بلڈنگ کا نصف حصہ ایک زور دار آواز کے ساتھ گرا ہی تھا کہ فلک شگاف چیخیں گونج اٹھیں۔ اس بلڈنگ میں رہنے والے تمام لوگ سڑک پر کھڑے اس دردناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر جمال بھی کھڑا تھا۔ وہ چیخ تو نہیں رہا تھا لیکن اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ یقینا وہ اندر سے چیخ رہا ہے۔ جمال کے فلیٹ کے جلنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل کی آگ بھی دہکنے لگی تھی۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے دل کی آگ کو بجھانا چاہتی تھیں لیکن فائر بریگیڈ کی طرح وہ بھی ناکام ثابت ہو رہی تھیں۔ جمال کسی گہری سوچ میں غرق تھا کہ اچانک ایک آواز پر چونک سا گیا۔ وہ آواز اشفاق کی تھی شاید وہ کسی سے پوچھ رہے تھے ’’بھائی اس بلڈنگ میں ایک جمال صاحب رہتے تھے۔ سامنے اشفاق کو دیکھ کر جمال ان سے لپٹ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ کسی طرح سمجھانے کے بعد جمال اور اس کی فیملی اشفاق کے گھر آ گئی۔ اشفاق بیوی اور اپنی بچی کے ساتھ تین کمروں کے فلیٹ میں رہتے تھے۔ بیوی کو سارا واقعہ سنایا اور ایک کمرہ خالی کرکے جمال کو دے دیا۔
دو روز بعد جمال نے ایک سستا فلیٹ کرایے پر لے لیا۔ اشفاق نے جمال سے کچھ روز اور رہنے کی درخواست کی لیکن اس کی خودداری آڑے آئی۔ اشفاق کی بیٹی جمال کے بیٹے اجمل سے بہت مانوس ہو گئی تھی۔ان لوگوں کو خدا حافظ کہا اور بولی جمال انکل اجمل کو لے کر آئیے گا…نا…ہم لوگ ساتھ میں کھیلیں گے۔ جمال نے فرط محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، ہاں بیٹی میں چھٹیوں میں بھیج دیا کروں گا ۔جمال کے جانے کے پانچ مہینے بعد ایک شام اشفاق بہت بے چین نظر آ رہے تھے۔ بیوی کو تشویش ہوئی تو پوچھ بیٹھیں:
’’کیا بات ہے جی! طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی‘‘
اشفاق کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے:
’’ دراصل میں آج جمال سے ملنے گیا تھا اس کی طبیعت خراب ہے اور مجھے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں اس کا ذہنی توازن نہ بگڑ جائے۔‘‘
طاہرہ نے حیرت سے پوچھا:
’’ اللہ رحم کرے۔ یہ کیسے ہو گیا۔‘‘
اشفاق نے کہا’’ جمال غیرت اور غریبی دونوں ساتھ لے کر پیدا ہوا ہے۔ آج کل بہت زیادہ مقروض ہو گیا ہے۔ مالک مکان نے کہہ دیا ہے کہ اس مہینے کے آخر میں فلیٹ خالی کر دو اس کا دو مہینے کا کرایہ باقی ہے۔ بیوی نے کہا ، جمال صاحب تو’Ph.Dہیں نا، ان کے لیے آپ بھی تو کوئی کام تلاش کر سکتے ہیں۔ اشفاق نے ایک لمبی سانس کے ساتھ اپنی خاموشی توڑی اور کہا: ہاں، آپ صحیح کہہ رہی ہیں وہPh.D.ہیں لیکن شاید آپ بھول رہی ہیں کہ اردو میںPh.Dہیں۔ ابھی چند روز ہوئے میں نے ایک صاحب سے جمال کو ملوایا تھا ۔ آج جب ان کے بارے میں جمال نے بتایا تو مجھے بہت افسوس ہوا۔ انھوں نے بہت سے اہم مضامین جمال کے ذریعے جمع کر اکے ،جمال ہی سے ایک ضخیم مقدمہ لکھوایا اور پھر مرتب کی حیثیت سے اسے خود شائع کر وا دیا۔اس کتاب کی علمی و ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی ،جس سے انھوں نے خوب نام کمایا ۔ انھوں نے جمال سے جو بھی کام کروائے تھے سوائے دس ہزار روپیوں کے کچھ بھی نہ دیا ۔ شکریہ تو دور کی بات ہے کتاب میں کہیں اس کا ذکر تک نہیں ملتا اور جن حضرات کو اس کتاب کا’ک‘ تک نہیں معلوم ہے، ان لوگوں کا جگہ جگہ شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
پھر اشفاق نے جھلاتے ہوئے کہا:’’ یہ جمال بھی کیا نصیب لے کر پیدا ہوا ہے یونیورسٹی میں مجھ سے دو سال جونیئر تھا،لیکن حالات کے تھپیڑوں نے اسے بوڑھا کر دیا ہے۔ وہ بہت ذہین تھا۔ پہلی ہی مرتبہ میں اس نے جونیئر ریسرچ فیلو شپ JRF))کو الیفائی کر لیا تھا۔ایک بات جو ہمیشہ جمال کو یونیورسٹی کے زمانے میں پریشان کرتی تھی وہی آج تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے ۔ وہ یہ کہ اس کے رشتہ دار اور گاؤں کے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ جمال بہت بڑی پڑھائی کر رہا ہے، اس کو بہت بڑی نوکری ملے گی اور جمال پریشان رہتا کہ اس کی Ph.D مکمل ہونے والی ہے، اس کے بعد وہ کیا کرے گا، وہ اکثر کہتا رہتا ’یار‘ گھر جا نہیں سکتا اور شہر میں رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی ملازمت ضروری ہے۔ لیکچر رشپ تو ملنے سے رہی۔ سوائے ٹیوشن ،پروف ریڈنگ اور کچھ پروجیکٹ کے کوئی کام نظر نہیں آ رہا ہے۔ لیکن اردو میںPh.Dکے بعد میں کیا پڑھاؤں گا ۔ ایک تو شہر میں لوگ اردو پڑھاتے نہیں اور کوئی پڑھانا بھی چاہتا ہے تو اس کام کے لیے مدرسے کے لڑکے ہی کافی ہیں۔ جمال کا گھر اور گائوں اس بات سے نا آشنا تھا کہ اردو میںPh.D کرنے کے بعد ملازمت کے لیے برسوں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
تھیسِس جمع کرنے کی تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی تھی جمال کے ساتھ ساتھ بہت سے اردو کے اسکالرس کو یہ فکر ستانے لگی تھی کہ اب کیا کریں گے، اتنی بڑی یعنی ڈاکٹر کی ڈگری لے کر گھر جا نہیں سکتے اور شہرمیں رہیں گے تو کھائیں گے کیا؟
جمال نے اپنی تھیسِس جمع کرنے سے پہلے ہی ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے۔ ایک اردو کے شیدائی نے بہت ہمدردی دکھائی اور کسی پراجیکٹ میں شامل کر لیا۔پانچ ہزار ماہانہ تنخواہ دیتے اور بقیہ پانچ ہزار اپنی جیب میں رکھتے۔ جمال یہ رقم خود اپنے ہاتھوں سے ان کی نذر کرتا لیکن پھر بھی اس امید کے ساتھ لگا رہا کہ آگے چل کر کوئی فائدہ ہو سکتا ہے ۔ پراجیکٹ ختم ہو جانے کے بعد موصوف نے بھی معذرت کر لی۔تھیسِس جمع کرنے کے بعد جمال نے دوڑ دھوپ شروع کر دی اور کچھ ٹیوشن اور پروف ریڈنگ کا کام کرکے گزر بسر کرنے لگا۔ شہرمیں جن لوگوں کا اپنا گھر نہیں ہوتا اور ان کی آمدنی بھی کم ہوتی ہے تو ایسے لوگوں کے لیے فلیٹ کا کرایہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ جب وہ فلیٹ کے کرایے سے مقروض ہو گیا تو اس بات سے تنگ آکر ایک روز مجھ سے ملا اور کہنے لگا کہ گاؤں میں میری کچھ موروثی زمین ہے جو بڑے بھائی کی تحویل میں ہے۔ ان سے بات کرکے میں اپنا حصہ فروخت کر دوں تو یہاں ایک کمرے کا فلیٹ لے سکتا ہوں۔ لیکن یہ زمین مجھے کسی باہر کے شخص کو فروخت کرنی ہوگی کیونکہ بڑے بھائی اسے نہیں خرید سکیں گے۔اور کسی دوسرے شخص کو فروخت کروں گا تو بھائی اور رشتہ دار ناراض ہو جائیں گے۔میں نے جمال کی باتوں کو سننے کے بعد یہ مشورہ دیا کہ ا س کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ،گاؤں جاؤ اور بھائی سے مشورہ کر لو۔ اس بات کو سن کر وہ بہت پس و پیش میں تھا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا۔ ایک ہفتہ بعد اس نے گھر کے سبھی افراد کو ناراض کرکے آٹھ لاکھ روپیے میں اپنے حصے کی زمین بیچ ڈالی اور چوتھی منزل پر ایک کمرے کا فلیٹ لے لیا، جو تھا تو بہت چھوٹا لیکن جمال اس بات سے خوش تھا کہ یہ اپنا ہے اور اب کرایہ نہیں دینا ہو گا۔اسی اثنا میں جمال نے اپنے بیٹے اجمل کا داخلہ ایک انگریزی اسکول میں کرا دیا۔ داخلے میں کچھ مشکلات درپیش تھیں لیکن ان کے محلے کے محمد طارق جو پیشے سے ڈاکٹر ہیں اور اس اسکول کے پرنسپل کے رشتہ دارہیں ، ان کے توسط سے کام آسان ہو گیا۔ وقت گزرتا گیا اور پھر دو سال بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک درد ناک رات آئی، جس کے بعد وہ بے گھر ہو گیا۔ہمارے یہاں سے جانے کے بعد وہ دوسرے محلے میں کرایے کے مکان میں رہنے لگا۔ لیکن گھر کے اخراجات کے ساتھ اب کرایہ بھی دینا تھا۔ اشفاق بے چینی سے پہلو بدل کر کہنے لگا…آج جمال کہہ رہا تھا وہ ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اجمل کا داخلہ کسی دوسرے اسکول یا مدرسے میں کرا دے گا تاکہ انگریزی اسکول کی فیس سے نجات ملے ۔لیکن اجمل یہ بات سن کر ضد کرنے لگا کہ وہ اسی اسکول میں جائے گاکیوں کہ اجمل کے سارے دوست چھوٹ رہے تھے۔ ان میں ڈاکٹر طارق کا بیٹافیروز بھی ہے جو اجمل کے اچھے دوستوں میں ہے۔ اجمل نے اس سے کہا ‘ پاپا میں طارق انکل سے کہوں گا کہ وہ بھی فیروز کا وہیں داخلہ کرا دیں جہاں میرا داخلہ ہوگا ، اس طرح ہم دونوں ساتھ ہی رہیں گے، جمال نے کہا،بیٹا طارق انکل فیروز کا داخلہ وہاں نہیں کرائیں گے..اجمل نے کہا وہ کیوں نہیں کرائیں گے، میں کہہ دوں گا تو وہ کرا دیں گے۔جمال نے سمجھایا …بیٹا‘ تمہارا داخلہ کچھ دنوں کے لیے ہی وہا ں ہوگا ….لیکن اجمل سوال پر سوال کیے جا رہا تھا۔اس نے پھر پوچھا ،کچھ دن کے لیے کیوں ؟ تو جمال نے بے بس ہو کر کہا ‘ابھی میرے پاس پیسے کم ہو گئے ہیں ، نا …جیسے ہی پیسے آجائیں گے تو میں تمھارا داخلہ پھر اسی اسکول میں کرا دوں گا۔ اجمل نے جمال سے پوچھا‘پاپا طارق انکل کے پاس کیوں اتنے پیسے ہیں اور آپ کے پاس کیوں نہیں ہیں؟ جمال نے فوراً کہا!بیٹا وہ’ ڈاکٹر ‘ہیں نا… وہ لوگوں کو دوا دیتے ہیں تو پیسے ملتے ہیں…. اجمل نے برجستہ کہا، پاپا وہ تو آپ بھی ہیں….آپ دوا کیوں نہیں دیتے ؟ طارق انکل تو آپ کو بھی ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں۔ جمال اپنے بیٹے کو کیا جواب دے یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اسکول کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا اور اجمل…فیروز…. فیروز کی آواز لگاتاہوا باہرنکل گیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

