Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

شہاب جعفری کی نظمیں – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras جولائی 11, 2022
by adbimiras جولائی 11, 2022 0 comment

شہاب جعفری جدید اردو شاعری کا ایک اہم نام ہے۔ گرچہ ان کی شاعری کو اتنی شہرت نہ مل سکی جس کی وہ بجا طور پر مستحق تھی۔ لیکن ان کی شاعری کا سورج جب شہر ادب پر طلوع ہوا  تو اس کی تب و تاب سے ہمارے افکار اور ذوق جمال کے سرد خانوں کو حدت اور روشنی ملی۔ ہمارے شعور کو گرمی اور وجدان کو جلا میسر ہوئی۔

شہاب کی شاعری کا زمانہ زوالِ ترقی پسندی کا زمانہ ہے۔ نئے افق سے نئی شاعری کی کرنیں ضوپاشایاں کرنے لگی تھیں۔ یوں تو ترقی پسند تحریک نے ہی نئی شاعری کا صور پھونکا تھا اور ہمارے سامنے فیض، سردارجعفری، مخدوم، مجاز نئے ڈکشن اور نئے طرزِاظہار کے ساتھ آکھڑے ہوئے تھے۔ راشد اور میراجی اسی گروہ سے نکل کر حلقہ ارباب ذوق میں شامل ہوئے تھے، کیوں کہ ان دونوں شاعروں کی آزادی اظہار اور طرزِاظہار دونوں، مزید کھلی فضاؤں کی متلاشی تھیں۔ اسی عہد میں اخترالایمان نے دونوں کے ساتھ ساتھ رہ کر بھی اپنی الگ پہچان بنائی۔ نئی شاعری اور بالخصوص نئی نظم کی صحیح روپ ریکھا اور اس کے خدوخال راشد اور میراجی کی نظموں سے ابھر کر ہمارے سامنے آئے۔ راشد اور میراجی نے آئندہ آنے والے شاعروں کو بے حد متاثر کیا اور پھر جب جدیدیت کا سورج طلوع ہوا، تو نئے ڈکشن اور نئے موضوعات نے شعری افق پر نئے نئے چاند اگائے، لیکن راشد اور میراجی اس نسل کے شعرا کے ذہنوں پر پوری طرح چھائے رہے۔ یہ ۵۵ ۱۹سے ۶۰ ۱۹ کا زمانہ ہے اور یہی زمانہ شہاب جعفری کی شاعری اور شاعری کے عروج کا ہے۔

شہاب جعفری کا شعری مجموعہ ’’سورج کا شہر‘‘ ۱۹۶۷ میں شائع ہوا۔ ظاہر ہے اس وقت جدیدیت اپنی تمام تر نئی جہات اور فیشن پرستیوں کے ساتھ اردو ادب کو اور بالخصوص شاعری کو اپنے حصار میں لے چکی تھی۔ صف اوّل کے جدید ناقد شمس الرحمن فاروقی کا جدید شاعری کا انتخاب بعنوان ’نئے نام‘ ۱۹۶۸ میں منظرعام پر آیا جس میں ترسیل کے المیے پر بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی اور جدید شاعری کی علامت پرستی اور ابہام کا جواز بھی فراہم کیا گیا۔ اس انتخاب میں شہاب کی نظم ’سورج کا شہر‘ کے علاوہ ایک غزل بھی شامل ہے لیکن شہاب جعفری کی شاعری نے اسی عہد میں اس جدیدیت کے ساتھ ساتھ چل کر بھی اپنی الگ شناخت قائم کی اور ترسیل کی ناکامی اور ابہام کی بالادستی سے اپنی شاعری کو محفوظ رکھا، مگر اس دور کی بے چہرگی اور رشتوں کی شکست و ریخت کو انھوں نے بھی شعری ملبوس عطا کیا۔ یہ ٹکڑا ملاحظہ کیجیے:

کون سی بستی ہے یہ؟/ کس طرح کے لوگ ہیں

سر سے پا تک صرف ہاتھ اور صرف پانو؟

کس لیے نکلتے تھے گھر سے/ ان کے چہرے کیا ہوئے؟

(نظم: سرِراہے)

اس کے بعد شہاب جعفری کی ایک نظم ’اپنا جنم‘ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس میں بہ یک وقت فیض اور سردار جعفری کی شاعری جیسے تہذیبی سروکار اور اسلوب کی کارفرمائی ملتی ہے۔ اس میں تنہائی کا کرب بھی ہے اور تیرگی میں افکار و استقبال کی چمک بھی۔ اس نظم میں طوقِ حوادث سے انسانی وجود آزاد ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ شہاب کی خوبی یہ ہے کہ وہ محزونیت میں بھی       طمانیت و مسرت کی شعاعیں پیدا کرلیتے ہیں۔ یہ ٹکڑا دیکھیے:

یہ حادثات کی دنیا یہ میری تنہائی

کوئی نہیں جو مرے حالِ دل کا پرساں ہو

کسک سی اپنے ہی پہلو میں بن کے اٹھتا ہوں

ہمک رہا ہوں میں کب سے خود اپنی بانھوں میں

بساط نار سے ہوکر گزرنے والا ہوں

خود اپنی آگ میں تپ کر نکھرنے والا ہوں

اس نظم میں حزنیہ سرشاری اور وجود آدم کے نیند کی گراں باری سے بیدار ہونے کا اشاریہ بھی ملتا ہے۔ جب اس نظم میں بساطِ نار سے گزرنے اور اپنی ہی آگ میں تپ کر نکھرنے پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے جیسے ققنس (Phoenix) کا جنم ہورہا ہے۔ یہ انسانی وجود کے حددرجہ کربِ آتشیں کا شعری اظہار ہے۔ ذرا آگے بڑھ کر نظم کے اس حصے کو دیکھیے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہاب جعفری اس وسیع و عریض کائنات کو کس طرح سمیٹ کر انسانی صورت میں پیش کرنے پر قدرت رکھتے ہیں:

فضائے تیرہ میں ذرات نور اڑتے ہیں

تخیل ان کو مرے جسم و جاں کی صورت میں

گداز کرکے نیا آب و رنگ دیتا ہے

تصورات کی دنیا میں کائنات وسیع

سمٹ رہی ہے تو انسان بنتی جاتی ہے

ایک بڑے فنکار کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ ایک نقطے کو پھیلا کر کائنات کی شکل میں پیش کردے یا پھر پوری کائنات کو ایک نقطہ میں تبدیل کردے۔ یہ اس کی قوت متخیلہ پر منحصر کرتا ہے۔ یہاں شہاب کایہ شعر بھی پیش نظر رکھا جاسکتا ہے کہ:

چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے

نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

اسی طرح غالب نے دشت امکاں کو ایک نقش پا میں بدل دیا تھا۔ ظاہر ہے دشت امکاں کائنات سے بڑی چیز ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ایسی صورتِ حال پیدا کرنے کے لیے وجدان اور شعور تخلیق، دونوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ شہاب جعفری کی نظموں میں جگہ جگہ متن کے باطن سے اس بات کی وضاحت اور تصدیق ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہوا ہے کہ اپنے کئی ہم عصروں کے برخلاف شہاب نے Pseudo romanticism سے اپنا رشتہ کم ہی رکھا ہے۔

شہاب کی شاعری میں سورج ایک کلیدی لفظ ہے بلکہ لفظ نہیں ایک استعارہ ہے۔ استعارہ ہے انسان کی پیدائش اور اس کی موت کا۔ انسانی زندگی ایک مدور شکل میں اپنا سفر مکمل کرتی ہے۔ شہاب نے سورج کو ماضی، حال اور مستقبل کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزیرآغا نے لکھا ہے کہ ’سورج کا شہر‘ کے خالق کے نزدیک سورج ایک ایسے متحرک ذہن کی علامت ہے جو اعلا قدروں کا متلاشی ہے جس نے شکست و ریخت کے سارے منظر کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہاں اس حوالے سے خود تخلیق کار کیا سوچتا ہے، اس کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔ شہاب جعفری لکھتے ہیں:

’’۲؍جون ۱۹۳۰ کی صبح چڑھتے سورج کے ساتھ میرا جنم ہوا۔ تب سے خلائے بسیط میں سورج کا اور شہر و دشت میں میرا سفر جاری ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ہمزاد ہیں، ہم سفر ہیں ساتھ ساتھ بھی تنہا تنہا بھی۔ شام ہوتے ہی سورج میرا ساتھ چھوڑ دیتا ہے لیکن میرا سفر جاری رہتا ہے۔ دوسری صبح وہ مجھ سے پھر آن ملتا ہے اور ہم ایک دوسرے کی کہتے سنتے چلتے رہتے ہیں۔‘‘  ۶۱؎

وزیرآغا کے نزدیک میراجی کی شاعری ’دھرتی پوجا کی مثال‘ ہے تو شہاب جعفری کی شاعری ’سورج پوجا کی مثال‘۔ سورج کو شہاب جعفری نے اپنی فکر کا مرکزی کردار بنایا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح اخترالایمان کی شاعری میں اس کا ماضی اس کے ہمزاد کی طرح موجود رہتا ہے اسی طرح شہاب جعفری کے یہاں سورج حاوی فکری میلان کا حصہ بن کر ابھرا ہے۔ شاعر جب کسی آیت کائنات کو استعارہ بناتا ہے تو اس کی تمام جہتوں کو پیش نظر رکھتا ہے۔ سورج اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے تاریکی اور رات کو بھی شہاب جعفری نے سامنے رکھا ہے۔ وزیرآغا نے بجا طور پر لکھا ہے کہ شہاب کے لیے سورج مسرت، عرفان اور شعور ذات کا منبع ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں آگے لکھا ہے:

’’شہاب جعفری نے اپنی نظموں میں سورج کی پیدائش، سفر، زوال اور تجدید کی ساری کہانی کو پیش کرکے ماضی سے اپنی وابستگی کو ظاہر کیا ہے۔‘‘ ۶۲؎

زمین کی گردش اور رات کی آمد، سورج کا طلوع ہونا اور اس کا دن بھر کا سفر طے کرکے شام تک پہنچنا، گویا سفر حیات کی تدویر کو ثابت کرتا ہے۔ ہزاروں سورج ہیں جو شاعر کے دل میں یادوں کے روپ میں موجود ہیں۔ شہاب کی کردار نگاری ملاحظہ کیجیے:

یہ شام پھر آج یو ںہے جیسے/ ہزاروں سورج

مرا ترا درد لے کر سب ایک ساتھ ڈوبے ہوں سارے سورج

جو میرے آنگن میں ہر سحر ترا نام لیتے

پھر آج کی شام مجھ سے تیری طرح جدا ہوکے جارہے ہیں

آگے چل کر نظم کے یہ ٹکڑے ملاحظہ کیجیے:

یہ شام ان راستوں پہ لے آئی ہے جہاں پھر/ زمیں پہ افلاک نودمیدہ

اور ان کی پرکار گردشیں ہیں/مرے ترے ماضیوں کے وہ دن

انوکھے، ناآشنا زمانے

میں ان زمانوں سے آنے والی اچھوتی سی روشنی کی لہروں میں دیکھتا ہوں

یہاں ترا نام بھی لکھا ہے/ یہاں تری یاد کا یہ درد آج پھر نیا ہے

(شام اور کھنڈر، ۱۹۶۴)

اگر دیکھا جائے تو سورج ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کے لیے واضح علامت ہے۔ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو وہ حال کو ظاہر کرتا ہے اور رات کے سفر کے بعد جب نکلتا ہے تو وہ کل کا یعنی مستقبل کا سورج ہوتا ہے اور اس طرح ایک روز پہلے کا سورج ماضی کا سورج بن جاتا ہے۔

شہاب جعفری کے یہاں ایک اَنا کا سورج بھی ہے جس سے وجود پگھل جاتا ہے۔ ایک نظم ’شہر اَنا‘ ہے جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آگہی اور احساس سے بدن پگھل رہا ہے اور اس کی ہیئتیں بدل رہی ہیں۔ یہاں پر چھائیں بھی دھوپ ہے۔ نظم بیس مصرعوں پر مشتمل ہیں۔چند مصرعے دیکھیے:

یہ تیز دھوپ یہ کاندھوں پہ جاگتا سورج

زمیں بلند ہے اتنی کہ آسماں کے قریب

وہ روشنی ہے، وہ بیداریاں کہ سائے نہ خواب

بس ایک ہوش بس ایک آگہی بس اک احساس

اور ان کے نور سے جلتے بدن، پگھلتے بدن

ہر آن بہتے، سدا ہیئتیں بدلتے بدن

تمام انفس و آفاق گم ہیں آپس میں

ہیں فرد فرد کی پرچھائیاں بھی دھوپ ہی دھوپ

کچھ اتنے دور نکل آئے ہیں سب اپنے سے

کہ دل کے رشتے کو اب مانتا نہیں کوئی

کسی کو اپنے سوا جانتا نہیں کوئی

(شہر اَنا میں، ۱۹۶۷)

شہاب نے نور، مَیں اور وجدان کی تثلیث بھی پیش کی ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں اگر ’مَیں‘ کی ماورائیت کا ذکر کریں تو مناسب ہوگا۔ ان کی نظموں میں سورج کی سیالیت اور چاند سے سورج کی بستی کا پیدا ہونا ان کی شعری تمثال پسندی کو ظاہر کرتا ہے اور ایک طرح سے دیکھا جائے تو اجتماع ضدین بھی ہے۔ ’میں‘ کب چاند کا روپ لے لے اور کب سورج میں بدل جائے، کہا نہیں جاسکتا۔ روشنی کے ارتفاع میں انسانی زندگی کی پستی مدغم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ۱۴ مصرعوں کی چھوٹی سی نظم ’وجدان‘ ہے۔ چند مصرعے ملاحظہ کیجیے:

رات کتنا نور تھا/بوجھ سے تابندگی کے جھک گیا تھا آسماں

لحظہ لحظہ گررہی تھیں کہکشاں کی پتیاں/ گھل رہی تھیں روشنی کی رفعتوں میں پستیاں

چاند کے سینے سے گویا دن نکل آیا تھا

——

سورجوں کی بستیوں میں/میرے اپنے لوگ/ میری آتما کے اَن گنت انجانے روپ

اک دوسرے سے اس قدر سب آشنا

سارے روپ اک دوسرے میں نور کی مانند یوں تحلیل

جیسے میرے اندر میرا ’میں‘

(وجدان، ۱۹۶۳)

ماضی ہر شاعر کی کمزوری ہوتا ہے۔ وزیرآغا نے سورج کے مدور سفر کا رشتہ بھی ماضی سے جوڑا ہے، جس کا ذکر اوپر ہوا۔ ماضی کو عمیق حنفی، منیب الرحمن، وحید اختر نے بھی اپنی نظموں میں خوب خوب برتا ہے۔ وزیرآغا اور ن م راشد کے ہاں مثالیں مل جاتی ہیں۔ شہریار اور محمد علوی کی شاعری میں بھی ماضی کسی نہ کسی شکل میں ضرور آیا ہے۔ ماضی کے لمحوں کو حال کے پردے پر منعکس کرنا تخلیقی عمل کا ایک چیلنج بھرا کام ہوتا ہے۔ جیمس جوائس نے اسے Epiphany سے موسوم کیا ہے۔ منیب الرحمن جب کہتے ہیں:

ہر گوشے میں ماضی کی کمیں گاہیں ہیں/یادیں ہیں کہ بکھرے ہوں کھلونے جیسے

کچھ آہٹیں کچھ قہقہے کچھ آہیں ہیں

یا پھر جب وحید اختر کہتے ہیں:

اپنے کاندھے پہ اٹھائے ہوئے نعش ماضی/ زندگانی کا ہر اک لمحہ پلٹ آیا ہے

ٹوٹتے بنتے حبابوں میں ہراک چہرۂ گم گشتہ سمٹ آیا ہے

سب ہی چہرے مرے لمحات رفاقت کے گریزاں چہرے

سبھی چہرے ہیں مرے اپنے پریشاں چہرے

یا پھر اخترالایمان اپنی نظم ایک لڑکا، بازآمد، جیونی، پرانی فصیل میں جب ماضی کو آواز دیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی شعور انسانی کے ساتھ ساتھ تخلیقی سرچشمہ بھی ہے جو ایک تخلیق کار کے لاشعور میں یادوں، قہقہوں، حبابوں، کھلونوں اور سورج کی شکل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

شاعر کبھی ہوا کو مخاطب کرتا ہے، کبھی سمندر کو، کبھی سورج کو تو کبھی پتھر کو، کبھی بہتے ہوئے پانی کو، کبھی رات کے سناٹے کو۔ یہ سب عوامل انسانی سائیکی میں رچ بس کر خواب بناتے ہیں۔

یہ خواب کا چکر بھی عجیب و غریب ہے۔ خواب ماضی کا، خواب مستقبل کا، خواب ہست و بود کا، خواب عالم لاہوت کا، خواب جینے اور مرنے کا۔ گویا خوابوں کا ایک لامتناہی تسلسل ہے جو ہر فنکار کا مقدر ہے۔ خواب پرستی سے دامن چھڑانا فنکار کی موت کے مترادف ہے۔ فنون لطیفہ کی کسی بھی شاخ سے رشتہ رکھنے والا فنکار خواب پرستی سے عاری نہیں۔ یہ سرمایہ ہے۔ یہ ایک طرح کا شفاف آئینہ ہے جس میں فنکار ہر طرح کی تصویر دیکھتا ہے لیکن ایک سچا فنکار جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہے۔ شہاب کی دو نظموں کے ٹکڑے ملاحظہ کیجیے:

میں خواب میں سوچتا رہا ہوں/ جو آسماں سے اتر رہی ہے، مگر زمیں تک پہنچ نہ پائی

مری چشم بے خواب سے پرے/ دور میرے بچپن کی سرحدوں پر ہی رک گئی

(جاگے ہیں خواب میں، ۱۹۵۶)

——

اپنے خوابوں کی زمیں جھوم رہی ہے دیکھو/ ہم قدم گرم سفر دیکھ کے ہم کو تم کو

کتنی آوازیں بلاتی ہیں/ چلے آؤ یہاں

اس اندھیرے کے سفر میں جو ہے احساس زیاں

لب پہ اقرار وفا، روح میں انکار نہاں/ آؤ خوابوں کی زمیں تک تو چلو پھر دیکھو

بے سبب دل میں یہ وہموں کے ابلتے طوفاں/ سر اٹھائیں گے نہ وجہ تصادم ہوں گے

یہ جو ہم تم ہیں، وہاں ایسے نہ ہم تم ہوں گے

(گہرے بندھن، ۱۹۶۱)

اب تک جو گفتگو ہوتی رہی اس کا حاوی میلان نظم کا موضوع اور Content رہا ہے۔    نظم جدید میں ہیئت کی حیثیت کیا ہے، اگر اس کے حوالے سے بھی مختصراً گفتگو کرلی جائے تو بہتر ہے۔ ذہن انسانی میں جمالیات کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ خارجی عوامل فن پارے کو کس قدر حسن عطا کرتے ہیں اور اندرونی فکر و خیال سے پیکر فن کی ہم آہنگی کتنی جمال افزا ہوتی ہے، یہ ایک بحث طلب زاویہ ادب ہے۔ فن برائے فن والوں نے ادب کی کسی نوع کی افادیت سے انکار کیا لہٰذا حسن کی تلاش متن میں چھپے ہوئے افکار و خیالات کے بجائے اس کی ہیئت میں تلاش کرنا ہوگا۔

جدید نظم میں یہ ایک اہم موضوع گفتگو ہوسکتا ہے کہ ظاہری اور باطنی تصور ہیئت کی کیا اہمیت ہے۔ نئے نظم نگاروں میں کچھ نے تو درشتی (Austerity) کو اپناکر اپنی نظموں کو حسن بخشا اور کچھ نے ریشمی لفظیات کی مدد سے اپنے افکار کو منزل ارتفاع تک پہنچایا۔

نئی نظموں میں تفحص الفاظ کا اہتمام بھی ملتا ہے اور اپنی شخصیت کا بیان بھی۔ شہاب جعفری کی ایک نظم کایہ ٹکڑا دیکھیے (جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے) جس میں شاعر کا Self اور اس کی اپنی شخصیت کا اظہار ہوا ہے:

یہ حادثات کی دنیا یہ میری تنہائی

کوئی نہیں جو مرے حالِ دل کا پرساں ہو

کسک سی اپنے ہی پہلو میں بن کے اٹھتا ہوں

ہمک رہا ہوں کب سے خود اپنی بانھوں میں

بساط نار سے ہوکر گزرنے والا ہوں

خود اپنی آگ میں تپ کر نکھرنے والا ہوں

(اپنا جنم)

ٹی ایس ایلیٹ کہتا ہے کہ شاعری میں شخصیت کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ شاعر کی تخیلی زندگی کا اظہار شاعری میں ہوتا ہے۔ اس تخیلی زندگی کا اپنا سانچہ ہوتا ہے، یہی سانچہ ہیئت ہے۔ ایلیٹ کے الفاظ میں:

The poet has not a ‘personality’ to express but a particular medium, which is only a medium and not a personality in which impressions and experiences combine in peculiar and unexpected ways. Impressions and experiences which are important for the man may take no place in poetry and those which become important in poetry may play quite a negligible part in the man, the personality.

شخصیت یا ذات کا تخیل اور فکر سے ہم آمیز ہوکر سیال کی صورت میں نظم کی ہیئت/ پیکر میں ڈھل جانے کا عمل بہت مشکل نہیں۔ ایلیٹ نے یہ بات تو صحیح لکھی ہے کہ زندگی کے تاثرات و تجربات جو ایک آدمی کے لیے اہم ہوں کوئی ضروری نہیں کہ ان کا کوئی رول شاعری میں بھی ہو یا جو تجربات شاعری کے لیے اہم ہوں وہ آدمی یا شخصیت کے لیے بھی اہم ہوں۔ ایلیٹ نے بلاوجہ پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاعر/ آدمی کے لیے تجربات بہت اہم ہوتے ہیں، اس کی زندگی کے لیے بھی اور اس کی شاعری کے لیے بھی۔ اگر ایسا نہیں ہے تو سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ پھر وہ کیا چیز ہوتی ہے جسے شاعر اپنی شاعری میں پیش کرتا ہے؟ ظاہر ہے کہ Impression یا Experience سے ماورا کوئی شے تو ہوتی نہیں جو شاعر کے حصار فکر میں آکر پیکر نظم یا پیکر شعر میں ڈھل جاتی ہے۔ شاعر کی ذات اس کی جبلت کا پروردہ ہوتا ہے۔ اس جبلت سے شعری عمل ہم آہنگ ہوکر فن پارہ خلق کرتا ہے۔ شاعر جب کہتا ہے کہ بساط نار سے ہوکر گزرنے والا ہوں/خود اپنی آگ میں تپ کر نکھرنے والا ہوں، تو شاعر کی پوری شخصیت اس کے Impressions اور Experiences کے ساتھ ہمارے سامنے جلوہ گر ہوجاتی ہے۔ روایتی نظموں میں اپنی شخصیت سے شاعر دور نظر آتا تھا۔ ظاہر ہے ایسی شاعری میں تاثر اور Intensity کی کمی بھی ہوتی تھی۔ تجربات کو کس طرح اور کس ہیئت میں پیش کرنا ہے، دراصل شاعر کے سامنے یہ ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ رین سم (Ransom) اندرونی کیفیت کو Texture یا تانے بانے سے اور ظاہری کیفیت کو Structure سے تعبیر کرتا ہے جو Structure ہے وہی سانچہ ہے۔ دراصل ان دونوں پہلوؤں کی ہم آہنگی کا راز مختلف النوع جبلتوں کی باہمی آمیزش اور ان کے درمیان مناسب توازن میں پوشیدہ ہے۔ اسے آئی اے رچرڈز نے Synaesthesis سے موسوم کیا ہے۔ ایک بات اور اہم ہے کہ شاعر کے ذہن و دل میں جو تخلیقی عمل جاری و ساری رہتا ہے اس کے عوامل یعنی جذبات و تجربات میں دوری اور قربت کا عمل بھی جاری و ساری رہتا ہے۔ پختہ فنکار ان سے واقف ہی نہیں ہوتا بلکہ احسن پہلو اور عمل پر پوری توجہ بھی صرف کرتا ہے ورنہ فن پارے کا معرض خطر میں پڑکر بھونڈی شکل اختیار کرلینا بعید نہیں۔

شہاب جعفری کی نظموں میں ان کی تخلیقی قوت ان کے جذبات اور تجربات کی آمیزش اور کشاکش سے پوری طرح عہدہ برآ ہوتی نظر آتی ہے۔ کہیں کہیں سپاٹ پن پیدا ہوا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر تخلیق کار اپنی جبلت اور باہری تجربات کے مابین Detachment اور Attachment کی زمانیت کی تفہیم اور اس کا شعور نہیں رکھتا تو تخلیقی زوال ناگزیر ہوجاتا ہے۔

جس طرح میراجی کی شاعری میں عجمی تہذیب معدوم ہے، ٹھیک اس کے برعکس شہاب جعفری کے یہاں دھرتی اور سورج پوجا والی تہذیبی علامتوں کے ساتھ ساتھ عجمی تہذیب کی علامتیں بھی جا بہ جا ملتی ہیں۔ یہ ان کے غیرانتہا پسند ہونے کی دلیل بھی کہی جاسکتی ہے۔  ’مرلی کے دیش میں‘ کا یہ ٹکڑا دیکھیے جس میں عجمی لے کا احساس ہوگا اور ساتھ ہی ن م راشد کے اسلوب شعر اور ڈکشن کا عکس بھی نظر آئے گا:

از ازل تا بہ ابد کیفِ نمو کی تفسیر

خوابِ فردا لیے معصوم دلوں کے ارماں

از افق تا بہ افق رحمتِ حق کی تنویر

عہد و پیماں کی وہ باتیں وہ دعاؤں کا نزول

از زمیں تا بہ فلک کن فیکوں کی تاثیر

قلبِ ہر سنگ میں تھی پھول سا کھلنے کی امنگ

دلِ ہر قطرہ میں کرنوں کا مچلتا ہوا رنگ

(مرلی کے دیش میں،۱۹۶۱)

عجمی ثقافت جس طرح اقبال، راشد، فیض اور سردارجعفری کی نظموں میں نظر آتی ہے، اس کی مثال شہاب جعفری کے یہاں بھی ملتی ہے۔ البتہ شہاب نے راشد اور اقبال کی طرح صرف عجمی تصور عشق یا عجمی تہذیبی رنگ کو اپنی شاعری کا حصہ نہیں بنایا بلکہ انھوں نے میراجی کی طرح ہندوستانی تہذیب اور نفسیاتی کشمکش کو بھی اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ ہیئت اور موضوع کی ہم آہنگی سے نظم میں Image پیدا کرتے ہیں۔ جہاں ہم آہنگی نہیں ہوپاتی، شاعری کے باطن میں بادصرصر چلنے لگتی ہے۔ واضح رہے کہ یہی ہم آہنگی جمالیاتی تخلیق کی ضامن ہوتی ہے۔ حالاں کہ یہ ہم آہنگی بھی کوئی سوچی سمجھی یا Pre conceived نہیں ہوتی۔ شاید اسی لیے شوپنہار نے کہا تھا کہ جمالیاتی تخلیق میں ارادہ بالکل معطل ہوجاتا ہے۔ جس فنکار کو میکانکی اور حرکی کردار کی تمیز نہیں ہوتی اس کی شاعری کی بافت یعنی Craft  تو ڈھیلی ہوتی ہی ہے، اس کی اثرانگیزی بھی دیرپا نہیں ہوتی۔ سچا شاعر اور فطری فنکار رویائے صادقہ کی تعبیر پیش کرتا ہے اور رویائے صادقہ کا انحصار کسی بھی شاعر کے Poetic vision پر ہوتا ہے۔  آج اگر مسدس حالی کو ہم بقول جیلانی کامران ایک دیوار گریہ تصور کریں تو کیا اس سے ہماری تفہیم اور حالی کے Poetic vision میں کوئی فرق پیدا ہوسکے گا؟ بہرحال یہ ایک الگ بحث طلب موضوع ہے جس کی کئی جہتیں ہوسکتی ہیں۔

شہاب جعفری کے یہاں بطور علامت یا استعارہ یا تمثال سورج، ہوا، پانی، سمندر، رات وغیرہ کا استعمال خوب ہوا ہے۔ میں یہاں سمندر کے حوالے سے ان کی ایک دو نظموں کا کسی قدر تجزیاتی مطالعہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

سمندر انسانی وجود کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی تاریکی کو بھی۔ اس کے علاوہ سمندر گہرے اسرار کی علامت بھی رہا ہے۔ دنیا کے مختلف ادبیات اور اساطیر میں سمندر اور پانی کی مختلف معنویت رہی ہے۔ شہاب جعفری کی ایک چھوٹی سی مگر موثر نظم ہے ’انجانے فاصلے‘ ملاحظہ کیجیے:

سمندر! ارے او اَبد کے مسافر سمندر!!

مرے مستقر پر کبھی تو گھڑی دو گھڑی کو ٹھہر

کب سے پتھر بنا۔ جس میں دور سکوتِ ازل منجمد ہوگیا ہے

تری راہ میں خشک لب، بے زباں، بے نوا ہوکے پیاسا پڑا ہوں

تجھے اپنے پہلو میں پاکر بھی

حسرت سے تکتا ہوں/ بس دور کی اک مسلسل صدا سن رہا ہوں!!!

اس چھوٹی سی نظم میں جس قرب کی جستجو اور پیاس کا ذکر ہے وہ ایک طرح سے نارسائی کی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ یہاں کسی بے زمانی اور اسرار بے معنی کا قصہ نہیں۔ راشد نے جب اپنی نظم ’شہر آئندہ‘ میں ماضی اور حال کے انحطاط کو پیش کیا تو صندوق ایک عقدہ لاینحل بن گیا۔ لیکن شاید راشد کو اس نظم کے مبہم پرتوں کا اندازہ ہوگیا تھا اس لیے انھوں نے آگے چل کر اس میں پوشیدہ اسرار  اور لازمانیت کی طرف اشارہ کردیا:

یہ صندوق کیوں کرگرا؟/ نہ جانے کسی نے چرایا؟

ہمارے ہی  ہاتھوں سے پھسلا؟/ پھسل کر گرا؟/ سمندر کی تہہ میں۔ مگر کب؟

ہمیشہ سے پہلے/ ہمیشہ سے بھی سالہاسال پہلے

اس کے علاوہ شہاب نے ’جنم جنم کی پیاس‘ کے عنوان سے نظم کہی ہے جس کے دو ذیلی عنوانات ہیں ’عشرت قطرہ‘ اور ’خودی کو کربلند اتنا‘۔ یہ ایک ناتمام نظم ہے۔ اس نظم کی کئی جہتیں ہیں۔ پہلے حصے میں ایک سرکش موج کو کردار کے طور پر پیش کرکے اپنی پیاس باقی رکھنے کا فلسفہ پیش کیا ہے۔ منتخب حصے دیکھیے:

سمندر کے کنارے پر کھڑا ہوں اور پیاسا ہوں

کسی صورت تو آخر تشنگی اپنی مٹانی ہے

سمندر مجھ میں آجائے کہ میں اس میں سماجاؤں

سمندر کوزہ لے کر دست ساقی کی طرح اٹھا

تو بے تابانہ ساحل سے بڑی قوت سے میں جھپٹا

اچانک ایک سرکش موج بھی میری طرف لپکی

پکاری ٹھہر تیری پیاس بھی سودا ہے جینے کا

ترے سینے کی دھرتی میں یہ ساگر سوکھ جائے گا

اس نظم کے دوسرے حصے میں احساس کی Intensity فزوں تر ہوتی ہے۔ کنواں ہے اور سینے کا محبس۔ شہاب نے اپنی قوت تخلیق اور کرافٹ سے ایک مکالمے کی جو فضا پیدا کی ہے اس میں انسان کی پیاس اور اس پیاس کی سچی معنویت کھلتی نظر آتی ہے:

کنویں پر تھک کے میں بیٹھا ہوا ہوں اور پیاسا ہوں

بہت گہرائی سے پانی مجھے آواز دیتا ہے

کہاں گم ہوگئے تھے جاکے انسانوں کے جنگل میں

نہ جانے کب سے بیٹھے رو رہے ہو پیاس کے مارے

بہت تنہا ہو دنیا میں تمہیں تم تک میں پہنچا دوں

مگر چلّو کو ہونٹوں سے لگاتے ہی اک اور پیاسا

(جو زیرآب تھا) ناگاہ سطح آب پر آیا/ پکارا، ٹھہر مت پینا کہ یہ ٹھہرا ہوا پانی

ارے زہراب ہے تیرے ہی اشکوں کا ہلاہل ہے

نہ جانے بند ہے کب سے ترے سینے کے محبس میں

شہاب جعفری ندی، پانی، آنسو اور سمندر کو تقریباً ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں یعنی یہ سب ان کے مختلف Tools ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے۔ انسان کی تیرہ و تار زندگی جس کے اسرار کو وہ ان علامتوں اور پیکروں کی مدد سے پیش کرتے ہیں۔

آنسو، سمندر، ساحل، تیرگی، چراغ وغیرہ میں جو باہمی ارتباط اور معنوی انسلاک ہے اسے سمجھنے کے لیے شہاب کی نظم ’سمندر‘ کا مطالعہ ضروری ہے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ بڑی خوبصورتی اور پختہ کاری سے نظم کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایک تو ان کے الفاظ و تراکیب کے برتنے کا انداز بھی بہت پیارا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے افکار کو ہیئت پر  Impose نہیں کرتے۔ اس نظم کے کچھ ٹکڑے دیکھیے:

آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے نہ دیکھو مجھ کو/ تیرہ و تار سمندر جس میں

قرب کے دشت، جدائی کے جبل…/ وہ جو ساحل پہ کبھی میں نے جلایا تھا چراغ

دور، نادیدہ کناروں کی طرف آپ سے آپ/ دم بخود، سحرزدہ کھنچتا چلا جاتا ہے…

تیرہ و تار سمندر ہیں یہ آنسو! جن میں/ کسی غرقاب، پراسرار جزیرے سے

جہاں میں بھی نہیں تم بھی نہیں/ التجا اور ندامت سے گلوگیر تمہاری فریاد

سطح سربستہ تک آتی ہے تمہاری آواز

شہاب نے اس نظم میں دو دلوں کی چاہت کو سیال مادے کی شکل میں آنسو، سمندر اور پانی میں حل کردیا ہے۔ یہ ایک ایسا کینوس ہے جس پر شہاب سیال چاہتوں کو برش قلم کی مدد سے کرب آمیز فسوں سازی کے ساھ paint کرتے ہیں۔

میں نے ذکر کیا تھا کہ شہاب جعفری کے یہاں سورج، ہوا، پانی، سمندر اور رات علامت اور استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ سورج کے حوالے سے شروع ہی میں مختصراً گفتگو کی ہے۔ یہ ایک حاوی علامت ہے جو شہاب کی پوری شاعری میں زیریں لہر کے طور پر موجود ہے۔ یہ علامتی تمثال آغاز، ارتقا، عروج، انحطاط اور زوال کے تسلسل کو پیش کرتا ہے۔

ہوا کو شہاب نے اپنی شاعری میں ایک اہم جز کی طرح استعمال کیا ہے۔ ہوا جو کبھی روح کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ ہوا جو کبھی آندھی کی شکل میں چلتی ہے تو بلند عمارتوں اور اشیائ کائنات کو خس و خاشاک کی طرح اڑا لے جاتی ہے۔ ہوا جو گرمی کا اثر رکھتی ہے تو کبھی سردی کا۔ اسی ہوا کو شاعر نے کردار بناکر کس طرح پیش کیا ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس مجرد اور غیرمرئی عنصر حیات کی تجسیم کرکے شہاب نے اسے اپنی نظموں میں مختلف جہات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کی نظم ’تسخیر فطرت کے بعد‘ کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ ہوا شاعر کا محبوب بھی ہے اور ہمدرد اور محسن بھی، جس نے اسے کڑے موسم میں اور زندگی کے نشیب و فراز میں سہارا دیا ہے:

ہوا اے ہوا!/ میں ترا انگ ایک لہرا تھا

صدیوں ترے ساتھ دشت و دمن کوہ و صحرا میں/ آزاد و سرشارپھرتا رہا ہوں

مجھے تونے فطرت کے معبد/ صنم خانۂ کائنات آذری کے طلسمات سے آکے باہر نکالا

اس کے بعد راوی دنیا بھر کی مشقتوں سے گزر کر اپنی تکمیل چاہتا ہے مگر ہوا سے اس کی جدائی کے سبب اس کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپاتا:

ہوا اے ہوا!/ میں نے تجھ سے بچھڑنے سے پہلے/ تری طرح آزاد و سرشار تھا

اب یہ کس طرح کی منہمک ٹوٹتی زندگی ہے؟

اور میں شہر شہر ایک پتھر سا رستوں میں بے حس پڑا ہوں

تری سست پیمائی اور اپنی بے چارگی کا گلہ کررہا ہوں

شہاب جعفری کی نظموں کے تلازموں کی شناخت انھی علامتوں سے ممکن ہے۔ یہاں میں نے لسانیاتی اور نحوی تجزیے سے کوئی سروکار نہیں رکھا ہے۔ میں نے شہاب جعفری کے گیت، بھجن اور غزلوں کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ ’سورج کا شہر‘ میں ایک طویل منظوم تمثیل ’یہ میری دنیا یہ میری جنت‘ کے عنوان سے ہے جس پر الگ سے ایک مضمون قلم بند کرنے کی ضرورت ہے۔ شہاب جعفری گرچہ اردوکے نقادوں کی عینک سے دور رہے مگر ان کی تخلیقات میں وہ شدت اور Potentiality ہے کہ نئی نسل اس طرف آہستہ آہستہ راغب ہوگی اور اس لیے بھی کہ ان کی شاعری پر ترقی پسندی یا جدیدیت کا کوئی لیبل موجود نہیں ہے۔ ہاں ان کے شعری تلازمے اور طرزِاظہار اخترالایمان،راشد اور میراجی کا سا میلان رکھتے ہیں۔

(آجکل،دہلی،  جون ۲۰۰۶)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شاگردِ فراقؔ:  محسنؔ زیدی – جنید احمد نور
اگلی پوسٹ
سیتاستی – ارحاء مدثر چارسدہ

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں