آشوب لگ گیا ہے کوئی میری جان کو
سر پہ اٹھائے پھرتا ہوں میں آسمان کو
شاید اسی سے ٹوٹے ہواؤں کی سرکشی
لو خود ہمیں نے پھاڑ دیا بادبان کو
اک جان تھی سو جان پہ میرے بنی رہی
اک دل تھا سو نہ کم تھا کسی امتحان کو
تھی بات وہ بدن کی ،بدن سے ادا ہوئی
رکھّا نہ درمیاں میں کسی ترجمان کو
کرنے کو ہم تو کر بھی چکے شرحِ آرزو
لیکن ترس رہے ہیں کسی ہم زبان کو
آئے جہاں میں اور جہاں سے گزر گئے
اتنا نہ طول دیجئے اس داستان کو
ہم پھر کسی طبیب سے اچھے نہیں ہوئے
اچھّا لگا لیا ہے ترا روگ جان کو
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

