دروازے پر دستک ہوئی۔وے بشیرے !او جا ویکھ ،کون آیا ہے باپ نے آواز لگائی۔جی ابا!،آیا بھئی آیا۔۔دروازہ کھولا تو سامنے خلیفہ کھڑا تھا۔جی سائیں خلیفہ بولیں۔۔۔ اس نے پیغام دیا کہ جمعرات کو پیر سائیں آئیں گے،یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔بشیردروازہ بند کر کے آیا اور بولا ،ابا جی !پیر سائیں آئیں گے خلیفہ نے بتایا ہے۔باپ نے پوچھا کب ؟ جمعرات کو ۔۔۔باپ نے سب گھر والوں کو جمع کیا۔او نصیرے!وزیرے۔۔ سب ادھر آ جاؤ۔۔۔۔سب آگئے،پیر سائیں جمعرات کو ہمارے مہمان ہیں۔
ابا جی :پیر سائیں تو پہلے فصل کے پکنے پر آتے تھے ۔اس بار اتنی جلدی!۔۔۔وزیرے نے حیرت سے پوچھا۔او وزیر ے آ! تو اپنی بک بک بند کر ۔ پیر سائیں کی مرضی جب آئیں،مالک ہیں ۔۔۔وہ ہمارے ۔۔۔ ابا نے غصے سے کہا،سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ۔
وہ بھی کیا دن تھے کہ جب بڑے بولتے تو باقی سب چپ کرکے سنتے ۔اب تو بڑے اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب چھوٹوں کاموڈ ٹھیک ہو تو وہ بولیں ۔ابا نے اٹھتے ہوئے کہا :اور ہاں !ان کے حقے پانی کا خاص خیال رکھنا ۔۔میں ان کے لیے کچھ نذرانے کا بندوبست کرتا ہوں ۔صبح ہوئی تو ابا نے گائے کھولی اور اسے لے کر جانے لگا۔وزیرے نے کہا : ابا کہا ں جا رہے ہو ؟ابا نے جواب دیا :اسے بیچنے۔پیر سائیں کو نذرانہ بھی تو دینا ہے۔میں چلوں ؟ابا کی آنکھ کو دیکھ کر۔۔۔ وزیراسمجھ گیا کہ جواب ۔۔۔نہیں کا ہے ۔
جاتے جاتے ابا نے کہا :اور وہ جو دو تین مرغے ہیں ان کو ذبح کر کے کل پیر سائیں کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کر دینا۔جمعرات ہوئی توصبح دس بجے ڈھول کے بجنے کی آواز آئی اور پیر صاحب جلوہ افروزہوئے۔ساتھ ان کے دو ‘خلیفے ‘بھی تھے۔۔۔پیر سائیں کا استقبال بڑی گرم جوشی سے کیا گیا اور انہیں حجرے میں نرم گدوں والے تخت پر بیٹھا یا ۔ گاؤں کے دوسرے لوگ بھی جمع ہو گئے۔پیر صاحب نے اپنا صرف ایک ہاتھ آگے بڑھا یا ہوا تھا،جس پر دو سونے کی انگوٹھیاں اور ایک چھلا چاندی کا تھا۔ عقیدت مند زیارت کرتے ، ان کے ہاتھ چومتے ،ہدیہ دیتے اور بیٹھے جاتے کچھ تو ایسے کہ گر کر ان کے پاؤں بھی چومتے ۔۔۔حجرہ بھر گیا تو پیر صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا ئے ۔۔دعا مکمل کرنے کے تھوڑی دیر بعدپیر صاحب نے خلیفہ کی طرف دیکھا۔۔۔تو اس نے با آواز بلند تخلیہ کے الفاظ کہے۔۔ ۔کہا کہ پیر سائیں آرام کریں گے ۔عقیدت مند الٹے پاؤں اس طرح سے وہاں سے نکلے کہ کہیں ان کی شان میں گستاخی نہ ہوجائے۔
اتنے میں حقہ پانی پیش کیا گیا۔پیر صاحب کے ہاتھ دھلوائے گئے۔کیوں بھئی گامے !تیرا پتر کیسا ہے ؟ملکوں کی طرف سے پھر کوئی حملہ تو نہیں ہو ا؟ نہیں ۔۔پیر سائیں نہیں ،جب سے آپ نے اسے تعویذ دیا ہے ،تب سے کوئی پریشانی نہیں ۔تھوڑی دیر میں نہ جانے کیا ہو ا ۔۔۔ پیر صاحب نے ہوا میں ہاتھ بلند کیا اور ایک گولی لہرا کر گامے کو دکھائی ۔لے بھئی گامے آ!تیرے پتر پر کسی نے فائر کیا ہے یہ دیکھو بندوق کی گولی۔۔۔گاما بیچارہپریشان حالت میں پوچھتا ہے ،پیر سائیں میرا پتر تو ٹھیک ہے ؟ہاں !اب تک تو ٹھیک ہے آگے کا پتا نہیں ۔۔۔نہ! پیر سائیں ایسا نہ کہیں ۔۔۔ جب تک آپ کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں کچھ نہیں ہو گا۔
اتنے میں نصیرا آتا ہے پیر سائیں میں گھر کی طرف آرہا تھا کہ کسی نے بندوق سے گولی چلا دی ۔پستول تو خیر میرے پاس بھی تھا،اتنے میں گامے نے بیٹے کو بتایا کہ یہ پیر صاحب کی کرامت ہے کہ انہوں نے ہوا میں سے گولی ہٹا دی۔۔ ۔۔ یہ دیکھوگولی!
نصیرا گبھرو پہلوان ،لمبا قد ،سینہ اور شانے چوڑے۔۔۔آنکھیں بڑی بڑی ،رنگت سفیدی مائل ،جو غصے میں سرخ بھی ہو جاتی تھی۔ کلف لگے کپڑےاور پاؤں میں پشاوری کھیڑی پہنتا تھا۔۔ ۔دوردراز سے کوئی گاؤں آتا تو اسے علاقے کا چودھری سمجھتا۔اس پر الزام تھا کہ اس کا ملکوں کی چھوکری نازوکے ساتھ ٹانکا فٹ ہے ۔اوریہ بات ملکوں کو پسند نہیں تھی، اس لیے ملک اس کی جان کے دشمن بن گئے ۔وہ اپنی لڑکی نازو کو بھی کئی بار دھمکی دے چکے تھے کہ پہلے نصیرے کو ماریں گے اور پھر تجھے قتل کریں گے۔ہر بار اس کی ماں آڑے آ جاتی۔اب نازو کے گھر سے باہر نکلنے پر بھی پابندی تھی ۔
نصیرے نے کہا :اباکچھ نہیں ہوتا تو پریشان نہ ہوا کر۔تو نے وہ سلطان راہی کا ڈائیلاگ نہیں سنا” مولے نوں مولا نہ مارےتے مولا نہیں مردا”۔۔۔پیر سائیں نے غصیلی نظروں سے دیکھا۔نہیں !پیر سائیں نہیں ۔۔یہ تو بچہ ہے جب تک آپ کا سہارا ہے اس وقت تک اسے کچھ نہیں ہو گا۔پیر سائیں!نصیرے کے لیے کوئی پکا عمل کردیں ۔پھر اس کے گرد حصار باندھ دیں ۔اتنے میں نصیرا بولا،پیر سائیں۔۔ بس کسی طرح یہ بندوق اور پستول کی گولی کا کچھ کر دیں۔باقی میں ان کے ہاتھ نہیں آنے والا ۔دو تین پر تو میں اکیلا ہی کافی ہوں ۔ڈنڈے اور کلہاڑیوں سے میں نہیں مرنے والا۔
پیر سائیں نے اپنا سر نیچے کیا اور کچھ پڑھنے لگے ،کچھ دیر بعد اپنی جیب سے ایک چھلا نکال کر دے دیا یہ لو میں نےاس پر عمل پڑھ دیا ہے،جب تک تم اسے پہنے رکھو گے کوئی گولی تم پر اثر نہیں کرے گی ۔گامے نے عاجزانہ نظروں سے پیر سائیں کا شکریہ ادا کیا ۔اتنے میں پیر صاحب کے لیے شاندار کھانا لگایاگیا۔۔چکن ،مٹن ، بریانی، پلاؤ، میٹھے چاول۔۔ پھل ،موسم کے مطابق۔۔غرض کھانے کا دسترخوان مکمل بھر ا ہوا ۔ پیر سائیں اور خلیفوں نے پیٹ بھر کے کھانا کھا یا،اس کے بعدقیلولہ کیا ۔گاما اپنے بیٹے کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو ا تاکہ پیر سائیں آرام کر سکیں ۔
نصیرے نے بچوں کو سختی سے ادھر آنے سے منع کیا تا کہ پیر صاحب کے آرام میں خلل نہ پڑ ے ۔ شام ہوئی تو پیر سائیں اٹھے،حقہ تازہ کیا گیا،چائے پیش کی گئی ،اب پیر سائیں جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ایک خلیفے نے پہلے ہی جانے کا انتظام مکمل کر لیا تھا۔۔۔رخصت ہونے لگے تو گامونے پیر سائیں کو نذرانے کے طور پر ایک موٹا لفافہ تھما دیا۔ پیر سائیںنے اسے اپنی جیب میں رکھ لیا اور جاتے ہوئے کہنے لگے کہ اگلے ماہ عرس ہے ۔تم خود یا پھر اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ضروربھیجنا۔اورہاں !کھانا لذید تھا۔۔۔جی حضور !بہوؤں ، بیٹیوں نے بنایا تھا۔گامے نے جواب دیا:ہمارے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کیبات کیا ہوگی کہ کھانا آپ کو پسند آیا۔پیر صاحب کے جانے کے بعد گامابہت خوش تھا کہ پیر سائیں نے دم والا چھلا نصیرے کو دیا،وقت گزرتا چلا گیا اور عرس کے دن قریب آئے تو گامے نے نصیرے کو بلایا اور کہا کہ پیر سائیں کے ہاں تین دن کاعرس ہے تم چلے جاؤ۔اس طرح برکت بھی ہو جائے گی اور ان کا حکم بھی پورا ہو جائے گا۔۔۔ ٹھیک ہےابا جی ۔۔۔جیسے آپ کا حکم ۔
نصیرا عرس پر جانے کے لیے تیاری کرتاہے ،بیوی بچوں اور گھر والوں کو بتاتا ہے کہ تم سب کے لیے میلے سے چیزیں بھی لاؤں گا۔وہ صبح سویرے گھر سے نکل پڑاکہ پہلی بس پر سوار ہو کےعرس تک پہنچ سکے۔ کیونکہ اگر یہ بس چھوٹ گئی تو اگلی بس دو تین گھنٹے سے پہلے نہیں آتی ۔دس پندرہ میل کاسفر طے کر کے پکی سڑک پر پہنچااور بس میں سوار ہوجاتا ہے ۔عرس میں شرکت کرتا ہے اور پیر سائیں کو ابا کا سلام دیتا ہے۔ اور دعا کی درخواست کرتا ہے ،وہاں کا لنگرکھاتا ہےعرس میں شرکت کرنے کے بعد پیر سائیں سے اجازت طلب کرتا ہے توپیر صاحب کہتے ہیں تھوڑا ٹھہر جاؤ ۔۔۔اتنی جلدی کیا ہے ؟نہیں پیر سائیں جلدی کی کوئی بات نہیں اگر میں وقت پر نہ پہنچا تو بس نکل جائے گی ۔ کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیر صاحب نے کہا توپہلوان ہے تجھے بس کی کیا ضرورت تو ، تو پیدل بھی گھر پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔نصیرا ہنس کر کہتا ہے ۔۔۔پیر سائیں کہتے تو آپ ٹھیک ہیں جاتے ہوئے۔ کیا دیکھتا ہے کہ خلیفوں کے پاس ملکوں کے بندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔راستے میں ریڑھی والوں سے بچوں کے لیے کھلونے اور مٹھائی خرید لیتا ہے۔آج نجانے اس کی بائیں آنکھ پھڑک رہی ہوتی ہے،وہ اپنے بائیں ہاتھ سے آنکھ کو ملتا ہےاور بس پر سوار ہو کراپنے گاؤں کی پکی سڑک پر اتر ا اور پھرکچے راستے سے گھر کی طرف چلپڑتا ہے ۔اچانک اسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے ، جیسے ہی وہ چندقدم آگے بڑھتا ہے ۔توملکوں کے بندے اسے گھیر لیتے ہیں۔۔۔۔انہوں نے ڈنڈے اور کلہاڑیوں سے پے در پے حملہ کیا ،زخمی ہونے کے باوجود نصیرا بڑی بہادری سے لڑا ،ایک آدھ کو تو اس نے زخمی بھی کر دیا، لیکن کلہاڑی کا ایک واردائیں کندھے کو چیرتے ہوئے اسے نڈھال کر گیا۔۔۔ملکوں کے بندوں نے اسے بری طرح زخمی کر دیااوراسےادھ موا کر کے چھوڑ گئے۔ ادھر سے سہلری اس راستے سے گزر رہا تھا کہ کسی کے کراہنے کی آواز آئی ،اس نے زور سے پکارا:موجو ، شوقی !ادھر آؤ۔ارے !یہ تو اپنانصیرا ہے ۔چلو اسے جلدی سے ہسپتال لے چلیں۔بالے تو جا ۔۔گامو چاچے کو بتا کہ ترا پتر زخمی ہےفوراًہسپتال پہنچ ۔سہلری نصیرے کولے کر ہسپتال پہنچتا ہے ڈاکٹر صاحب اسے دیکھیں ۔ڈاکٹر نے چیک کیا تھوڑی دیر بعد کہا :آئم سوری !۔۔ہم اسے نہیں بچا سکےاس کا خون بہت بہہ گیاتھا۔
گامو جب ہسپتال پہنچا تو پتا چلا کہ نصیرا اس دنیا سے چلا گیا۔۔۔غم کے عالم میں اس نے اپنا گریبان زور سے پھاڑ دیااور دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔باپ کے لیے جواں بیٹے کی موت کسی بڑے سانحے سے کم نہ تھی ۔پوسٹ مارٹم کے بعد نعش کو لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔ سارےگاؤں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی ۔پولیس نے ملکوں کے بند ے ، جن میں نازو کا بھائی بھی تھا گرفتار کر لیا ۔گھر میں کہرام مچا ہواتھا۔میت کو دفنا دیا گیا ۔۔۔۔۔ وقت نے گزرنا ہے اور گزرتا ہی چلا جاتا ہے ۔۔۔ناگہانی موت کا دکھ وہی محسوس کر سکتا ہے جس کا کوئی اپنا چلا جائے ۔۔۔ اوروں کےلیےوہ صرف ایک سانحہ یا حادثہ ہے ۔
پیر سائیں تعزیت کرنے آیا اور کہنے لگا:”گامو! تیرے پترکا دکھ بہت ہوامگر کیا کر سکتے ہیں ،جو خدا کی مرضی۔۔۔میں نے تو اسے چھلا بھی دم کرکے دیا تھا۔ اگر وہ مجھے کلہاڑیوں اور ڈنڈوں کا بھی کہتا تو میں اس کا توڑ بھی کر دیتا ۔گامو کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے ،”پیر سائیں ہم اس کا بدلہ لیں گے اپنی مرضی اور اپنے وقت پر“ ۔۔۔نہ پتر !ابھی عدا لت میں کیس چل رہا ہے ۔دیکھو عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ابھی تو نصیرے کی قبر کی مٹی بھی نہیں سوکھی تھی کہ ملکوں نے اپنے بندوں کو چھڑوانے کے لیے دوڑ دھوپ شروع کر دی۔
ملک اس مقصد کے لیےکبھی پولیس، کبھی علاقے کے چودھریوں اور کبھی پیر صاحب کے ذریعے۔۔کوشش کرتا رہاکہ کسیطرح معاملہ رفع دفع ہو جائے۔دھونس ،دھمکی ،منت سماجت اور پیسہ ”جو کر سکتا تھا” کیا۔۔
کچھ عرصے بعد ملک ،پیر صاحب کے آستانے پر گیا ۔کہنے لگا پیر صاحب ہمارے بندوں کا کچھ کریں۔آپ نے وعدہ کیا تھا۔اس نے کہا کہ ٹھہر جاؤ ،تھوڑا صبر کرو۔۔۔ چالیسواں گزر جانے دو پھر بات کرتے ہیں۔۔۔ ملک نے ایک تھیلی پیر صاحب کی طرف نذرانے کے طورپر دی ۔پیر صاحب مسکرائے ۔۔۔فکر نہ کرو کام ہو جائے گا۔۔۔ پہلے بھی تو آپ کے کہنے کے مطابق سب کچھ ہوا ہے۔ ۔۔ اور دونوں نے زور دار قہقہ لگایا۔
کچھ دنوں بعد پیر صاحب خود گامو کے پاس پہنچ گئے اسے بلاویا۔۔اور کہنے لگے ویکھ گامے صلح کر لے کب تک عدالتوں کے چکر لگاتا رہے گا ۔۔۔ سنا ہے تمھاری بہو اور پوتا خون بہا پر راضی ہیں،ادھرگامو کے پوتے کو ملکوں نے پہلے ہی ملک سے باہر جانے کےلیے راضی کر لیا ۔۔ تم سوچ لو ہم اگلے ہفتے پھر آئیں گے جواب لینے کے لیے ۔۔ ۔ ۔ گامو نے گھر آ کر اپنی بہواور پوتے کو بلوایا وہ آئے تو کہا ۔۔ کیا تم خون بہا پر راضی ہو گئے؟بہو خاموش رہی ۔۔۔البتہ پو تا بولا ۔۔۔دادا ! جانے والا تو چلا گیا۔ہم سےاب کور ٹ کچہری کے چکر نہیں لگتے۔دادا :یہ کہو! تمھیں سعو دیہ جانے کے لیے پیسے چاہییں۔
پنچایت میں اگلے ہفتے صلح کے کاغذوں پر دستخط ہو گئے۔ گامو اور اس کے بیٹے وہاں سے خاموشی سے چلے گئے۔کچھ دور جا کر گامو کو کچھ یاد آیا، واپس پلٹا۔۔تو پیر صاحب کے یہ الفاظ سن کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔ ۔ ” ملک صاحب اب تو آپ خوش ہیں ۔۔۔سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔۔ ۔ فضا قہقوں سے گونج اٹھی ۔۔ ۔ تین لاکھ ورثاء کو مل گئے،کچھ عرصے بعد نصیرے کا بیٹا بھی سعودیہ چلا گیا۔گامو کو اب چپ سی لگ گئی ۔وہ اپنا سب کچھ بیچ باچ کر شہر میں اپنے چھوٹے بیٹے وزیرے کے پاس چلاگیا۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


5 comments
بہت عمدگی سے ان "پیران طریقت” کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے جو اسلام کو اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے بلا خوف و خطر استعمال کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ روزِ محشر جب حساب ہو گا تو ان کے لیے یقیناً عذاب ہو گا ۔۔
اسلام وعلیکم
سر!!! بہت عمدہ افسانہ تھا.
اس میں ہمارے مودہ دور کی بہت اچھے سے عکاسی کی گئی ہے۔۔۔۔اور مجھے خوشی ہوئی ۔۔۔۔اپنے استاد کی اتنی عمدہ تحریر پڑھ کر ۔۔۔😁
اسلام علیکم سر!
بہت عمدہ افسانہ ہے۔
اس افسانہ میں ہمارے اردگرد کی عکاسی موجود ہے۔۔۔۔
بہت عمدہ کاوش ۔۔۔۔
بہت عمدہ افسانہ تھا🌼👏
بہت عمدہ تحریر