جیون کا یہ پہلو بھی سنور کیوں نہیں جاتا
آنکھوں سے ترا خواب اتر کیوں نہیں جاتا
ہے صرف اگر لمحۂ موجود ہی جیون
ماضی کا مرے دل سے اثر کیوں نہیں جاتا
خود میں نے کئی منزلیں کھو دی ہیں سر رہ
دل سے یہ مرے شوق سفر کیوں نہیں جاتا
آنکھوں میں محبت کے بھنور جھوم رہے ہیں
تو ڈوب کے ان میں کوئی مر کیوں نہیں جاتا
رشتوں کا فسوں تھا کہ محبت کا جنوں تھا
جو ٹوٹ گیا ہے وہ بکھر کیوں نہیں جاتا
_____فوزیہ سعدی_____
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

