دل مرا اتنا بے قرار نہ تھا
ہجر کی رات اشک بار نہ تھا
بات میں بات ہو گئی پیدا
اس پہ اپنا کچھ اختیار نہ تھا
تم نے وعدہ کیا تھا آنے کا
سچ تو یہ ہے کہ اعتبار نہ تھا
اک تجاہل کہ عارفانہ تھا
اک تغافل مگر شعار نہ تھا
ہر طرف اک مہیب سناٹا
ایسا پہلے تو یہ دیار نہ تھا
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

