احساس کی چادر میں کرب کی آگ کو چھپانا ایک جانکاہ عمل ہے۔ تخلیقی آگ کو شبنم کی ٹھنڈک بہم پہنچانا، یہ بھی ایک مشکل کام ہے۔ گلزار کی شاعری میں کچھ ایسی ہی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے احساس کی شدت کو نرم و شیریں لفظوں کی چادر میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں۔ دکھ درد اور آلام روزگار کے احساس کو شعور فن سے جلا بخشتے ہیں۔ گرچہ انھوں نے کچھ غزلیں بھی کہی ہیں مگر بحیثیت غزل گو ان کی کوئی پہچان نہیں ہے۔ ان کی جبلت میں جہانِ نظم کی شورش پنہاں ہے۔ لیکن مناسب ہے کہ غزل کے بھی دو چار اشعار بطور نمونہ کے پیش کردیے جائیں:
بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
کوئی سازش چھپا رہا ہے چاند
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
زمیں سا دوسرا کوئی سخی کہاں ہوگا
ذرا سا بیج اٹھا لے تو پیڑ دیتی ہے
جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے
آپ کے پاؤں پھر کہاں پڑتے
ہم زمیں کو اگر زمیں کہتے
وہ احساس جو غزل میں سما نہ سکا اس کے لیے گلزار نے نظم کا پیکر اپنایا ہے۔ کبھی وہ سیدھے طور پر اپنے کرب کا اظہار کرتے ہیں تو کبھی علامت اور استعارے سے کام لیتے ہیں۔ سات مصرعوں کی ایک نظم دیکھیے:
سورج کے زخموں سے رِستا لال لہو/ دور افق سے بہتے بہتے اس ساحل تک آپہنچا ہے
کرنیں مٹی پھانک رہی ہیں/ سائے اپنا پنڈ چھڑا کر بھاگ رہے ہیں
تھوڑی دیر میں لہرائے گا چاند کا پرچم/ رات نے پھر رن جیت لیا ہے
آج کا دن پھر ہار گیا ہے
گلزار نے یہاں جو پیکر تراشا ہے وہ لائق توجہ ہے۔ ’پنڈچھڑانا‘، ’مٹی پھانکنا‘، ’رن جیت لینا‘ محاوروں میں استعمال ہوتے ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ سورج غروب ہورہا ہے اور رات ہونے والی ہے۔ رات نے دن پر فوقیت حاصل کرلی ہے۔ اگر اس کی معنوی پرتوں کو کُریدیں تو معلوم ہوگا کہ روشنی پر تاریکی کے غلبے کی بات کی گئی ہے۔ یہ آج کے عہد کی تاریکی بھی ہوسکتی ہے۔ استعاراتی نظام سے معانی میں لچیلاپن (Elasticity) پیدا ہوجاتا ہے۔ گلزار اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ گلزار اپنی نظموں میں استعارے سے نئے تلازمات اور نئی فضا خلق کرتے ہیں۔ ایک نظم ہے ’ایندھن‘ جس میں اُپلوں کی مدد سے ایک دردانگیز منظر پیش کیا گیا ہے:
چھوٹے تھے، ماں اُپلے تھا پاکرتی تھی/ ہم اُپلوں پر شکلیں گوندھا کرتے تھے
آنکھ لگا کر— کان بناکر/ ناک سجا کر/ پگڑی والا، ٹوپی والا،/ میرا اُپلا، تیرا اُپلا
اپنے اپنے جانے پہچانے ناموں سے/اُپلے تھاپا کرتے تھے
ہنستا ہنستا سورج روز سویرے آکر/گوبر کے اُپلوں پر کھیلا کرتا تھا
رات کو آنگن میں جب چولہا جلتا تھا/ہم سب اس کو گھیر کے بیٹھے رہتے تھے
کس اُپلے کی باری آئی/ کس کااُپلا راکھ ہوا/ وہ پنڈت تھا/ اک منا تھا
اک دشرتھ تھا/ برسوں بعد/شمشان میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
آج کی رات اس وقت کے جلتے چولہے میں/ اک دوست کا اُپلا اور گیا
پوری نظم پیش کرنا میری مجبوری تھی۔ اگر کچھ ٹکڑے پیش کیے جاتے تو معنویت سلب ہوجاتی۔ جس طرح گلزار نے معمولی بے جان اُپلے کو Personify کیا ہے، وہ لائق توجہ ہے۔ کھیل کھیل میں راوی شمشان میں بیٹھ کر سوچنے لگتا ہے۔ اس نظم میں تین مرکزی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ راوی، اُپلا، شمشان۔ اس کے علاوہ ماں، پنڈت، منا، دشرتھ، چولہا وغیرہ ذیلی کردار ہیں جن کی مدد سے نظم ارتقا پذیر ہوتی ہے اور معانی کی شمع روشن ہوجاتی ہے۔ ایسی شاعری عالم بشریت کی روداد پیش کرتی ہے جس سے ہم (کیوں کہ ہم سب بشر ہیں) اپنے آپ کو الگ نہیں کرسکتے۔ جناب اخترالایمان کی نظموں میں بھی جو گاؤں، آدمی، جھیل، ندی، کوئل، بیل گاڑی، روٹی، سبزی، دال اور بچپن، لڑکپن جوانی کی باتیں ملتی ہیں، یہ سب عوامل ان کی شاعری میں بشریت (Manness) پیدا کرتے ہیں۔ گلزار کی نظموں میں (بلکہ ان کے فلمی گیتوں میں بھی) ایک طرح کا سنجیدہ ایپروچ ہوتا ہے۔ ان کی ایک نظم ’ہمدم‘ ہے جس میں ایک پیڑ کو مرکز خیال بنایا گیا ہے۔ ایک بوڑھا آم کا پیڑ ہے جو راوی سے واقف ہے۔ اُسی پیڑ سے راوی آم توڑتا تھا اور جب گرا تھا تو غصے میں اس نے پیڑ پر بہت سے پتھر مارے تھے۔ جب راوی کی شادی ہوئی تو اسی پیڑ کی شاخوں سے ہون گرم کیا گیا تھا، اور جب اس کی بیوی حاملہ تھی تو کیریاں اُسی پیڑ سے حاصل ہوتی تھیں۔ مگر اس کے باوجود جب اس کی بیوی منے سے کہتی ہے کہ ہاں تو اُسی پیڑ سے آیا ہے اور اسی کا پھول ہے تو راوی کے اندر ایک طرح کا حسد کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک زمانے کے بعد اب بھی جب کبھی راوی کا گزر اس پیڑ کی طرف سے ہوتا ہے تو وہ جل جاتا ہے:
اب بھی جل جاتا ہوں جب موڑ گزرتے ہیں کبھی
کھانس کر کہتا ہے، کیوں، سر کے سبھی بال گئے
لیکن کیا واقعی راوی کے اندر اس پیڑ سے نفرت کا جذبہ ہے؟ شاید ایسا نہیں ہے، تبھی تو نظم کا اختتام اس طرح ہوتا ہے:
صبح سے کاٹ رہے ہیں وہ کمیٹی والے
موڑ تک جانے کی ہمت نہیں ہوتی مجھ کو!
آخر کیوں ہمت نہیں ہوتی؟ راوی کو تو پیڑ کٹنے کا تماشا دیکھنا چاہیے تھا اور خوشیاں منانا چاہیے تھا۔ لیکن نہیں، نظم کی زیریں لہروں میں ایک طرح کی قربت کا احساس ہوتا ہے۔ پوری نظم یہاں پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ یوں بھی گلزار کی شاعری میں ’پیڑ‘ کی معنویت بہت ہے اور اس لفظ کے معنوی ابعاد بھی مختلف ہیں۔ ’لینڈ سکیپ‘ ملاحظہ کیجیے:
دور، سنسان سے ساحل کے قریب/ ایک جواں پیڑ کے پاس
عمر کے درد لیے، وقت کا مٹیالا دوشالہ اوڑھے/ بوڑھا سا پام کا اک پیڑ کھڑا ہے کب سے
سینکڑوں سالوں کی تنہائی کے بعد/ جھک کے کہتا ہے جواں پیڑ سے….. ’’یار!
سرد سناٹا ہے!/تنہائی ہے! کچھ بات کرو!‘‘
پیڑ چوں کہ راحت رساں بھی ہوتا ہے اور سرسبزی و شادابی کے ساتھ ساتھ زندگی کی رمق کو بھی ظاہر کرتا ہے اس لیے گلزار کو پیڑ یا درخت سے خاص اُنس ہے:
اک گھنی چھاؤں پی رہا ہوں میں
کتنا ٹھنڈا درخت ہے بھائی
گلزار کی غزلوں میں ’چاند‘ کا لفظ بہت آیا ہے بلکہ بغور دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کم ہی غزلیں ایسی ہوں گی جن میں ’چاند‘ کو کسی شعر میں باندھا نہ گیا ہو۔ ایک غزل کی تو ردیف ہی ’چاند‘ ہے۔ اس لفظ کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے الگ سے ایک مضمون لکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ کائنات کی کسی شے کا بار بار کسی شاعر کے یہاں دہرایا جانا یونہی سا نہیں ہوتا بلکہ اس کی ایک تاریخی و تہذیبی حقیقت ہوتی ہے۔ کوئی شے کسی کی سائیکی کا حصہ یونہی نہیں بن جاتی۔ یہاں نمونے کے طور پر ’چاند‘ والے تین چار شعر دیکھیے:
کسے اوڑھے گی ادھڑی ہوئی چاندنی
رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی
چاند ہوتا نہ آسماں پہ اگر
ہم کسے آپ سا حسیں کہتے
کل پھر چاند کا خنجر گھونپ کے سینے میں
رات نے میری جاں لینے کی کوشش کی
شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں
چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں
گلزار کی پہچان نظموں سے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے گاہے گاہے غزلیں کہہ لی ہیں ورنہ ان کی سوچ کا میلان انھیں ہمیشہ نظم کی طرف ہی مائل رکھتا ہے۔ نظموں میں جو زندگی کی کرنیں ہیں وہ ہفت رنگی ہیں۔ ہفت رنگ مل کر قوس قزح بناتا ہے۔ گویا زندگی، گلزار کی نظموں میں آکر قوس قزح بن جاتی ہے۔ اس قوس قزح میں ذاتی تجربے کا رنگ بھی ہے اور اشیائے کائنات کی تصویریں بھی۔ اس میں انبساط و نشاط کا سفر بھی ہے اور کرب و غم کی سلگتی آتما بھی۔ حیات گزراں کا عکس بھی ہے اور مستقبل کی مٹتی ابھرتی لہریں بھی۔ غرض کہ تخلیقی عمل کا ایک حسیاتی جہان ہے جو گلزار کی نظموں میں اپنی تمام تر معنوی جہتوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے۔ ان کی نظم ’وعدہ‘ دیکھیے:
مجھ سے اک نظم کا وعدہ ہے ملے گی مجھ کو/ڈوبتی نبضوں میں جب درد کو نیند آنے لگے
زرد سا چہرہ لیے چاند افق پر پہنچے/دن ابھی پانی میں ہو، رات کنارے کے قریب
نہ اندھیرا نہ اجالا ہو نہ یہ رات نہ دن/ جسم جب ختم ہو اور روح کو جب سانس آئے
مجھ سے اک نظم کا وعدہ ہے ملے گی مجھ کو
ایک فنکار اور شاعر کے سوچتے ہوئے ذہن کا کیا حال ہوتا ہے، مذکورہ بالا نظم سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ نبض کا ڈوبنا، چاند کا زرد چہرہ، دن کا پانی میں ہونا، یہ سب شاعر کی گہری سوچ اور اس کے دل پر لگی ضرب پیہم کو ظاہر کرنے والے استعارے ہیں۔ یہ بات ہجر و وصال کی نہیں، یہ قصہ زلف و لب و رخسار کا نہیں بلکہ یہ پسی ہوئی شدتِ غم سے شاعر کے دل پر پڑے نیل کا عکس ہے۔ اسے چھونے سے درد کا تموج فزوں اور فزوں ہوتا ہے۔ گلزار محض تفریح طبع کے لیے نظمیں نہیں کہتے بلکہ ان کے نزدیک نظمیں کہنے کا مطلب کچھ اور ہے:
آؤ پھر نظم کہیں/ پھر کسی درد کو سہلا کے سجا لیں آنکھیں
پھر کسی دکھتی ہوئی رگ سے چھوا دیں نشتر/ یا کسی بھولی ہوئی راہ پہ مُڑکے اک بار
نام لے کر کسی ہم نام کو آواز ہی دیں/ پھر کوئی نظم کہیں
(پھر کوئی نظم کہیں)
نظم کا کوئی ٹکڑا جب گلزار کے لبوں پر آتا ہے تو زبان کٹنے لگتی ہے (حالاں کہ لب کو ہی کٹنا چاہیے) اور زبان سے پکڑنے پر لب چھلنے لگتے ہیں لیکن زبان اور لب میں فاصلہ ہی کتنا ہے، دونوں بہ یک وقت متاثر ہوسکتے ہیں۔ دیکھیے یہ چھوٹی سی نظم بھی:
ٹکڑا اک نظم کا—/دن بھر مری سانسوں میں سرکتا ہی رہا
لب پہ آیا تو زباں کٹنے لگی/ دانت سے پکڑا تو لب چھلنے لگے
نہ تو پھینکا ہی گیا منہ سے، نہ نگلا ہی گیا/ کانچ کا ٹکڑا اٹک جائے حلق میں جیسے
ٹکڑا وہ نظم کا سانسوں میں سرکتا ہی رہا
گلزار جب احساس کی آنچ پر خود کو سلگاتے ہیں تو نظموں میں بھی اس آنچ کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ اگر ان کی نظم ’ڈائری‘ ملاحظہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ دیہی افکار اور شہری افکار کے درمیان تصادم برپا ہے۔ ’راوی‘ لمحہ ہجر کو کس طرح جھیل رہا ہے۔ ہر کروٹ وہ کسی کو یاد کرتا ہے مگر شب و روز سے اس کے بدن کو راحت نہیں بلکہ پورا بدن گردش ایام میں مسلا جارہا ہے جس کے سبب ’راوی‘ کہتا ہے کہ ’’تمہاری یادوں کے جسم پر نیل پڑگئے ہیں۔‘‘ اسی میں آگے چل کر ڈائری میں ایک جگہ لکھا ہوا ہے:
تمہیں بھی تو یاد ہوگی وہ رات سردیوں کی/ جب اوندھی کشتی کے نیچے ہم نے
بدن کے چولہے جلا کے تاپے تھے، دن کیا تھا
یہ پتھروں کا بچھونا ہرگز نہ سخت لگتا جو تم بھی ہوتیں/تمہیں بچھاتا بھی اوڑھتا بھی
نظم آگے بڑھتی ہے:
تم ایک تکیے میں گیلے بالوں کی بھر کے خوشبو،/جو آج بھیجو
تو نیند آجائے، سو ہی جاؤں
اس نظم میں شدت دیکھیے جب ڈائری کے ایک صفحے پر راوی (جو شاید گاؤں چھوڑ کر آیا ہے) کہتا ہے:
میں شہر کی اس مشین میں فٹ ہوں جیسے ڈِھبری،/ضروری ہے یہ ذرا سا پرزہ
اہم بھی ہے کیوں کہ روز کے روز تیل دے کر/ اسے ذرا اور کس کے جاتا ہے چیف میرا
وہ روز کستا ہے،/ روز اک پیچ اور چڑھتا ہے جب نسوں پر،
تو جی میں آتا ہے زہر کھالوں/ یا بھاگ جاؤں
اس نظم میں ’مشین‘ اور ’ڈِھبری‘ دو الفاظ ایسے ہیں جو دو تہذیبوں کے تصادم کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ گاؤں کی معصومیت اس ڈِھبری سے وابستہ ہے جب کہ شہر کی چکاچوند اور تیزرفتار زندگی مشین سے۔ راوی جب ڈائری میں لکھتا ہے:
وہ ناک کی نتھ نہ بیچنا تم/وہ جھوٹا موتی ہے، تم سے سچا کہا تھا میں نے
سُنار کے پاس جاکے شرمندگی سی ہوگی
اس جھوٹ میں جو پرخلوص معصومیت ہے وہ جھلک پڑتا ہے۔ کس صفائی سے وہ بھی اپنی ڈائری میں اپنے احساس کو نوٹ کررہا ہے۔ اس نظم کا اختتام کتنا کرب انگیز ہے، ملاحظہ کیجیے:
فرار ہوں میں کئی دنوں سے/جو گھپ اندھیرے کی تیر جیسی سرنگ اک کان سے
شروع ہوکے دوسرے کان تک گئی ہے،/ میں اس نلی میں چھپا ہوا ہوں
تم آکے تنکے سے مجھ کو باہر نکال لینا/ کوئی نہیں آئے گا یہ کیڑے نکالنے اب
کہ ان کو تو شہر میں دھواں دے کے مارا جاتا ہے نالیوں میں
اس نظم (ڈائری) کے کچھ ٹکڑے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ تخلیقی بصیرت اور تجربے کی گہرائی نے گلزار کی نظموں میں جگہ جگہ گرداب اور لہریں پیدا کردی ہیں۔ زندگی کے صاف ستھرے پہلو پر تو سب کی نظر ہوتی ہے مگر اُدھر، جدھر دیکھنا مشکل ہے یا لوگ دیکھنا پسند نہیں کرتے، گلزار اسے ہی موضوع بناتے ہیں۔ ’پومپیے‘ نظم پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ آثار قدیمہ سے جس ظلم و جبر کا پتہ چلتا ہے وہ ظلم و جبر اس مہذب اور ترقی یافتہ دور میں بھی جاری و ساری ہے۔ گلزار اپنے موضوع کو برتنے کے لیے کھردرے سے کھردرے لفظوں کو بھی برتنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اُن کا احساس زندہ و تازہ ہے، اس لیے ان کی شاعری، بالخصوص نظمیں تمام تر کرب و الم کے باوجود تازہ کار اور زندہ نظر آتی ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

