اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذات
میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات
محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندے
تو خالق اعصار و نگارندۂ آنات
اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات
جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات
وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود
وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات
مشرق کے خداوند سفیدان فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات
یورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات
رعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات
وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات
مے خانہ نے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات
چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات
۹؍نومبر کی مناسبت سے ہم لینن ’’خدا کے حضور میں ‘‘بال جبرئیل کی نظم کاجائزہ لیں گے ۔ بال جبرئیل 1955میں شائع ہوئی ۔
’’بال جبرئیل ‘‘اورعلامہ اقبال کی دوسری کتابوں میں بعض ایسی نظمیں اوراشعار شامل ہیں جن کے مطالعے سے اس امر کا اندازہ ہوتاہے کہ علامہ اقبال اپنے فکر وفلسفہ کے حوالے سے انتہائی بالغ نظر اوروسیع القلب شاعرتھے۔ ان کی سوچ گہرائی اورگیرانی کامظہر تھی ۔ یہ مسئلہ یقینا ایک تفصیلی بحث کامتقاضی ہے جس کی یہاں کسی بھی اعتبار سے گنجائش نہیں ۔ اس مجموعہ میں لینن ’’خدا کے حضور میں ‘‘فرشتوں کاگیت اورفرمان خداوندی فرشتوں کے نام ، اسی قبیل کی نظمیں ہیں جو علامہ کی عام سوچ سے قدرے مختلف نظر آتی ہے۔
لینن روس کا وہ عظیم انقلابی رہنماتھا جس نے کارل مارکس کے اشتراکی فلسفے کو عملی جامہ پہنا کر نہ صرف یہ کہ اپنی جماعت بنائی جس کانام بالشویک تھا بلکہ 1917 میں زار روس کاتختہ الٹ کر اشتراکی حکومت قائم کی ۔ ہر چند کہ اقبال کا اشتراکی نظریات سے کوئی تعلق نہ تھا تاہم انہوں نے اس فلسفے اوراس کے رہنماؤں بالخصوص لینن کے فکروفلسفے کو جس انداز مین دیکھا یہ نظم اس کی ایک واضح شکل ہے۔ اس نظم میں علامہ نے لینن کو خدائے ذوالجلال سے مکالمہ کرتے ہوئے پیش کیا ہے تکنیکی اور فکری سطح پر بھی یہ ایک اہم نظم ہے ۔ فرماتے ہیں۔
اے ذات کریم انفس وآفاق میں تیری نشانیاں ہیں۔ اے خدا !میں اس حقیقت سے توآشنا ہوں کہ عالم ارواح اورعالم اجسام دونوں مقامات پرتیری نشانیاں واضح اورنمایاں ہیں ۔ اوریہ بھی حقیقت ہے کہ تیری ذات ، تبراوجود ہمیشہ زندہ وپائندہ رہنے والا ہے۔یعنی تو ’’حی وقیوم ‘‘ہے۔
میں یہ بات کیونکر سمجھتا کہ تیر وجود ہے یانہیں ، اس عالم آب وگل میں فلسفہ و دانش نے جو نظریے قائم کیے تھے، وہ ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں۔ اوراس نے ایک تذبذب کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ اگر یہ تبدیلی نہ ہوتی یاکوئی ایک نظریہ برقرار رہتا تو میں اسے سچاجان لیتا،لیکن ایسانہ ہوسکا اورمیں بے یقینی کاشکار رہا اورتیر ے وجود کے بارے میں شک وشبہ کاشکار رہا۔ اورکوئی واضح شکل سامنے نہ آسکی ۔
بات یہ ہے کہ کوئی انسان بے شک بینائے کواکب ہو یا دانائے نباتات یعنی علم ہئیت ونجوم کے ماہر ہوں یا ماہرین فطرت۔ وہ خود بھی فطرت کے ازلی نغمہ سے آگاہ نہیں ہے۔ یعنی حقیقت کاصحیح ادراک نہیں رکھے۔ اول الذکر توستاروں کی گردش پراکتفاکرتے ہیں اور دوسرے یعنی ماہرین نباتات آئے دن نئی نئی باتیں سناتے ہیں ۔ لیکن دیکھا جائے تو ان کو فطرت کے مظاہر سے کوئی آگاہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خود بھی تیری ذات کے عرفان سے محروم ہے اوردوسروں کوبھی محروم رکھا۔ آج جب میں نے خود اپنی آنکھ سے دیکھا تو وہ حقیقت (دنیائے آخرت )مجھ پر واضح ہو گئی جسے میں کل تک کلیساکی تعلیم اور پادریوں کی باتوں کوبے معنی سمجھ کرنظر انداز کرتارہا لیکن اب عالم آخرت میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تومعلوم ہوا کہ وہ تمام باتیں توحقیقت پر مبنی تھیں۔ جنہیں میں بیکار سی باتیں سمجھتا تھا۔
بے شک ہم انسان توشب وروز کے چکروں میں محصورہیں۔ بے بس ومجبور ہیں ۔ اوراے باری تعالی جہاں تک تیری ذات اقدس کاتعلق ہے وہ تو زمانوں کاخالق اورایک ایک لمحے کی واردات کومحفوظ رکھنے والا ہے ۔ (سورۃ الانفطاردیکھیں )
اگر تو مجھے اجازت دے تو میں اور ایک بات پوچھنے کی جسارت کروں جسے آج تک فلسفیوں کے مقالات اوران کی ضخیم تصانیف حل نہ کرسکی ۔
جب تک میں روئے زمین پر زندہ رہا یہ بات میرے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی ۔
اپنا مدعا بیان کرنے سے قبل یہ ضرور تسلیم کروں گا کہ جب روح کے اندر خیالات کاطوفان برپا ہوتو اس صورت میں انسان کو اپنی گفتگو کرنے کے سلیقے پر قابو نہیں رہتا۔ چنانچہ اس جسارت کے لیے پہلے سے معذرت خواہ ہوں۔ وہ بات یہ ہے کہ اے خالق کائنات بس اتنا بتادے کہ وہ کون ساانسان ہے کہ تو جس کامعبود ہے؟کیا اس انسان کا خوخاک سے تخلیق ہوا؟ اورآسمانوں کے نیچے یعنی دیتا میں آباد ہے ؟
اب یہاں انسانوں کے مختلف انداز زندگی کی بات ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ اہل مشرق کے خدا تومغرب کے سفید فام لوگ بنے ہوئے ہیں۔ جنھوں نے اس علاقے پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے اورجبکہ ان فرنگیوں یوریبن لوگوں نے ان چمکتی دھاتوں کواپنا خدا بتارکھا ہے۔قوتوں نے اپنی عیاری ومکاری سے مشرق پر قبضہ جمارکھا ہے اورخود مشینوں ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ اورآج بھی یہ سلسلہ مختلف النوع شکلوں میں جاری وساری ہے۔
اگرچہ اس میں شک نہیں کہ یورپ میں علم وہنراورسائنس وفلسفہ نے بڑ ی ترقی کی اوروہاں ہر سو عقل وفرد کی روشنی ہے لیکن پھر بھی وہاں تاریکی کا دور دورہ ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کی تاریکیوں میں آب ِحیات کاکوئی چشمہ نہیں ہے۔ یعنی ان کے طورطریقے اورکردار و عمل حقیقی زندگی سے بیگانہ دور ہیں۔وہ حقیقی زندگی حاصل نہ کرسکے۔
یورپ میں توصورتحال یہ ہے کہ فن تعمیر ، رونق اورصفائی کے اعتبار سے بنکوں کی عمارتیں گرجاگھروں کی نسبت زیادہ بلند وبالا وپرکشش نظر آتی ہیں ۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ یورپی باشندوں کواپنی مذہبی عبادت گاہوں سے زیادہ اپنی دولت اورکاروبار سے زیادہ لگائو ہے۔ گویا اہل یورپ کومذہب سے زیادہ دولت اوراس سے حاصل کردہ سود کہیں زیادہ عزیز ہے بظاہر ان کا کاروبار تجارت کے نام سے چل رہاہے ، لیکن حقیقتاً وہ جوئے سے کم نہیں ہے ۔ یورپ میں کاروبار بالعموم سٹے کی بنیاد پر ہوتاہے۔جس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فائدہ تواک جواری اٹھاتا ہے جبکہ لاکھوں دوسروں کے لیے ہار جانا گویا اچانک کی موت ہوتی ہے۔ اقتصادی طورپر لاکھوں لوگ تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں۔
اہل یورپ بظاہر تو مساوات کاڈھنڈوراپیٹتے ہیں ، مساوات کادرس دیتے ہیں کہ سب انسان برابر ہیں لیکن اگران کاعمل پیش نظر رکھیں توواضح ہوجاتا ہے کہ ان کاعلم وحکمت اورتدبروحکومت سب ایسے ذریعے اوروسیلے ہیں جن سے وہ اپنے محکوموں کاخون پیتے ، چوستے ،نچوڑتے ہیں۔ اہل مغرب میں ہر نوع کی ترقی کے باوجود آج بھی ان کی کیفیت یہ ہے کہ ان کی تہذیب جہاں بھی پہنچی وہاں اس کانتیجہ بیکاری وعریانی اورمے خواری ومفلسی میں اضافہ کاسبب بتی ۔ گویا تن ڈھانپنے کا لباس نہیں اورشراب نوشی کی لعنت عام ہے ۔ ان مسائل کے پیدا کرنے کے علاوہ اہل یورپ نے قلق خدا کے لیے کون سی خدمات سرانجام دی ہیں۔
اس شعر میں لینن کی زبانی یورپ کی تہذیبی اوراقتصادی صورت حال کے حوالے سے اس کی خامیوں کی جانب بھی اشارے ملتے ہیں کہ مغربی قوم نے بے شک بجلی اوربھاپ کی قوتوں کوتسخیر کرکے اپنے لیے ترقی کی راہیں توکھول دی ہیں لیکن اسے قدرت کے انعامات پر اعتماد نہیں رہا،یہی وجہ ہے کہ وہ اخلاقی اقدار سے محروم ہوچکی ہے اورسائنسی اورفنی ارتقائ کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھی ہے۔ یہ کیاجاسکتاہے کہ وہ قوم جو آسمانی فیض سے محروم ہوجائے (الہامی کتاب سے بیگانہ ہوجائے )اورپیغمبر انہ تعلیم پر عمل پیرانہ ہو۔ اس کے کمالات بجلی اوربھاپ تک ہی محدودرہے ہیں۔ وہ حقیقی عظمت وبقا سے محروم رہ جاتی ہے۔
اس شعر کوبھی سابقہ شعرکے منظر نامے کے حوالے سے ہی دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں کہاگیا ہے کہ یورپ نے صنعتی ارتقائ کے لیے نت نئی مشینوں کی ایجاد سے ان کی اجارہ داری تو قائم کرلی لیکن اس عمل کانتیجہ یہ نکلا کہ انسانوں کے دل فولاد کی طرح بے حس ہوگئے اورخود بھی مشین ہی بن گئے اس کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ انسانی ہمدردی کے ساتھ مسرت اوراحسان کے احساسات بھی ان مشینوں کی زدمیں آکر کچلے گئے یعنی خود انسان فولادی مشین کے مانند بے حس ہوگیا۔ آج یورپ میں سائنسی اورفنی ارتقائ کے جونظارے نظر آرہے ہیں اوراس کے ذریعے جس طرح مصنوعی زندگی بروئے کار آئی ہے، اس کی ناکامی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیںاوریوں محسوس ہونے لگاہے کہ تقدیر بالآخر انسان تدبیروں کوشکست دینے میں پھر سے کامیاب ہوگئی ہے ۔ جس کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتاہے کہ استعمار پرستوں نے جوسرمایہ دارانہ صنعتی نظام قائم کیاتھا وہ اب شکست وریخت سے دوچار ہوتانظر آرہاہے اس نظام کا مقصد محض دولت کاارتکاز اورپس ماندہ اورغیر ترقی یافتہ قوموں کولوٹ کر مزیدانحطاط سے دوچار کرنے کے علاوہ اورکچھ نہ تھا۔ خودیورپ میں محنت کشوں میں بیداری کی لہر دوڑگئی ہے ان کو احساس ہوچکا ہے کہ صنعت کار اورسرمایہ داران کی محنت سے اپنی تجوریاں بھررہے ہیں اوروہ خود افلاس کی چکی میں بری طرح سے پستے جارہے ہیں چنانچہ ان کی صفوں میں ہلچل پیدا ہوچکی ہےاورشدید ردعمل کاآغاز ہوچکاہے۔
یورپ کاسرمایہ دارانہ نظام بے شک کچھ عرصے تک توکامیابی سے دوچار رہا لیکن اس کی بنیادچونکہ مستحکم نہ تھی اس لیے اب بری طرح سے انتشار سے دو چار ہے چنانچہ اس نظام کوجاری رکھنے والے خود پریشان ہیں کہ جوصورت حال سامنے نظر آرہی ہے اس سے کس طرح عہدہ برآہوں۔ آج میخانے کی عمارت کی بنیادہل گئی ہے ، اس کے منتظمین اسی فکرمیں بیٹھے ہیں کہ اس مصیبت کوکس طرح دور کیا جائے ۔سرمایہ داری کے نظام میں ہونے والے زوال کی طرف اشارہ ہے ۔
اس مشینی اوراستعماری نظام نے جہاں دوسروں کومتاثر کیا وہاں خود اس نظام کے مدعی اہل یورپ کی صحتیں برباد ہوچکی ہیں ۔ سرشام جب وہ گھر سے بن ٹھن کربرآمد ہوتے ہیں تو ان کے چہروں کی سرخی فطری نہیں بلکہ اس حقیقت کی غماز ہوتی ہے کہ یاتوان کے چہروں پرشراب نوشی کی یا پھر مختلف نوعیت کے پائوڈرکے استعمال کی سرخی ہے۔مراد یہ ہے کہ مصنوعی زندگی نے ان کی صحتوں کوگھن کی طرح چاٹ لیاہے اوراب جو چہروں پر سرخی نظر آتی ہے وہ فطری نہیں بلکہ مصنوعی ہے۔
نظم کے دوآخری اشعار میں بہ لہجہ نسبتاً زیادہ تلخ نظر آتاہے۔ زیر تشریح شعرمیں باری تعالیٰ سے خطاب کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ بے شک تجھے کائنات کی ہرشے پرقدرت حاصل ہے اورتوعادل ومنصف بھی ہے اس کے باوجود اتنا بتادے کہ تیری دنیا میں مزدوروں اورمحنت کشوں کی زندگیوں میں تلخیاں کیوں بھری ہوئی ہیں۔ انہیں اطمینان قلب کیوں نصیب نہیں ہوتا؟
مجھے اتنا بتادے کہ سرمایہ دارانہ اوراستعماری کب تباہ ہوگا؟اب توساری دتیااس ضمن میں روزمکافات کی منتظر ہے۔ بیشک ظالم کی رسی ایک حدتک درازضرور ہوتی ہے لیکن بالآخرایک مرحلہ ایسا بھی آتاہے جب تیرا عذاب اس پر نازل ہوتاہے ۔استعما ری نظام اب ظلم کی انتہاتک پہنچ گیا ہے اس پر تیرا عذاب کب نازل ہوگا؟اوردنیا بھر کے لوگ اس ظالمانہ نظام سے کب نجات پاسکیں گے؟
پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال جاوید شیخ ابراہیم
صدرشعبہ اُردو
شیواجی کالج ، ہنگولی مہاراشٹر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

