علامہ اقبال (۹؍نومبر ۱۹۷۷ء) عمر میں علامہ شبلی ( ۴ٖ؍جون ۱۸۵۷ء) سے بیس سال چھوٹے تھے۔ ان کے دور طالب علمی میں شبلی کے علم و فضل اور ان کی عظیم الشان تصنیفات و تحقیقات، مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم، المامون، سیرۃ النعمان، الجزیہ، کتب خانہ اسکندریہ اور الفاروق کا ہر طرف ڈنکابج رہا تھا۔ سرسید احمد خاں ، ڈپٹی نذیر احمد، منشی ذکاء اللہ دہلوی، مولانا الطاف حسین حالی اور عبدالحلیم شرر وغیرہ شبلی کے بزرگوںاورہم عصروں نے شبلی کے ذوق علم و تحقیق، وسعت مطالعہ اور اسلوب نگارش کا برملا اعتراف کرکے عظمت شبلی سے پورے ملک کو روشناس کرا دیا تھا۔ شبلی کے روم و مصر و شام کے سفر اور سفرنامہ کی اشاعت نے جہاں انگریزی حکومت کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ شبلی کو ترکوں کا ایجنٹ اور جمال الدین افغانی کا ہم نوا خیال کر رہی تھی اور ترکی حکومت سے ملے تمغہ مجیدیہ کے استعمال پر پابندی لگادی تھی۔ (۱) وہیں شبلی کے جذبہ اتحاد اسلامی کے سبب مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جو حریت پسند اور قوم پرور خیالات کا حامل تھا ان کا والہ و شیدا ہو گیا تھا۔ غالباً یہی زمانہ ہے جس میں اقبال علامہ شبلی سے متاثر ہوئے اور ان کے قریب آئے۔ انہوں نے پہلی کوشش یہ کی کہ علامہ شبلی کو مستقل طور پر پنجاب بلالیں تاکہ ان کے علم و فضل سے اہل پنجاب مستقل طورپرمستفید ہوسکیں مگربقول اقبال مسلمان امراء کی کم ذوقی کے سبب یہ کوشش بار آور نہ ہوسکی۔ (۲)
۱۹۰۳ء میں علامہ اقبال نے اپنی پہلی کتاب علم الاقتصاد لکھی جو اپنے موضوع پر اردو میں پہلی کتاب ہے ۔ علامہ اقبال کی خواہش پر شبلی نے علم الاقتصاد کا مطالعہ کیا اور اس کے بعض حصوں کی زبان و بیان کی تصحیح کی۔ (۳) اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ علامہ اقبال ۱۹۰۳ء سے پہلے ہی علامہ شبلی کے علم و فضل اور ادب و انشا کے والہ و شیفتہ اور ان کاقرب حاصل کرچکے تھے۔
۱۹۰۱ء میں علامہ شبلی حکومت حیدرآباد کے سر رشتہ علوم و فنون سے وابستہ ہوئے۔ یہاں انہوں نے سلسلہ کلامیہ کا آغاز کیا اور الغزالی، علم الکلام، الکلام اور سوانح مولانا روم جیسی اہم کلامی کتابیں لکھیں جو ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۶ء کے درمیان شائع ہوئیں۔ ۱۹۰۷ء میں علامہ اقبال نے ڈاکٹریٹ کا مقالہThe Development of Metaphysics In Parsia لکھااور میونخ یونیورسٹی جرمنی کو پیش کیا جس پر انہیں Ph.D. کی سند تفویض ہوئی ۔ یہ مقالہ ۱۹۰۸ء میں لوزک اینڈ کمپنی لندن نے شائع کیا۔ اس میں شبلی کی دو کتابوں الغزالی اور علم الکلام کاعلامہ اقبال نے حوالہ دیا ہے۔ (۴)یعنی ان کی نظر میں شبلی کی یہ کاوشیں اس لائق تھیں کہ انہیں مآخذ و مراجع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ انگریزی زبان میں لکھی جانے والی یہ پہلی کتاب تھی جس میں علامہ شبلی کی کسی کتاب کا حوالہ دیا گیا، اس طرح جرمن اہل علم کے سامنے شبلی کا نام غالباًسب سے پہلے علامہ اقبال کے ذریعہ پہنچا ۔
علامہ اقبال کا یہ مقالہ اردو میں فلسفہ عجم اور فارسی میں سیر فلسفہ در ایران کے نام سے شائع ہوا۔ گویاایران میں بھی شبلی کا نام پہلے پہل علامہ اقبال کے مقالہ ہی کے ذریعہ پہنچا۔ واضح رہے کہ ایرانی شبلی شناس آقائی سید محمد تقی فخر داعی گیلانی (م:۱۹۶۳ء) جنہوں نے شبلی کی کئی کتابوں: شعرالعجم، سوانح مولانا روم ، علم الکلام اور کتب خانہ اسکندریہ وغیرہ کا فارسی زبان میں ترجمہ کرکے تہران، ایران سے شائع کیا ۔ انہوں نے گو ایران میں شبلی شناسی کاکام بڑے پیمانے پر انجام دیا تاہم واقعہ یہ ہے کہ ان کے ترجمے بلکہ تمام کاوشیں علامہ اقبال کے مقالہ کے بعد وجود میں آئیں۔
علامہ اقبال ، مولانا روم ، مثنوی معنوی اور ان کے فکر و فلسفہ کے بڑے عاشق تھے۔ یقین ہے کہ اقبال نے ’’سوانح مولانا روم‘‘ جس سے مشرق میںمطالعہ رومی کاآغازہوا، ضرور مطالعہ کیا ہوگا ۔ اس لئے کہ علامہ شبلی کی یہ کتاب اس عام خیال سے کہ مولانا روم کی شخصیت محض تصوف و سلوک سے عبارت تھی ہٹ کر لکھی گئی ہے اور دکھایا گیا ہے کہ مولانا روم علم کلام کے بڑے ماہر تھے اور ان کی مثنوی معنوی علم کلام کی بھی کتاب ہے۔ (۵)سوانح مولانا روم سے اقبال کی دلچسپی ان کے ذوق و مزاج کی آئینہ دار ہے تاہم ان کی اس ذوق آفرینی میں شبلی کی کتاب نے بقول انامیری شمل غیر معمولی رول ادا کیا ۔(۶) علامہ شبلی نے جبر و قدر، تجدد امثال اور دیگر کلامی مباحث پر روشنی ڈالی ہے چونکہ علامہ اقبال کو ان موضوعات سے گہرا شغف تھا، اس لئے قیاس ہے کہ اقبال نے ان کی تحریروں سے ضرور کسب نور کیا ہوگا ۔
۱۹۰۳ء میں علامہ شبلی انجمن ترقی اردو کے پہلے سکریٹری نامزد ہوئے۔انہوں نے انجمن کو ترقی دینے کی بھرپور کوشش کی۔ انہی کی تحریک پر اخبارات کے ایڈیٹر انجمن کے رکن بنے۔ اردو کی بہترین کتاب پر انعام دینے کا سلسلہ انہی نے شروع کیا ۔ ان کا اس سلسلے کا سب سے اہم کام اردو کتابوں کے ترجمے کا ہے ۔ انہوں نے ۱۴؍ کتابوں کو ترجمے کے لئے منتخب کیا جس میں دو کتابیں فلسفہ تعلیم اور رہنمایان ہند شائع ہو سکیں۔چندکتابیں بعدمیں شائع ہوئیں، اس سلسلہ کی ایک کتاب فلسفہ تعلیم کا ترجمہ خواجہ غلام الحسنین پانی پتی نے کیا ہے ۔ علامہ شبلی نے اسے جن چار اہل علم کے پاس ان کی رائے کے لئے بھیجا تھا، ان میں ایک علامہ اقبال بھی تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کے یورپ جانے سے پہلے شبلی ان کی خوابیدہ صلاحیتوں سے واقف اور فلسفہ تعلیم کے ساتھ انگریزی و اردوپر ان کی مشاقانہ نظر کے قائل ہو چکے تھے۔ چنانچہ انہی چاروں اہل علم جن میں علامہ اقبال کے علاوہ ڈپٹی نذیر احمددہلوی بھی شامل تھے کے اتفاق رائے سے یہ ترجمہ اشاعت کے لئے منظور ہوا۔ (۷)
۱۹۰۸ء سے ۱۹۱۲ء کے درمیان شبلی کی شعرالعجم کی چار جلدیں شائع ہوئیں۔ پانچویں جلد شبلی کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ اقبال نے یقینی طور پر ان کا مطالعہ کیا تھا اور وہ ان کے مداح تھے۔ ظہورالدین مہجور نے کشمیر کے شعرائے فارسی کا تذکرہ لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ایک خط میں علامہ اقبال سے اس کا ذکر کیا توانہوں نے مشورہ دیا کہ یہ تذکرہ ضرور لکھئے مگر حروف تہجی کے اعتبار سے نہ لکھئے گا، بلکہ شعرالعجم کی طرح شعراے فارسی کی شاعری کا ناقدانہ جائزہ ہونا چاہئے۔ (۸) یہ اقبال کی زبان سے عظمت شبلی کے اعتراف کا ایک نمونہ ہے۔
۱۹۰۸ء میں شدھی تحریک کے زیراثر ارتدادکافتنہ اٹھا،اس کی سرکوبی کے لئے پوری طاقت سے علامہ شبلی بھی میدان میں آئے۔شاہ جہاںپور ،راے بریلی اوربعض دیگر مقامات کے لئے پیرکی معذوری کے باوجود دورے کئے،انجام کار وہ اس نتیجے پرپہنچے کہ اس کے لئے ایک تنظیم کی ضرورت ہے،چنانچہ انہوںنے حفاظت واشاعت اسلام کے نام سے ایک تنظیم کا منصوبہ بنایا،اس کاایک مختصرخاکہ چھپواکر بزرگان قوم کی خدمت میں بھیجا،جن لوگوں کے پاس یہ خاکہ انہوں نے بھیجا تھا ان میں علامہ اقبال کا اسم گرامی بھی شامل ہے۔ یہی نہیں ان کانام ان حضرات میں بھی شامل ہے جنہوں نے’’اس سے اتفاق کیا اورہرقسم کی شرکت کی آمادگی ظاہر کی ۔ ‘‘(۹)
اب تک ملت کے ان دونوں حدی خوانوں میں ملاقات نہ ہوسکی تھی۔چنانچہ بیسویں صدی کے دوسرے دہے کے آغاز [۱۹۱۱ء] میں جب شبلی کے علم و کمال کا شہرہ نصف النہارپر تھا اور عظمت اقبال کے اعتراف کا سلسلہ قائم ہو چکا تھا۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس دہلی میں دونوں کی پہلی اور شاید آخری ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس کی صدارت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی [م: ۱؍جون ۱۹۳۵ء] نے کی تھی۔ علامہ اقبال اس میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ ایک اجلاس کی صدارت بھی کی۔ ایک مختصر تقریر اور اپنی نظم بلاد اسلامیہ کا وہ حصہ جو مدینہ منورہ سے متعلق ہے پڑھ کر سنایا۔ اسی اجلاس میں علامہ محمداقبال کو کانفرنس کی طرف سے ’’ترجمان حقیقت‘‘ کا خطاب دیا گیا ۔(۱۰) اس کانفرنس میں سجاد حیدر یلدرم جو علی گڑھ میں علامہ شبلی کے شاگرد رہ چکے تھے، ان کی خواہش پر علامہ شبلی نے علامہ اقبال کو پھولوں کا ہار پہنایا۔ (۱۱ ) اور ایک مختصر تقریر کی یہی وہ پہلا موقع ہے جب شبلی نے اقبال کو دوسرے غالب ہونے کی بشارت دی تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ:
’’یہ رسم کوئی معمولی رسم نہیں ہے اور اس کو محض تفریح تصور نہ کرنا چاہئے۔ ہم مسلمانوں کا یہ شعار رہا ہے کہ ہم جس قدر قوم کی دی ہوئی عزت اور خطابات کی قدر کرتے رہے ہیں ،اتنی کسی اور عزت کی شہرت ہمارے ناموں کی نہیں ہوئی۔ محقق طوسی وغیرہ کو اس زمانے کے سلاطین نے بڑے بڑے خطابات دئے لیکن آج سوا کتابوں کے اوراق کے کسی زبان پر نہ چڑھ سکے لیکن قوم کی طرف سے محقق کا جو خطاب دیا گیا تھا، وہ آج تک زبان زد خاص و عام ہے۔ جو عزت قوم کی طرف سے آج ڈاکٹر اقبال کو دی جاتی ہے، وہ ان کے لئے بڑی عزت و توقیر کی بات ہے اور حقیقت میں وہ اس عزت کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کا علم ، ادب اور ان کی شاعری کا مقابلہ غالب کی شاعری سے کیا جائے تو مبالغہ نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ (۱۲)
مولاناشاہ سلیمان پھلواروی نے اس رسم کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کیا کہ
’’اقبال صاحب کے لئے یہ موقع بہت ہی مبارک ہے اورہمیں بھی بڑی مسرت ہے کہ اس جلسہ میں انہوں نے علامہ شبلی کے مقتدرہاتھوں سے پھولوں کے ہار پہنے ،نام بھی مبارک ، کام بھی مبارک،پھولوں کا ہاربھی مبارک اور ہار ڈالنے والے کا ہاتھ دست کرم بھی مبارک۔‘‘
(بحوالہ زندہ رود ،حیات اقبال کا وسطی دور،ص۱۵۵)
یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اپنے عہد کے اردو کے سب سے بڑے ادیب اور نقاد نے علامہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف ایک مجمع خواص میں کیا۔ اس سے جہاں اقبال کے اندر اعتماد پیدا ہوا ہوگا، وہیں یقینا اقبال کی شیفتگی شبلی میں بھی اضافہ ہوا ہوگا۔ اس سے ایک اور بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ علامہ شبلی نے جس طرح علامہ حمیدالدین فراہی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالسلام ندوی اور مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ کی موقع بہ موقع حوصلہ افزائی اور تربیت کی، اسی طرح علامہ اقبال کا بھی حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ :
’’مولانا شبلی مرحوم نے اقبال کو اسی وقت پہچانا تھا جب ہنوز ان کی شاعری کے مرغ شہرت نے پر و بال نہیں پیدا کئے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے پیشین گوئی کی تھی کہ حالی و آزاد کی جو کرسیاں خالی ہوں گی ان میں سے ایک اقبال کی نشست سے پر ہوجائے گی۔ (۱۳)
۱۹۱۲ء میں علامہ شبلی نے مجلس علم کلام بنائے جانے کی اپیل کی۔ان کا خیال تھاکہ جدید علم کلام نامکمل اورناقص ہے ،اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ عباسیوں کے زمانہ میں جب فلسفہ اورعلوم عقلیہ کا رواج ہوا توسیکڑوں ہزاروں اشخاص کے مذہبی عقائد متزلزل ہوگئے۔ (۱۴) چنانچہ مسلمانوں میں علوم عقلیہ اورفلسفہ کے ماہرین پیداہوئے اورانہوں نے اس سیلاب کو روکا۔ موجودہ دورمیں جب کہ یورپ کی تحقیقات عام ہورہی ہیں اورجدیدخیالات قوم میں پھیل رہے ہیں علماء میں ایک شخص بھی ایسانہیں جس نے یورپ کا فلسفہ اورسائنس حاصل کیاہو، (۱۵)اس لئے ضروری ہے کہ ایک کمیٹی ’’مجلس علم کلام‘‘ بنائی جائے جس میں قدیم علماء اورجدید تعلیم یافتہ دونوں گروہ کے لوگ ممبرہوں۔انہوں نے قدیم علماء میں مولوی مفتی عبداللہ ٹونکی،مولوی شیرعلی حیدرآباد ، سیدمحمدرشیدرضامصری ایڈیٹرالمنارمصرکے نام ہیں جبکہ جدید تعلیم یافتوں میں ڈاکٹر اقبال بیرسٹر کا نام سرفہرست ہے۔ان کے علاوہ مولوی حمیدالدین فراہی، مولوی عبدالقادرکانام بھی اس کمیٹی میں شامل ہے۔علامہ اقبال نے شبلی کی خواہش پر اس مجلس کی ممبری قبول کرلی تھی جس پر شبلی نے اپنی خوشی کااظہارکیا۔( ۱۶)
۱۹۱۲ء ہی میں علامہ شبلی نعمانی نے وقف علی الاولاد کے لئے قانون بنانے کی تحریک چلائی ، مختلف شہرو ںکا دورہ کیا اور ملک کے جن ممتاز اہل علم و دانش اور قانون دانوں سے رابطہ قائم کیا ان میں ایک اہم نام بیرسٹرعلامہ اقبال کا بھی ہے۔انہوں نے علامہ اقبال سے خط وکتابت کی ۔ وقف علی الاولاد کے سلسلہ میں وائسرائے سے ملاقات کے لئے جو وفد تجویز ہوا تھاعلامہ شبلی نے اس میں بھی علامہ اقبال کو شامل کیا ۔اس سلسلے میں علامہ شبلی نے اقبال کو جو خط لکھا تھا وہ کہیں دستیاب نہیں، البتہ اس کے جواب میں علامہ اقبال نے جو خط لکھا تھا وہ کلیات مکاتیب اقبال میں شامل ہے۔ (۱۷) یہ خط ۱۲؍ جنوری ۱۹۱۲ء کا ہے ۔ علامہ لکھتے ہیں:
مخدوم و مکرم جناب قبلہ مولوی صاحب
السلام علیکم ۔
آپ کا نوازش نامہ ملا۔ انجمن کا جلسہ ایسٹر کی تعطیلوں میں ہوگا، اگر وہاں کی شمولیت کے بعد میں لکھنؤ حاضر نہ ہوسکا تو ضرور حاضر خدمت ہوں گا۔
افسوس کہ ڈیپوٹیشن میں شریک ہونے سے قاصر ہوں۔ اگر آپ کا ارشاد ہو تو میں چودھری شہاب الدین بی۔اے۔ وکیل چیف کورٹ سے دریافت کروں وہ نہایت قابل آدمی ہیں اور اس کام کے لئے اہل ۔ اگر یہ پسند نہ ہوں تو نواب ذوالفقار علی خاں جو اس وقت کلکتہ میں ہیں آپ ان کو پنجاب کی طرف سے انتخاب کریں اور ان کو لکھ دیں کہ وہ ۲۹؍جنوری تک کلکتہ ہی میں ٹھہریں۔ مسٹر محمد شفیع بیرسٹر لاہور بھی اس وقت کلکتہ میں ہیں، غالباً وہ بھی آپ کے لکھنے پر ۲۹؍جنوری تک وہاں قیام کرسکیں گے۔ جو تجویز پسند خاطر ہو اس کو عمل میں لائیے، باقی خیریت ہے۔
آپ کا مخلص
محمد اقبال بیرسٹر لاہور
اس خط کے علاوہ علامہ اقبال کے کسی خط یا تحریر کا ذکر نہیں ملتا بلکہ علامہ شبلی نعمانی کی وفات [۱۸؍نومبر۱۹۱۴ء] تک دونوں کے درمیان ربط و تعلق کی کوئی تفصیل دستیاب نہیں۔
یہی وہ زمانہ ہے جب علامہ شبلی سیرۃالنبیؐ کی تالیف و تدوین میں ہمہ تن مصروف تھے۔ یہ کتاب ان کی وفات کے بعد ۱۹۱۸ء میں دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ سے شائع ہوئی۔ تصنیفات شبلی میں سیرۃالنبی ؐشاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ اردو کی وہ مایہ ناز کتاب ہے جس کا جواب اردو تو کیا عربی و فارسی میں بھی مفقود ہے ۔ شبلی کے اس معجزہ علمی کا سارا زمانہ معترف ہے۔ علامہ اقبال بھی شبلی کے اس اعجاز کمال کے بڑے معترف و مداح تھے۔ انہوں نے ایک خط میں لکھا ہے کہ ’’ مولانا مرحوم نے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے جس کا صلہ دربار نبویؐ سے عطا ہوگا۔ ‘‘ (۱۸)
شبلی و اقبال کی شخصیت کی نشو ونما اور تعلیم و تربیت میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے، ذوق و مزاج اور فکر و خیال میں بھی بڑی ہم آہنگی ہے۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ چونکہ دونوں کا مقصد حیات ایک اورغور و فکر کا طرزواسلوب بھی ایک تھا اورعلامہ اقبال نے انہی قدروں کوترقی دی جودل شبلی کی آرزو تھیں۔ اس لئے محققین اور اہل قلم نے اقبال کو پیروئے شبلی قرار دیا اور بلاشبہ شبلی کے افکار و نظریات کی مکمل عکاسی کلام اقبال سے ظاہر ہوتی ہے۔ عالم خوندمیری نے لکھاہے کہ ملت میں سربلندہونے کی جوتمنا ہمارے دلوں میں مچل رہی ہے اس تمناکی چنگاری علامہ شبلی نے سلگائی تھی۔ (۱۹) یہی نہیں انہوں نے شبلی کا اصل وارث ابوالکلام اوراقبال کو قرار دیاہے ۔( ۲۰)ان کایہ بھی خیال ہے کہ شبلی نے مرض کی صحیح تشخیص کی تھی مگروہ نسخہ تجویزنہ کرسکے تھے۔ یہ نسخے ابوالکلام اوراقبال نے تجویز کئے۔(۲۱)
ڈاکٹر سید افتخار حسین شاہ نے اپنی کتاب’’اقبال اورپیروی شبلی‘‘میں شبلی و اقبال کی سوانح زندگی اور فکر و فن میں جو مشترک قدریں ہیں، ان کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ جسے انہوں نے انفرادی ، اجتماعی اور نظریاتی تین حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر حصے کے ضمن میں متعدد دفعات قائم ہیں جن میں بعض بالکل بے مقصداوربے بنیاد ہیں ۔ انہیں نظر انداز کرتے ہوئے یہاں محض ان پہلوؤں کی نشاندہی کی جاتی ہے جو واقعی سوانح شبلی و اقبال میںمماثل و مشترک ہیں ۔
۱۔ دونوں کے بزرگ تصوف سے دلچسپی رکھتے تھے۔
۲۔ دونوں کی ابتدائی تعلیم دینی مدارس میں ہوئی۔ شوق تعلیم اس قدر تھا کہ آبائی وطن
سے دور جاکر دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کی۔
۳۔ دونوں نے اردو، عربی، فارسی میں مہارت حاصل کی اور بعض مغربی زبان بھی سیکھی
۴۔ دونوں فطری شاعر اور اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔
۵۔ دونوں نے اردو فارسی میں شاعری کی دونوں کے کلام پر داغ کے اثرات ثبت ہوئے۔
۶۔ دونوں کو ایسے اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل ہوا جو اپنے علم و فضل کے اعتبار سے
ممتاز تھے اور جوہر قابل کو نمایاں کرنے والے تھے۔
۷۔ دونوں کو پروفیسر آرنلڈ کی قربت حاصل ہوئی اوروہ دونوں سے بے انتہا تعلق رکھتے تھے اور دونوں نے ان کے متعلق اشعار کہے۔
۸۔ گذر اوقات کے لئے دونوں نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا، دونوں نے وکالت کی۔ باوجود ان مصروفیات کے دونوں نے زیادہ وقت تصنیف و تالیف کے مشاغل میں گذارا۔
۹۔ دونوں کو انگریزی حکومت نے خطابات سے نوازا۔ ۱۸۹۳ء میں شبلی شمس العلماء بنے اور ۱۹۲۳ء میں علامہ اقبال ’’سر‘‘ بنائے گئے۔ لیکن ان خطابات سے ان کے سینوں میں عشق اسلام کی گرمی کم نہ ہوئی۔ اور دونوں نے انگریزی حکومت پر تنقیدیں کیں۔
۱۰۔ دونوں نے بر صغیر کی علمی و ادبی سرگرمیوں اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیا۔
۱۱۔ دونوں کو عالم اسلام کے سیاسی حالات سے دلچسپی رہی۔
۱۲۔ دونوں نے غیر ممالک کی سیرکی۔
۱۳۔ دونوں جمال الدین افغانی کی تحریک اتحاد اسلامی اور انگریز دشمنی کو سراہنے والے تھے۔
۱۴۔ دونوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ کام کیا۔ شبلی نے وقف علی الاولاد بل کے لئے ان کی مدد حاصل کی اور اقبال نے مسلم لیگ کی سرگرمیوں میں ان کا ساتھ دیا۔
۱۵۔ دونوں نے بر صغیر کی مختلف علمی، ادبی اور سماجی انجمنوں یا اداروں کو کامیاب بنانے میں نمایاں حصہ لیا۔ مثلاً انجمن حمایت اسلام لاہور اور مسلم ایجوکیشنل کانفرنس سے مختلف ادوار میں دونوں کی وابستگی رہی۔ اس کے علاوہ شبلی نے انجمن ترقی اردو، انجمن خدام الدین، ندوۃالعلماء لکھنؤ اور دارالمصنّفین اعظم گڑھ کے لئے قابل قدر کام کیا تو اقبال نے جمیعت مرکزیہ تبلیغ الاسلام انبالہ، انٹر کالجیٹ مسلم برادرس لاہور، اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور اور پٹھان کوٹ کے ادارہ دارالاسلام کے اغراض و مقاصد کی تکمیل میں دست راست ہونے کا ثبوت دیا۔
۱۶۔ دونوں تمام مسائل کاضامن قرآن حکیم کو سمجھتے تھے اور رسول خدا کے عاشق تھے۔
۱۷۔ علمی نقطہ نظر سے دونوں مشرق اور مغرب سے استفادہ کے حق میں تھے۔
۱۸۔ دونوں ’’ادب برائے ادب‘‘ کے نہیں بلکہ ’’ادب برائے زندگی‘‘ کے نظریاتی
اورعملی صورت میں قائل تھے۔
۱۹۔ بنیادی طور پر دونوں کی فکر اور طرز عمل ریسرچ اسکالرس جیسا تھا۔ حقائق تک پہنچنے کے لئے وہ دوسروں کو بھی یہی انداز اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ نادر اور نایاب کتابوں کے متعلق جتنے حوالے شبلی اور اقبال کے مکتوب میں ملتے ہیں۔ شاید ہی کسی دوسرے کے مکاتیب میں ملیں۔
۲۰۔ دونوں فارسی شاعری کے دلدادہ اور مولانا روم کے مداح تھے۔ (۲۲)
علامہ اقبال کی شاعری میں فلسفہ اسلام ، کلام و عقائداورحیات ملی کے مباحث کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسرار خودی اور رموز بے خودی میں بھی یہ مباحث شامل ہیں۔ بالخصوص رموز بے خودی جدید علم کلام کی ایک بہترین کتاب ہے۔ اس میں نبوت ، توحید ، ضرورت رسالت ، قرآن پر ایمان رکھنے کے اسباب، حاجت قبلہ وغیرہ اعتقادی مسائل و مباحث نہایت مؤثر اور دل نشیں انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ فلسفہ و کلام کے یہ مباحث اردو میں علمی انداز میں شبلی نے بلندآہنگی سے پیش کرنے کا سلسلہ قائم کیا تھا۔ علامہ اقبال نے ان مباحث کو بڑی وسعت و جامعیت کے ساتھ اپنی شاعری میں پیش کیا مگر شبلی کے تخیل سے اقبال کی پر پرواز بہت اعلیٰ،ارفع اوربلند ہے تاہم نقش اول شبلی ہی کے قلم کا اعجاز ہے۔
الکلام میں علامہ شبلی نے جبر و قدر کے موضوع پر جو بحث کی ہے اس کا پرتو جاوید نامہ میں بالکل صاف دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً فرماتے ہیں:
ہر کہ از تقدیر وارد شاز و برگ
نرد از نیردی او ابلیس و مرگ
جبر دین مرد صاحب ہمت است
جبر مرداں، از کمال قوت است
پختہ مردی پختہ تر گردوز جبر
جبر مرد خام را آغوش قبر
جبر خالدؓ عالمی برہم زند
جبر ما بیخ و بن ما بر کند
کار مردان است تسلیم و رضا
بر ضعیفان راست ناید ایں قبا
مرد مومن باخدا دار و نیاز
با تو ما سازیم ، تو با ما ساز
عزم او خلاّق تقدیر حق است
روز ہیجا تیرا و تیر حق است
علامہ اقبال نے علامہ شبلی کی کتاب الکلام کا کس قدر گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔ اس کا اندازہ مولانا سید سلیمان ندوی کے نام ان کے ایک خط سے ہوتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’الکلام کے صفحہ ۱۱۳-۱۱۴ پر مولانا شبلیؒ نے حجۃاللہ البالغہ ص ۱۲۳ کا ایک فقرہ عربی میں نقل کیا ہے جس کے مفہوم کا خلاصہ انہوں نے اپنے الفاظ میں دیا ہے۔ اس عربی فقرہ کے آخری حصہ کا ترجمہ یہ ہے:
’’اس بنا پر اس سے بہتر اور آسان طریقہ کوئی نہیں کہ شعار ، تعزیرات اور انتظامات میں خاص اس قوم کے عادات کا لحاظ کیا جائے جس میں یہ امام پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ آنے والی نسلوں پر ان احکام کے متعلق چنداں سخت گیری نہ کی جائے۔ ‘‘
مہربانی کرکے یہ فرمائیے کہ مندرجہ بالا فقرہ میں لفظ شعار سے کیا مراد ہے اور اس کے تحت کون کون سے مراسم یا دستور آتے ہیں۔ اس لفظ کی مفصل تشریح مطلوب ہے، جواب کا سخت انتظار رہے گا۔ ‘‘ (۲۳)
مولانا سید سلیمان ندوی نے اس کے جواب میں کیالکھا اس کاکہیں ذکر نہیںملتا لیکن علامہ اقبال کے دوسرے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب نے شعار کا جو مفہوم بیان کیا تھا، علامہ اقبال کوغالباً اس سے تشفی نہیں ہوئی ۔ ‘‘ (۲۴)
اردو میں مذہبی ، تاریخی، سیاسی اور واقعاتی نظم گوئی کے آغاز کا افتخارعلامہ شبلی کے سر ہے۔ جس کی علامہ اقبال نے بڑی تحسین وستائش کی ہے اور زور دیا ہے کہ یہ سلسلہ قائم رہنا چاہئے ۔ (۲۵) دانستہ نہ سہی شبلی کی اس روایت کو خود اقبال نے بڑی ترقی دی۔علامہ شبلی کے ایک اور یگانہ روزگار شاگرد اقبال احمد خاں سہیل نے شبلی کی مذہبی اور تاریخی نظموں کے سلسلے کو شعوری طور پر ارتقاء کی منزلوں سے ہم کنار کیااور بقول آل احمد سرور ’’ شبلی نے اپنی سیاسی نظموں میں جس شگفتگی اور حسن کاری سے کام لیا، وہ مولانا سہیل کے یہاں اور نکھری ہوئی ہے۔ ‘‘ (۲۶)علامہ شبلی کی اس روایت کو مولانا سید سلیمان ندوی نے بھی ترقی دینے کی کوشش کی ۔ وہ خود لکھتے ہیں :-
’’ ۱۹۱۲ء میں جب مولانا شبلی نے نئی اردو شاعری کی طرح ڈالی تو دل نے اس میں بھی استاذ کی پیروی کا حق ادا کرنا چاہا۔ متعدد نظمیں اس رنگ میں لکھیں جن کا خاتمہ استاذ کے ماتم پر ہوا جو نوحہ استاذ کے نام سے ۱۹۱۵ء میں پونا میں چھپا ۔ جہاں میں ان دنوں دکن کالج میں فارسی لکچرر تھا ۔ میں نے جب یہ نوحہ لکھا تو اکبر الہ آبادی، ڈاکٹراقبال، عزیز لکھنوی، مولانا شروانی وغیرہ اور استاذ مرحوم کے اکثر دوستوں اور قدردانوں کے پاس اس تحفہ کو بھیجا ۔ سب نے تعریفیں کیں اور دل بڑھایا۔ ‘‘ (۲۷)
یہاں ان تلامذہ شبلی سے قطع نظر محض علامہ اقبال کے کلام سے اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں کہ انہوں نے شبلی کی اس روایت کو سب سے زیادہ ترقی دی ۔ کلیات اقبال اس طرح کی نظموں اور شاعرانہ جذبات سے معمور ہے جس میں شمع و شاعر، نوید صبح، مسلم اور فاطمہ بنت عبداللہ وغیرہ نظمیں خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ جنگ بلقان و طرابلس سے متاثر ہونے کے سبب علامہ شبلی نے شہر آشوب اسلام لکھا اس کے چند اشعار یہ ہیں:
حکومت پر زوال آیا تو پھر نام و نشاں کبتک
چراغ کشتہ محفل سے اٹھے گا دھواں کبتک
یہ سیلاب بلا ، بلقان سے جو بڑھتا آتا ہے
اسے روکے گا مظلوموں کی آہوں کا دھواں کبتک
کوئی پوچھے کہ اے تہذیب انسانی کے استادو
یہ ظلم آرائیاں تاکے ، یہ حشر انگیزیاں کبتک
کہاں تک لوگے ہم سے انتقام فتح ایوبیؒ؟
دکھاؤگے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کبتک
پرستاران خاک کعبہ دنیا سے اگر اٹھے
تو پھر یہ احترام سجدہ گاہ قدسیاں کبتک
بکھرتے جاتے ہیں شیرازۂ اوراق اسلامی
چلیں گی تند باد کفر کی یہ آندھیاں کبتک
کہیں اڑ کر نہ دامان حرم کو بھی یہ چھو آئے
غبار کفر کی یہ بے محابہ شوخیاں کبتک
حرم کی سمت بھی صید افگنوں کی جب نگاہیں ہیں
تو پھر سمجھو کہ مرغان حرم کے آشیاں کبتک
جو ہجرت کرکے بھی جائیں تو شبلی اب کہاں جائیں؟
کہ اب امن و امانِ شام و نجد و قیرواں کبتک؟
اب علامہ اقبال کی نظم فاطمہ بنت عبداللہ دیکھیں:
فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے
رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے
یہ سعادت حور صحرائی! تیری قسمت میں تھی
غازیان دیں کی سقائی تیری قسمت میں تھی
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر
ہے جسارت آفریں ، شوق شہادت کس قدر
ہے کوئی ہنگامہ تیری تربت خاموش میں
پل رہی ہے ایک قوم تازہ اس آغوش میں
اٹلی نے ۱۹۱۱ء میں طرابلس پر حملہ کیا تو اقبال پکار اٹھے:
شام غم لیکن خبر دیتی ہے صبح عید کی
ظلمت شب میں نظر آئی کرن امید کی
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
دیکھ لوگے سطوت رفتارِ دریا کا مآل
موجِ مضطر ہی اسے زنجیر پا ہو جائے گی
نالۂ صیاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خون گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی
۱۹۱۲ء میں انگریزی حکومت نے مچھلی بازار کان پور کی مسجد کا وضو خانہ منہدم کر ادیا تھا ۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ پولس نے احتجاجی جلوس پر گولیاں برسائیں۔ جس میں متعدد بے گناہ شہید ہوگئے۔ جن میں بچے بھی شامل تھے۔ علامہ شبلی اس وقت بمبئی میں تھے۔اس واقعہ سے اس قدر متاثراور ملول ہوئے کہ کئی قطعات کہے ۔ ان کے یہ قطعات ہندوستان کے مسلمانوں کا رجز بن گئے۔ فرماتے ہیں:
کل مجھ کو چند لاشۂ بے جاں نظر پڑے
دیکھا قریب جاکے تو زخموں سے چور ہیں
کچھ طفل خرد سال ہیں جو چپ ہیں خود مگر
بچپن یہ کہہ رہا ہے کہ ہم بے قصور ہیں
آئے تھے اس لیے کہ بنائیں خدا کا گھر
نیند آگئی ہے منتظر نفخ صور ہیں
کچھ نوجوان ہیں بے خبر نشہ شباب میں
ظاہر میں گرچہ صاحب عقل و شعور ہیں
اٹھتا ہوا شباب یہ کہتا ہے بے دریغ
مجرم کوئی نہیں ہے ، مگر ہم ضرور ہیں
سینہ پہ ہم نے روک لیے برچھیوں کے وار
از بسکہ مست بادۂ ناز و غرور ہیں
ہم آپ اپنا کاٹ کے رکھ دیتے ہیں جو سر
لذت شناس ذوق دل نا صبور میں
کچھ پیر کہنہ سال ہیں دلدادۂ فنا
جو خاک و خوں میں بھی ہمہ تن غرق نور ہیں
پوچھا جو میں نے کون ہو تم؟ آئی یہ صدا
’’ہم کشتگانِ معرکۂ کانپور ہیں‘‘
معرکہ طرابلس پر اقبال نے اسی طرح آنسو بہائے۔ ان کا ایک درد انگیز قطعہ جو حضور رسالت مآب کے عنوان سے طرابلس کی یاد میں کہا گیا ہے۔ اس کے چندبندملاحظہ ہوں:
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامہ ٔ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رخت سفر روانہ ہوا
قیود شام سحر میں بسر تو کی لیکن
نظام کہنہ عالم سے آشنا نہ ہوا
فرشتے بزم رسالت میں لے گئے مجھ کو
حضور آیہ رحمت میں لے گئے مجھ کو
کہا حضورؐ نے اے عندلیب باغ حجاز
کلی کلی ہے تری گرمیٔ نوا سے گداز
ہمیشہ سر خوش جام ولا ہے دل تیرا
فتادگی ہے تیری غیرت سجود نیاز
اڑا جو پستی ٔ دنیا سے تو سوئے گردوں
سکھائی تجھ کو ملائک نے رفعت پرواز
نکل کے باغ جہاں سے برنگ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا
حضورؐ! دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاض ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو ، وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہیں ، جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تیری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
ذہنی اورجذباتی اشتراک کی یہ ایک دو مثالیں ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ شبلی و اقبال کی یہ سیاسی،حادثاتی اور واقعاتی نظمیں اردو میں ایک نیا تجربہ تھیں۔ البتہ ان میں فکری لحاظ سے قدرے فرق واقع ہوا ہے۔ شبلی تڑپتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس غم میں شریک کر لیتے ہیںاوران کی شاعری کی پوری فضاغم انگیزبلکہ ماتم زارہوجاتی ہے،لیکن اقبال کی حدی خوانی ملت کے اس غم سے غمگین ہونے کے ساتھ مایوسی کا شکار نہیں ہوتی بلکہ وہ آہوں، آنسوؤں اور سسکیوں کے درمیان ان کاحل اور روشن اورتابناک مستقبل کی کرن تلاش کرتے ہیں اور قوم کو حوصلہ شکنی سے بچاتے ہوئے زندگی کی نئی علامتیں پیش کرتے ہیں۔ شبلی و اقبال کے عہد پر اگر نظر رکھی جائے تو یہ دونوں عوامل اپنے اپنے عہد کی غمازی کرتے ہیں۔ بہرحال اس میدان میں اقبال کا تاریخی شعور شبلی سے پختہ تر ہو سکتا ہے مگر اولیت اور انفرادیت کا دعوی نہیں کر سکتا ۔یہ افتخار بہرحال شبلی کے سر ہے۔ ڈاکٹر محمد ریاض نے سچ لکھا ہے کہ:
’’اسلامی تاریخی واقعات کو نظم کرنے اور ہنگامی و وقتی واقعات کے بارے میں قطعات لکھنے کے نقطہ نظر سے اقبال کے پیشرو شبلی ہی نظر آتے ہیں۔ اقبال کی ایسی نظموں اور قطعوں کے نمونے کلیات اقبال خصوصاًبانگ درا میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ‘‘ (۲۸ )
شبلی کو قیام حیدرآباد کے زمانہ میں داغ سے قربت رہی اور اقبال نے ان سے ابتداء میں اصلاح سخن لی ۔ یہی وجہ ہے کہ شبلی و اقبال کی غزلوں پر داغ کے اثرات ثبت ہیں۔لیکن تعجب ہے داغ سے فیض یاب ہونے کے باوجود دونوں کی غزلوں میںوہ شوخی ، بانکپن اور دل ربائی نہیںجو داغ کاطرہ امتیازہے ۔بہرحال غزلیہ شاعری پران کے اثرات سے انکارممکن نہیں۔ شبلی کی غزلوں کے چند متفرق اشعار یہ ہیں :
نیست تھی اس کی کمر پر تونے ثابت کر دیا
واہ وا تسلیم کیا تیرے بیاں میں زور ہے
بے خودی وصل کی حظ کب مجھے لینے دیتی ہے
وہ جو آتے بھی تو میں آپ سے باہر ہوتا
ہم نے بھی حضرت شبلی کی زیارت کی تھی
یو ں تو ظاہر میں مقدس تھا پہ شیدائی تھا
اقبال کے کلام پر اثرات داغ کے چندنمونے ملاحظہ ہوں:
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑ
تیری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی
تصویر میں نے مانگی تو ہنس کر دیا جواب
عاشق ہوئے تھے تم تو کسی بے مثال کے
رندی سے بھی آگاہ ، شریعت سے بھی واقف
پوچھو جو تصوف کی تو ہے منصور کا ثانی
اس شاعرانہ مماثلت اورجزوی یکسانیت کو ہم ایک اتفاق سے زیادہ اہمیت نہیں دے سکتے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایک زمانہ میں دونوں کی طبع آزمائی کا میدان بہرحال ایک تھا۔
۱۸؍ نومبر ۱۹۱۴ء کو علامہ شبلی نے ۵۷؍ سال کی عمر میں وفات پائی تو ہر طرف صف ماتم بچھ گئی، رسائل و اخبارات میں ان کے سانحہ وفات کو ملت کا ایک بڑا حادثہ اور پر نہ ہونے والا خلا بتایا گیا۔ متعدد اہل قلم نے شبلی کے علم و فضل اور عظیم الشان کارناموں پر مضامین ومقالات لکھے، شعراء نے بڑے دلدوز مرثیے کہے غرض طرح طرح سے خراج عقیدت اورحزن وملال کا اظہار کیا گیا۔ جس کی تفصیل راقم نے اپنی کتاب شبلی سخنوروں کی نظرمیں لکھی ہے۔
اسی زمانہ میں بلکہ پندرہ دن بعد مولانا حالی نے بھی داغ مفارقت دیا۔ علامہ اقبال ان سانحوں پر تڑپ اٹھے اور چمنستان کے ان دونوں راز داروں کو ایک نظم میں خراج عقیدت پیش کیا جو ان کے مجموعہ بانگ درا میں شامل ہے ۔
مسلم سے ایک روز یہ اقبال نے کہا
دیوان جز و کل میں ہے تیرا وجود فرد
تیرے سرود رفتہ کے نغمے علوم نو
تہذیب تیرے قافلہ ہائے کہن کی گرد
پتھر ہے اس کے واسطے موج نسیم بھی
نازک بہت ہے آئینہ آبروئے مرد
مروان کار ڈھونڈھ کے اسباب حادثات
کرتے ہیں چارہ ستم چرخ لاجورد
پوچھا ان سے جو چمن کے دیرینہ رازدار
کیونکر ہوئی خزاں ترے گلشن سے ہم نبرد
مسلم میرے کلام سے بے تاب ہو گیا
غماز ہو گئی غم پنہاں کی آہ سرد
کہنے لگا کہ دیکھ تو کیفیت خزاں
اوراق ہو گئے شجر زندگی کے زرد
خاموش ہو گئے چمنستاں کے رازدار
سرمایہ گداز تھی جن کی نوائے درد
شبلی کو رو رہے تھے ابھی اہل گلستاں
حالی بھی ہو گیا سوئے فردوس رہ نورد
اکنوں گرا دماغ کہ پرسد ز باغباں
بلبل چہ گفت و گل چہ شیشہ و صبا چہ کرد
علامہ اقبال نے ایک مصرعہ میں علامہ شبلی کی تاریخ وفات بھی کہی ہے جو اگر چہ اقبال کے متروک و منسوخ کلام کا حصہ ہے تاہم اس سے اقبال کی نظر میں شبلی کی عظمت کا بھی بھرپوراندازہ ہوتا ہے ۔
امام الہند والا نژاد شبلی طاب ثراہ
۱۳۳۲ھ (۲۹)
یہ مصرعہ تاریخ دراصل اس سلسلہ اشعار لوح مزارکاحصہ ہے جوشعرانے علامہ شبلی کی وفات پر اخبار زمیندار لاہور میں شروع کیاتھا،چنانچہ زمیندارکی فائل میں کئی شعراکے لکھے ہوئے لوح مزارکے اشعارشائع ہوئے ہیں،بعدمیں اقبال سہیل، مولانا سیدسلیمان ندوی اور مولوی مرتضیٰ نظرکے اشعار لوح مزاربھی سامنے آئے ،مگرشبلی کے مزارپران میں سے کوئی بھی جگہ نہ پاسکے بلکہ خودان کاہی ایک قطعہ ان کی مزارکی لوح بنا:
عجم کی مدح کی عباسیوںکی داستاںلکھی
مجھے چند مقیم آستان غیر ہونا تھا
مگراب لکھ رہاہوں سیرت پیغمبر خاتم
خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا
اقبال کا نظریہ سیاست بھی شبلی کے فکر و نظر کا پرتومعلوم ہوتاہے۔ علامہ شبلی عظمت رفتہ کی بازیافت کے جذبہ سے سرشار اور عالمی تناظر میں اتحاد اسلامی کے حامی ہونے کے باوجود ہندومسلم اتحاد کے زبردست داعی تھے ۔ انہوں نے اپنے مضمون ’’مسلمانوں کی پولٹیکل کروٹ‘‘ میں جب اپنا یہ نظریہ پیش کیا تو اس کے خلاف امرت سر اور فیض آباد میں مخالفت میں تحریکیں برپاہوئیں۔ علامہ اقبال بھی اتحاد اسلامی کے علمبردار اور پان اسلامسٹ نظر آتے ہیں، کم از کم ہندوستان کے پس منظر میں ان کا وہی نظریہ تھا جو شبلی کا تھا۔ البتہ بعدکے ادواربلکہ آخرمی ںتصور مملکت خدادادکے سلسلہ میں ان کے نقطہ نظر میں نمایاں تبدیلی آئی اور انہیں مسلمانوں کے لئے ایک وطن کی ضرورت کااحساس پیداہوا۔البتہ شبلی و اقبال دونوں ہندومسلم اتحاد کے علمبردارتھے۔اوردونوں کے اس نقطہ نظر میں آخرتک تبدیلی نہیںآئی۔ شبلی دوقومی نظریہ کے مخالف اوراقبال اس کے حامی تھے ۔ یہ ایک الگ بحث کاموضوع ہے ،اس سے قطع نظرتقسیم ہندکے وقت دونوں موجودنہیں تھے۔تاہم تقسیم ہند کے بعد غالباًمسلم لیگ کی شدید مخالفت کی بناپرشبلی کی طرف وہ توجہ نہیںدی گئی جس کے وہ مستحق تھے ،البتہ علامہ اقبال پاکستان کے قومی شاعر تسلیم کئے گئے اوران کے افکارو خیالات کے مطالعہ پراس قدرتوجہ دی گئی کہ اقبالیات کا ایک بڑاذخیرہ تیار ہوگیا ۔اس کے برعکس شبلی پر حکومت ہند نے بھی کبھی نگاہ غلط انداز نہیں ڈالی اورجس طرح وہ اپنی زندگی میں مظلوم رہے اسی طرح بعد ازمرگ بھی مظلوم ہیں۔
حوالے
(۱) مولوی عبدالرزاق کان پوری، شمس العلماء پروفیسر شبلی نعمانی۔ شبلی معاصرین کی نظر میںص
۷۶۔ اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ ۔ ۲۰۰۵ء
(۲) مشاہیر کے خطوط۔ ص ۹۶۔مطبوعہ دارالمصنّفین اعظم گڑھ(ب ت )
(۳) علامہ اقبال ۔ علم الاقتصاد۔ص۲۶،طبع دوم
(۴) بحوالہ اقبال اور مشاہیر۔ ص ۱۲۷
(۵) علامہ شبلی۔ سوانح مولانا روم۔ ص ۸۱۔ مطبوعہ دارالمصنّفین اعظم گڑھ ۔ ۲۰۱۰ء
(۶) اقبال اور مشاہیر ۔ ص۲۷
(۷) خواجہ غلام الحسنین پانی پتی، مقدمہ فلسفہ تعلیم ص ۳-۴ ، انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ ۱۳۳۹ھ
طبع دوم
(۸) بحوالہ اقبال اور پیروی شبلی۔ ص ۳۳
(۹) مقالات شبلی ج ۶ص۲۷
(۱۰) ضیاء الدین برنی۔ عظمت رفتہ ۔ ص۲۷۰۔ ادارہ علم و فن کراچی۔ ۲۰۰۰ء
(۱۱) عبدالواحد معینی ۔ اقبالیات اور قرۃالعین حیدر ۔ ص ۳۷ ۔ اقبال اکادمی لاہور ۔ ۲۰۰۹ء
(۱۲) اقبال اور پیروی شبلی،ص ۴۲ ، سید افتخار حسین شاہ، اعتقاد پبلشنگ ہاؤس دہلی، ۱۹۷۸ء
(۱۳) مولانا سید سلیمان ندوی۔ یاد رفتگاں ۔ ص ۱۸۳۔ دارالمصنّفین اعظم گڑھ ۔ ۱۹۹۳ء
(۱۴) مقالات شبلی ہشتم ص۵۳
(۱۵) ایضاًص۵۴-۵۵
(۱۶) ایضاًص۶۲-۶۳،طبع جدید۲۰۱۰ء
(۱۷) کلیات مکاتیب اقبال حصہ اول۔ ص ۲۳۹ ۔ اردو اکادمی دہلی ۔ ۱۹۹۱ء
(۱۸) مشاہیر کے خطوط۔ ص ۹۹
(۱۹) صباحیدرآباد شبلی نمبرص۵۶
(۲۰) ایضاً
(۲۱) ایضاً
(۲۲) اقبال اور پیروی شبلی ۔ ص ۱۲-۲۳
(۲۳) مشاہیر کے خطوط ۔ ص ۱۳۲-۱۳۳
(۲۴) مشاہیر کے خطوط ۔ ص ۱۳۳
(۲۵) مشاہیر کے خطوط ۔ ص ۹۶
(۲۶) محمد حسن انٹر کالج میگزین جون پور ۔ سہیل نمبر ۔ ص ۴۲۔ مرتبہ نیاز احمد صدیقی
(۲۷) ماہنامہ معارف اعظم گڑھ ۔ جولائی ۱۹۵۰ء ۔ ص ۱۰
(۲۸) اقبال اور مشاہیر ۔ ص ۱۳۰
(۲۹) کلیات مکاتیب اقبال۔ ص ۵۱۵۔ صابر کلوروی۔ اقبال اکادمی لاہور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

