اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ابھی سفر سارے
ابھی تو خواب بھی پھرتے ہیں در بدر سارے
تمہارا مشقِ ستم خوب ہے مگر سوچو
نکل نہ جائیں کہیں میرے دل سے ڈر سارے
جو آگ تم نے لگائی تھی کب کی بجھ بھی چکی
تو جل رہے ہیں ابھی تک یہ کیسے گھر سارے
پکے نہیں تھے ابھی ٹھیک سے یہ پیڑوں پر
ہوا کچھ ایسی چلی جل گئے ثمر سارے
ستم تو یہ ہے کہ گمنام بھی نہ رہنے دے
ہمارے حال سے رہتے ہیں باخبر سارے
متاعِ جاں بھی لٹا کر نہ باریاب ہوئے
ترا کرم کہ ہوئے بند ہم پہ در سارے
یہ ظلم ایسے ہی بڑھتا رہا تو ڈر ہے مجھے
الٹ نہ جائیں کسی روز بحر وبر سارے
ہوا بھی اپنے مخالف جو ان دنوں ہے ندیم
چلو کہ نوچ کے رکھ دیں یہ بال وپر سارے
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

