ انھوںنے بتایا کہ یہاں فخرالدین محزوںؔ باکمال شاعرتھے اور نعت بھی کہتے تھے۔ جناب محمود عندلیبؔ کے رشتہ دار تھے۔ دوسرے باکمال شاعر جناب بسملؔ نگینوی تھے۔ بسملؔ صاحب نے نعتیں کہیں لیکن ان کا کلام دستیاب نہیں ہے۔انھوں نے ایک بزرگ شاعر کا نام فرّخؔ نگینوی بتایا۔مجھے ان کے بارے میں معلومات کرت پور میں جناب ڈاکٹر جنید کے ذریعہ ہوئی۔فرّخؔ نگینوی مرحوم کے بیٹے کرت پور میں رہتے ہیں۔ جنید صاحب سے ان کی قریبی رشتہ داری ہے۔فرّخؔ نگینوی کا کلام قابلِ قدر لائق تحسین ہے۔ ان کے غیر مطبوعہ کلام ہیں:
۱۔نعتیہ قصائد : مطلع
بہار لاتی ہے کیا کیابہارِ جدت خاص
اے ہلالِ عید تیری شانِ رویت کے نثار
اے تعالی اللہ جاہ و عزتِ محبوبِ رب
اے بہارِ ہر دو عالم رحمت اللعالمین
لائی اس انداز سے بادِ صبا ابرِ بہار
سرِ باطل قلم ہے اور حق کی داستاں روشن
۲۔منظوم سیرتِ نبیؑ’’بزمِ رو ٔف الرحیم‘‘
بزم اوّل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۳۷۴ صفحات
بزم دوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۳۸۷صفحات
بزم سوئم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۴۸۳ صفحات
بزم چہارم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۵۶۷ صفحات
سرکارِ مدینہ حصہ اوّل۔۔۔۔۔ ۵۳۴ صفحات
اس کتاب میں حمد، نعت خصوصاً نعت کو ثلث، مربع، مخمس، مسدس، ترجیع بند، ترکیب بند سلام ، مثنوی، قطعات، قصائد اورتضمین کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔
۴۔غزوۂ بدرکا انتخاب۔۔۔۔۔ ۴۵ صفحات
یہ ضمیمہ بھی بزمِ رؤف الرحیم(سیرتِ نبی کریم) منظوم کا حصہ ہے اس طرح بزمِ رؤف الرحیم کے صفحات کی تعداد ۱۸۵۶ ہو جاتی ہے۔ یہ تمام کام مخطوطہ کی شکل میںموجود ہے۔ کسی ادارے کو اس تمام سرمایہ کی حفاظت کی خاطرشائع کرکے اس کارِ عظیم کو انجام دینا چاہیے۔ فرّخؔ نگینوی کا یہ تمام کام ہمارے نعتیہ ادب کا عظیم سرمایہ ہے۔
چاند پور : قائم چاند پوری کے چاند پور کے بارے میںجناب شاہد مجاز نے بتایاکہ یہاں شعرأ نے بطورسعادت تو اکّادکّا نعت کہہ لی ہیں۔ لیکن خاص طورپر اس صنف کوبرتا ہو یا کتابی شکل میں شائع کیا ہو ایسی مثالیں نہیں ملتیں۔البتہ یہاں ایک شاعرمسطیرؔ چاند پوری کے بارے میں بتایا کہ وہ چہار بیت کہنے میں ماہر تھے اور انھوں نے حمدیہ نعتیہ چہار بیت کہی تھیں۔میں نے نمونے کے طور پرچہار بیت کے اکھاڑے کے رکن جناب رئیسؔ چاند پوری سے چہار بیت حاصل کیں۔ حافظ عبدالعزیزیاسؔ چاند پوری کانعتیہ کلام کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے جس کا نام ’’کردار کی خوشبو ‘‘ ہے۔
سیوہارہ :ڈاکٹرعبدالرحمن بجنوری کے سیوہارے میں غریقؔ، وحیدؔ، ترکیؔ، ناظمؔ، نہالؔ سیوہاروی جیسے شعرأنے غزل کو مالامال کیا لیکن صاحبِ دیوان شاعر تھے جناب حکیم سید علی مظفرحکیمؔ سیوہاروی جن کا نعتیہ مجموعہ ’’لمعاتِ نور‘‘ ۱۹۸۵ میں شائع ہوا۔ حکیم صاحب سیوہاروی مشہور ادیب جناب کوثرؔچاند پوری کے والد تھے۔
کھاری جھالو :یہاں کے ایک شاعر استادجناب محمدظفرہنرؔ جھالوی نعت گو تھے لیکن ان کا کلام حاصل نہ ہوسکا۔
نہٹور :سجاد حیدر یلدرم اوران کی بیٹی قرۃ العین حیدر کے نہٹور والوں کو دانشمندانِ نہٹور کہا جاتا ہے یہاں عزیزؔ نہٹوری اور بیناؔ بجنوری جیسے شعرأ موجود ہیں۔ یہاں معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ جناب طلعت ؔحسین صدیقی اور دوسرے شاعرجناب تنویرؔ وصفی نے نعتیں کہیں ۔ان کا مسودہ بھی تیار تھا لیکن یہ پتہ نہیں چل پایا کہ وہ مجموعہ نعتیہ کلام شائع ہوا یا نہیں۔
شیرکوٹ :شیرکوٹ ضلع بجنور کا وہ قصبہ ہے جہاں ہمیشہ علم وادب کی شمع روشن رہی ہے۔ مولانا مظہر الدین اورمولاناارشقؔ شیر کوٹی کے اسمائے گرامی خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں۔ مولانا ارشقؔ کے تلامذہ میں محمد عمردانشؔ شیرکوٹی،محمد تحسینؔ بیگ کلیمؔ، جناب عاصیؔ شیر کوٹی اورامیرؔشیرکوٹی خاص ہیں۔ انصار جنگ خاںناصر نے بھی نعتیہ کلام کہا ہے۔ غیر مسلم حضرات میں جناب انیرودھ شرمانسیمؔ اردو، ہندی، عربی، فارسی اور سنسکرت کے عالم تھے۔ انھوں نے ایک عربی قصیدہ اور سپاسنامہ شاہ فیصل مرحوم کو بھیجا تھا جس پر انھیں اکرام سے نوازا گیاتھا ۔ پنڈت جی رحمت اللعالمین سے عقیدت رکھتے تھے اس لیے نعتیہ کلام کہتے تھے۔ان کے شاگردکلیم شیر کوٹی کے بیٹے جناب محمد شعیبؔ مرزا نامور شاعر ہیں اور نعتیہ کلام بڑی عقیدت سے کہتے ہیں۔
میرے پاس جو معلومات تھیں ان میں سے خاص خاص حضرات کا ذکرمضمون ہٰذا میں کر دیا ۔ طوالت نہ ہو اس لیے نظم کا حصہ اس مضمون میں پیش نہیں کیا گیاہے۔انشا اللہ مزید تفصیلات کے ساتھ ’’ضلع بجنور کے نعت گو شعرا‘‘ کتابی شکل میں شائع ہوکر قارئین کرام کی خدمت میں پہنچے گا۔
رابطہ:09891542320
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

