ملک کا مستقبل بچوں کی تعلیم و تربیت پز منحصر ہوتا ہے ۔ہر ماں باپ کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے وارث یعنی ان کی اولاد ان سے بہتراور خیر خواہ ہو ۔اسی طرح ہر ملک کے بزرگ یہ چاہتے ہیں، ہمارے بچے ہماری پرانی قدروں اور رایتوں کا احترام کرے اور ملک کی ثقافت کا تقدس بر قرار رہے۔بچے کا وجود اس درخت کی طرح ہوتا ہے جو ایک چھوٹے سے پودے کی شکل میں عیاں ہوتا ہے اور موسموں کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شاخیں نکل آتی ہیں اورجڑیں بھی مضبوط ہوتی رہتی ہیںاور جب اس کی جڑیں مکمل طور پر زمین میں پیوست ہو کرمضبوط ہوجاتی ہیں۔ تبھی ہم فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ ایک مکمل درخت بن چکا ہے ۔اسی طرح جب ایک بچہ کی پرداخت صحیح اور منظم طریقے سے کی جائے اور جس کی بنیاد مضبوط ہو وہ یقینا کل کا اچھا انسان بنے گا اور نہ صرف اپنے ملک وخطے کے لیے بلکہ پوری عالمی ا نسانیت کے لیے ایک بہترین اثاثہ ہوگا۔اب اس اثاثے کو مزید نکھارنے کے لئے ادب اطفال کا بھی سہارا لے سکتے ہیں۔
دبستان کشمیر کے قلمکاروں شاعروں اور افسانہ نگاروں نے اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے روپ کو بھی زینت بخشی ۔انھوں نے اردو ادب کی بیشتر اصناب میں اپنی صلاحیتوں کا لواہا منوایا لیکن ادب اطفال کے میدان میں وہ کار کر دگی نہیں سامنے آئی جو آنی چائیے ۔اس لئے جموں وکشمیر میں موجودہ ادب اطفال کی صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔شبیب رضوی ؔپرویز مانوسؔ ،رئوف راحت ؔ،مجید مجازی ،ؔاشرف عادلؔ اور حسن انظرؔ چند ہی نام ایسے ہیں جنہوں نے ادب اطفال تخلیق کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے ۔اد ب اطفال کے اہمیت اوراقادیت کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر شیخ طائرہ لکھتی ہیں:’’اردو ادب میں دیگر موضوع کی طرف ادب اطفال ک بھی ایک خاص مقصد کے تحت لکھا گیا ہے۔نظیر اکبر آبادی ،علامہ اقبال،اسماعیل میرٹھی،افسر میرٹھی کی نظم ہو یا کرشن چندر ،پریم چندر سے وکیل نجیب تک ایک مقصد واضح نظر آتا ہے۔اردو ادب کے ادیبوں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا ۔بچوں کی بہ نسبت بڑوں میں اچھے اور برے کی تمیز ہوتی ہے سستی قسم کی تفریح ،فحش جنسی تحریر وغیرہ ضروری جذباتی اضافت کو وہ آسانی سے جان لیتے ہیں اور دو بارہ ایسے ادب سے باز آجاتے ہیں۔بچوں کی بات کریں تو انھیں جلدبرے کی پہچان نہیں ہوتی کم عمر بچوں کو ہر بات اچھے سے سمجھانا ہوتی ہے اپنا بھلا برا بھی نہیں سمجھ سکتے ۔بچوں کے ایسے نازک دور میں اچھی کتابیں خاموش ناصح کی طرح ان کے ساتھ ہوتی ہے۔اس عمر میں کہی گئی باتیں اور پڑھی گئی نصیحت یا کہانی قصہ عمر کے آخری دور تک ذہن میں محفوظ رہتا ہے‘‘۔(ادب اطفال اور نذیر فتح پوری۔ص۔15 )
کشمیر میںادب اطفال کو فروغ دینے میں ایک اہم اور محترم نام حسن انظرؔ کا بھی ہے۔آپ کا اصل نام پیر غلام حسن شاہ اور حسن انظر ؔ قلمی نام۔آپ 11 اکتوبر1956 کو کونن بانڈی پورہ میں تولد ہوئے ۔1973 میں ہائی اسکول بانڈی پورہ سے میٹرک پاس کرنے کے آپ نے مزید تعلیم حاص کرنے کے گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور میں داخلہ لیا۔1977 میں کالج سے بی۔اے کا امتحان کرنے کے بعد 1979 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ۔اے فلاسفی میں اول پوزیشن حاصل کی۔ 1979 میں محکمہ پولیس میں ملازمت اختیار کی اور محکمہ پولیس میں مختلف عہدوںپر فائزہ رہ کر 2014 میں ایس ایس پی کی حیثیت سے سکبدوش ہوئے۔ آپ کی ادبی زندگی کا آغاز 1970 کے آس پاس ہی ہوا۔ آپ کا پہلا فسانہ کالج کے میگزین ولر میں بہ عنوان ’’دوسرا گہرا زخم ‘‘1975 میں شائع ہوا ۔علاوہ ازیں آپ کی پہلی غزل 1975 میں آفتاب میں شائع ہوئی نیر ریڈیو کشمیر سے نشر بھی ہوئی۔اس کے بعد آپ کی نگارشات برصغیرکے مختلف جرائد و اخبارات میں چھپنے لگیں جن میں شیرازہ، شاعر،روشن، الفاظ ،تحریک ادب اور کشمیر اعظمی قابل ذکر ہیں ۔اب تک آپ کی دو کتابیں شائع ہو کر داد تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ان کے عنوانات صبا صورت (2009 )اور کیاہ لیوکھنم قلمن(2014 ) ہیں۔حسنؔ انظر نے ادب اطفال کے ذریعہ بچوں کی نفسایت ،بچوں کے مسائل اور بچوں کی تعمیری اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنی کوشش کی ہے۔اپنے وطن سے محبت ،اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو اور اپنے وطن کے شاندار ماضی کی نمائش بھی کی ہے۔حسن انظر ؔنے نظم ’’اے میرے کشمیر اے پیارے وطن ‘‘ میں وطن کے نونہالوں کو اپنے وطن کی دلکش تصویر دکھائی ہے۔کشمیر یک ایسی جگہ ہے جہاں کے رنگ پرکشش ،جہاں کا سکون ایک نئی تازگی عطاکرتا ہے اور اس کے حسین باغات دیکھ کر یہ محسوس ہوتا کہ یہ جنت کا یک ٹکڑا ہے۔اس کے دامن میں کھلنے والے گل لالہ ،اس کی حسین وادیوں میں رقص کرنے والے تتلیاں اور ندی و نالوں کے شور سے انسان ایک دم تازہ ہوجاتا ہے۔میرا وطن علم و ادب کا ایک دبستان ہے۔میرے وطن کی کہانی اصل میں عم وادب کی کہانی ہے۔میرے وطن کی پاکیزہ خاک نے صوفیوں ،سنتوں،بزرگوں اور اولیا کرام کو جنم بھی دیا نیز ان کو اپنی آغوش میں پالا بھی۔اسی لئے مجھے اپنی وطن کی متی ،اپنے وطن کی ہر چیز سے محبت ہے اور میں اپنے وطن کو کسی بھی صورت حال میں فراموش نہیں کر سکتا ہوں۔بقول حسن انظرؔ
اے میرے !کشمیر اے پیارے وطن!
اے نرالے رنگ و رامش کے چمن!
دم بدم یوں ہی مہکتا جائے!
بن کے روئے عرض پر باغ عدن!
اے میرے کشمیر ! اے پیارے وطن!
علم فن ک تو حسین دربار ہے۔
صوفیوں سنتوں کا لالہ زار ہے۔
مرجع سالار سادات عجم ۔
امن عالم کا علم بر دار ہے۔
اے میرے کشمیر! اے پیارے وطن!
تعلیم کا مقصد ہے انسانی شعور کی تربیت کرنا نیزخلوص کے ساتھ مسلسل سیکھتے رہنے کی صلاحیت، اس سے انسان کے اندر ایک توازن قائم رہتا ہے جو انسان کو علم اور ادب دونوںفراہم کرتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کریں ۔۔ہمدردی‘ ،اتحاد ،محبت،ترقی اور عزت کا فروغ بھی تعلیم کے مقاصد میں شامل ہیں‘چنانچہ حصول تعلیم کے وقت ان خصوصیات پر تو جہ دی جانی چاہیے۔جب تک استاد تعلیم کے ذریعے ایک نئی سوچ اور ایک نئی فکر کو جنم نہیں دے گا ،نہ ہی تعلیم کو ایک میشن نہیں مانتا ہوگا اس وقت تک اچھی تعلیم کا تصور نہیں کیاجاسکتا ۔حسن انظر ؔنے اپنی ایک نظم میں مثالی استاد کی عمدہ عکاسی کی ہے ۔ان کا کہنا ہے استاد انھیں لوگوں کوبنایا جانا چاہے جو سب سے زیادہ عقلمند ہو،جو ہر پل علم و ادب کے ساتھ ساتھ پیار اور محبت کا درس دیتا ہو۔ اساتذہ کو صرف اچھی درس دے کر ہی مطمئن نہیں ہوجانا چاہے بلکہ انھیں اپنے طلبا کی صلاحتیوں کا احترام بھی کرنا چاہیے اور انھیں نکھارنا بھی چاہیے ۔ایک اچھا استاد بچوں کو تمام فن اور ہنر سیکھنے کی تلقین کرتا رہتا ہے۔بچوں کو سبق پڑھانے کے ساتھ ساتھ انھیں ہنستے ہنساتے بھی ، جس کے سبب بچوں کو پڑھائی میں دلچسی پیدا ہوتی ہے ۔نظم ’’ میرے استاد جی‘‘کے چند شعر ملاحظہ فر مائیں: ؎
پیار سے ابجد پڑھاتے ہیں ہمیں استاد جی
با ادب انسان بناتے ہیں ہمیں استاد جی
مدرسے میں ایک جیسی تربیت پاتے ہیں سب
نیک رستے پر لگاتے ہیں ہمیں استاد جی
سامنے استاد کے چلتی نہیں من مانیاں
عادتیں گندی چھڑاتے ہیں ہمیں استاد جی
کھیلنے دیتے ہیں سب کو کھیلنے کے وقت پر
ایک سی ورزش کراتے ہیں ہمیں استاد جی
ان کے چہرے پر ہمیشہ رعب ہی رہتا نہیں
بیچ میں ہنستے ہنساتے ہیں ہمیں استاد جی
موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنولوجی نے ایک زہر آلودہ انقلاب کو جنم دیا ۔جس نے اخلاقی قدروں کو پاش پاش کیا ،جس نے انسان سے انسانیت چھین لی اور جس نے سماج کے ہریک فرد کو مختلف روایے سے متاثر کیا جن میں بچے بھی شامل ہے۔ ایک ادیب جب بچوں کے لئے طبع آزمائی کرتا ہو تو اس کی یہ کوشش ہونی چائیے کو وہ بچوں کے شعور کی تربیت کرے،ان کو اخلاقیات ،انسانیت اور تہذیت و تمدن کی جھلکیاں دکھائی ۔اپنے قلم کی توانائی سے بچوں کو اچھے اور برے میں فرق کرنا سیکھایا۔بچوں کے تصور میں ایک اچھے انسان کا حلیہ بنایا۔ان تمام احساسات اور جذبات کا ذکر کرتے ہوئے حسن انظرؔ نظم ’’خدا سے ڈرنے والے عید تیری ‘‘ میں لکھتے ہیں ؎
خدا سے ڈرنے والے عید تیری ہے
اطاعت کرنے والے عید تیری ہے
فریضہ جان کر خلق خدا سے
محبت کرنے والے عید تیری ہے
غیریبوں کی ہمیشہ چھپ چھپا کر
او جھولی بھرنے والے عید تیری ہے
الغرض حسن انظرؔنے ادب اطفال کے میدان میں قدم رکھ کر نئی پود کے جذباتوں کو منظر عام پر لانے کی ایک کامیاب سعی کی ہے ۔ان کی شاعری ہماری نئی نسل کومزید روشنی بخشی گی نیز ان کا یہ شعری اثاثہ ہمارے بچوں کی تربیت کرتا ہیں اور کرتا رہیں گا۔
سہیل سالمؔ
رعناواری سرینگر۔8899037492
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

