اک دشتِ خار زار ہے میرے وجود میں
مجنوں! ترا دیار ہے میرے وجود میں
شعلہ ہے یا شرار ہے میرے وجود میں
کیا چیز بے قرار ہے میرے وجود میں
آلودۂ فغاں ہے مری ایک ایک سانس
یہ کون دل فگار ہے میرے وجود میں
یہ خواب ، یہ خیال ، یہ خواہش ، یہ حسرتیں
یعنی بہت غبار ہے میرے وجود میں
اک دل کہ جس میں تم ہو ، مرے پاس ہے وہ دل
قدرت کا شاہ کار ہے میرے وجود میں
دیکھو فصیلِ ہجر کہیں منہدم نہ ہو
طوفانِ انتظار ہے میرے وجود میں
یہ حشر اور نشر سماوی قصص نہیں
محشر کا خلفشار ہے میرے وجود میں
یہ ماہتابِ دل ،یہ مرا لالئہ جگر
سب کچھ ہی داغ دار ہے میرے وجود میں
خالد مجھے خزانِ چمن سے گلہ ہو کیا
اک موسمِ بہار ہے میرے وجود میں
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

